Al HARAM Online STORE

Al HARAM Online STORE business. watchs �, clothing, shoes, sandals, slippers, etar, perfume and other available.

برائے فروخت ۔لوکیشن ٹانک (ڈیرہ اسماعیل خان)03052004896
12/06/2024

برائے فروخت ۔
لوکیشن ٹانک (ڈیرہ اسماعیل خان)

03052004896

کتابوں کا عالمی دن ۔۔۔۔۔ 😍🌹
23/04/2024

کتابوں کا عالمی دن ۔۔۔۔۔ 😍🌹

7 in 1 Smart watch Available۔رمضان آفر۔قیمت: 3500 نہیں ×صرف3000✓ میں وہ بھی ڈیلیوری فری کے ساتھ ۔تو آئیں اور جلد از جلد ...
17/03/2024

7 in 1 Smart watch Available۔

رمضان آفر۔

قیمت: 3500 نہیں ×

صرف
3000✓ میں وہ بھی ڈیلیوری فری کے ساتھ ۔

تو آئیں اور جلد از جلد اپنا آرڈر بک کریں اور رمضان آفر سے بھر پور فائدہ اٹھائیں ۔
________________________________________________
آرڈر کرنے کے لیے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کیجئے ۔
03052004896

اپنے دوستوں کے ساتھ واٹس گروپ لنک کو ضرور شئیر کیجئے گا ۔
https://chat.whatsapp.com/FiEjWnZnyzIJGgNkBo3bxh

*کلثوم لال۔ ترکی*بہت ہی اعلی خوشبو۔بہترین لاسٹنگ۔مناسب قیمت۔ایک بار ضرور آزمائیں۔۔*قیمت 3ml: 300*_______________________...
18/02/2024

*کلثوم لال۔ ترکی*
بہت ہی اعلی خوشبو۔
بہترین لاسٹنگ۔

مناسب قیمت۔
ایک بار ضرور آزمائیں۔۔
*قیمت 3ml: 300*

_______________________________
*آرڈر کرنے کے لیے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کیجئے گا۔*
*03052004896*

واٹس ایپ گروپ لنک 👇
https://chat.whatsapp.com/FiEjWnZnyzIJGgNkBo3bxh

*شہد جمتا ہے یا نہیں؟*اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خالص شہد نہیں جمتا، اور جو شہد جم جائے وہ خالص نہیں ہوتا، حالانکہ یہ بات...
29/10/2023

*شہد جمتا ہے یا نہیں؟*

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خالص شہد نہیں جمتا، اور جو شہد جم جائے وہ خالص نہیں ہوتا، حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے، خالص شہد

بھی جمتا ہے اور دونمبر شہد بھی،

خالص شہد کا جم جانا ایک قدرتی عمل ہے، اس لیے ہم اپنے شہد کے خالص ہونے کی مکمل گارنٹی دیتے ہیں مگر جمنے کی کوئی گارنٹی نہیں دیتے، جس کو ہماری بات پہ یقین نہ ہو وہ اپنے ہاتھوں سے شہد

اتار کے جس بوتل میں شہد ڈالیں وہ بوتل ڈھکن کھول کر فریج یا سردیوں میں کسی ٹھنڈی جگہ پہ رکھ دیں، کچھ دنوں میں ہی وہ ضرور جم جائے گا۔

یہاں ایک بات کا ذکر کرتا چلوں کہ کچھ اقسام کا شہد جمتا ہے اور کچھ اقسام کا نہیں جمتا، مثال کے طور پر بڑی مکھی کا موسم بہار والا شہد اور جنگلی شہد جم جاتا ہے لیکن چھوٹی مکھی بیری والا اور بلیک فاریسٹ والا شہد نہیں جمتا

ہے اگر خالص شہد کا رنگ پیلا ہے تو جب یہ شہد جمتا ہے تو اسکا رنگ سفید ہو جاتا اور گھی کی طرح دانے دار ذرات کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جب شہد جم جائے تو پریشان نہ ہوں کیونکہ شہد کا جم جانا

