01/06/2026
Ali Hamdard
ابراہیم (پی ایچ ڈی سکالر) کا بے دردی سے قتل... اور ہمارا رویہ؟
صرف چند رسمی لفظوں میں افسوس کا اظہار کر دینا اس المیے کے ساتھ سب سے بڑا مذاق ہے۔ جتنا بڑا سانحہ ابراہیم کی موت ہے، اس سے ہزار گنا بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک جیتے جاگتے، پڑھے لکھے نوجوان کا خون ہمارے لیے بالکل 'نارمل' ہو چکا ہے۔ ہم بطور قوم اور معاشرہ اتنے جاہل، بے حس، اور درندہ صفت لوگ ہیں کہ اس بربریت سے ہمیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔ بس دو دن فیس بک پر پوسٹیں لگیں گی، تین دن پسماندگان کے گھر جا کر فاتحہ پڑھیں گے، اور چوتھے دن ہاتھ جھاڑ کر اپنی اسی منافقت اور بے ایمانی سے بھری زندگی میں واپس مگن ہو جائیں گے۔ اور بے شرمی کا یہ عالم کہ ہم اپنے آپ کو دنیا کی بیترین اور واحد جنتی قوم گردانتے نہیں تھکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کے جنازے پر کھڑے ہو کر بھی ہمیں اپنی بدصورتی اور منحوسیت نظر نہیں آتی۔ میں نے جو تھوڑی بہت باہر کی دنیا دیکھی ہے (جنہیں ہم بدترین لوگ اور جہنمی کہتے ہیں) وہاں انسانی زندگی اتنی سستی اور بے وقعت نہیں ہے۔ وہاں ایک جان کا ضیاع پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ اور ایک ہم ہیں، جہاں اگر کوئی نوجوان اپنی محنت اور لگن سے ایک قدم آگے بڑھتا ہے، تو اس پر فخر کرنے کے بجائے پورا معاشرہ اسے گرانے اور برباد کرنے میں لگ جاتا ہے۔
ایک لڑکا جو انتہائی پسماندہ علاقے سے اٹھا، جس نے وسائل کی کمی اور محرومیوں کی دیواریں توڑیں، اور اپنی قابلیت کے بلبوتے پر پی ایچ ڈی کے آخری مراحل تک پہنچا... اسے اتنی بے رحمی سے مار دیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ابراہیم کو انصاف ملے گا؟ یا اس کا خون بھی ہماری نیوز فیڈز کے ہزاروں دیگر اشتہاروں کی طرح دو دن بعد غائب ہو جائے گا؟
یہ صرف ابراہیم کا قتل نہیں ہے، یہ اس علاقے کے شعور، تعلیم اور ہر اس غریب ماں باپ کے خوابوں کا قتل ہے جو اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں۔ جس طرح آج ہم اس درندگی پر صرف "دعائیں" کر رہے ہیں ، کل ہم میں سے کوئی اور اسی طرح خون میں لت پت ملے گا اور پھر کوئی اور، اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