Dewani foji ki

Dewani foji ki Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dewani foji ki, Grocers, Sarghoda, Sargodha.

19/09/2025

میرا صحتمند ہمسایہ۔۔۔۔۔۔

میرا نام صائمہ ھے میری عمر چوبیس سال ھے میں بچپن
سے شادی تک کسی کے ساتھ اپنے جذبات شئیر نہیں کرتی تھی میں سیل بند تھی جب میری شادی ھوئی اور پھر آیا میری زندگی میں بدلاؤ جو میں بیان کرونگی
گھر میں پلی پڑھی تھی یہ نہ تو کوئی خاص مذہبی گھرانہ تھا جہاں بہت زیادہ سختی برتی جا رہی ہو اور نہ ہی آزاد خیال کہ جو مرضی کرو اور کوئی پوچھ تاچھ نہیں
والد کام پر جاتے شام کو گھر لوٹ آتے اماں گھریلو کاموں میں مصروف رہتیں یونہی زندگی ایک ہی ڈگر پر چل رہی تھی مہروکی بھی بہت زیادہ سہیلیاں نہیں تھیں سکول کا سب کچھ سکول میں رہ جاتا اور گھر آ کر والدہ کے ساتھ گھرکے کاموں میں ہاتھ بٹا دیتی البتہ ابا جی کے لیے رات کی چائے مہرو نے ہی بنانی ہوتی تھی
سکول ختم ہوا تو نہ مہرونے کسی کالج میں جانے کے لیے تگ و دو کی اور نہ ہی گھر میں کسی نے پوچھا کہ آگے کی پڑھائی کا کیا کرنا ہے یوں وہ کالج بھی نہ جاسکی
ماں نے مہرو کو گھر کے کاموں میں مشغول کر لیا اور جیسے ہی پہلا رشتہ آیا مناسب دیکھ بھال کے بعد مہروکے لیے فوراً ہاں کردی
شادی کے بعد بھی مہرو کی زندگی کچھ خاص نہیں بدلی خاوند اچھا تھا خیال رکھتا تھا بہت زیادہ نکتہ چینی بھی نہیں کرتا تھا معمول کی زندگی گزر رہی تھی کہ ایک دن اچانک ایک بھونچال سا آ گیا
ہوا یوں کہ ایک قریبی عزیز کی مہندی کھ موقع پر مہرو پیچھے سٹور روم میں کپڑے بدلنے گئی سٹور روم کا دروازہ نہیں تھا اس لیے مہرونے بلب آن نہیں کیا قمیض اتار کر ایک طرف رکھی ہی تھی کہ اچانک اسکا نندوئی کمرے میں داخل ہوا وہ ہڑبڑا کر رہ گئی اس اچانک آمد نے جیسے اسکے اوسان ہی خطا کردیئے
دوسری طرف دیکھا کے نندوئی کا بھی یہی حال تھا وہ چند ثانیے مبہوت کھڑا رہا اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی اس نے آگے بڑھ کر مہرو کی گردن کے پیچھے ہاتھ ڈال کر بالوں سے پکڑا گردن پر بوسہ دیا ساتھ ہی اسکی گال ہر اپنے ہونٹ رکھ دیئے
مہرو نے جھٹکے سے اس سے اپنا آپ چھڑایا اور قمیض اٹھا کر پہننے لگی اتنی دیر میں اسکا نندوئی بھی تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا جب تک دوبارہ حال میں آئی تو اس کے اوسان خطا تھے وہ قطعی اجنبیت سے سب پر نظریں دوڑا رہی رھی جیسے اسے اپنے چور کی تلاش ہو کہیں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ دیکھ کر وہ طمانیت سے ایک طرف صوفے ہر بیٹھ گئی اسکی آنکھیں بند تھیں اور وہی منظر اس کی نظروں میں با

14/09/2025

میرے شوہر اور نوید نے اک ساتھ کی چدائی

میرا خاوند اسلام ابادکے سرکاری دفتر میں کام کرتا ھے اور اکثر اوقات کام کے سلسلے میں اندورنی ملک اور بیرونی ملک دوروں پر جانا پڑتا ھے۔ بچے ھاسٹل میں ھونے کیوجہ سے میں پھر گھر پر اکیلی ھوتی ھوں اس وجہ سے مجھے بھی اکثر اوقات ساتھ لے جاتا ھے۔ 2016 کی بات ھے کہ خاوند دفتری کام کے سلسلے میں ایک ھفتہ کے لیے کراچی جانے کا پروگرام بنا۔ رات گھر اکر مجھے بتایا کہ ایک ھفتہ کے لیے کراچی جانے کا پروگرام ھے کل شام کو 4 بجے کی فلایٹ سے جانا ھے تم کو بھی میرے ساتھ جانا ھے اپکی بھی سیٹ بک کی ھے۔ تیاری کرلو۔ میں نے کہا ٹھیک ھے۔ ان دنوں میری چھوٹی بہن بھی کراچی میں رھتی تھی اسکا خاوند بھی اغا خان ھسپتال میں ڈاکٹر تھا اور اج کل وہ ویانا میں ھے۔ میں نے خاوند سے کہا کہ چلو بہن سے ملاقات ھو جای گی۔ خاوند نے کہا ٹھیک ھے لیکن ابھی فون نہ کرنا۔ پہنچ کہ موقعہ دیکھ کر چلیں جاینگے۔ میں نے کہا ٹھیک ھے۔ دوسرے دن ھم 4 بجے کی فلایٹ سے روانہ ھوگیے۔ خاوند چونکہ سرکاری دفتر میں ھے اور اکثر سرکاری کیسٹ ھاوس میں ٹھرتے ھے۔ اس دفعہ سرکاری کیسٹ ھاوس میں جگہ نہ ھونے کی وجہ سے ھم میرٹ ھوٹل میں گیے۔ جہاں پہلے سے کمرہ بک ھوا تھا۔ کہی دفعہ میں ساتھ کراچی میں ساتھ ای تھی اور کبھی سرکاری کیسٹ ھاوس میں اور کبھی ھوٹل میں رہ۔ رات کو کھانا کھایا اور کھچہ افس کے لوگ خاوند سے ملنے اے تھے جو کہ ھوٹل کے لابی میں ملاقات کی اور پھر رات دیر سے وہ لوگ چلے گیے۔ جب خاوند کمرہ میں ایا تو رات کے بج رھے تھے۔ صبح خاوند ناشتہ کرکے افس چلے گیے۔ مجھے کہا ابھی ناشتہ کرنا یا بعد میں ۔۔ میں نے کہا اپکے ساتھ ابھی کرلیتی ھوں۔ ھم نے ناشتہ کیا اور خاوند دفتر چلا گیا۔ میں کمرہ میں تھی کبھی ٹی وی دیکھتی اور کبھی سو جاتی۔ خیالات عجیب عجیب ارھے۔ اکیلی تھی کمرہ میں۔ ذھن بہت منتشرھوچکا تھا۔ خاوند نے بھی دو تین دفعہ کال کیا کہ ٹھیک ھو کوی مسلہ تو نہی۔ میں نے کہا نہی بس تنہای محسوس ھوری ھے۔ اس نے کہا اپنے اپکو مصروف رکھو۔ میں نے کہا تھیک ھے۔ یہ میرا ایک بہت بڑا مسلہ ھے کہ اکیلے میں زیادہ تر سکس کے بارے میں عجیب عجیب خیالات اتے رھتے ھے۔ اور اس وقت بھی یہی ھورھا تھا۔ میں نے کپڑے اتارے ننگی ھوی اور بس چوت میں انگلیاں مار رھی تھی اور مموں پر گانڈ پر پیٹ پر ھاتھ پھیر رھی تھی۔ بڑا سرور ارھا تھا اور نوید کی کمی محسوس

11/09/2025

شرابی بیٹا

مکمل کہانی

حمیدہ بی بی کی عمر 50 سال کی ہو گی۔ اس کا شوہر یو اے ای میں مزدوری کرتا تھا اور سال کے بعد ایک مہینے کے لیے پاکستان آتا تھا۔ حمیدہ بی بی اپنے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں کے ساتھ ڈینہ سٹی میں ایک تین کمروں والے مکان میں رہتی تھی۔

مکان دو منزلہ تھا جس میں دو کمروں اور دو باتھروم اوپر کی منزل پر اور ایک بیڈروم اور کچن وغیرہ نیچے کی منزل میں تھے۔ حمیدہ بی بی کی سب سے بڑی ایک بیٹی تھی جس کی عمر 28 سال تھی۔ وہ شادی شدہ تھی اور اپنے دو بچوں اور شوہر کے ساتھ منڈی بہاؤ الدین میں رہتی تھی۔

دوسرے بیٹے کا نام قادر تھا۔ اس کی عمر 26 سال تھی۔ قادر کی شادی 24 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ وہ ایک ناکام اور آوارہ انسان تھا۔ جو کبھی کبھی نشہ بھی کرتا اور شراب بھی پیتا تھا۔ وہ غصے کا بہت تیز تھا اور بات بات پر اپنی بیوی کو مارتا۔ جس کی وجہ سے شادی کے دو سال بعد ہی اس کی بیوی نے اس سے طلاق لے لی۔

قادر کے بعد حمیدہ کے دو اور بیٹے تھے۔ جواداور عبدل جو کہ جوان تھے اور قادر سے ایک اور دو سال چھوٹے تھے۔ ان کی شادی ایک سال پہلے ہو گئی تھی اور وہ اپنی بیویوں کے ساتھ بھی اسی گھر میں اوپر والی منزل میں رہتے تھے۔ قادر اب کبھی باہر سو رہا ہوتا، کبھی ڈرائنگ روم میں اور کبھی کبھی اپنی ماں کے کمرے میں الگ چارپائی ڈال کر سوتا تھا۔ قادر کام تو کرتا نہیں تھا۔ وہ روز اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ باہر گھومتا رہتا تھا اور رات کو اکثر لیٹ گھر آتا تھا۔ اپنی بیوی کو طلاق دی ہوئی اسے کچھ مہینے ہو گئے تھے اور اس کا گزارہ اب صرف مشت زنی پر ہی ہوتا تھا۔

