28/11/2025
*سجدہ سہو کا مکمل طریقہ.*
*سجدہ سہو کیا ہے؟*
سجدہ سہو وہ دو سجدے ہیں جو نماز میں کسی *واجب* کے چھوڑنے، یا *اضافہ/کمی* ہونے پر ادا کیے جاتے ہیں تاکہ نماز کی کمی پوری ہو جائے۔
🔹 *سجدہ سہو کا حکم (فقہ حنفیہ کے مطابق):*
- اگر نماز میں *واجب* چھوٹ جائے، یا *اضافی* قول/عمل ہو جائے، تو سجدہ سہو واجب ہے۔
- اگر *فرض* (رکن) چھوٹ جائے تو نماز باطل ہو جاتی ہے، اس صورت میں نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی۔
📍 *سجدہ سہو کب کرنا ہوتا ہے؟*
✅ *سجدہ سہو واجب ہوتا ہے جب:*
1. *تسبیحات* (سبحان ربی...) میں کمی ہو جائے۔
2. *تشہد* (التحیات) بھول جائیں۔
3. غلط رکعتوں کی ترتیب ہو جائے (جیسے 3 کے بعد سلام پھیر دیا)۔
4. واجب قراءت (مثلاً سورہ فاتحہ یا دوسری سورہ) چھوٹ جائے۔
5. *تشہد میں بیٹھنے کا واجب* ترک ہو جائے۔
6. غیر ضروری *عمل* یا *کلام* ہو جائے۔
❌ *کب سجدہ سہو نہیں کرنا ہوتا؟*
- اگر صرف سنت چھوٹ جائے (مثلاً رفع یدین)، تو سجدہ سہو ضروری نہیں۔
- اگر شک ہو لیکن غالب گمان موجود ہو، تو اسی پر عمل کیا جائے، اور سجدہ سہو واجب نہیں۔
🧎♂️ *سجدہ سہو کرنے کا طریقہ:*
1. آخری تشہد کے بعد سلام نہ پھیریں۔
2. "اللہ اکبر" کہہ کر ایک سجدہ کریں۔
3. سجدے میں "سبحان ربی الاعلیٰ" تین بار پڑھیں۔
4. بیٹھیں، پھر دوسرا سجدہ کریں۔
5. اس کے بعد دوبارہ تشہد پڑھیں۔
6. آخر میں سلام پھیریں۔
📌 *نماز کے دوران سجدہ سہو سے متعلق مثالیں:*
1. اگر کوئی *اتحیات* پڑھنا بھول جائے = سجدہ سہو واجب
2. غلطی سے تین رکعت کے بعد سلام پھیر دے = سجدہ سہو + بقیہ نماز مکمل
3. زائد قعدہ کر بیٹھے = سجدہ سہو واجب
4. قراءت میں غلطی = سجدہ سہو اگر واجب قراءت چھوٹی ہو
🔎 *فقہ جعفریہ (شیعہ اثنا عشریہ) کے مطابق:*
- سجدہ سہو صرف *غیر رکن واجب* چھوٹنے پر ہوتا ہے۔
- اگر *رکن (رکوع، سجدہ، قیام)* چھوٹے تو نماز باطل ہوتی ہے۔
- ان کے ہاں "سجدہ سہو" کو "سجدہ سهو" کہا جاتا ہے۔
- مخصوص اقوال اور طریقے سے ادا کیا جاتا ہے۔
-
📚 *نتیجہ:*
سجدہ سہو دراصل اللہ کی طرف سے *آسانی* ہے تاکہ بھول چوک سے نماز باطل نہ ہو۔
یہ اللہ کی رحمت کا مظہر ہے کہ چھوٹی لغزشوں پر معافی کی صورت موجود ہے۔
📖 *"ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا..."*
(اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہمیں معاف فرما)
*ابوخُبیب اسلامک لائبریری⁰³²¹⁶⁶⁵⁹⁵³⁸*
*ابوخُبیب الفتاوی والمسائل ⁰³²¹⁶⁶⁵⁹⁵³⁸*