Ahsan life style

Ahsan life style

*یہ ایک حقیقی واقعہ ہے اُن لوگوں کے بارے میں جو دوسروں پر جادو کرتے ہیں… ضرور پڑھیں!*🔴 جو دوسروں پر جادو کر کے ان کی زند...
18/06/2025

*یہ ایک حقیقی واقعہ ہے اُن لوگوں کے بارے میں جو دوسروں پر جادو کرتے ہیں… ضرور پڑھیں!*
🔴 جو دوسروں پر جادو کر کے ان کی زندگی تباہ کرتے ہیں ان کے لیے جلد آنے والی سزا 🔴
ایک بیوی نے خود اپنی کہانی لکھی ہے کہ اُس نے اپنی سوکن پر جادو کروایا، اور کیسے اللہ نے اُسے اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں کو سزا دی۔❗
کہانی سنانے والی عورت کہتی ہے میں ایک اسکول کی پرنسپل ہوں،اللہ نے مجھے مال، حسن، طاقت اور اولاد سے نوازا،میرے شوہر کا بھی ایک مقام اور دولت ہے لیکن جب میرے شوہر نے دوسری شادی کی تو میری زندگی ویران ہو گئی۔سب لوگ میری سوکن کی دینداری کی تعریف کرتے تھے،
یہی بات مجھے اور زیادہ حسد میں ڈالتی تھی میں نے دیکھا کہ میرے شوہر بھی اس کی دین داری کی تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اللہ سے قریب ہے۔
جب میں اس پر بات کرتی یا کچھ برا کہتی، تو وہ مجھے کہتا:
"اس پر ظلم نہ کرو، وہ اللہ والے لوگوں میں سے ہے"
یہ سن کر میرا دل حسد سے جل اٹھتا تھا میں ڈرتی تھی کہ وہ ماں نہ بن جائے۔
میں نے اپنی ایک ساتھی سے کام کی جگہ پر اپنا دل ہلکا کیا،تو اُس نے مشورہ دیا کہ "اُس کا حمل بند کرا دو، اُس پر جادو کروا دو تاکہ وہ طلاق لے لے۔"
شروع میں میں نے انکار کیا اور ڈر گئی۔
تو اُس نے کہا:"جب وہ طلاق لے لے تو اس کے حق میں صدقہ دے دینا اور توبہ کر لینا"شیطان میرے دل پر غالب آ گیا اور میں نے ہاں کر دی۔ہم ایک مشہور علاقے میں ایک جادوگرنی کے پاس گئیں۔
میں نے اُس سے کہا "میں نہیں چاہتی کہ میری سوکن حاملہ ہو، اور چاہتی ہوں کہ وہ طلاق لے لے "جب میرا دل اور سیاہ ہو گیا تو میں نے کہا "میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ وہ میرے شوہر یا کسی اور سے کبھی ماں بنے جادوگرنی نے کہا "مجھے اس کی خوشبو یا کوئی ذاتی چیز چاہیے میں نے اپنی بڑی بیٹی اور ساتھی سے مشورہ کیا،ہم نے پلان بنایا کہ بیٹی اپنے باپ سے ملنے جائےاسی دن جب میری سوکن وہاں کھانے پر ہو،تاکہ بیٹی اُس سے ملے اور اُسے ہمارے گھر کھانے پر بلائے مقصد یہ تھا کہ اس کی کوئی چیز حاصل کی جائے بیٹی نے اُس کی چادر (اسکارف) حاصل کر لی اور مجھے دے دی میں نے وہ چادر جادوگرنی کو دے دی اس نے کہا:
"وہ کبھی ماں نہیں بنے گی!"
اس نے مجھے کچھ چیزیں دیں کہ جنہیں میں اس جگہ چھڑکوں جہاں وہ داخل ہوتی ہے اور کچھ چیزیں کھانے میں ملاؤں میں نے اُسے اپنے گھر کھانے پر بلایا اور بہت پیار سے کہا:"ہم سب بہنوں کی طرح ہیں، تم آج رات میرے ساتھ کھانا کھاؤ ہم نے اُسی دن بدی والی ساتھی کو بھی بلایا میں نے وہ سحر اُس دروازے پر چھڑکا جہاں سے میری سوکن داخل ہونے والی تھی اور دوسرا سحر قہوے (کافی) میں ملا دیا میں خوشی سے پاگل ہو رہی تھی جب میں نے اُسے وہ قہوہ پیتے دیکھا مجھے لگا جیسے میں نے دنیا جیت لی ہو! لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ میں نے اپنا دین، دنیا اور آخرت برباد کر لی ہے…چند دنوں بعد اُسے شدید بلیڈنگ (خون آنا) شروع ہو گئی