ایک دن رات کو وہ لیٹ گھر آیا۔ گرمیاں تھیں اور اس نے رات چھت پر سونے کا ارادہ کیا۔ جب قادر اوپر والی منزل پر گیا تو جواد کے کمرے کے پاس سے گزرتے ہوئے قادر کو کمرے میں سے سسکاریاں اور پلنگ کے چرچرانے کی ہلکی ہلکی آوازیں آئیں۔

قادر سمجھ گیا کہ اس کا چھوٹا بھائی اپنی بیوی کو چھوڑ رہا ہے۔ اس کا لن کھڑا ہونے لگا۔ وہ کچھ دیر کمرے کے باہر کھڑا ہو کر چودائی کی آوازیں سنتا رہا اور ساتھ ہی اپنے لوڑے کو شلوار کے اوپر سے مسلتا رہا۔ جب تھوڑی دیر بعد اندر خاموشی ہو گئی تو قادر بھی آہستہ سے چلتا ہوا چھت پر چلا گیا۔

چارپائی پر لیٹے ہوئے قادر ان آوازوں کو اپنے کانوں میں گونجتا ہوا محسوس کرتا رہا اور مشت زنی کرتا رہا۔ مشت زنی کرتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سامنے جوادک

28/08/2025

Yah sirf khaniya hoti hy inko real life pa mat sochna just stori is lea koi galt bat nh krmi

28/08/2025

امی اور مالک مکان
اپنے جذبات دے رہا ہو آپ کو
گرمیوں کے دن تھے دوپہر کا وقت تھا میری دونوں باجیاں اکیڈمی گئی تھی گھر میں امی چھوٹی بہن اور بھائی تھا میں باہر کھیل رہا تھا ہمارے گھر کی گلی کو صرف ایک ہی راستہ ہے آگے سے گلی بند ہے ہم سب بچے اکثر باہر موڑ پر ہی کھیلتے تھے ایک دن ہمارا مالک مکان آیا اس نے مجھے پوچھا امی کہا تمہاری میں نے کہا ماموں امی تو گھر ہیں بلاؤ کیا بولا نہیں رہنے دیں میں خود چلے جاتا ہوں وہ ہمارے گھر کی طرف چلا گیا ہم کھیلنے لگ گئے قریب دس منٹ بعد امی نے گیٹ پر کھڑے ہوکر مجھے آواز دی میں گیا اور پیسے دے کر کہا جاؤ بوتل لے کر آؤ ماموں کے لیے میں سٹور پر چلا گیا میرے دوست بھی نکل گئے میں کھیلتا کودتا 15,20 منٹ تک گھر پہنچا اندر کا منظر تھوڑا عجیب سا لگا ماموں صوفے پر بیٹھے تھے امی نیچے ان کے پاؤں کے پاس تھی اور ان کا اک پاؤں امی کی گود میں تھا مجھے دیکھ کر ہٹا دیا امی نے میرے ہاتھ سے بوتل لی اور مجھے کہا جاؤ کھیلوں اگر کوئی آئے تو کہنا امی سو رہی ہے میں بھی باہر گیا پر کوئی نہیں تھا تھوڑی دیر پھرتا رہا پھر سوچا گھر ہی چلے جاتا ہوں میں چپ کے سے اندر داخل ہو گیا سب ایک ہی کمرے میں تھے میں چھت پر جانے لگا کے مجھے امی کی آواز آئی اہ آرام سے میں کمرے کا دروازا کھولنے لگا پھر سوچا امی مارے نا اس لیے کھڑکی کے قریب جا کر دیکھنے لگا تو جب دیکھا میرے دل میں ہل چل سی مچ گئی امی ماموں کی گود میں بیٹھی تھی اور ماموں امی کے ممے دبا رہے تھے کھبی گردن چوم رہے تھے امی کا بھی ہاتھ ماموں کے چہرے پر تھا اور دوسرے ہاتھ سے ان کی شلوار کے اوپر اففف میرا تو دل دھک دھک کر رہا تھا امی نے ایک لمبی سسسییی کرنے کے بعد پوچھا
امی۔کیا بات ہے آج اتنے ظالم کیوں ہو رہے ہوں
ماموں ۔ ظلم کہا پیار کر رہا ہوں اتنے دن بعد تو ٹائم ملا
امی۔ٹائم تو آج بھی کم ہے
ماموں ۔کیوں
امی۔ میری بیٹیاں آنے والی ہیں جناب
ماموں ۔تو پھر کچھ کر اب ایسے تو نا مار مجھے
امی۔کیا کرو اس کا یہ تو ہر دوسرے دن منہ اٹھا کے جاتا ہے یہ بات امی نے ان کے لن کو پکڑ کر کی
ماموں ۔تو کیا کرو تجھ سے پیار ہی اتنا چل آجا اب
امی اٹھی اور نیچے ماموں کے پاؤں میں بیٹھ گئی ماموں اپنی شلوار کھولنے لگے امی نے بھی ساتھ دیا ماموں نے امی کا سر پکڑ کر اپنے لن کی طرف کیا امی نے بھی منہ کھول کر چوپا لگایا اور دو تین بار منہ اوپر نیچے کر کے باہر نکال کر لن ہاتھ میں پکڑ کر باتیں کرنے لگی
امی۔اج تو بڑی صفائی کی ہے اس کی
ماموں ۔ہاں یار آج ہی ٹائم ملا
امی۔تو آج ہی اسے آخر آگئی ہے بندہ ٹائم بنا کر آتا یا مجھے کہتے میں کوئی انتظام کر لیتی
ماموں ۔چل وہ پھر سہی اب جلدی کر کہی کام ادھورا نا رہ جائے
امی ۔ لو کر بات کھبی ایسا ہوا آپ ادھورے رہے ہو ٹینشن نا لو خوش کر کے بھیجوں گی
امی اٹھی اور اپنی شلوار اتار دی اور پوچھا کیا کرنا یہی یا اندر بیڈ پر
ماموں ۔نہیں ایسے ہی آجا میرے اوپر امی شلوار سائیڈ پر رکھی تو ان کا لن بلکل صاف نظر آیا جو سائز میں ساڈھے 6 انچ کے قریب لمبا اور موٹا اچھا خاصا تھا امی نے پوچھا قمیص اتار دو یا ایسے ہی اوپر کر لو ماموں نے کہا ایسے ہی ٹھیک ہے ان کو باہر نکال اور امی کی برا پکڑ کر ممے باہر نکال لیے اب ماموں صوفے پر ٹانگیں نیچے کر کے بیٹے تھے امی ان کی گود میں ان کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئی اور دونوں ایک دوسرے کے چوسنے لگے پھر ماموں نے امی کے ممے چوسے پھر گردن اور نیچے گانڈ کو دباتے امی بھی جوش میں ساتھ دیں رہی تھی ماموں بولے
نیچے آ ذرا اسے چوس امی جلدی سے نیچے اتری اور ان کے لن کو پکڑ کر منہ میں ڈال کر لگاتار چوپے لگانے لگی
ماموں ۔آہ آہ بس تیری یہی بات اچھی ہیں تو نے آج تک مجھے منا نہیں کیا
امی۔اچھا آپ کی بیوی نہیں کرتی
ماموں ۔چھوڑ اس کی بہن کو چود سالی کوئی مزا نہیں دیتی کاش تو شادی سے پہلے مجھے ملی ہوتی
امی۔مل تو گئی ہوں چاہے پہلے یا بعد میں آپ کا کام تو ہورہا ہے نہ
اور پھر لن منہ میں ڈال لیا 4,5 زبردست سے چوپے لگائے اور پھر بولی ہاں جی دل خوش ہوا
ماموں ہاں کیوں نہیں چل اب اوپر آ
امی۔کیسے
ماموں نے امی کو گھومایا اور خود ویسے ہی بیٹھے رہے امی کی گانڈ اپنی طرف کر کے بولے چل اندر لے امی بھی ان کے کھڑے لن پر بیٹھ گئی اور آہ کی آواز نکالی ماموں نے بھی امی کی گانڈ پکڑ کر نیچے سے زور سے جھٹکا دیا لن پورا اندر چلا گیا اب ماموں کے دونوں ہاتھ امی کی کمر پر گانڈ کے قریب تھے اور امی کو اپر نیچے ہونے میں مدد دے رہے تھے امی بھی بڑے جوش سے لن کے اوپر نیچے ہورہی تھی تقریباً 5 منٹ اسے چدوانے کے بعد امی کی آواز آئی میں تھک گئی ہوں جگہ بدل لو
