bazm.e.sukhan���

bazm.e.sukhan��� یہاں پر آپ کو اردو شاعری اور اردو ادب کے متعلق چیزیں ملیں گی

پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جسے قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ زیرِ زمین تیل و گیس کے ذخائر، زرخیز زمینیں، چار موسمو...
25/04/2026

پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جسے قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ زیرِ زمین تیل و گیس کے ذخائر، زرخیز زمینیں، چار موسموں کی برکت، محنتی افرادی قوت اور سائنسی میدان میں ایسی پیش رفت کہ دفاع کے لیے ایٹمی صلاحیت بھی حاصل—یہ سب کسی بھی ملک کو خودکفیل بنانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اتنی صلاحیتوں کے باوجود عام آدمی آج بھی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہا ہے۔

یہ سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی کا نہیں، بلکہ نیت اور ترجیحات کی خرابی کا ہے۔ ہمارے حکمران اکثر وقتی مفادات، سیاسی رسہ کشی اور ذاتی فائدے میں الجھ کر وہ فیصلے نہیں کر پاتے جو قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ توانائی کے وسائل موجود ہونے کے باوجود بجلی اور گیس کی قلت، زراعت کی طاقت ہونے کے باوجود مہنگائی، اور دفاعی قوت کے باوجود داخلی کمزوری—یہ سب ایک ایسے نظام کی نشانیاں ہیں جہاں منصوبہ بندی اور دیانت کا فقدان ہے۔

اگر انہی وسائل کو دیانتداری، شفافیت اور دوراندیشی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنے عوام کو خوشحال بنا سکتا ہے بلکہ دنیا میں ایک مضبوط معاشی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ مگر جب قیادت ہی کمزور ہو، تو مضبوط بنیادیں بھی عمارت کو سہارا نہیں دے پاتیں۔

قوم کی اصل طاقت اس کے وسائل نہیں، بلکہ ان وسائل کو درست سمت میں استعمال کرنے والی قیادت ہوتی ہے۔ جب تک یہ شعور بیدار نہیں ہوگا، تب تک نعمتیں ہونے کے باوجود محرومیاں ہمارا مقدر بنی رہیں گی۔

پرائیویٹ سکولوں کی سفّاکیتپیٹرول پمپ پر ایک معصوم ملازم بچی کو دیکھ کر پوچھا: بیٹا آپ کو کیا پیکج ملتا ہے؟ انکل تیس ہزار...
18/04/2026

پرائیویٹ سکولوں کی سفّاکیت

پیٹرول پمپ پر ایک معصوم ملازم بچی کو دیکھ کر پوچھا:
بیٹا آپ کو کیا پیکج ملتا ہے؟
انکل تیس ہزار پٹرول پمپ پر پٹرول ڈالتی ہوئی بیٹی نے جواب دیا۔
تو آپ سکول جوائن کر لیتیں؟
انکل پہلے میں سکول ٹیچر تھی اور مجھے چھ ہزار روپے تنخواہ ملتی تھی۔
گھر آکر بھی سکول کا کام کرتی رہتی ۔
کبھی ٹیسٹ کے پیر بناتی کبھی سہ ماہی امتحان کے کبھی کلاس ٹیسٹ گھر میں چیک کر رہی ہوتی تھی اور کبھی ماہانہ اور کبھی سہ ماہی امتحان کے پیپرز۔
ان پیپرز بنانے کا چیک کرنے کا کوئی معاوضہ بھی نہیں ملتا تھا۔
پیپرز بنانے کا کاغذ تک اپنی جیب سے خریدتے۔
دو دو تین تین سال تنخواہ نہیں بڑھتی تھی۔
اگر بڑھتی تو چار پانچ سو روپے۔
کسی بچے کو شرارت پر ڈانت دیتی تو پرنسپل والدین کے سامنے پیش کر دیتا انہیں وضاحت دو۔
بعض اوقات تنخواہ قسطوں میں ملتی۔
سکول مالک تین ماہ کی چھٹیوں میں تنخواہ نہیں دیتا کہ سٹاف تنخواہ لیکر سکول نہ چھوڑدے۔
میری والدہ بیمار رہتی تھی، ان کے علاج کے لیے میں ادھار لیتی۔
بیمار والدہ کو اکیلے گھر چھوڑ کر میں ہوم ٹیوشن بھی کرتی۔
گھر میں سب سے بڑی میں ہوں، چھوٹے بہن بھائی پڑھ رہے ہیں۔
انکل یہ سکول مالک کیا جانیں!! جتنی ہمیں تنخواہ دیتے ہیں اس سے زیادہ پیسوں کا پٹرول ان کی گاڑی ایک لاہور کے چکر میں پی جاتی ہے۔
انکل! یہاں مجھے کھانا بھی ملتا ہے اور پمپ کا مالک ضرورت پر ایڈوانس تنخواہ بھی دے دیتا ہے ۔ ۔ ۔