جو تین ہفتے بلکہ ایک مہینے تک جاری رہی اس کی حالت بگڑنے لگی،
شوہر مجھے بتاتا کہ وہ نماز میں روتی ہے،واش روم میں روتی ہے،اور بعض اوقات تو رات کو بے ہوش ہو جاتی ہے۔
میں شوہر سے کہتی "ہاں، یہ سب خون کی وجہ سے ہے"اور اس کے لیے خود کو فکرمند ظاہر کرتی اُس کی جسمانی اور ذہنی حالت بگڑتی گئی،ڈاکٹروں نے بتایا کہ رحم میں کینسر نما رسولیاں ہیں
لہٰذا رحم نکالنا پڑے گا لیکن اُس نے آپریشن سے انکار کر دیا انکار کا سبب یہ تھا کہاس نے خواب میں دیکھا"ایک کالا کتا اس کے رحم کو چیر رہا ہے خواب کی تعبیر دینے والی نے کہا "تم پر جادو کیا گیا ہے،زیتون کا تیل اپنے پیٹ پر لگا کر خود کو دم کرو شوہر نے مجھے یہ سب بتایا تو میں نے فوراً بدی والی ساتھی کو بتایا اور ہم دوبارہ جادوگرنی کے پاس گئیں اس نے کہا "اگر اُس نے زیتون کا تیل لگایا تو گانٹھیں کھل جائیں گی اور وہ ماں بن جائے گی اس لیے دوبارہ سحر کرو،جادوگرنی نے کہا "پھر سے کھانے میں ملا دو جو عورت میری سوکن کے خوابوں کی تعبیر بتا رہی تھی،اسی نےاُس پر سحر کیا تھا،اور کہا کہ"آؤ میرے پاس عصر سے پہلے،پھر اسے فون کرو اور لمبی بات کرو تاکہ عصر کی اذکار کا وقت نکل جائے اور میں اس وقت اس پر گانٹھیں لگا دوں ایسا ہی ہوا،اس دوران اُس تعبیر والی عورت کو گلا بند ہو گیا،اور وہ بول نہ سکی،یوں سحر مکمل ہو گیا اور سوکن دوبارہ تعبیر کے لیے اس سے رجوع نہ کر سکی دوسری بار میں نے کھانے میں جادو ملا دیا جس کے بعد اُس کی حالت مزید بگڑ گئی اور شوہر نے مجبوراً اس کا آپریشن کروایا اور رحم نکال دیا گیا لیکن مجھے غصہ تب آیا
جب دیکھا کہ شوہر اُس کی حالت پر غمگین ہے اب میں چاہتی تھی کہ وہ طلاق لے لے تاکہ میری جیت مکمل ہو۔
میں نے بدی والی ساتھی سے مشورہ کیا
کہ ہم اس پر جادو کا الزام لگا دیں تاکہ شوہر طلاق دے دے میری بیٹی کی شادی کو ایک سال ہوا تھا‏ہم نے منصوبہ بنایا کہ شوہر پر بھی جادو کروا دیں،اور میں وہ عمل گھر کے دروازے کے پاس دفن کر دوں ایسا ہی کیا،پھر شوہر سے کہا:
"خوابوں کے ایک معبر نے کہا ہے کہ تم پر اور تمہاری بیوی پر جادو ہے،اور بیوی نے ہی جادو کیا ہے میں نے اسے بیوی کی صفات اور سحر کی جگہ بتائی
اور کہا کہ "یہی وجہ ہے کہ بیوی بیمار ہوئی میں، شوہر اور بیٹی اس جگہ گئے
اور شوہر نے درخت کے پاس گڑھا کھودا تو واقعی سحر ملا یہ اس کے لیے صدمہ اور میرے لیے خوشی کا موقع تھا! شوہر نے بیوی کے بھائی کو فون کیا اور کہا:
"تیری بہن کافرہ، فاجرہ، جادوگرنی ہے…
وہ مجھ پر حرام ہو گئی، تین طلاقیں!"
اس نے سحر کی تصویر بھی بھیجی۔
میں نے سمجھا کہ میں جیت گئی…
لیکن انجام میرے لیے، بیٹی کے لیے، اور بدی کی ساتھی کے لیے تباہی تھا۔
اب شوہر کو اُس عورت سے طلاق دیے پانچ سال ہو گئے میری بیٹی کو طلاق ہو گئی،اور وہ بانجھ ہو گئی،ایسا عجیب مرض کہ اس کے انڈے ختم ہو گئے،
اور وہ اب نفسیاتی علاج لے رہی ہے۔
میری ساتھی کا اکلوتا بیٹا ایک حادثے میں مر گیا اور وہ شدید ذہنی دباؤ کے باعث دماغی اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
شوہر کو خواب آتے ہیں کہ اس کا مرحوم والد ناراض ہے،
اور وہ قرآن کی آیت پڑھتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ"