ماموں ۔تو ٹھیک ہے آٹھ اور صوفے پر ہی گھوڑی بن جا امی نے جلدی سے منہ صوفے کی طرف کیا اور گانڈ ان کی طرف کر کے گھوڑی بن گئی ماموں پیچھے کھڑے ہو کر امی کی پھدی کے باہر ہی رگڑنے لگے امی کی آواز آئی اب ڈال بھی دیں کیوں تنگ کرتے ہیں
ماموں نے جھٹکے سے لن اندر ڈالا اور پھر چودنے لگے
امی آہ سسیی جلدی کریں آہ اففف
ماموں ۔مزا آرہا ہے میری شہزادی کو اہمم
امی۔ہاں جی بہت بس کرتے رہے
اب ماموں نے اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر صوفے پر رکھ لی اور دونوں ہاتھ امی کی کمر پر اور چودتے رہے ایسے ان کا لن اندر باہر ہوتا صاف نظر آتا تھا دونوں پسینے سے بھرے ماموں کے جھٹکے امی خوب برداشت کر رہی تھی لیکن آوازیں بھی نکل رہی تھی ان کا تو پتا نہیں کیا حال تھا پر میں بہت گھبرایا ہوا تھا کہ کہی مجھے کوئی دیکھ نا لے یا گھر میں کوئی نا آ جائے پر حقیقت یہ بھی ہے مجھے مزا بھی آ رہا تھا امی کو اس طرح کسی غیر کے آگے ننگی دیکھ کر دل میں الگ ہی جزبات تھے اور یہی وہ وقت تھا جب سے میں نے یہ سب دیکھنا شروع کیا اور آج تک ہزاروں راز دل میں ہیں خیر چھوڑیں ان کی طرف چلتے ہیں
امی ۔کی آوازیں ماموں کا جوش اور اندر باہر ہوتے لن کی تھپ تھپ بھی مزا دے رہی تھی کے امی کو زوردار تھپڑ پڑا گانڈ پر اس وقت تو مجھے عجیب لگا کے امی سب کچھ کر رہی ہیں پھر کیوں مارا لیکن اس مزے سے اب میں خود بھی واقف ہوں چدائی کا مزا کیا ہوتا
ان کے مارنے سے امی کی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ چیخ نکلی آہ کیا ہوا فارغ ہونے لگے
ماموں ۔نہیں میری جان پہلے تو ہوجا پھر ہوتا ہوں
امی۔جی ٹھیک تھوڑا تیز کریں پھر انہوں نے سپیڈ بڑھا کر کہا تھوڑی ٹائٹ کر اپنی
امی۔لگتا زیادہ گیلی ہے صاف کر لو
ماموں ۔کس سے کرو امی نے اپنا دوپٹہ پاس پڑا پکڑا بولی اس کی سائیڈ سے کر لو ماموں نے لن باہر نکال کر لن صاف کیا اپنا پیٹ بھی صاف کیا اور امی کی پھدی کو بھی صاف کیا اور پھر لن اوپر رگڑنے لگے امی نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کیا اور لن پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھ کر خود کو پیچھے کیا اور بولی کر لو یار میرا ہونے والا بس
ماموں ۔اچھا چل ہوجا میری جان اور پھر چدائی کرنے لگے اور زور زور سے جھٹکے مارتے امی کی بیچ بیچ میں سانس تک رکتی ایسے جھٹکے تھے پر امی خوش تھی ایسے دیکھتے دیکھتے امی کا جوش بھڑنے لگا اور آوازیں بھی آہ آہ کرو نا زور نال ماور آہ اور زور نال رکنا نہیں آہ
ماموں ۔ہاں میری جان تیرے لیے تو سب کچھ کر سکتا ہو یہ لے نا
امی۔اہ میں بھی تو آپ کی ہوں آہ
ماموں ۔کیا ہے میری تو بتا تو
امی ۔سب کچھ ہوں جو آپ کہو آپ کی سہیلی یار دوست بیوی سب کچھ
ماموں ۔ہاں وہ تو ہے پر میری اور بھی تو کچھ لگتی ہے نا
امی۔ جی آپ ہی بتائیں کیا ہوں
ماموں ۔میری سکسی معشوقہ میری اتھری گھوڑی
امی۔جی آہ ہاں جی ملک صاحب آپ ہی گھوڑی کتی رنڈی جو سمجھے ہوں آہ آہ آہ اہہہہہ میں بس آہ ہاااا بس میری جلدی کر لیں بولتے بولتے امی بلکل سر نیچے رکھ کر ہانپنے لگی اور ماموں پیچھے سے چود رہے تھے اور بولے ہاں ہو گئی فارغ نیچے سے امی کی ہلکی سے آواز آئی
امی۔ہممم ہوگئی
ماموں ۔بس دو منٹ میرا بھی ہونے والا ہے تھوڑی ٹائٹ کر امی نے ٹانگیں ساتھ جوڑ کر گانڈ پر زور دیا اور منہ نیچے کر کے لیٹی رہی
اب ماموں کی سپیڈ تیز ہوتی گئی اور زوردار بھٹکے شروع ہو گئےاور امی سے پوچھا اندر فارغ ہو جاؤ
امی۔جی جہاں ہونا ہو جاؤ کوئی بات بات نہیں امی شائد سمجھ گئی تھی کے ان کے آخری جھٹکے ہے اس لیے ان کا ساتھ دے رہی تھی گانڈ آگے پیچھے کر کے ایسے ,1,2 منٹ کے تیز ترین جھٹکوں سے ماموں کی چیخ نما آواز نکلی اہہۃہہہہہہ آہ اور رک گئے لن اندر ہی تھا اور ان کی ٹانگیں اور جسم جھٹکے کھانے لگا انہوں نے لن باہر نکالا اور ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئے امی جلدی سے سیدھی ہوئی اور پاؤں کے بل بیٹھ گئی جیسے لوگ پیشاب کرتے ہیں امی کے اندر سے اچھا خاصا پانی منی نکلا امی نے اچھی طرح انگلی سے اندر سے صاف کیا اور وہی دوبٹہ پکڑ کر اپنی پھدی صاف کی اور ان کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا ہاں جی ہوگیا سکون اب خوش
ماموں ۔ہاں اسے بھی صاف کر دیں امی نے نیچے بیٹھی ہوئی لن کو اچھی طرح صاف کیا اور ایک چومی لی اس کی امممما اور ساتھ ہی اٹھ کر بیٹھ گئی ان کے پاساور بولی ہاں جی اب تو ناراض نہیں اب تو غصہ ختم نا
ماموں ۔میں تو پہلے بھی نہیں کرتا تو ہی ماں چدواتی ہے غلط باتیں کرتی
امی۔اچھا میں مذاق بھی نہیں کر سکتی بھلا میں پاگل ہو جو ہر بندے کے نیچے لیٹ جاؤ اور ساتھ ہی ماموں کی ننگی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی اور سینے پر ہاتھ پھیرنے لگی
ماموں ۔میں نے تو کھبی نہیں کہا تو دو نمبر ہے تو خود ہی کہ رہی تھی ناظم بڑی منتیں کرتا جب سامان لینے جاتی ہوں تو میں نے کہ دیا جا چدوا جہاں سے مرضی
( یہ ناظم انکل ہمارے محلے کے سٹور والے تھے)
امی۔تو میں نے کون سا اس کو دے دی اور اگر دینی ہی ہوتی تو آپ کو کیوں بتاتی
ماموں تو وہ کیا تھا جو کہ رہی تھی میرے جسم کی بڑی تعریف کرتا اس نے کیسے دیکھا
امی۔ہاہاہا میری جان وہ تو اسے تنگ کر رہی تھی تھوڑا بیچارہ ایسے ہی خوش ہوجاتا ہے آپ ٹینشن نا لیا کرو بس میری لیا کرو اچھا آپ اگر ایک دو دن صبر کر لیتے تو میں بچوں کو ان کی نانی کے گھر بیجھ کر سارا دن آپ کے پاس رہتے اب آپ ناراض تھے تو آپ کو منا نہیں کر سکی اب تو خوش ہے نا اور پھر ان کا لن پکڑ کر چوما اور ہلکاسا چوپا لگایا اور بولی بس میری جان اٹھو کپڑے پہنو بچے آنے والے ہیں دونوں کپڑے پہننے لگے
میں بہت کچھ جانتا ہوں اور بھی کئی واقعات ہیں اگر آپ میرا ساتھ دیتے رہے تو بتاتا رہو گا
آپ سب کا دوست ..ساحل راجپوت ۔۔۔

