11/10/2023
اسلامی تجارت کے بنیادی اصو ل
admin Urdu Articles
از: مفتی توقیر عالم قاسمی
استاذ حدیث مدرسہ اشرف العلوم بردوان، مغربی بنگال
جتنے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام اس دنیا میں تشریف لائے سب نے کسبِ حلال کیا، کسی نے مزدوری کی، کسی نے بڑھئی کا کام کیا، کسی نے بکریاں چرائیں ، خود خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے اجیاد کے پہاڑوں پر لوگوں کی بکریاں اجرت پر چرائیں ، آپ نے تجارت بھی کی، حضرت خدیجہؓ کا سامان تجارت لے کر دو مرتبہ ملک شام کا سفر کیا، آپ نے زراعت کا کام بھی کیا، اطرافِ مدینہ میں مقام جُرُف تھا، وہاں آپ نے کھیتی کا کام کیا،لہٰذا کسبِ حلال کے مختلف طریقوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ موجود ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طَلَبُ کسبِ الحلالِ فریضۃٌ بعدَ الفریضۃِ۔ (السنن الکبری للبیہقی حدیث نمبر: ۱۶۶۹۵)
ترجمہ: رزق حلال کو طلب کرنا فرض ہے، فرض کے بعد۔
یعنی رزق حلال کو طلب کرنا‘ دین کے اولین فرائض کے بعد دوسرے درجے کا فرض ہے ۔ دین کے اولین فرائض تو وہی ہیں جو ارکانِ اسلام کہلاتے ہیں اور جن کے بارے میں ہر مسلمان جانتا ہے کہ یہ چیزیں دین میں فرض ہیں ۔ مثلا نماز پڑھنا، زکاۃ دینا، روزہ رکھنا، حج کرنا وغیرہ، یہ سب دین کے اولین فرائض ہیں ، مذکورہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ان دینی فرائض کے بعد دوسرے درجے کا فریضہ رزقِ حلا ل کو طلب کرنا اور رزق حلال کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طَلَبُ الحلالِ وَاجِبٌ علی کلِّ مسلمٍ۔ (المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث نمبر: ۸۶۱۰)
ترجمہ: حلال روزی طلب کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: ,,فَإِذَا قُضِیَتِ الصَّلاَۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الأَرْضِ ، وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ،،۔ (سورۂ جمعہ: ۱۰)
ترجمہ: جب نماز تمام ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور روزی تلاش کرو۔
تفسیر بغوی میں ہے: فَانْتَشِرُوْا فِی الْأَرْضِ ,,للتجارۃِ والتصرفِ فی حَوائجِکُم،، وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ ’’یعنی الرزقَ‘‘، ھذا أمر إباحۃ۔ (۵/۹۳) یعنی تجارت کے لیے اور اپنی ضروریات میں لگنے کے لیے زمین پر پھیل جاؤ اور رزق تلاش کرو۔
اور تفسیر ابن کثیر میں ہے: عراک بن مالکؓ جب جمعہ کی نماز سے فارغ ہوجاتے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر فرماتے : ,,اللہمَّ إنِّی أَجَبْتُ دعوتَک، وصَلَّیتُ فریضتَکَ، وَانتشرتُ کما أَمَرْتَنِی، فَارْزُقْنِی ، وَأَنْتَ خیرُ الرّازقینَ،،۔ رواہ ابن حاکم۔ (۸/۱۲۲)
ترجمہ: اے اللہ! میں نے آپ کی دعوت ,,حَیَّ عَلَی الصَّلاۃِ،، کو قبول کیا، نماز پڑھی،اور زمین پر پھیل گیا جیسا کہ تونے حکم دیا؛ لہٰذا آپ ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہترین رزق عطا کرنے والا ہے۔