معاملہ یہاں ختم نہ ہوا…
مجھے میرے کام سے نکال دیا گیا،ایک بہت بڑی بدنامی ہوئی،سازش کے تحت مجھے تعلیم کے شعبے سے نکالا گیا اور میری عزت خاک میں مل گئی۔
عبرت کا مقام:
جو دوسروں کی زندگی برباد کرتا ہے،
اللہ اُس کی دنیا و آخرت برباد کر دیتا ہے۔
جادو حرام ہے،اور اس کا انجام دنیا میں ذلت،آخرت میں جہنم ہے
"ومن يتوكل على الله فهو حسبه

پھر میرا سب سے لاڈلا بیٹا چرس کا عادی ہو گیا اور اب وہ نشے کے علاج کے لیے اسپتال میں داخل ہے رہی میں... تو مجھ پر کام کی جگہ پر الزام ثابت ہو گیا،
میں بدنام ہو گئی، اور مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا یہ سب کیسے ہوا۔
پھر میری طبیعت بگڑنے لگی،جب چیک اپ کروایا تو پتہ چلا کہ میں دماغ کے کینسر میں مبتلا ہوں اور کینسر ریڑھ کی ہڈی تک پہنچ چکا ہے اور پورے جسم میں خطرناک اور تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اس بیماری کی تشخیص اور اسپتال میں داخل ہونے کے بعد میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی اور مجھے مکمل طور پر بھول گیا میں اب اپنے مرض کے آخری مراحل میں ہوں اور صرف درد کم کرنے والی دوائیوں پر زندہ ہوں۔
میں نے اپنی سوکن کو بلانے کا کہا،تو میری بہنیں اسے لائیں،میں نے اسے سب کچھ سچ سچ بتایا،اور اس سے معافی مانگی، یہاں تک کہ اس کے پاؤں چومنے کو تیار تھی اس نے روتے ہوئے کچھ الفاظ کہے،جنہیں سن کر میری خواہش ہوئی کہ کاش میں سو بار مر جاتی اور یہ الفاظ نہ سنتی اس نے کہا:
> "تو نے مجھے ماں بننے سے محروم کر دیا،میرے دین میں مجھ پر ظلم کیا،مجھے میرے شوہر کے گھر سے بدنامی اور جھوٹے جادو کے الزام میں نکالا،اور آج… نہ میرے پاس بچے ہیں، نہ شوہر… صرف تیرے ظلم کی وجہ سے۔
اللہ تجھ پر اپنی رحمت حرام کرے
اللہ تجھ پر اپنی رحمت حرام کرے
اللہ تجھ پر اپنی رحمت حرام کرے…"