28/08/2025

ایک پیج ممبر کی امی کی کہانی Sana Bhabi
گدھا، سانڈ اور امی
ہم گاؤں میں رہتے ہیں اور ہماری الحمدللہ تین ایکٹر زمین ہے۔ ہم نے جانور بھی رکھے ہیں۔ ابا کراچی ہوتے ہیں تو جانوروں کی دیکھ بھال میری اور امی کی ذمّہ داری ہے۔ جانوروں کے لیے چارہ لانے کے لیے ایک آدمی رکھا ہے وہ صبح سویرے کو چارہ لا دیتا ہے اور چلا جاتا ہے۔
چارہ ڈالنا میرا کام ہوتا ہے اور دودھ دھونا امی کا کام ہوتا ہے۔ ہمارے پاس تین بھینسیں، سات گائیں، تین سانڈ، دس بارہ بکرے اور ایک گدھا ہے۔ گدھا چارہ لانے کے لیے ہی استعمال کرتے ہیں۔
جانور ہمارے گھر کے سامنے والے مکان میں رکھے ہیں۔ مکان میں تین بڑے کمرے ہیں ایک میں گائیں اور بھینسیں ھیں اور دوسرے میں سانڈ اور بکرے ہوتے ہیں۔ تیسرا کمرہ چارے اور دوسرا سامان رکھنے کے لیے ہے۔
آج سے ہفتہ پہلے کی بات ہے مجھے رات کو کوئی گیارہ بجے مُجھے جانوروں کے بولنے کی آواز آئی تو میں جانوروں کے مکان کی طرف گیا۔ میری ٹارچ مل نہیں رہی تھی تو میں ویسے ہی چلا گیا۔ میں نے دیکھا تو سانڈ والے کمرے سے ہلکی سی روشنی آ رہی تھی۔ مجھے لگا چور ہوں گے تو میں دھیمے دھیمے پاؤں آگے بڑھا۔ میں جب دروازے کے پاس پہنچا تو اندر کا منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ امی کے کپڑے سامنے ٹنگے ہوئے تھے ۔ امی صرف برا میں تھی اور امی سانڈ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی اور امی اپنے ہاتھوں سے اُسکا لوڑا ہلا رہی تھی اور پھر امی نے میرے سامنے ہی اُسکا لن اپنے منہ میں بھر لیا اور امی اُسکے چوپے لگانی لگی۔امی نے دو تین منٹ میں ہی اسے فارغ کر دیا امی نے اپنے منہ سے اُسکی منی تھوکی اور اب آگے دوسرے سانڈ کے پاس جا کر بیٹھ گئی اور اُسکا لن چوسنے لگی وہ بھی تین چار منٹ سے زیادہ ٹک نہیں پایا۔ امی نے وہاں سے چار ٹانگوں پے ہی تیسرے سانڈ کے پاس چلی گئی اور امی نے اسے ہاتھ سے ہی فارغ کر دیا اُس نے ساتھ ہی امی کے ہاتھوں پے پیشاب کر دیا جو امی کے جسم پے بھی جا لگا۔ میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ امی کو برا نہیں لگا بلکہ امی اسے اپنے جسم پے ملنے لگی
امی کی ٹانگیں مٹی سے اور جسم پیشاب سے بھرا ہوا تھا۔
امی وہاں سے پیچھے آنے لگی تو میں بھی پیچھے ہو گیا اور پھر امی بکروں کے پاس گئی اور امی نے پہلے بکرے کو کھولا اور خود جھک گئی اور بکرے تو اپنے اوپر کر لیا ۔ بکرے کا لن جیسے ہی امی کی پھدی سے ٹچ ہوا اُسنے دوڑ دار دھکے مارنے شروع کر دیے۔ اُسکا لن زیادہ بڑا تو نہیں تھا لیکن امی کی پھدی میں لن جاتے ہی امی کے چہرے پے اطمینان آ گیا۔ وہ زور زور سے دھکے مار رہا تو امی کو اس وجہ سے تھوڑا درد بھی ہو رہا تھا اور پھر وہ امی کی پھدی کے اندر ہی جھڑ گیا لیکن ابھی بھی وہ دھکے مار رہا تھا۔
تب مجھے انسان اور جانور میں فرق سمجھ آیا۔ پھر اُسکا لن امی کی پھدی کے باہر آیا تو اندر سے منی بھی نکل آئی۔ امی نے منی پے اُنگلی پھیری اور اپنی پھدی پے ملنے کے بعد منہ میں ڈال لی۔ پھر امی اٹھی اور امی نے اُس بکرے کو رسی سے باندھا اور دوسرے بکرے کو کھول دیا اور امی اس بار سیدھا ہی لیٹ گئی اور امی نے اپنے ہاتھوں سے اسکا لن امی کی پھدی پے سیٹ کیا اور وہ بھی امی کو چودنے لگا اور اس نے امی کے چہرے کو چاٹنا بھی شروع کر دیا تھا۔کچھ دیر دھکوں کے بعد وہ بھی اندر ہی جھڑ گیا امی نے اُسکی ساری منی ہی اپنے منہ میں ڈال لی۔ امی نے پھر اسے باندھ دیا اور تیسرے بکرے کا بندھے ہوئے ہی لن چوسنے لگی ۔ امی کے ہاتھوں کو پھدی سمجھ کر وہ بھی زور زور سے امی کا منہ چودنے لگا۔ اُس نے اپنا امی کے منہ میں ہی نکال دیا۔ امی اگے والے بکرے کے پاس گئی اور اُس کو بھی نہیں کھولا بلکہ اُسکی ٹانگیں اپنی اوپر رکھ لی اور اب وہ امی کو چودنے لگا۔ اتنی چدائی کے بعد بھی امی جھڑی نہیں تھی شاید اُن کی پھدی کو جو چاہئے تھا وہ ملا نہیں تھا ابھی۔
امی باری باری سارے بکروں کے پاس جاتی گئی اور چدتی رہی۔ جب امی آخری بکرے سے چدوا کے فارغ ہوئی تو میں نے سوچا اب امی گھر لوٹ آئے گی
امی اٹھی اور گدھے کے پاس کھڑی ہو گئی۔ میرے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا امی گدھے جیسے گندے اور برے لن والے جانور کے ساتھ کچھ کرے گی۔ امی گدھے کے پاس گئی اور اُسکے منہ پے اپنے ممے ملنے لگی اور وہ بھی امی کے مموں پے زبان پھیرنے لگا۔ امی نے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اپنا ایک مما اُسکے منہ میں ڈال دیا اور دوسرے ممے خود اپنے منہ میں ڈال کے چوسنے لگی۔
پھر تھوڑی دیر بعد امی گدھے کی دوسری طرف آئی اور امی نے گدھے کے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے ٹٹوں کو پکڑا اور منہ میں لے لیے اور دیوانوں کی طرح چوسنے لگی۔
پھر امی نے گدھے کے لن کو پکڑا اور بڑے پیار سے چومنے لگی اور پھر امی نے اُس کے لن کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور خوشی خوشی اُسکا لن منہ میں بھی ڈال لیا
گدھے کا لن اتنا بڑا تھا کہ دونوں ہاتھ لن پے ہونے اور آدھا لن منہ میں ہونے کے باوجود لن کا کچھ حصہ نظر آ رہا تھا۔ تھوڑی دیر اُسکا لن چوسنے کی بعد امی اٹھی اور گدھے کی طرح بنڈ کر کر جھک گئی ۔ گدھے نے امی کی پھدی چاٹنی شروع کر دی ایسا لگ رہا تھا کہ گدھے کو اس کام کے لیے اسپیشل ٹریننگ ملی ہے۔

پھر کوئی پانچ منٹ اُسے اپنی پھدی چٹوانے کے بعد امی اٹھی گدھے کا لن ابھی بھی تنا ہوا تھا۔ امی نے گدھے کی رسی کھولی اور اُسکا لن پکڑ کر اسے باہر لانے لگی میں جلدی جلدی پیچھے ہوا۔
امی اُسکی چارے والے کمرے میں لے گئی میں بھی فوراً آ گیا۔
امی نے جاتے ہی کمرے کی لائٹ اور پنکھا چلا دیا۔
امی وہاں پے پڑی چارپائی پے اس طرح جھکی کہ امی کی ٹانگیں زمین پے تھی اور امی کے بازو چارپائی پے تھے ۔ امی کی بنڈ گدھے کا لن کے سامنے تھی اور امی کی کمر اُسکے پیٹ کے ساتھ ٹچ ہو رہی تھی۔ امی کی پھدی اور جسم اس طرح تھے جیسے کوئی گدھی گدھے کے سامنے ہو۔

جیسے ہی گدھے نے امی کی پھدی کی مہک کو محسوس کیا اُسنے فوراً اپنی ٹانگیں امی کے کندھوں پے رکھ دی اور اس نے دھکا لگایا تو امی تھوڑی آگے گر گئی اور اُسکا تھوڑا سا ہی لن اندر گیا۔ امی نے منہ سے تھوک نکالا اور اسے حالات میں ہاتھ پیچھے کر کے ملنے لگی۔ گدھے ہی پھر دھکا لگایا اور امی کی پھدی میں اُسکا آدھا لن چلا گیا جو کہ سات انچ تو ہو گا۔ امی کی بڑی درد بھری چیخ نکلی لیکن امی نے منہ پے ہاتھ رکھ لیا اور اس طرح زیادہ آواز باہر نہیں آئی اور تبھی گدھے نے دوبارہ دھکا لگایا اور اب اُسکا لن کوئی 9 انچ امی کی پھدی کے اندر تھا۔ میں حیران رہ گیا کہ امی کی پھدی 9 انچ لمبا لوڑا کیسے لے سکتی ہے پھر میں سمجھ گیا کہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا بس مُجھے آج پتہ چل رہا ہے۔ پھر گدھے نے دھکے مارنے چالو کر دیے اور اب امی ہر دھکے کے ساتھ آگے جاتی اور وہ واپس اٹھ پرتی۔ بار بار دھکے لگنے کی وجہ سے اب اُسکا لن پورا امی کی پھدی میں جا رہا تھا میں سمجھ چکا تھا کہ امی کی بچہ دانی اب برباد ہو چکی ہے۔ امی کے چہرے پے درد اور خوشی دونوں کا احساس تھا۔ گدھا امی کو چودتا رہا اور امی اہ ہا کرتی رہی کوئی دس منٹ بعد اُسکا لن ایسے امی کی پھدی میں جا رہا تھا جیسے کسی بچے کا لن اپنی ماں کی پھدی میں جا رہا ہو اب امی بھی خود بنڈ پیچھے کر کر کے چدوا رہی تھی۔ کوئی بیس منٹ کے بعد امی جھڑ گئی تھی اور اب گدھے کا لن زیادہ رفتار سے اندر باہر جانے لگا۔ گدھا ابھی بھی پورے زور سے دھکے مار رہا تھا۔ تب مجھے سمجھ آیا کہ گدھا مرد کے لیے گالی اسلئے ہے کہ مرد کبھی گدھے جتنی رفتار سے نے عورت کو چود سکتا ہے اور نہ ہی مرد اتنی دیر ٹک سکتا ہے اور نہ ہی مرد گدھے کے لن کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
پھر کوئی آدھے گھنٹے کے بعد امی سائڈ ہوئی اور اُسکا لن منہ میں بھر لیا اور ساتھ ہی گدھا جھڑ گیا۔ میں حیران تھا کہ امی کو اب اتنا اندازہ بھی ہو چکا ہے کہ گدھا جب جھرنے والا ہے۔ امی گدھے کے لن کا پانی دھکت دھکت کے پیے جا رہی تھی پھر بھی گدھے سے لن سے اتنی منی نکل رہی تھی کہ امی کے منہ سے باہر نکل رہی تھی۔
امی کے ممے بھی اُسکے پانی سے بھر گئے تھے۔ امی نے اسے چارہ ڈالا اور اُسکے لن کو چوس کر صفائی کرنے لگی۔
پھر امی نے اسے اُسکی جگہ باندھا ۔ امی کے جسم پے منی اور پیشاب صاف چمک رہے تھے لیکن امی نے ایسے ہی کپڑے پہن لیے اور کوئی ڈھائی گھنٹے بعد وہاں سے نکلی اود پانی سے منہ دھویا اور آ کر لیٹ گئی۔
تب سے میرا محمول بن گیا ہے کہ میں امی کو روز گدھے بکروں اور سانڈوں سے چدواتے دیکھتا ہوں ۔ امی کی پھدی اتنی کھل چکی ہے کہ بندے کا لن اُس میں ایسے لگے گا جس نہر میں جھاڑو کی ایک ٹیلی۔

28/08/2025

دوست کی ماں کی چدائی

ہیلو دوستو کیسے ہیں. امید کرتا ہوں اپکو میری کہانیاں جو سب سچائی پر مبنی ہیں پسند آرہی ہوں گی. میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹیلائٹ ٹاؤن کا رہنے والا ہوں. اپنی پچھلی کہانی میں جس میں میں نے اپنے دوست کاشف کی دو بہنوں کی چدائی کی تھی اسکے بارے میں بتایا تھا. آج کی کہانی میرے دوست کاشف کی ماں نیلم کی ہے جسکو میں نے ساری رات چودا تھا جو میری ایک رات کی دلہن بنی تھی.