قدرتی عمل ہے۔

شہد کو اصلی حالت میں واپس لانے کے لیے آپ کسی برتن میں پانی گرم کریں اور چولہا بند کر دیں اب اس گرم پانی میں شہد والی بوتل آجائے۔

اس طرح رکھیں کہ پوری بوتل پانی میں یا پھر بہتر یہ ہے کہ بوتل پلاسٹک کی ہو تو بوتل کو کاٹ کر اس میں سے جما ہوا شہد کسی برتن میں نکال لیں اور گرم پانی میں تقريباً 20 منٹ کے لیے رکھ دیں خالص شہد پگھلنے کے بعد واپس اصلی آجائے گا۔

اور اگر وہ اصلی حالت میں واپس نہ آئے یعنی پانی چھوڑ دے تو سمجھ لیں کہ اس میں شیرہ مکس تھا گرمیوں کے شہد کی سردیوں میں جم جانے کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

یاد رکھیں کے پاکستان میں ایک کیمیکل نہایت ارزاں نرخ پر مل جاتا ہے جسے تھوڑا سا شہد میں ملا دینے سے شہد نہیں جمتا ہے۔ لیکن وہ

ملانے سے شہد کی قدرتی خاصیت متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ہم اسے استعمال نہیں کرتے اور اسی لیے نہ جمنے کی گارنٹی نہیں دیتے۔ اگر کوئی آپ کو نہ جمنے کی مکمل گارنٹی دیتا ہے تو ہو سکتا ہے وہ یہ کیمیکل استعمال کر رہا ہو۔ اس لیے احتیاط کریں

یہاں کافی لوگ ہمیں جھوٹا کہیں گے۔ تو میرے بھائی ہمارا کام آپ کو معلومات دینا ہے۔ اگر آپ کا دل مانے

تو آپ شہد لیں نہ مانے تو آپ کی مرضی ہے۔ اور آپ اپنے تسلی کے لیے شہد کے حوالے سے لکھی گئی کتابیں اٹھائیں اور پڑھیں۔ آپ کو ہر کتاب میں یہی لکھا ہوا ملے گا کہ خالص

شہد بھی جمتا ہے۔

آپ یوٹیوب پر بھی سرچ کر سکتے ہیں۔

"is honey Crystallize"

آپ کو مکمل ریسرچ مل جائے گی۔

پھر بھی شک رہ جائے تو شہد کو فوڈ لیبارٹری سے ٹیسٹ کروا لیں۔

اعلیٰ کوالٹی کی اصلی نسلی شہد 🍯 ۔گارنٹی کے ساتھ۔ابھی ابھی آرڈر کریں، اس سے پہلے کہ سردی اور ریٹ بڑھ جائے، کیوں کہ مارکیٹ...
21/10/2023

اعلیٰ کوالٹی کی اصلی نسلی شہد 🍯 ۔
گارنٹی کے ساتھ۔

ابھی ابھی آرڈر کریں، اس سے پہلے کہ سردی اور ریٹ بڑھ جائے، کیوں کہ مارکیٹ میں ریٹ روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔
اس لیے ابھی آرڈر کنفرم کر لے۔
اور سستے دام مارکیٹ سے بارعایت گھر بیٹھے حاصل کریں۔

نوٹ: پسند نہ آنے یا کسی بھی وجہ سے خوشی سے واپس کر سکتے ہیں۔
_________________________________
آرڈر کرنے کے لیے ان باکس یا واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ شکریہ۔
03052004896

واٹس ایپ گروپ کو جوائن اور دوستوں کے ساتھ شئیر کریں۔
https://chat.whatsapp.com/KHiFB8CAb7i98s0hUGUZP2