دنیا کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی تک سادہ فرائی انڈے پر بیٹھے ہیں خیر میں یہاں تک کیسے پہنچی انسٹاگرام کی سکرولنگ سے ۔یہ...
26/01/2025

دنیا کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی تک سادہ فرائی انڈے پر بیٹھے ہیں

خیر میں یہاں تک کیسے پہنچی انسٹاگرام کی سکرولنگ سے ۔
یہ انڈہ بنانے والے بھائی صاحب فرما رہے تھے کہ آپ ایک بار یہ ترکش انڈہ کھا لیں باقی انڈے بھول جائیں گے ۔

تو دماغ میں گھنٹی بجی چل بھئی دیکھتے ہیں۔

بس پھر دو انڈے لیے اور چل پڑی کچن کی طرف ۔

اجزاء:
Sauce Kay leya:
دہی
دھنیہ
لیموں
Eggs kay leya:
پانی
سرکہ
انڈے
Chilli sauce Kay leya:
مکھن
کٹی لال مرچ

ترکیب :
سب سے پہلے پانی ایک برتن میں لینا ہے اور اس میں تھوڑا سرکہ ڈال دینا ہے جب اس پانی کو ابال آجائے تو دو انڈے توڑ کر ڈال دینے ہیں ۔
پھر اتنی دیر آپ نے دہی میں لیموں اور دھنیہ ثابت ڈال لینا ہے ۔
اب اس رائتے کو ایک پلیٹ میں ڈال کر پھیلا دینا ہے جیسے ہماری زندگی پھیلی ہوئی ہے
خیر اوپر وہ انڈے ڈالنے ہیں نکال کر جو پانی بھی تڑپ رہے تھے ۔
آخر میں مکھن گرم کر کے اس میں کٹی مرچ ڈال کر تھوڑا سا پکانا ہے پھر اسے انڈوں کے اوپر ڈال دینا ہے ۔

آخر میں ڈالیں دھنیہ اور بس دو سلائس بریڈ کے لیں ان کو crispy کر لیں اور اس کے ساتھ کھا لیں شکریہ

‏نئے سال کے پہلے مہینے "جنوری" کا نام دراصل  لاطینی لفظ ’جانوس‘ سے ماخوذ ہے۔ جانوس دو سروں (two heads) والا رومن دیوتا ہ...
02/01/2025

‏نئے سال کے پہلے مہینے "جنوری" کا نام دراصل لاطینی لفظ ’جانوس‘ سے ماخوذ ہے۔ جانوس دو سروں (two heads) والا رومن دیوتا ہے جسے دروازوں(گذشتہ سال سے نئے سال میں داخلے) کا دیوتا کہا جاتا ہے، یہ وقت کی تبدیلی اور نئے سال کا لائحہ عمل (New year resolution) طے کرنے کا دیوتا ہے - اس کا ایک سر گذشتہ سال کو دیکھ رہا ہے تو دوسرا سر آنے والے نئے سال کو دیکھ رہا ہے -
ہندو مندروں کی طرح جانوس دیوتا کا بھی باقاعدہ یونان میں مندر آباد تھا جہاں اس کی پوجا کی جاتی تھی -

عیسائیوں نے رومی بت پرست قوم کے تجویز کردہ اس کیلینڈر کو اپنے ہاں رائج کرلیا اور آج عیسائیوں سمیت تمام دنیا کے مذہبی و غیر مذہبی لوگ نیا سال شروع ہونے پر نئے سال کا لائحہ عمل (New Year Resolution) طے کرتے ہوئے ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں - گذشتہ سال سے نئے آنے والے سال کا موازنہ کرتے ہیں، آنے والے نئے سال کے لئے بہت جوش اور ولولے کے ساتھ کامیابی اور ترقی کرنے کے منصوبے طے کرتے ہیں - لیکن یہ صرف وقتی باتیں ہی ہوتی ہیں -

جبکہ یہی کچھ مسلمان بھی کر رہے ہیں؛ کوئی زیادہ کتابیں پڑھنے کی بات کررہا ہے؛ تو کوئی رومی دیوتا جانوس کی عقیدت میں رکھے گئے ماہ جنوری کو اسلامی رنگ دیکر زیادہ نیکیاں کرنے کے پلان بنا رہا ہے؛ تو کوئی زیادہ محنت اور لگن کے ساتھ پڑھائی، نوکری اور کاروبار کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے -
جبکہ ہر سال متواتر یہی عہدوپیمان ہوتے ہیں لیکن قومی ترقی اور ایمانداری سب کے سامنے ہے!

