30/11/2025
حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ ایک عظیم سبق، صبر، توحید کی دعوت اور اللہ کی رحمت کی نشانیوں سے بھرا ہوا ہے۔ آپ علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی تھے جنہیں نینویٰ (موجودہ عراق کے علاقے) کی قوم کی طرف بھیجا گیا۔ قوم بت پرستی میں مبتلا تھی اور سیدھی راہ سے بھٹک چکی تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں اللہ کی وحدانیت اور نافرمانی کے انجام سے خبردار کیا، مگر وہ مسلسل انکار کرتے رہے۔ قوم کے مسلسل انکار اور بدعملی سے دل گرفتہ ہو کر حضرت یونس علیہ السلام نے بغیر اللہ کے حکم کے شہر چھوڑ دیا۔ یہی قدم ان کی آزمائش کا آغاز بنا۔
آپ ایک کشتی میں سوار ہوئے، لیکن سمندر میں شدید طوفان آیا اور کشتی ڈوبنے لگی۔ قرعہ ڈالا گیا تو حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا، لہٰذا آپ کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بہت بڑی مچھلی نے انہیں زندہ نگل لیا۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک عظیم آزمائش تھی۔ مچھلی کے پیٹ میں اندھیرا، سمندر کا اندھیرا اور رات کا اندھیرا—تین اندھیریں آپ کے گرد تھیں، مگر آپ نے صبر کیا اور اللہ کے حضور انتہائی عاجزی سے دعا کی:
"لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين"
یہ دعا نہ صرف ان کی نجات کا ذریعہ بنی بلکہ قیامت تک مومنوں کے لیے مشکل وقت میں امید اور رحمت کا دروازہ قرار پائی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں ساحل پر سالم و سلامت اُگل دے۔ پھر اللہ نے ایک بیل دار درخت سے ان کے جسم کی حفاظت فرمائی اور دوبارہ اپنی قوم کی طرف بھیجا۔ اس بار قوم نے ان کی بات مان لی، توبہ کی اور اللہ کی رحمت نے انہیں گھیر لیا۔
حضرت یونس علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی رضا کے بغیر قدم نہ اٹھایا جائے، مشکل میں صبر اور دعا مضبوط سہارا ہیں، اور اللہ کی رحمت ہر لمحہ بندے کے قریب ہے۔
Dua talabgar Zahid bhai