دوستو کاشف کی بہنوں مصباح اور عرومہ کی چدائی میں ہفتے میں ایک بار لازمی کیا کرتا تھا اور اگر موقع مل جاتا تو ایک سے زیادہ مرتبہ بھی چدائی کر دیا کرتا تھا. مصباح کی ماں نیلم زیادہ تر گاؤں اپنے شوہر کے پاس چکری گاؤں میں ہی ہوتی تھی اور بہت کم راولپنڈی آتی تھی اسکا گاوں راولپنڈی کے پاس ہی تھا. ایک دن مصباح، میرا دوست کاشف اور اسکی ساری فیملی گاوں ایک ہفتے کے لیے رہنے چلے گئے. اور انکا گھر خالی تھا چابیاں میرے پاس تھی. جو میرا دوست کاشف مجھے دے کر گیا تھا. مجھے شام سات بجے ایک نمبر سے کال آئی اور دوسری طرف کاشف تھا اس نے مجھے کہا یار میری ماں راولپنڈی آرہی ہے تو اسکو گھر کی چابیاں دے دینا اور کچھ کھانے کے لیے بھی گھر سے لادینا. میں نے پوچھا کیوں کیا ہوا تم کہاں ہو تو وہ بولا کہ یار ساری بات بعد میں بتاؤں گا بس امی کی سب سے لڑائی ہوئی ہے تو غصہ میں آرہی ہے ایک دو دن میں نارمل ہو جائے گی. میں نے کہا یار فکر مت کرو میں آنٹی کو ہر چیز لا دوں گا کو مانگے گئ.

آدھے گھنٹے کے بعد مجھے نیلم آنٹی کا فون آیا اور اس نے مجھے کہا میں گھر کے باہر کھڑی ہوں یہاں آو اور مجھےچابیاں دو. میں پانچ منٹ میں کاشف کے گھر کے باہر پہنچ گیا اور دیکھا ایک 6 فٹ کی عورت کالی چادر میں ملبوس میرا انتظار کر رہی ہے. میں نے چابیاں دی اور گھر کے اندر ساتھ گیا. پھر میں نے کہا آنٹی میں آپکے لیے کھانے کو کچھ لاتا ہوں تو وہ بولی ٹھیک ہے. میں بازار گیا اور بریانی لی اور ناشتے کے لیے بریڈ، جام، مکھن اور دودھ لے کر واپس کاشف کے گھر آگیا. میں نے بیل دی تو دروازہ نیلم آنٹی نے کھولا اور میں اندر چلا گیا. نیلم آنٹی ایک بلکل انپڑھ اور دیہاتی عورت تھی. جسکی عمر 55 سال کے قریب ہو گئ لیکن بہت بھرا ہوا جسم اونچا قد آور بارعب عورت تھی. جسکو دیکھ کر کسی کے لن میں آگ لگ سکتی تھی. میں کھانا دے کر واپس آنے لگا تو مجھے نیلم آنٹی بولی کہ تم بھی کھاؤ ویسے بھی میں اکیلی ہوں تو تم یہیں رک جاؤ میرا بھی دل لگا رہے گا. میں نے نیلم آنٹی کے ساتھ کھانا کھایا اور کچھ دیر کے بعد نیلم آنٹی نے چائے بنائی جو ہم دونوں نے اکٹھے پی اور باتیں کرنے لگے.

نیلم آنٹی نے گرمیوں والے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور بہت سیکسی لگ رہی تھی. میری نیلم آنٹی سے کبھی ایسے ملاقات نہیں تھی کیونکہ وہ زیادہ رہتی ہی گاؤں میں تھی. اب کچھ دیر کے بعد نیلم آنٹی نے مجھ سے کہا یاسر سگریٹ پیتے ہو تو میں نے کہا کبھی کبھی پیتا ہوں پھر بولی اور شراب؟ تو میں نے کہا نہیں شراب کبھی نہیں پینے کا اتفاق ہوا تو نیلم آنٹی بولی چلو آج میرے ساتھ پینا میں حیران ہو گیا اور پوچھا آپ شراب پیتی ہیں؟ تو بولی ہاں اس میں کونسی حیرت کی بات ہے میرا شوہر اور میں دونوں ملکر کر رات پیتے ہیں اور چرس بھی پیتے ہیں. میں ابھی نیلم آنٹی کی باتیں سن کر سکتے میں تھا کہ آنٹی نے اپنے بیگ سے وسکی کی بوتل نکالی اور گلاس لینے کچن میں چلی گئی. پھر نیلم آنٹی واپس آئی اور بیٹھ کر وسکی ڈال کر پینے لگی اور مجھے کہا تم بھی پیو اور میں بھی پینے لگا. ہم کافی دیر باتیں کرنے لگے اور میں نے باتوں باتوں میں پوچھا آپ یہاں کیوں اچانک آگئ ہو؟ تو نیلم آنٹی بولی میرا حرامی شوہر میری کام والی کی پھدی چود رہا تھا اور ساتھ اپنے شوہر کو گالیاں دینے لگی. میں نیلم آنٹی کے منہ سے ایسے الفاظ اور گالیاں سن کر حیران تھا کیونکہ نیلم آنٹی بہت سخت مزاج عورت تھی. وہ مسلسل وسکی کے گلاس پیے جارہی تھی اور وہ شاید ریگولر شراب پیتی تھی لہذا اسکو پرابلم نہیں تھی جبکہ مجھ سے ایک ہی گلاس ختم نہیں ہو رہا تھا.

پھر ہم دونوں شراب پیتے پیتے ٹی وی لاؤنچ میں آگے اور وہاں زمین پر بستر میٹرس لگے تھے میں وہاں لیٹ گیا اور رات چونکہ مجھے یہیں گزارنی تھی پہلی بار وسکی پی تو مجھے تھوڑا نشہ بھی ہو رہا تھا.میں لیٹ گیا اور نیلم آنٹی بھی ساتھ والے میٹرس پر لیٹ کر فلم دیکھ رہی تھی اور ساتھ میں وسکی پی رہی تھی. کب میری آنکھ لگ گئی مجھے پتہ نہیں چلا رات 1 بجے میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا نیلم آنٹی میرے ساتھ جڑ کر سو رہی ہے اسکا ہاتھ میرے سینے پر ہے اور اسکی ٹانگ میرے اوپر تھی. میں اٹھا اور پیشاب کر کہ آیا اور واپس لیٹ گیا. اب کچھ دیر کے بعد نیلم آنٹی میرے اور قریب آگئ اور اپنی ٹانگ پھر سے میرے اوپر رکھ دی. میری نیند اڑ چکی تھی اور میرا لن نے شلوار میں انگڑائی لینا شروع کر دیا تھا. لیکن میں نیلم آنٹی سے بہت ڈرتا تھا کیونکہ وہ بہت سخت طبعیت عورت تھی. کچھ دیر کے بعد میں نے محسوس کیا نیلم آنٹی میرے سینے پر ہاتھ پھیر رہی ہے اور وہ مکمل نشے میں تھی. پھر اسکا ہاتھ میرے لن سے ٹکرایا تو اس نے وہیں پر میرے لن کو کس کر پکڑ لیا. میں نے اب موقع دیکھا اور نیلم آنٹی کے ہونٹوں کو چوم لیا اور ہلکے سے اسکے ممے دبا دیئے. نیلم آنٹی گرم ہو چکی تھی اس نے آٹھ کر میرے کپڑے اتارنے شروع کیے اور اور پھر اپنے کپڑے بھی خود اتار دیئے. اور ننگی ہو کر نیلم آنٹی نے میرا لن پکڑ کر چوسنا شروع کر دیا. میں تو بہت گرم ہو چکا تھا ایک پچپن سالہ عورت میرے لن کے چوپے لگا رہی تھی.

نیلم آنٹی نشے میں تھی اور کچھ بول نہیں رہی تھی. اس نے پھر اپنے مموں کے درمیان میرے لن کو پریس کرنا شروع کیا. نیلم آنٹی کے مموں کا سائز 38 ہو گا اور براون نپلز فل ٹائٹ تھے. اب میں نے آٹھ کر نیلم آنٹی کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا اور نیلم آنٹی نے زبان میرے منہ میں ڈال دی میی میں زور زور سے زبان چوس رہا تھا اور ساتھ میں کاشف کی ماں کے ممے دبا رہا تھا. اب میں نے نیلم آنٹی کے ممے دبانے اور چوسنا شروع کیے 20 منٹ تک میں نیلم آنٹی کے ممے چوستا رہا اور پورے ٹی وی لاونچ میں نیلم آنٹی کی سسکیاں گونج رہی تھی. اب میں کھڑا ہوا اور لن نیلم آنٹی کے ہونٹوں پر رگڑنا شروع کردیا تو نیلم آنٹی نے منہ کھول دیا اور پورا لن منہ میں لے کر چوسنے لگی. نیلم آنٹی زور زور سے میرا چھ انچ لمبا لن چوسے جا رہی تھی اور میں نے اب جوش اور نشے میں نیلم آنٹی کا منہ چودنا شروع کیا اور زور دار جھٹکے سے لن کو نیلم آنٹی کے منہ کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا جس سے نیلم آنٹی کو تکلیف بھی ہو رہی تھی مگر وہ نشے میں تھی. مزید دومنٹ نیلم آنٹی کا منہ چودنے کے بعد میری منی نکلنے لگی آنٹی نے لن کو منہ سے نکالنے کی کوشش کی تو میں نے زور دار تھپڑ نیلم آنٹی کے منہ پر مارا اور لن اسکے منہ میں دھکیل دیا ساری منی نیلم آنٹی کے منہ میں نکالی جسے نگل رہی تھی اور کچھ اسکے ہونٹوں سے باہر نکل رہی تھی.