ایسے عہد و پیمان اور و منصوبے جو مشرک یونانی اور رومی تہذیبوں سے ادھار لیکر بنائے جائیں ان کی منزل میں کبھی کامیابی مقدر ہو بھی نہیں سکتی -

قربان جائیں اس خوددار اور غیرت مند پیغمبر اور ان کے سچے جانشین اصحاب کے جو ہمیشہ دوسری قوموں کے ہر کام کے الٹ عمل کرتے تھے -

خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی رومی یونانی عیسوی کیلینڈر کو ترک کرکے ہجری کیلینڈر کا آغاز سن ہجرت(مکہ سے مدینہ) سے کیا تھا -
آج مسلمانوں امرا ہوں یا عوام الناس سب لوگوں کے شب و روز دوبارہ عیسوی بت پرست کیلینڈر کے مطابق بسر ہورہے ہیں، خدا رسول کے فرامین اور قرآن کی تعلیمات ترک کرکے مغربی تہذیب کا ہر جگہ دور دورہ ہے -
دنیا میں عزت اور قدر و منزلت اسی قوم کی ہوتی ہے جس کی اپنی جداگانہ منفرد پہچان ہوتی ہے ، جو دوسروں کی نقالی میں زندگی بسر کرتے ہیں ان کی نہ پھر عزت ہوتی ہے، نہ ہی دنیا میں کوئی پہچان اور نہ ہی کوئی مقام!!

سال 2021 میں ایک فلم Malignant ریلیز ہوئی تھی جس کا مرکزی کردار ایک عورت ہوتی ہے جس کے سر کے اندر دو شخصیات کا مجموعہ ہوتا ہے، دوسری شخصیت اس کے سر کے پچھلی جانب ہوتی ہے- جب وہ باہر آتی ہے تو پہلی والی بیہوش ہوجاتی ہے - اور یہ نئی شخصیت زیادہ جوشیلی ہوتی ہے - سال نو کے آغاز پر ایسا ہی حال تمام لوگوں کا ہوجاتا ہے -

‏تہجد کا حیرت انگیز تعارف :کیا آپ کو معلوم ہے فرض نمازوں اور قیام اللیل میں کیا فرق ہے ؟سب سے زیادہ تحقیق جو میں نے قیام...
15/10/2024

‏تہجد کا حیرت انگیز تعارف :

