Muhammad ilyas khan

Muhammad ilyas khan hiking, sports, education, health,entertainment

دماغ کی بتی جلائیں ۔ایک اینٹ تبدیل کر کے اس سے بڑا نمبر بنائیں۔
09/09/2026

دماغ کی بتی جلائیں ۔
ایک اینٹ تبدیل کر کے اس سے بڑا نمبر بنائیں۔

‎روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو مٹی میں ملا دیا، تو اس کے بعد وہ اپنی خوفناک فوج کے ...
08/09/2026

‎روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو مٹی میں ملا دیا، تو اس کے بعد وہ اپنی خوفناک فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف روانہ ہوا۔
‎ہمدان کے لوگ ڈر کے مارے لرز رہے تھے، ہر چہرے پر خوف، اور ہر دل میں موت کا اندیشہ چھایا ہوا تھا۔
‎چنگیز خان نے حکم دیا کہ پورے شہر کو ایک وسیع میدان میں جمع کیا جائے۔ میدان میں خاموشی طاری ہو گئی، جیسے وقت رک گیا ہو۔
‎چنگیز خان نے بلند آواز میں کہا:
‎"میں نے سنا ہے کہ ہمدان کے لوگ نہایت ہوشیار، عقل مند اور سمجھ دار ہوتے ہیں۔ تمہاری عقل مندی مشہور ہے، کہتے ہیں: ‘ہمہ دانی و ہیچ ندانی’ – یعنی سب کچھ جانتے ہو، مگر پھر بھی کچھ نہیں جانتے۔"
‎پھر اس نے اعلان کیا:
‎"میں تم سے ایک سوال کروں گا۔ اگر جواب درست ہوا تو تم سب کو امان دی جائے گی۔ لیکن اگر جواب غلط ہوا… تو یہ میدان تم سب کی قبریں بن جائے گا۔ تمہاری قسمت کا فیصلہ یہی کرے گا!"
‎میدان میں موت جیسی خاموشی چھا گئی۔ لوگ کانپنے لگے۔
‎چنگیز خان نے نظریں گھمائیں، پھر گرج کر پوچھا:
‎"کیا میں خدا کی طرف سے آیا ہوں؟ یا اپنی مرضی سے؟"
‎کسی کے پاس ہمت نہ تھی جواب دینے کی۔ علماء، دانشور، اور بزرگ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ یہ سوال صرف ایک دلیل نہیں تھا، بلکہ پورے شہر کی زندگی اور موت کا سوال تھا۔
‎ہر چہرہ پریشان، ہر آنکھ سوالی بنی ہوئی تھی۔ اور تب… ہجوم سے ایک سادہ سا چرواہا آگے بڑھا۔
‎نہ وہ عالم تھا، نہ دانشور۔ مگر اس کی آنکھوں میں بصیرت تھی، دل میں سچائی۔
‎چنگیز خان نے اسے دیکھا اور کہا:
‎"اگر میں جواب سنوں گا، تو تجھ سے سنوں گا!"
‎چرواہے نے بے خوفی سے چنگیز کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا:
‎"نہ تم خدا کی طرف سے آئے ہو،
‎نہ تم اپنی مرضی سے آئے ہو…
‎تمہیں تو ہمارے اعمال نے یہاں پہنچایا ہے۔
‎جب ہم نے عقل والوں کو نظر انداز کیا،
‎علم والوں کو پیچھے دھکیلا،
‎اور جاہلوں، خوشامدیوں، اور نالائقوں کو عزت، طاقت اور قیادت دے دی—
‎تو پھر تم جیسے ظالم کا آنا طے تھا!
‎تم ہماری نادانی، بے انصافی اور بصیرت سے خالی قیادت کا نتیجہ ہو!"
‎میدان میں گہری خاموشی چھا گئ
‎چنگیز خان ساکت ہو گیا۔ شاید یہ سچائی اس کے دل تک اتر گئی تھی۔
‎اور پھر… اس نے سب کو چھوڑ دیا۔ کسی کا خون نہ بہایا۔
‎ایسے چنگیز جیسے فتنے آسمان سے نہیں اترتے۔
‎یہ قوموں کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
‎Copy past

میری جنت، میرے والد اور میرے بھائی ❤️یہ صرف ایک تصویر نہیں، میری زندگی کا ایک خوبصورت باب ہے۔بائیں طرف میں ہوں، درمیان م...
07/09/2026