مجھے قرآن مجید کی آیات کا مفہوم یاد آ گیا قرآن مجید میں اللہ فرماتا ہےکہ کچھ جن اور انسان ایسے ہیں جن کی نہ آ آنکھیں ہیں انہیں نظر نہیں آتا نہ ان کے کان ہیں انہیں سنتا نہیں۔ ان کا دل ہے لیکن انہیں محسوس نہیں ہوتا یہ ۔دوزخ کا ایندھن ہیں..🙏🙏
منقول

مورخ لکھے گا اکیسویں صدی کا سب سے بھاری جُملہ شہید مشال خان اور انکی والدہ نے کہا تھا کہمرنے سے پہلے مشال شہید میں مسلما...
16/04/2026

مورخ لکھے گا اکیسویں صدی کا سب سے بھاری جُملہ شہید مشال خان اور انکی والدہ نے کہا تھا کہ
مرنے سے پہلے
مشال شہید
میں مسلمان ہوں مجھے ہسپتال لے جاؤ

والدہ کے الفاظ
میں نے اُسکا ہاتھ چومنے کے لیے پکڑا تو اُسکی انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر


مشال خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کا ایک نہایت دردناک اور
چونکا دینے والا واقعہ ہے جو معاشرتی رویوں ہجوم کے تشدد اور جھوٹے الزامات کے خطرناک نتائج کو واضح کرتا ہے یہ واقعہ تیرہ اپریل دو ہزار سترہ کو عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں پیش آیا جہاں ایک نوجوان طالب علم کو محض الزامات کی بنیاد پر زندگی سے محروم کر دیا گیا

مشال خان ایک ذہین اور باشعور طالب علم تھے جو صحافت کے شعبے سے وابستہ تھے وہ اپنے خیالات کا اظہار کھل کر کرتے تھے اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے یہی بات بعض لوگوں کو ناگوار گزرتی تھی اور اسی پس منظر میں ان کے خلاف ایک سنگین الزام لگایا گیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک خطرناک رخ اختیار کر لیا

واقعے کے دن یونیورسٹی کے اندر اچانک یہ خبر پھیلائی گئی کہ مشال خان نے توہین مذہب کی ہے یہ خبر بغیر کسی تحقیق کے تیزی سے پھیل گئی اور طلبہ کا ایک ہجوم مشتعل ہو گیا اس ہجوم نے نہ صرف مشال خان کو ڈھونڈ نکالا بلکہ انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا انہیں گولی ماری گئی اور بے دردی سے مارا پیٹا گیا یہاں تک کہ وہ جان کی بازی ہار گئے یہ سب کچھ دن دیہاڑے اور درجنوں لوگوں کے سامنے ہوا مگر کوئی بھی انہیں بچانے کے لیے آگے نہ آیا

بعد ازاں جب اس واقعے کی تحقیقات کی گئیں تو ایک چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ مشال خان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور جھوٹے تھے تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے پیچھے ذاتی دشمنی اور اختلافات کارفرما تھے نہ کہ کوئی مذہبی گستاخی اس انکشاف نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کس طرح ایک جھوٹا الزام ایک انسان کی جان لے سکتا ہے

اس واقعے کے بعد حکومت نے سخت کارروائی کی اور ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا کیس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا گیا جہاں مختلف ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں ایک مرکزی ملزم کو سزائے موت دی گئی جبکہ دیگر افراد کو عمر قید اور مختلف مدت کی سزائیں دی گئیں تاہم کچھ افراد کو شواہد کی کمی کی بنیاد پر بری بھی کیا گیا