کیا آپ کو معلوم ہے فرض نمازوں اور قیام اللیل میں کیا فرق ہے ؟
سب سے زیادہ تحقیق جو میں نے قیام اللیل کے متعلق کی ہے ، اس سے آپ کے تن بدن میں رونگھٹے کھڑے ہو جائیں گے۔
میری خواہش ہو گی کہ آپ سب اس تحریر کو آخر تک لازمی پڑھیں ۔
یہ "دعوت کا کارڈ" ہے
(رب العالمین)کی طرف سے۔
مجھے رات کے آخری حصے کی نماز (قیام اللیل)نے تعجب میں مبتلا کر دیا!
اور میں نے اس میں پایا کہ:
- فرض نمازوں کی ندا بشر ہی لگاتے ہیں ، جبکہ قیام اللیل کی ندا رب العالمین لگاتے ہیں ۔
- فرض نمازوں کی ندا ہر شخص سنتا ہے ، جبکہ قیام اللیل کی ندا بعض لوگ ہی محسوس کرتے ہیں ۔
- فرض نمازوں کی ندا
(حي على الصلاة ،حي على الفلاح) ہے ۔
جبکہ قیام اللیل کی ندا
( ھل من سائل فأعطیہ....)
ہے کوئی سوال کرنے والا میں اسے عطا کر دوں ؟
- فرض نمازیں تمام مسلمانوں پر فرض ہیں ۔
جبکہ قیام اللیل صرف اللہ کے چُنے ہوئے مؤمن ہی ادا کرتے ہیں ۔
- فرض نمازیں بعض لوگوں کی دکھاوے کی نظر ہو جاتی ہیں ۔
جبکہ قیام اللیل چھپ کر اورصرف اللہ کی رضا کے لیے ادا کی جاتی ہے ۔
- فرض نمازوں کو ادا کرتے وقت مسلمان دنیاوی سوچوں میں مگن اور شیطانی وسوسوں میں مبتلا رہتا ہے ۔
جبکہ قیام اللیل میں مؤمن دنیا سے منقطع اور آخرت کی فکر میں مگن ہو جاتا ہے ۔
۔ فرض نمازوں میں مسلمان مسجد میں دوسروں سے ملاقات میں مشغول ہو جاتا ہے ،
جبکہ قیام اللیل میں مؤمن اللہ سے ملاقات کا شرف اور اس سے کلام اور سوال کا متلاشی رہتا ہے ۔
- فرض نمازوں میں دعا قبول ہونے کا علم نہیں ۔
جبکہ قیام اللیل میں اللہ نے خود اپنے بندوں سے دعا کی قبولیت کا وعدہ کیا ہے ۔
- آخر میں
قیام اللیل اس خوش نصیب کو حاصل ہوتی ہے جس سے اللہ کلام کرنا چاہتا ہو،اور اسکے ھم وغم سننا چاہتا ہو ،کیونکہ وہ اپنے اس مؤمن بندے کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔
پس خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے اللہ ذوالجلال والاکرام کی طرف سے بھیجا گیا دعوت نامہ کارڈ کی صورت میں حاصل کیا اور اس کے سامنے بیٹھ کر باتیں کیں اور اس سے
مناجات کی لذتیں حاصل کیں۔
جب آپ رات کے آخری پہر اندھیروں میں اپنے مالک الملک کے سامنے پیش ہوں تو بچوں والا اخلاق اپنائیں ۔
کہ جب بچہ کوئی چیز مانگتا ہے تو نہ ملنے پر وہ روتا ہے ، یہاں تک کہ حاصل کر لیتا ہے ۔ پس آپ بھی اپنے رب سے بچوں کی طرح مانگیں ۔
اپنے ساتھ دوسروں کو بھی ترغیب دیں ۔ تاکہ دوسروں کے عمل کا آپ کو بھی پورا اجر ملے ۔
عربی عبارت سے ترجمہ

15/10/2024

‏آپ میں سے بہت لوگ جانتے ہوں گے جب جنرل گریسی کا آخری پیغام لے کر لیاقت علی خان اور کابینہ سکریٹری محمد علی زیارت گئے محترمہ فاطمہ جناح نے بھائی اطلاع دی تو قائد اعظم نے کہا!

"فاطی تمہیں پتہ ہے کہ یہ کیوں آیا ہے یہ صرف دیکھنے کے لیے آیا ہے کہ میں کتنے دن اور زندہ رہتا ہوں"

خیر قائد اعظم سے ملاقات ہوئی کیا بات ہوئی کوئی نہیں جانتا لیکن اس کے بعد جب محترمہ فاطمہ جناح دوا کھلانے لگیں تو قائد اعظم نے کہا کہ!
"فاطی مجھے دوا نہیں لینی میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتا"

بتانے کا مقصد یہ ہے کہ!