میری جنت، میرے والد اور میرے بھائی ❤️

یہ صرف ایک تصویر نہیں، میری زندگی کا ایک خوبصورت باب ہے۔
بائیں طرف میں ہوں، درمیان میں وہ ہستی ہے جسے میں اپنی جنت کہتا ہوں—میرے والد—اور ساتھ کھڑے یہ میرے بھائی ہیں، جو میرے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں۔

والد کا سایہ زندگی کی وہ نعمت ہے جس کی قدر الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ ان کی موجودگی گھر کو گھر، اور زندگی کو حوصلہ بنا دیتی ہے۔ اللہ میرے والد کا سایہ ہم سب بھائیوں پر ہمیشہ قائم رکھے، انہیں صحت، عزت اور لمبی زندگی عطا فرمائے۔

یہ تصویر شاید وقت کے ساتھ پرانی ہو جائے، مگر اس میں قید محبت، رشتے اور باپ کا سایہ ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہے گا۔ ❤️🤲

ذہین لوگ سامنے آئے 830 سے چھوٹا عدد بنائے۔یار پانچ سو فالورز پورے کرادو۔
06/09/2026

ذہین لوگ سامنے آئے 830 سے چھوٹا عدد بنائے۔
یار پانچ سو فالورز پورے کرادو۔

05/09/2026

یار 500 فالور ہی پورے کرادو۔

04/09/2026

‎"دتے" کے گھر کے مالی حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ چپ چاپ پنڈ سے غائب ہو گیا۔

‎پنڈ سے نکل کر وہ ایک مدرسے جا پہنچا۔ مدرسے کے مولوی صاحب سے اس نے کہا کہ وہ قرآن پاک حفظ کرنا چاہتا ہے۔ انگوٹھا چھاپ دتے نے مولوی صاحب کی کچھ اس طرح منت سماجت کی کہ مولوی صاحب کا دل پسیج گیا۔ انہوں نے دتے کو قرآن پاک حفظ کروانا شروع کر دیا۔

‎دن رات محنت کر کے دتے نے ایک سال میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد دتہ اسی طرح خاموشی سے پنڈ واپس آ گیا۔ پنڈ کے لوگوں نے نہ اس کے غائب ہونے کا نوٹس لیا تھا اور نہ ہی واپس آنے کا، میرے اور میرے ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسے ہی ہیں۔

‎دتہ سارا دن خاموشی سے پنڈ میں مٹر گشت کرتا رہتا۔ چھ ماہ گزرنے کے بعد ایک دن وہ پنڈ کی مسجد کے بلند مینار پر چڑھ گیا۔ اس زمانے میں لاؤڈ اسپیکر نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مسجد کے مینار پر چڑھ کر اعلان یا اذان دیا کرتے تھے۔

‎دتے نے مینار پر چڑھ کر بلد آواز میں لوگوں کو بتایا کہ پچھلی رات جب میں سو رہا تھا تو خواب میں آ کر ایک فرشتے نے مجھے سینے سے لگایا، سینے سے لگاتے ہی مجھے قرآن پاک حفظ ہو گیا۔

‎لوگو..! یہ بہت بڑی کرامت ہے جو میرے ساتھ ہو گئی ہے۔ ان پڑھ دتے کے منہ سے یہ دعویٰ سن کر پنڈ والے ششدر ہو کر رہ گئے۔ مسجد کے مولوی صاحب بھی اعلان سن کر گھر سے باہر نکل آئے۔

‎پنڈ والے سب کے سب بھی چوھدری سمیت مسجد کے گرد جمع ہو گئے۔ پنڈ کا چوھدری حقے کا کش لگا کر بولا:*
‎"اوئے دتے تیرے پاس کیا ثبوت ہے اپنے دعوے کا..؟"

‎دتہ بولا:
‎"چوھدری جی مجھ سے پورا قرآن پاک سن لو۔"

‎اس کے ساتھ ہی اس نے بلند آواز میں قرآت شروع کر دی۔ پنڈ والے دتے کی قرآن پاک کی روانی دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ ادھر دتہ آنکھیں بند کئیے تلاوت میں مشغول تھا۔ میرے پنڈ کے اور ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسی کرامات دیکھنے کے حد سے زیادہ شائق ہیں۔ چٹے انپڑھ دتے کی اس کرامت نے ان کو پاگل سا کر دیا۔

‎تلاوت کے دوران چند جوشیلے دیہاتیوں نے نعرہ تکبیر لگانا شروع کر دیا۔ پنڈ کے مرد و زن جوش و خروش سے نعروں کے جواب دینے لگے۔