اب میں نے نیلم آنٹی کو بستر پر دھکا دیا اور اپنا منہ نیلم آنٹی کی چوت کے پاس لے گیا. نیلم آنٹی کی پھدی پر تھوڑے تھوڑے بال تھے. میں نے نیلم آنٹی کی ٹانگیں اٹھا کر پھدی چاٹنا شروع کر دیا. نیلم آنٹی کی پھدی شاید پہلے کافی دفعہ فارغ ہو چکی تھی جسکی وجہ سے اسکی پھدی سے لیس دار گاڑھا پانی نکل کر میرے منہ میں جا رہا تھا. میں زور زور سے آنٹی کے پھدے کو چوس چوس کر چاٹ رہا تھا کہ اچانک ایک بار پھر آنٹی کے پھدے نے پانی چھوڑ دیا اور آنٹی میرے سر کو دبا رہی تھی. میں نے آنٹی کی چوت کا سارا پانی پی لیا تو اپنا لن نیلم آنٹی کی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر رگڑنا شروع کیا. آنٹی مست ہونے لگی اور نشے میں اور زیادہ سیکسی لگ رہی تھی.

مجھے بولی میری پھدی چود دے میں نے حکم کی تعمیل کی اور لن نیلم آنٹی کے پھدے میں اتار دیا. لن کے گھستے نیلم آنٹی نے مجھےکس کر پکڑ لیا اور ٹانگیں میرے گرد لپٹا لی اور پھدی چدوانے لگی. میں بھی نشے میں دھت نیلم آنٹی کی چوت چودے جا رہا تھا. اب آنٹی اٹھی اور مجھے لٹا کر میرے لن پر بیٹھ گئ اور اپنی چوت میرے لن پر مارنے لگی. کیا چوت تھی نیلم آنٹی کی اس عمر میں بھی بہت گرم اور مست دیسی چوت تھی. میں آنکھیں بند کر کہ مزا لے رہا تھا نیلم آنٹی پوچھ رہی تھی مزا آریا ہے میں نے کہا بہت زیادہ آنٹی کی رفتار تیز تھی وہ میرے لن پر اچھل رہی تھی. اب میں نے نیلم آنٹی کو کہا گھوڑی بن جا تو وہ گھوڑی بن گئ میں نے اسی پوزیشن میں نیلم آنٹی کی پھدی چاٹنے لگا اور دو منٹ چاٹ کر اپنا لن نیلم آنٹی کی چوت میں ڈال دیا اور کمر سے پکڑ کر زور زور سے جھٹکے دینے لگا. اب آنٹی کی آوازیں گونج رہی تھی اور میرے لن اور نیلم آنٹی کی پھدی کے ملاپ سے آواز پیدا ہو رہی تھی جو کمرے میں گونج رہی تھی. پانچ منٹ کے بعد مجھے لگا نیلم آنٹی کی پھدی فارغ ہو گی ہے تو میں نے نیلم آنٹی کی چدائی تیز کر دی اور منی نیلم آنٹی کی پھدی کے اندر نکال دی.

اور نیلم آنٹی کے اندر کچھ دیر لن رکھنے کے بعد اسکی پھدی میں لن ڈالے ہی لیٹ گیا. کچھ دیر کے بعد آنٹی نے میرا لن چوس کر صاف کیا اور پھر اس نے اپنی چوت چٹوا کر صاف کروائی. اس رات میں نے چار بار نیلم آنٹی کی پھدی کو چودا اور اگلے دن اور رات بھی نیلم آنٹی کی چدائی کی. میں اس رات کو نہیں بھول سکتا. کیونکہ میں نے بہت انجوائے کیا اب بھی کبھی موقع ملے تو نیلم آنٹی چدواتی ہے.