مشال خان کا قتل محض ایک فرد کا قتل نہیں تھا بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک سوالیہ نشان تھا اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ اگر قانون کی بالادستی نہ ہو اور لوگ خود فیصلے کرنے لگیں تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے اس سانحے نے ہمیں یہ سبق دیا کہ کسی بھی الزام کی تحقیق کے بغیر فیصلہ کرنا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے

یہ واقعہ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے اور یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف صبر اور تحقیق کے بغیر ممکن نہیں ہے مشال خان کی جان تو واپس نہیں آ سکتی مگر ان کی کہانی ایک ایسی مثال بن گئی ہے جو ہر انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمیں بطور معاشرہ کس سمت جانا ہے

ہماری زمین سے تیل اور گیس دریافت ہو گئی لیکن بااثر لوگوں نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے ۔۔۔۔ اٹک کے گاؤں جنڈ کے غریب شخص ک...
15/04/2026

ہماری زمین سے تیل اور گیس دریافت ہو گئی لیکن بااثر لوگوں نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے ۔۔۔۔ اٹک کے گاؤں جنڈ کے غریب شخص کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی حیران کن کہانی ۔۔۔ جنڈ ضلع اٹک کے رہائشی تنویر گل کے بقول ۔۔۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے علاقے میں گیس کمپنی پی پی ایل کھدائی کرنے آئی تو ہماری ذاتی ملکیتی زمین سے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوئے ۔ علاقہ کے کچھ لوگوں نے ہم سے کوڑیوں کے مول زمین لینا چاہی مگر ہم نے انکار کردیا تو پھر علاقہ پٹواری جاوید اختر نے کچھ غنڈوں اور پولیس کے ساتھ ملکر ہماری زمین پر جعلی کاغذات اور علاقہ پولیس کی مدد سے قبضہ کر لیا ، اس ناانصافی پر میں نے اسسٹنٹ کمشنر اٹک کو درخواست دی انہوں نے جانچ پڑتال کروائی اور اپنی رپورٹ میں مخالفین کے قبضے کو غیر قانونی قرار دے دیا ساتھ ہی پولیس کو ہدایت کی کہ اصل مالکان کو قبضہ واپس دلایا جائے لیکن پولیس کی بااثر لوگوں سے ملی بھگت کی وجہ سے کوئی کارروائی نہ ہوئی الٹا مجھ پر مختلف نوعیت کے چار مقدمات مختلف تھانوں میں درج کرکے مجھے گرفتار کر لیا گیا ۔ 6 دن حراست میں رکھا گیا اس دوران تش۔دد کیا گیا اور زمین کی ملکیت سےدستبردار ہونے اور اس پر قبضے کا کسی فورم پر ذکر نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگرمیں نے انکار کردیا تو پولیس نے جعلی مقدمات میں چالان کرکے جیل بھیج دیا ۔ تنویر گل کے بقول میرے بوڑھے والدین اور بیوی نے بھاگ دوڑ کرکے بڑی مشکل سے میری ضمانت کروائی ۔۔۔۔
تنویر گل نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے ، انکی اہلیہ نے وزیراعلیٰ صاحبہ سے اپیل میں کہا ہے کہ یا تو ہمیں انصاف فراہم کیا جائے ، ہمارا حق ہمیں دلایا جائے اور ہماری جان کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور یا پھر ہمیں صاف انکار کردیا جائے تاکہ ہم پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک کی طرف رخ کر جائیں ۔۔

ایک دن میں راستے سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک ننھے بچے پر پڑی جو گاؤں کے قبرستان میں ایک قبر کے پاس بیٹھا زار زار رو ر...
09/04/2026