19/10/2023

حرام کمائی سے احتراز لازم ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لا یدخلُ الجنۃَ لحمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، النارُ أولَی بِہِ۔ (مسند أحمد حدیث نمبر: ۱۴۴۴۱۔ شعب الایمان للبیھقی حدیث:۸۹۵۲)

ترجمہ: وہ آدمی جنت میں نہیں جائے گا جس کی پر ورش حرام غذا اور حرام مال سے ہوئی ہے، جہنم کی آگ اس کی زیادہ مستحق ہے۔

اور ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یَأتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لایُبَالِی المَرأُ مَاأَخَذَ مِنہ، أَمِنَ الْحلالِ أَمْ مِنَ الحرامِ۔ (بخاری حدیث نمبر: ۲۰۵۹)

ترجمہ : لوگوں پر ایک زمانہ آئے گاکہ آدمی کو کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ مال کس طرح حاصل کر رہا ہے، حلال طریقے سے یا حرام طریقے سے۔

16/10/2023

تجارت کی فضیلت
کسب معاش اور حصول رزق حلال کے اسباب وذرائع مختلف ہیں جیسے تجارت، زراعت، ملازمت،صنعت وحرفت اورمحنت ومزدوری وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کے سلسلے میں شام کے دو سفر کیے، جن میں آپ نے حضرت خدیجۃ الکبریؓ کا سامان تجارت لے کر شام تشریف لے گئے، لہٰذا اگر کوئی آدمی اس نیت سے تجارت کرے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں تجارت کررہا ہوں تو یہ دین کا حصہ بن جائے گا۔اور تجارت عبادت ہے اگر دو نیت سے کی جائے (۱)اس کی آمدنی سے بیوی بچے وغیرہ کے حقوق کو ادا کروں گا (۲) اور اس کے ذریعہ ضرورت مندوں تک ضرورت کی اشیاء پہنچاؤں گا۔ قرآن وحدیث میں تجارت کی فضیلت آئی ہے، ملاحظہ فرمائیں :

(۱) اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’یَا أّیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃٌ عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ‘‘۔(النسائ: ۲۹)

ترجمہ: اے ایمان والو! اایک دوسرے کے مال کو آپس میں ناحق مت کھاؤ؛ مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی اور رضامندی سے۔

حضرت قتادہؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : التجارۃُ رزقٌ مِن رزقِ اللَّہِ، حلالٌ مِن حلالِ اللَّہ لِمَنْ طَلَبَہا بصدقِہا وبرّھا۔ تجارت اللہ کے رزق میں سے ایک رزق ہے،اللہ کی حلال کردہ اشیاء میں سے ایک حلال چیز ہے اس شخص کے لیے جو اس کو حاصل اور طلب کرے سچائی اور نیکی کے ساتھ۔ (السنن الکبری للبیھقی : ۵/۴۳۲، رقم :۱۰۳۹۹)
م ن ق و ل۔۔

14/10/2023

کسبِ حلال کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ طَلَبَ الدنیا حَلالاً وَاستعفافاً عنِ المسئلۃِ، وَسعیاً علی عیالِہ، وتعطّفاً علی جارِہ لَقِیَ اللَّہَ، وَوَجْہُہ کالقمرِ لیلۃَ البدرِ۔ (شعب الایمان للبیہقی حدیث نمبر:۹۸۸۹۔ مصنف ابن ابی شیبۃ حدیث: ۲۲۱۸۶)

ترجمہ : جس شخص نے دنیا کو حلال طریقے سے حاصل کیا، سوال سے بچنے کے لیے(یعنی تاکہ فقر وتنگ دستی کی وجہ سے لوگوں سے سوال کرنا نہ پڑے)، اپنے اہل وعیال کی پرورش اور کفالت کے لیے اور اپنے پڑوسی پر احسان کرنے کے لیے تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرا چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہا ہوگا۔