دوستو کیسی لگی کہانی کمنٹس میں بتائیے گا

28/08/2025

میری بهابهی جان!
دوستوں یہ ان دنو ں کی بات ہے جب میں ہائی سکول میں پڑھتا تھاتب میرے مکان مالک کی بہو تھی جو بانجھ تھی ۔ اس کا نام عاصمہ تھا۔وہ دبلی پتلی گوری چٹی اورخوبصورت عورت تھی۔ یہ تب کی بات ہے جب میں نے اپنی ذندگی میں سیکس کو محسوس کیا تھا۔ اسکول سے واپسی پر راستے میں ایک بک سٹال آتا تھا۔ میں اس پر رک کر مختلف کتابیں دیکھا کرتا تھا جس میں ہوس کی آگ، شباب ایک عذاب اور دوسری بہت سی سیکس کی کتب شامل تھیں۔ لیکن کبھی لینے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔
میرا ایک دوست تھا ماجدتھا۔ ایک دن میں اس کے ساتھ اس کے گھر گیا وہاں اس نے مجھے سیکس کی ایک کتاب دی جو میں گھر میں چھپ چھپ کر پڑھتا تھا۔ اسے پڑھ کر میرا لن کھڑا ہو گیااور مجھ پہلی بار چوت ، ممے اور گانڈ جیسی چیزوں کا پتہ چلا تھا۔ اب میں اکثر ایسی کتابیں پڑھا کرتا تھااور میرا عورتوں ، لڑکیوں کو دیکھنے کا نظریہ بدلا ورنہ اس سے پہلے میں سب کو بہنیں ہی بناتا تھا۔بس یہاں سے ہی کہانی شروع ہوتی ہے۔ ہمارے گھر میں وی سی آر تھا اور ہماری مکان مالک کے بیٹے سے خوب دوستی تھی۔ وہ ہمارے گھر میں فلم دیکھتے تھے۔ایک دن میں ایک فلم لایا، انگلش فلم تھی سپیسم جس میں ۳ نیوڈ سین تھے۔ مجھے معلوم تھا کہ انگلش فلم میں نیوڈ سین ہوتے ہیں لیکن عاصمہ بھابی کو نہیں پتہ تھا۔ میں گھر آیا تو امی گھر نہیں تھیں وہ بازار گئی ہوئی تھیں اور چابیاں عاصمہ بھابی کو دے کر گئی تھیں۔ میں وی سی آر پر فلم لگانے لگاتب عاصمہ بھابی پوچھنے لگی کہ کیا لگا رہے ہو عادل۔ میں نے کہا انگلش فلم ہے سپیسم سانپوں کی فلم ہے۔ بھابی بولی میں بھی دیکھ لوں۔ میں نے کہا نہیں بھابی آپ ڈر جاؤ گی۔ تو بھابی بولیں نہیں تم نہیں ڈروگئے تو میں کیوں ڈروں گی۔ تم لگا لو۔خیر میں نے فلم لگالی اور بھابی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے لگا۔ فلم میں ایک سین آیا جس میں ایک لڑکی نہا رہی ہوتی ہے تو ایک سانپ آتا ہے اور لڑکی کی چوچی پر کاٹتا ہے جس سے لڑکی مرجاتی ہے۔ یہ دیکھ کر بھابھی کہتیں ہیں ہٹاؤ اسے یہ گندی فلم ہے۔ میں نے کہا بھابھی آپ جاؤ یہ ایڈوینچر فلم ہے۔ بھابھی بولی یہ کیسی فلم ہے جس میں لڑکی نہا رہی ہے اور وہ بھی ننگی۔ میں نے کہا یار بھابھی جاؤ اور مجھے دیکھنے دو۔بھابی گئیں نہیں اور دیکھتی رہی۔ 15 منٹ بعد ایک کس سین آیا بھابھی چپ رہی۔ پھر آدھے گھنٹے بعد ایک اور ننگا سین آیا۔ بھابھی پھر بھی چپ رہی۔ آخر میں بھابھی ڈر بھی گئیں جب سانپ کو مارتے ہیں۔ وہ مجھ سے کہنے لگئیں کہ بہت گندی فلم تھی۔ ایسی فلمیں مت دیکھا کرو۔ وہ مجھ سے آنکھیں بھی نہیں ملا رہی تھیں۔ خیر بات آئی گئی ہو گئی۔
کبھی کبھی بھابھی مجھے پڑھاتی بھی تھیں۔ ایک دن بھابھی مجھے بیالوجی پڑھا رہی تھیں اورفراگ سیکس چیپٹر تھا۔ بھابھی نے جو کپڑے پہنے تھے وہ بھی سفید تھے بالکل بھابھی کی طرح اجلے۔ کپڑے سوراخوں والے ڈیزائن کے تھے۔ بھابھی نیچے برانہیں پہنتی تھی۔ مجھے اس میں سے بھابی کے نپل دکھ رہے تھے۔ میں نے بھابھی سے پوچھا یہ سیکس میں کیا ہوتا ہے اور فراگ کے بچے کس طرح پیدا ہوتے ہیں۔ بھابھی ڈر گئی کہ یہ میں نے کیا پوچھ لیا ہے۔وہ بولی یہ ایک پراسس ہوتا ہے جسے کرنے کے بعد فراگ انڈے دیتا ہے۔ میں نے کہا یہ کیسے ہوتا ہے تو بھابھی بولی کتاب میں سب لکھا ہے پڑھ لو وہاں سے۔ میں نے پوچھا بھابھی کیا آدمی بھی سیکس کے بعد انڈے دیتا ہے۔ یہ سن کر بھابی ہنس دی اور بولی نہیں پاگل عورتیں بچے پیدا کرتیں ہیں اور میرے گال پر پیار سے نوچنے کر بولی بہت بے وقوف ہو تم تو۔میں نے پوچھا بھابھی کیسے سیکس کیا جاتا ہے۔ بھابھی بولی ۔ یہ بھی پوچھا جاتا ہے۔ جب تو بڑا ہوگا خودہی پتا چل جائے گا۔ میں نے کہا بھابھی آپ نے کبھی سیکس نہیں کیا ہے ؟ آپ کی تو شادی ہو چکی ہے پر آپ نے بچہ نہیں دیا ہے۔ بھابھی میرے اس سوال پر بهوچنگا کر رہ گئی۔ان کا چہرہ لال ہو گیا اور وہ نیچے چلی گئی۔اس کے بعد کافی دنوں تک میں نے بھابھی کی شکل نہیں دیکھی۔جب میں ان کے پاس پڑھنے کو گیا تو مجھے ان کے نوکر نے واپس کر دیا۔ پھر ایک دن میں فلم لایاسپائڈرمین اور بھائی صاحب کو بلالیا فلم دیکھنے کے لیے۔ان کے ساتھ بھابھی بھی آگئی۔سردیوں کے دن تھے۔ ہم سب ایک بستر میں لیٹے ہوئے تھے۔ بھابھی میر ے اور بھائی صاحب کے درمیان میں تھی۔فلم دیکھتے دیکھتے ہی بھابھی سو گئی۔ اور رضائی میں ہی ان کی ٹانگوں سے قمیض ہٹ گئی۔میں فلم دیکھ رہا تھا۔میں نے لیٹے ہوئے کروٹ لی ۔ دیکھابھابھی سو رہی ہے۔میرا ہاتھ نیچے بھابھی کی ٹانگوں سے لگا۔ مجھے احساس ہو ا کہ بھابھی کی قمیض اوپر اٹھی ہے۔میں نے ہمت کرکے قمیض تھوڑی اور اوپر اٹھاکربھابھی کا پیٹ سہلانہ شروع کردیا۔ان کے نرم و ملائم پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے عجیب سے سرور مل رہا تھا۔ساتھ ساتھ میں بھابھی کو بھی دیکھ رہا تھاکہ وہ جاگ نہ جائیں۔ بھابھی گہری نیند میں تھی ۔ ان کو پتہ نہیں چل رہا تھا۔ پھر میں نے بھابھی کی شلوار میں آہستہ سے ہاتھ ڈالا اور ان کی رانیں سہلانہ شروع کر دیں۔ میرا لن شلوار میں کھڑا ہو کر جھٹکے کھا رہا تھا۔ بھابھی کی رانیں سہلاتے سہلاتے میں جھڑ گیا۔میں اٹھ کر باتھ روم گیااور اور لن صاف کیا۔ اور دوبارہ بستر میں آکر لیٹ گیا۔ بھابھی اب جاگ رہی تھی۔میں ڈر رہا تھا کہ شاید ان کو پتہ چل گیا ہے لیکن ان کی طرف سے خاموشی پا کر مجھے کچھ اطمینان ہوا۔ فلم ختم ہوئی تو بھائی صاحب اور بھابھی اٹھ کر چلے گئے۔ اگلے دن میں بھابھی کے پاس پڑھنے گیاتو وہ مجھے غصے سے دیکھ رہی تھی۔ میں پاس بیٹھا تو وہ مجھے کہنے لگئیں کہ رات کو میری ٹانگوں کے ساتھ کیا کر رہے تھے۔ میں نے کہا کچھ نہیں ۔ وہ کہنے لگی ابھی تمہاری امی کو شکایت لگاتی ہوں۔ میں رونے لگامجھ معاف کر دیں آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔پھر کتاب نکال کر پڑھنے لگا۔ کچھ دیر بعد بھابھی مجھ سے پوچھنے لگی میں تمہیں کیسی لگتی ہوں۔ یہ بہت ہی عجیب سوال تھا۔ میں پریشان ہو گیا۔ میں نے کہا بھابھی مجھے آپ بہت اچھی لگتی ہو۔ آپ بہت پیاری ہو۔بھابھی مجھ سے پوچھنے لگی تمہیں میرے پیر سہلانہ اچھا لگتا ہے۔ میں بھابھی کی طرف دیکھنے لگااور کہا ہاں بھابھی۔ بھابھی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ ان کے نرم نرم ہاتھ کا لمس پاتے ہی میرے جسم میں چیونٹیاں رینگنے لگئیں۔انہوں نے میرا ہاتھ اپنی ٹانگوں پر رکھ دیا۔ میں ان کو سہلانے لگا۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ بھابھی پوچھنے لگی عادل کیا تمہا را دل کرتا ہے کہ اپنی بھابھی کو ننگا دیکھو۔ میں نےکہابھابھی کرتا تو ہے اور کبھی کبھی زینے پر سے جھانک کر آپ کو نہاتے ہوئے بھی دیکھ لیتا ہوں۔ یہ سن کر بھابھی شرما گئی۔ ہائے یہ سب کب ہوا مجھے تو پتہ بھی نہیں چلا۔ میں نے کہا بھابھی بس آپ کی کمر ہی نظر آتی ہے اور کچھ نہیں دیکھا۔بھابھی بولی کیا تم سچ میں اپنی بھابھی کو ننگا دیکھناچاہتے ہو۔ تمہاری بھابھی بہت سندر ہے؟ میں نے شرماتے ہوئے کہا جی بھابھی۔ بھابھی بولی تم نے پہلے مجھ سے کیوں نہیں کہا ۔ میں نے کہا کیا بھابھی آپ سچ میں مجھے ننگی ہو کر دکھاؤ گی۔یہ سن کر بھابھی کھلکھلا کر ہنس دی اور کہنے لگی میرے بھولے دیور راجا۔ کہو تو ابھی ہو جاؤں۔ یہ سنتے ہی میں بھابھی سے لپٹ گیا۔بھابھی مجھے پیار کرتے ہوئے بولی لو جیسا چاہے دیکھ لو۔ پر تم کو قسم ہے چودنا نہیں۔ میں نے پوچھا چودنا کیا ہوتا ہے۔ بھا بھی بولی وہ بھی سکھادوں گی ابھی صرف مجھے ننگاکرو اور پیار کرو۔ میں نے بھابھی کی قمیض اتاری اب بھابھی برا اور شلوار میں تھی۔ نیٹ کی برا میں سے دودھ کی طرح سفید چھاتیاں جھلک رہی تھی۔ بھابھی پھر گھوم کر بولی لو اب بر ا اتا ر کر پورا نظارہ کرو۔ میں نے برا کا ہک کھول دیا اور بھابھی نے برا اتار کر میرے سامنے منہ کیا۔ کیا مست نظارہ تھا۔ دو خوبصورت تربوز کی طرح کی چھاتیاں جن پر براؤن رنگ کے نپل تھے۔ میں تو پاگل ہو رہا تھا یہ منظر دیکھ کر۔ بھابھی کا جسم بے داغ اور دودھ کی طرح سفید تھا بس نپل براؤن تھے باقی سب کچھ سفید تھا۔ میرا لن لوہے کی اکڑا ہو تھا ۔ بھابھی نے مجھے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ساتھ میں بھابھی نے میرے کپڑے بھی اتروا دیئے ۔میں نے بے اختیار بھابھی کے گالوں کو چومنا شروع کر دیا۔ پھر میں نے بھابھی کے ہونٹوں پر کس کیا۔ بھابھی بولی ایسے نہیں اور میرے ہونٹ اپنے ہونٹ میں دبا کر میرے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے۔مجھے بہت مزا آرہا تھا میں نے بھی بھابھی کے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے ان کے ہونٹوں کا رس مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ میں لگا تار بھابھی کے ہونٹو ں کا رس 10 منٹ تک پیتارہا۔ اس دوران میرے لن نے جھٹکا کھاتے ہوئے پانی چھوڑ دیا۔ بھابھی بولی میرے راجا اتنی جلدی خلاص ہوگئے۔میں بولا بھابھی مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ بھابھی ہنس کر بولی کیا اپنی بھابھی کا دودھ نہیں پیو گئے۔میں نے کہا بھابھی کیوں نہیں پیؤگا۔ یہ سنتے ہی بھابھی نے اپنی چوچی میرے منہ میں ڈال دی جسے میں مزے سے چوسنے لگا۔بھابھی کی میٹھی میٹھی چوچیاں چوسنے کا بہت مزا آرہا تھا۔ میں لگاتار چوچی چوس رہا تھا۔ بھابھی نے میرا ہاتھ اپنی شلوار کے اندر چوت کے اوپر رکھ دیااور بولی اس کو سہلاؤ۔میں نے ذورذور سے سہلانہ شروع کر دیا۔ 5 منٹ بعد بھابھی کی چوت نے پانی اگلنا شروع کر دیا اور بھابھی نے مجھے پیار سے چومنا شروع کر دیا۔ میں ذندگی میں پہلی بار عورت کے جسم کی لذت سے آشنا ہوا تھا۔میں پھر فارغ ہو گیا۔ بھابھی بولی دھت جب دیکھو دھار مار دیتا ہے۔ ابھی اناڑی ہے نا۔ کچھ نہیں ہوتا سب سکھا دوں گی۔پھر بھابھی نے اور میں نے کپڑے پہن لیے ۔ بھابھی کہنے لگی۔اب مجھ تنگ نہیں کرنا جب پیار کرنا ہو ، دن میں میرے پاس آجانا۔چلو اب پڑھائی کرتے ہیں۔میں نے کہا بھابھی یہ تو بتا دو چودنا کس کو کہتے ہیں ۔ بھابھی بولی یہ جو لن ہے اس کو کھڑا ہونے کے بعد چوت کے سوراخ میں ڈال کر جھٹکے مارتے ہیں اور فارغ ہوتے ہیں اس کو چودنا کہتے ہیں۔میں نے پوچھا کیا بھائی صاحب بھی آپ کو ایسے ہی چودتے ہیں۔ بھابھی بولی اور نہیں تو کیا۔میں نے کہا بھابھی میں بھی آپ کو چودوں گا۔ بھابھی بولی نہیں ابھی تم بہت چھوٹے ہو۔جب بڑے ہو جاؤ گئے پھر جیسے چاہے چودنا۔ ابھی اوپر سے ایسے ہی مزے لو۔ کیا اس طرح مزا نہیں آتا۔ میں نے کہا آتا ہے۔تو بھابھی بولی تو پھر اور کیا چاہی ہے۔ پھر میں بھابھی سے روز یوں ہی پڑھتا کبھی چوچی چوستے ہوئے۔ کبھی چوت میں انگلی کرتے ہوئے ، کبھی ٹانگیں سہلاتے ہوئے۔چوچی تو روز ہی چوستا تھا کیونکہ چوچی چوسنے میں بہت مزا تھا۔
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺰﮮ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﺎﺟﺪ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ۔ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺍﺗﻨﺎﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﮨﻢ ﮐﺎﻡ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﺍﺏ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﯿﺎ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ‘‘ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﯾﺎﺭ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﮬﻮ ﮨﮯ ﺗﻮ، ﺍﺑﮯ ﺍﺏ ﭼﻮﺩ دے ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﻮ، ﺍﺻﻞ ﻣﺰﮦ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ‘‘ ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮﺩﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ‘‘ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ’’ ﯾﺎﺭ ﮐﯿﺴﺎ ﻣﺮﺩ ﮨﮯ ﺗﻮ؟ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻧﻨﮕﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺩﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ‘‘ ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﯾﺎﺭ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ،ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ‘‘ ۔ ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ’’ ﯾﺎﺭ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﮯ،ﺁﺝ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮﺗﺠﮭﮯ ﺳﺐ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘‘ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺳﯽ ﮈﯼ ﺍﭨﮭﺎ ﻻﯾﺎﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ’’ ﯾﮧ ﻟﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ‘‘ ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﯽ ﮈﯼ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔ ﺍﻣﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ﻣﯿﮟ ﭼﭗ ﮐﮯ ﺳﮯ ﺍ ﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ، ﺩﺭﻭﺍﺫﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﯽ ﮈﯼ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﻣﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﻨﮕﮯ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﺎ ﻣﺰﮦ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ﻣﺮﺩ، ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﺗﯿﺎﮞ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻟﻦ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ۔ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﺮﺍﮨﯿﺖ ﺳﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻟﻦ ﺗﻦ ﮐﺮ ﺭﺍﮈ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺍﺳﮯ زﻭﺭ زﻭﺭ ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻓﻠﻢ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻦ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮨﭽﮑﻮﻟﮯ ﮐﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﺷﺪﯾﺪ ﮐﻤﯽ ﻓﯿﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺎﺟﺪ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﻓﻠﻤﯿﮟ ﺩﯾﮟ۔ﺍﺏ ﻣﯿﺮاﻣﻦ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎﺟﻮ ﻓﻠﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﮩﯿﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮐﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﭨﯽ ﻭﯼ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ۔ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﺎ ﻧﺮﻡ ﻭ ﻣﻼﺋﻢ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻦ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ﺍﺱ ﺩﻥ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﻧﮯ ﭘﻨﮏ ﮐﻠﺮ ﮐﯽ ﻗﻤﯿﺾ ﺍﻭﺭ ﺳﻔﯿﺪ ﺷﻠﻮﺍﺭ ﭘﮩﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﭘﻨﮏ ﺭﻧﮓ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮭﻼ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺗﺎﺑﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ ’’ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ۔ﺁﺝ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺍﺟﺎ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ‘‘ ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﻮ ﺑﻮﻻ ’’ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭼﻮﺩﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ‘‘ ۔ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﺑﻮﻟﯽ ’’ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺐ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﮍﮮ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻣﺮﺿﯽ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﻣﯿﮟﻧﮯﮐﮩﺎ ’’ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﺁﺝ ﮨﯽ ‘‘ ۔ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﮔﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﺲ ﮐﯽ ۔ ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﺳﮯ ﻣﺰﮮ ﻟﮯ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻟﮓ ﮨﯽ ﻓﯿﻠﻨﮕﺰ ﺗﮭﯿﮟ۔ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﮔﺎﻟﻮﮞ ﭘﺮ زﺑﺎﻥ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺳﮩﻼﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ﭘﮭﺮ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭧ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺲ ﮐﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﮑﺮ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ۔ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ زﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﭼﻮﺱ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ زﺑﺎﻥ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ۔ﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﻣﺰﮮ ﺩﺍﺭ ﺗﮭﯽ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ زﺑﺎﻥ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺷﮑﺮ ﭼﺎﭦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ 15 ﻣﻨﭧ ﮨﻮﻧﭧ ﺍﻭﺭ زﺑﺎﻥ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﺳﮯ ﻗﻤﯿﺾ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﮐﻮ ﺑﻮﻻ ۔ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺴﺖ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ﻭﮦ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ ’’ خود ﮨﯽﮐﺮﻟﻮ ﻧﺎ ‘‘ ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﺳﮯ ﻗﻤﯿﺾ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭽﺎ۔ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﺑﻮﻟﯽ ’’ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺍﺟﺎ ! ﭘﮭﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻤﯿﺾ ،ﭨﮭﺮﻭ ﻣﯿﮟ خود ﮨﯽ ﺍﺗﺎﺭﺗﯽ ﮨﻮﮞ ‘‘ ۔ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﻧﮯ ﻗﻤﯿﺾ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯼ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﭦ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯼ۔ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﻮ ﮐﺲ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ۔ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﺩن ﭼﺎﭨﺘﺎﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺎﻝ۔ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﺮﻡ ﺣﺼﮯ ﮐﻮ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻮﺳﺎ۔ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ لذﺕ ﺳﮯ ﮐﺮﺍﮦ ﺍﭨﮭﯽ۔ﻭﮦ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ﻣﯿﮟ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯼ۔ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﻧﻮﮐﺪﺍﺭ ﭼﻮﭼﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻦ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﮐﮍ ﮔﯿﺎ۔ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﺗﻨﯽ ﭼﻮﭼﯿﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﮔﺮﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﻮ ﺑﺎنہوﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﻟﮕﺎﺗﺎﺭ ﭼﻮﻣﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﻨﯽ ﺑﮭﯿﻨﯽ ﻣﮩﮏ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺣﺸﯽ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﮔﮭﻮﻡ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺮﻡ ﭼﻮﺗﮍﺑﮭﯽ ﺩﺑﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺳﺴﮑﺎﺭﯾﺎﮞ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﭼﻮﻣﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﺗﯿﻮﮞ ﺗﮏ ﺁﯾﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﭙﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺩﺑﺎﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﮐﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﭙﻞ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﮯ ﭼﺒﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ’’ ﺁﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﮭﺎ ﻟﻮﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ‘‘ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎﮐﮧ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮔﺮﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ۔ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﭙﻞ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﭼﻮﺳﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺎﭦ ﺑﮭﯽ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺗﻮ ﻭﮦ ﭼﻼ ﺍﭨﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﮩﺘﯽ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﭼﻮﺳﻮ، ﮐﺎﭨﻮ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﺗﺎﺭ ﻧﭙﻞ ﭼﻮﺳﮯ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﺎ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﭼﻮﺳﺘﺎ ﺭﮨﺎ۔ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﭙﻞ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﭙﻞ۔ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮯ ﺩﺭﺩﯼ ﺳﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﻧﭙﻞ ﮔﻼﺑﯽ ﺳﮯ ﻻﻝ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺟﯿﺴﮯ ﮔﻮﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺯﮎ ﭘﺎﺅﮞ ﭼﺎﭨﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻧﺮﻡ ﻧﺮﻡ ﺍﮔﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﻮﺱ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺩﮬﺮ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻦ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﺗﮭﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﯿﻨﭧ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﺭ ﻭﯾﺌﺮ ﺍﺗﺎﺭﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽﮐﯽ ﺷﻠﻮﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯼ۔ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻦ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎﺍﻭﺭ ﺳﮩﻼﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﻧﺮﻡ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻦ ﺁﭘﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﻮ ﺩﮬﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ۔ﺳﯿﮑﺴﯽ ﻓﻠﻤﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﭼﻮﺩﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ۔ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﮔﻼﺑﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﻃﺮﺡ ﺍﻭﺭ ﻟﯿﺲ ﺩﺍﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮩﻼﻧﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﻣﺰﮮ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺣﺎﻝ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﻮﺕ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ ۔ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮔﻼﺏ ﮐﯽ ﭘﻨﮑﮭﮍﯾﺎﮞ ﻟﮓ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﻧﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻼ ﺟﺴﻢ ﺗﮭﺎ۔ ﭼﻮﭼﯿﺎﮞ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺗﮑﯿﮧ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﯿﺎ۔ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﻦ ﮐﯽ ﭨﻮﭘﯽ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﮑﺎ ﻟﮕﺎﯾﺎ۔ ﻟﻦ ﺳﻨﺴﻨﺎﺗﺎﮨﻮ ﺍ ﺁﺩﮬﮯ ﺳﮯ ﺫﯾﺎﺩﮦ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺦ نکل ﮔﺌﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﺑﺎ ﻟﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﻋﺎﺩﻝ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﮐﺮﻭ۔ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ زﻭﺭﺩﺍﺭ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﺩﯾﺎﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻦ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﮍ ﺗﮏ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼ ﮔﯿﺎﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻟﺨﺮﺍﺵ ﭼﯿﺦ ﻧﮑﻠﯽ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺑﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ۔ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﺍﺗﻨﺎ زﻭﺭ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﻣﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺳﺎ ۔ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﮐﻢ ﮨﻮﺍﺗﻮﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻠﮑﮯ ﮨﻠﮑﮯ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ۔ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎنہوﮞ ﻣﯿﮟ زﻭﺭ ﺳﮯ ﭘﮑﮍﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ زﻭﺭ ﮐﮯ ﺟﮭﭩﮑﮯﻟﮕﺎﻧﮯﮐﻮ ﺑﻮﻝ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﭙﯿﮉﺗﯿﺰ ﮐﺮﺩﯼ۔ﭼﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﮩﻠﯽ ﭼﺪﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ، ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﯿﮟ 5 ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎﺍﻭﺭ ﻣﻨﯽ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﭼﮭﻮﮌﺩﯼ۔ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﺑﻮﻟﯽ2 ﻣﻨﭧ ﺍﻭﺭ ﺭﮎ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﮭﮍ ﺟﺎﺗﯽ،ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭘﮩﻼ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﮑﮭﺎﺩﻭﮞ ﮔﯽ ‘‘ ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ زﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﻼنا ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ ۔ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﻧﮯ ﻣﻨﯽ ﮐﺎ ﻓﻮﺍﺭﮦ ﺍﮔﻞ ﺩﯾﺎﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﯿﻼ ﭘﮍﮔﯿﺎ۔ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭼﻮﻣﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭼﻮﺩﺍ ﮨﮯ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺑﻮ ﮐﯽ ﭘﻮﺳﭩﻨﮓ ﺭﺍﻭﻟﭙﻨﮉﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﭼﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔

Like share and follow

Address

Sarghoda
Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dewani foji ki posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category