25/04/2026
پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جسے قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ زیرِ زمین تیل و گیس کے ذخائر، زرخیز زمینیں، چار موسموں کی برکت، محنتی افرادی قوت اور سائنسی میدان میں ایسی پیش رفت کہ دفاع کے لیے ایٹمی صلاحیت بھی حاصل—یہ سب کسی بھی ملک کو خودکفیل بنانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اتنی صلاحیتوں کے باوجود عام آدمی آج بھی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہا ہے۔
یہ سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں، بلکہ نیت اور ترجیحات کی خرابی کا ہے۔ ہمارے حکمران اکثر وقتی مفادات، سیاسی رسہ کشی اور ذاتی فائدے میں الجھ کر وہ فیصلے نہیں کر پاتے جو قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ توانائی کے وسائل موجود ہونے کے باوجود بجلی اور گیس کی قلت، زراعت کی طاقت ہونے کے باوجود مہنگائی، اور دفاعی قوت کے باوجود داخلی کمزوری—یہ سب ایک ایسے نظام کی نشانیاں ہیں جہاں منصوبہ بندی اور دیانت کا فقدان ہے۔
اگر انہی وسائل کو دیانتداری، شفافیت اور دوراندیشی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنے عوام کو خوشحال بنا سکتا ہے بلکہ دنیا میں ایک مضبوط معاشی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ مگر جب قیادت ہی کمزور ہو، تو مضبوط بنیادیں بھی عمارت کو سہارا نہیں دے پاتیں۔
قوم کی اصل طاقت اس کے وسائل نہیں، بلکہ ان وسائل کو درست سمت میں استعمال کرنے والی قیادت ہوتی ہے۔ جب تک یہ شعور بیدار نہیں ہوگا، تب تک نعمتیں ہونے کے باوجود محرومیاں ہمارا مقدر بنی رہیں گی۔