‎مولوی صاحب کا پورا دھیان دتے کی تلاوت کی طرف تھا وہ دتے کی غلطی پکڑنا چاہتے تھے، لیکن دتہ کی تلاوت میں ان کو کوئی غلطی نہیں مل رہی تھی۔ بالآخر مولوی جی نے اعلان کیا کہ دتہ کی کرامت حق پر مبنی ہے۔

‎مولوی صاحب کی بات سن کر پنڈ والوں کے جذبات اپنے عروج پر پہنچ گئے۔ کچھ تو خوشی سے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ میرے پنڈ کے اور میرے ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسے ہی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ جذباتی ہو کر مینار پر چڑھنے لگے ۔انہوں نے اوپر پہنچ کر دتے کے ہاتھ پاؤں چوم کر عقیدت کا اظہار کیا اور اپنے آپ کو ان خوش نصیبوں میں شمار کرنے لگے، جنہوں نے سب سے پہلے دتے کے ہاتھ پاؤں چومے تھے۔

‎خیر ان عقیدت مندوں نے آنکھیں بند کر کے تلاوت کرتے ہوئے دتے کو کندھوں پر اٹھا لیا اور بہت احترام سے مینار سے نیچے اتار لائے. جبکہ دتہ ہنوز آنکھیں بند کئے تلاوت میں مشغول تھا۔ دتے کے مینار سے نیچے اترتے ہی چوھدری نے روتے ہوئے اپنے کھیسے میں سے ہاتھ ڈال کر دس کا نوٹ نکالا اور دتے کے مٹھی میں دے دیا۔ باقی گاؤں والے بھی حسب توفیق دتے کی خدمت کرنے لگے۔

‎دتہ پیر بن چکا تھا۔ اس کو کندھے پر اٹھا کر گھر پہنچایا گیا۔ نہلا دہلا کر نیا جوڑا پہنایا گیا۔ اس کے بعد لنگر کا اہتمام کیا گیا۔

‎وہ دتہ جس کو اپنی دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے رہتے تھے، اب اس کے لنگر پر غریب آ آ کر اپنا پیٹ بھرنے لگے۔ قوالوں نے مستقل دتے کے گھر پر ڈیرے لگا لئے، محفل سماع کا اہتمام کیا جانے لگا، جس میں لوگوں پر حال (وجد) طاری ہوتا۔

‎دتے کو اونچی سی مسند پر بٹھا کر اس کے سامنے قوالیاں کی جاتیں۔ کھسرے وغیرہ بھی مجرے پیش کرتے. یعنی اس کا گھر پورا پورا دربار بنا دیا گیا تھا۔ قصہ مختصر دتے کے مرنے کے بعد باقاعدہ عرس بھی کیا جانے لگا۔

‎ایک بار حفظ والے مدرسے کے قاری صاحب بھی دربار پر منت مانگنے آئے. ان کو بتایا گیا تھا کہ یہ ایک کرنی والے پیر کا دربار ہے، جہاں منتیں مانی جاتی ہیں اور ہر کام ہو جاتا ہے۔ قاری صاحب کو پیر کی کرامت کے بارے بتایا گیا۔ مزار پر لگی فوٹو دیکھ کر بوڑھے قاری صاحب کو اپنا شاگرد یاد آ گیا۔

‎ساری کہانی سمجھ کر قاری صاحب نے مریدوں کو اصل کہانی بتانے کی کوشش کی، مگر مریدوں نے قاری صاحب کی ٹھکائی شروع کر دی. وہ دتہ پیر جی کے خلاف ایک لفظ بھی سننے پر تیار نہ تھے. بمشکل قاری صاحب جان بچا کے بھاگے اور پھر دوبارہ دربار کے قریب جانے کی کوشش نہ کی۔

‎دتہ آج ہمارا سماجی اثاثہ ہے اور دھرتی پر "دتہ راج" ہے۔ یہ کہانی ہمارے معاشرتی رویوں، خاص طور پر جاہلیت اور اندھی تقلید کی درست عکاسی کرتی ہے..!!

‎فرخ شیخ کی وال سے کاپیڈ

03/09/2026
ذہین لوگ سامنے آئے کیا لکھا ھے۔دیکھتے کون جینئس ھے۔آپ کی سپورٹ چاہئے پیج کو لائک اور فالو کریں۔
03/09/2026

ذہین لوگ سامنے آئے کیا لکھا ھے۔دیکھتے کون جینئس ھے۔
آپ کی سپورٹ چاہئے پیج کو لائک اور فالو کریں۔

Address

Al Madenah Al Reyadhya
11565

Telephone

+923425551388

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad ilyas khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad ilyas khan:

Shortcuts

Share

Category