15/05/2026
محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق اس سال پنجاب میں گندم کی اوسط پیداوار 33 من فی ایکڑ رہی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں گندم کی پیداوار تخمینے سے 3 تا 10 فیصد کم رہی۔
ملکی سطح پر مجموعی گندم کی پیداوار قومی ضرورت سے 20 فیصد سے زائد کم رہی۔
پاسکو اور صوبائی فوڈ محکموں کے موجودہ ذخائر اس 20 فیصد کمی کو پورا کرنے کے لیے ناکافی قرار دیے جا رہے ہیں۔
گزشتہ سال کسانوں کو گندم کا ریٹ تقریباً 2200 روپے فی من ملا، جس کے باعث اس سال گندم کی کاشت میں کمی دیکھی گئی۔
رواں سال پنجاب حکومت کے 3500 روپے فی من کے اعلان کے باوجود سیزن کے آغاز میں کسان کو صرف 2900 تا 3100 روپے فی من ریٹ ملا۔
زرعی مداخل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کسانوں کے لیے تشویش کا باعث ہے:
ڈیزل: 100 فیصد اضافہ
ڈی اے پی کھاد: 25 فیصد اضافہ
یوریا: 10 فیصد اضافہ
پوٹاش: 35 فیصد اضافہ
سلفر: 70 فیصد اضافہ
بجلی: 15 فیصد اضافہ
موسمیاتی تبدیلی کے باعث فی ایکڑ پیداوار میں کمی بھی کسانوں کو شدید متاثر کر رہی ہے۔
خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سال کسان مزید کم رقبے پر گندم کاشت کریں گے۔
تجزیے کے مطابق گزشتہ دو برسوں کی پالیسیاں کسان دوست ثابت نہیں ہو سکیں، جس کے گندم کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