ایک دن میں راستے سے گزر رہا تھا کہ میری نظر ایک ننھے بچے پر پڑی جو گاؤں کے قبرستان میں ایک قبر کے پاس بیٹھا زار زار رو رہا تھا۔ اس کے کندھے پر اسکول کا بیگ تھا، مگر ایسا لگتا تھا جیسے اس بیگ میں کتابوں کے بجائے غم بھرے ہوں۔😭😭😭
میں اس کے قریب گیا، اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے پوچھا:🤲🤲🤲🤲
"بیٹا! یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ اسکول نہیں جاتے؟ کیوں اتنا رو رہے ہو؟"🫵🫵🫵🫵
بچے نے جب سر اٹھایا تو اس کے چہرے پر آنسوؤں کے نشان ایسے تھے جیسے بارش کے قطرے مٹی پر لکیر بنا دیتے ہیں۔ وہ سسکیوں میں بولا:
، مجھے کسی نے نہیں مارا… مگر تقدیر نے بہت زور کی چوٹ ماری ہے۔ یہ میری ماں کی قبر ہے۔ پہلے وہ مجھے خود اسکول بھیجتی تھی، میرے سر پر ہاتھ رکھتی تھی اور دعائیں دیتی تھی۔ اب جب گھر جاتا ہوں تو گھر مجھے سنسان لگتا ہے۔"
پھر اس نے قبر کی طرف دیکھ کر کہا:
"میں ہر روز پہلے یہاں آتا ہوں، اپنی ماں کو بتاتا ہوں کہ میں اسکول جا رہا ہوں… مگر آج میرے بیگ میں کسی نے روٹی بھی نہیں رکھی۔"
یہ الفاظ سن کر میرا دل ٹوٹ گیا اور آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ ماں کی کمی دنیا کا وہ خلا ہے جو کسی بھی چیز سے پورا نہیں ہو سکتا۔😭😭😭😭😭
منقول

‏دسویں کلاس کے ایک محنتی طالب علم کے ساتھ وہ ظلم ہوا جو کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔یہ بچہ انگلش کا پہلا پیپر دینے جا رہ...
07/04/2026

‏دسویں کلاس کے ایک محنتی طالب علم کے ساتھ وہ ظلم ہوا جو کسی کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بچہ انگلش کا پہلا پیپر دینے جا رہا تھا کہ راستے میں اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ شدید زخمی حالت میں بھی اس نے ہمت نہیں ہاری اور کسی طرح اپنے پیپر سینٹر پہنچ گیا... لیکن

وہاں اس کے ساتھ جو ہوا، وہ دل دہلا دینے والا ہے۔
باقی تفصیلات پہلے کومنٹس میں

جب تک گلف کے شیخ قرض دیتے رہے یا قرض واپسی کی معیاد بڑھاتے (رول اوور) کرتے رہے تب تک گلف ریاستوں-پاکستان کے برادارانہ او...
07/04/2026

