23/06/2026
قطرۂ خوں سے کائنات میں بھونچال بھی آ سکتا تھا
حسینؑ معصوم، دینِ نانا کی خاطر لہو بہاتے رہے
الحاج سید فہیم احمد
تشریح:
شاعر مبالغہ آمیز مگر مؤثر انداز میں یہ بیان کرتا ہے کہ امام حسین کی عظمت، صبر اور روحانی مقام ایسا تھا کہ اگر وہ چاہتے تو ان کے خون کا ایک قطرہ بھی کائنات میں ہلچل مچا سکتا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی ذاتی طاقت یا انتقام کا راستہ اختیار نہیں کیا۔
اس کے بجائے امام حسینؑ نے اپنے نانا حضرت محمد کے دین کی حفاظت، حق کی سربلندی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے صبر، استقامت اور قربانی کا راستہ اختیار کیا۔ وہ آخر وقت تک اپنے خون کا نذرانہ پیش کرتے رہے، مگر حق اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔
مرکزی پیغام:
یہ شعر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ امام حسینؑ کی عظمت صرف ان کی شہادت میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ انہوں نے دین کی بقا، عدل اور حق کے لیے اپنی جان اور اپنے اہلِ بیت کی قربانی پیش کی۔ شاعر "قطرۂ خوں سے کائنات میں بھونچال" کا ذکر ایک ادبی اور علامتی انداز میں کرتا ہے، جس کا مقصد امام حسینؑ کی عظمت اور ان کی بے مثال قربانی کو نمایاں کرنا ہے، نہ کہ اسے لفظی معنی میں لیا جائے۔