الحمدللہ ریڈی ٹو ڈیلیور۔واٹس ایپ: 03052004896
13/10/2023

الحمدللہ ریڈی ٹو ڈیلیور۔

واٹس ایپ: 03052004896

11/10/2023

اسلامی تجارت کے بنیادی اصو ل
admin Urdu Articles
از: مفتی توقیر عالم قاسمی

استاذ حدیث مدرسہ اشرف العلوم بردوان، مغربی بنگال

جتنے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام اس دنیا میں تشریف لائے سب نے کسبِ حلال کیا، کسی نے مزدوری کی، کسی نے بڑھئی کا کام کیا، کسی نے بکریاں چرائیں ، خود خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے اجیاد کے پہاڑوں پر لوگوں کی بکریاں اجرت پر چرائیں ، آپ نے تجارت بھی کی، حضرت خدیجہؓ کا سامان تجارت لے کر دو مرتبہ ملک شام کا سفر کیا، آپ نے زراعت کا کام بھی کیا، اطرافِ مدینہ میں مقام جُرُف تھا، وہاں آپ نے کھیتی کا کام کیا،لہٰذا کسبِ حلال کے مختلف طریقوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ موجود ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طَلَبُ کسبِ الحلالِ فریضۃٌ بعدَ الفریضۃِ۔ (السنن الکبری للبیہقی حدیث نمبر: ۱۶۶۹۵)

ترجمہ: رزق حلال کو طلب کرنا فرض ہے، فرض کے بعد۔

یعنی رزق حلال کو طلب کرنا‘ دین کے اولین فرائض کے بعد دوسرے درجے کا فرض ہے ۔ دین کے اولین فرائض تو وہی ہیں جو ارکانِ اسلام کہلاتے ہیں اور جن کے بارے میں ہر مسلمان جانتا ہے کہ یہ چیزیں دین میں فرض ہیں ۔ مثلا نماز پڑھنا، زکاۃ دینا، روزہ رکھنا، حج کرنا وغیرہ، یہ سب دین کے اولین فرائض ہیں ، مذکورہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ان دینی فرائض کے بعد دوسرے درجے کا فریضہ رزقِ حلا ل کو طلب کرنا اور رزق حلال کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طَلَبُ الحلالِ وَاجِبٌ علی کلِّ مسلمٍ۔ (المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث نمبر: ۸۶۱۰)

ترجمہ: حلال روزی طلب کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔

اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: ,,فَإِذَا قُضِیَتِ الصَّلاَۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الأَرْضِ ، وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ،،۔ (سورۂ جمعہ: ۱۰)

ترجمہ: جب نماز تمام ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور روزی تلاش کرو۔

تفسیر بغوی میں ہے: فَانْتَشِرُوْا فِی الْأَرْضِ ,,للتجارۃِ والتصرفِ فی حَوائجِکُم،، وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ ’’یعنی الرزقَ‘‘، ھذا أمر إباحۃ۔ (۵/۹۳) یعنی تجارت کے لیے اور اپنی ضروریات میں لگنے کے لیے زمین پر پھیل جاؤ اور رزق تلاش کرو۔

اور تفسیر ابن کثیر میں ہے: عراک بن مالکؓ جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہوجاتے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر فرماتے : ,,اللہمَّ إنِّی أَجَبْتُ دعوتَک، وصَلَّیتُ فریضتَکَ، وَانتشرتُ کما أَمَرْتَنِی، فَارْزُقْنِی ، وَأَنْتَ خیرُ الرّازقینَ،،۔ رواہ ابن حاکم۔ (۸/۱۲۲)

ترجمہ: اے اللہ! میں نے آپ کی دعوت ,,حَیَّ عَلَی الصَّلاۃِ،، کو قبول کیا، نماز پڑھی،اور زمین پر پھیل گیا جیسا کہ تونے حکم دیا؛ لہٰذا آپ ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہترین رزق عطا کرنے والا ہے۔

Address

Tank
29400

Telephone

+923052004896

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al HARAM Online STORE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al HARAM Online STORE:

Share

Category