جب تک گلف کے شیخ قرض دیتے رہے یا قرض واپسی کی معیاد بڑھاتے (رول اوور) کرتے رہے تب تک گلف ریاستوں-پاکستان کے برادارانہ اور دوستانہ تعلقات کے راگ الاپے جاتے تھے کبھی برج خلیفہ پہ پاکستان کے کسی قومی دن پہ جھنڈے والی بتیاں جلتی تھی تو گلف کی پاکستان کیلیے بہت عزت کے قصے مشہور تھے
آۓ روز گلف شیخوں کے پاس جا کر قرض دینے یا قرض کی میعاد بڑھانے کے ترلے کیے جاتے تھے اور اگر شیخ مان جاتے تو پالشیے اور لفافہ بریگیڈ قرض ملنے یا رول اوور ہونے پہ شیخوں کی شان میں قلابے بھرتے تھے
کبھی گلف کے شیخوں سے پاکستان میں یا گلف دوروں کے دوران اپنی بچیاں ملوانا ہاتھوں میں ہاتھ تھمانا باعث فخر سمجھا جاتا تھا
کبھی شیخ ذاتی دوروں (شکار و عیاشی) کیلیے پاکستان آتے تھے تو انکے استقبال کیلیے ملک کی جعلی طریقے سے بھاگ دوڑ سنبھالنے والے ائیرپورٹ دوڑے دوڑے جا کہ سیلوت بھی ٹھوکا کرتے تھے اور عوام کو سرمایہ کاری کا چورن بیچا جاتا تھا حالانکہ شیخ ذاتی دوروں کیلیے آتے تھے😂
خیر جب سے گلف کے شیخوں نے قرض واپسی کا سختی سے تقاضا کیا اور دھمکی دی کہ اگر قرض واپسی نہ ہوئ تو پاکستانی جنرلز سیاستدانوں بیوروکریسی اور اشرافیہ مافیا کی غیر قانونی و خفیہ جائیدادیں ضبط کر لیں گے
بس پھر کیا تھا کل تک شیخوں کے تعریفی قصیدے گانے والے لفافے اور پالشیے آج انھی شیخوں کے خلاف ہو گۓ ہیں
کئ پالشیے تو اسے اسر ریل اور گلف کا گٹھ جوڑ ثابت کرنے پہ تلے ہیں😂
کئ پالشیے پاکستان کا ایران کے ساتھ جنگ میں عرب کا ساتھ نہ دینے کا غصہ قرار دیتے ہیں چلو تھوڑی مان بھی لیا کہ ایسا ہو بھی سکتا ہے
تو چائنا نے اپنے انرجی سیکٹر پہ واجب الادا رںپیمنٹ کیوں مانگ لی کیا چائنا کو بھی اسر ریل نے ہلہ شیری دی ہے قرض واپس لینے کی😂
جس کا قرض دینا ہو وہ قرضدار سے قرض واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے یہی گلف کے شیخ کر رہے ہیں
کہ ساڈا پیسہ ایتھے رکھ
شیخ بھی اۓ روز بھکاری اعظم کی بھیک والے کٹورے سے تنگ آۓ تھے اب شیخوں نے اللہ واسطے بھیک تو دی نہیں تھی کہ چند ٹکے دے کہ دعا لے لیتے گلف کے شیخوں نے قابل واپسی قرضہ دیا تھا نہ کہ صدقہ خیرات😂
کل کو یہی شیخ اگر پھر قرض دینے یا میعاد بڑھانے کیلیے راضی ہو جائیں تو اج جو پالشیے کمپئین کر رہے ہیں وہی اپنی عورتوں کو لے کر انھی شیخوں کے استقبال کیلیے لائنوں میں لگے ہوں گے

کسی ملک کی عدالتیں اگر تنخواہ،پینشن، پروٹوکول اور دیگر سہولیات کے لحاظ سے دنیا کے ٹاپ ٹین درجہ میں ہوں اور انصاف کی فراہ...
06/04/2026

کسی ملک کی عدالتیں اگر تنخواہ،پینشن، پروٹوکول اور دیگر سہولیات کے لحاظ سے دنیا کے ٹاپ ٹین درجہ میں ہوں اور انصاف کی فراہمی میں ایک سو تیسویں (130) نمبر پر،
تو خداراہ !!!

سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر بتائیں کہ اس ملک کی عوام کا کیا فرض بنتا ہے۔؟؟؟

06/04/2026

🥷:پتا ہے محبت کیا ہے ؟
وہ سارا دن ہمارے گناہ دیکھتا رہتا ہے
اور ہماری نافرمانیاں دیکھتا رہتا ہے ۔
اور صبح اپنے ہی فرشتوں کے ہاتھ ہمارا رزق بھیجتا ہے 🥺

•  Fabric: Denim•  Pattern: Printed•  Sizes: Medium And Large•  Medium Dimensions: Shirt Length: 42 Inches, Chest: 21 In...
01/07/2024

• Fabric: Denim
• Pattern: Printed
• Sizes: Medium And Large
• Medium Dimensions: Shirt Length: 42 Inches, Chest: 21 Inches, Trouser: Length: 39 Inches, Waist: 28 Inches
• Large Dimensions: Shirt Length: 42 Inches, Chest: 23.5 Inches, Trouser: Length 39 Inches Waist: 28 Inches
• Package Includes: 1 x Shirt, 1 x Trouser
• Note: There might be 1-3 cm errors of dimension data due to pure manual measurement
• There might be slightly color difference due to different light and monitor effect.
• Product Code: MZ1101673AG

10/06/2024

ایک سبق آموز واقعہ

Address

Talagang Malikwal
Talagang

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when bazm.e.sukhan��� posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to bazm.e.sukhan���:

Share

Category