تاریخ اپنے آپ کو پھر دہرا رہی ہے عمران خان کے بھی جناح صاحب کی طرح سارے ہی کھوٹے سکے ہیں یہ سب وہی رول ادا کر رہے ہیں جو اس وقت لیاقت علی خان اینڈ کمپنی نے ادا کیا تھا۔
اس وقت تو سوشل میڈیا نہیں تھا عوام کچھ نہیں جانتی تھی لیکن اب ہم سب سب کچھ جانتے ہیں تو کیا آپ اس انتظار میں ہیں کہ خان اپنی بہن سے کہے کہ!
علیمہ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتا ؟؟؟؟

جو کہ وہ مر جائے گا پر کبھی بھی نہیں کہے گا۔

ہم سب بھی خان کے کھوٹے سکوں کی طرح منافقت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہو چکے ہیں اور خدا کی قسم آزادی اور ترقی ایسی اقوام کے لیے نہیں ہوتی۔

تم بھگتو گے اتنا بھگتو گے کہ مانگے سے موت بھی نہیں ملے گی

‏علمائے دین۔۔۔۔احترام کا رشتہ۔۔۔جب آپ حج یا عمرے پر جاتے ہیں تو دوسری بہت سی قومیتوں کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔۔  لگتا ہ...
12/10/2024

‏علمائے دین۔۔۔۔احترام کا رشتہ۔۔۔

جب آپ حج یا عمرے پر جاتے ہیں تو دوسری بہت سی قومیتوں کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔۔
لگتا ہے فلاں قوم کے لوگ کچھ متکبر ہیں۔اپنے آپ میں مگن۔۔۔
کچھ لوگ ہمیں بہت نرم مزاج لگتے ہیں۔
کچھ لوگ خود غرض لگتے ہیں۔
کچھ تعاون پر آمادہ۔۔

جس طرح ہمارا خاندان ایک خاص ثقافت رکھتا ہے اسی طرح ہمارا مجموعی ماحول ہمیں ایک خاص سانچے میں ڈھالتا ہے ۔
ہم چہرے کے تاثرات اور انہی لہجوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ایک آدمی جو ساری دنیا میں سفر کرتا ہے,
انکی زبان ہم سے فرق ہے۔طرز بودوباش الگ۔
ہم ان سے توقع کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے مقامی اسلوب کے مطابق ہوں۔۔۔
چیزوں کے مثبت پہلو پر توجہ دینے کی عادت اس سوشل میڈیا نے ختم کرا دی ہے ۔۔
جب ڈاکٹر صاحب سے ایک عیسائی آدمی نے سوال کیا:" ہم پاکستان میں گیدڑ کی طرح رہتے ہیں ہمارے لیے انسانی حقوق بہت تنگ ہیں"۔
ہمارے علمائے دین شرمندگی ظاہر کرتے کہ ہاں واقعی پاکستان میں اقلیت محفوظ نہیں ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے خم ٹھونک کر کہا:" اگر آپ زنا کرتے ہیں یا شراب پیتے ہیں تو کوئی مسلمان سینے پر ہاتھ رکھ کر آپ کو سلام نہیں کرے گا۔ اسلام کے سلامتی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آپ کی ہر غلط چیز کو ٹھیک کہیں۔ لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں تو آپ اس کی وجہ بھی تلاش کریں۔ میں پاکستانی شہری نہیں اس لیے پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ میں جس ملک ملائشیا میں رہتا ہوں وہاں اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں"۔
اگر لڑکیوں سے اختلاط پہ وہ گھبرا گئے تو ان کا گھبرانا بجا تھا۔دس برس کے بعد بچی بالغ شمار ہوگی۔
ہم جس چیز کے عادی ہیں چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی اس کو ہلکا لیں۔۔

ہمارے ٹی وی اشتہارات اور ڈراموں میں ساری حدیں ٹوٹتی چلی جا رہی ہیں۔"الکرم "کااشتہار,انتہائی شرم ناک۔۔

لیکن ہم عادی ہو گئے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مارکیٹنگ کی دنیا میں یہ سب ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے ہمیں ہمارے معاشرے کا چہرہ دکھایا ہے تو ہمیں سیخ پا ہونے کے بجائے اصلاح کی فکر کرنا چاہیے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمان بہت زیادہ سیلفیاں بناتے ہیں اور ان کی باتیں سننے کے بجائے سیلفیاں بنانے میں لگے رہتے ہیں۔

یہ تو ہمارا عمومی مزاج بن گیا ہے۔
اب شادی کی تقریب میں اہل خانہ سیلفیاں اور گروپ فوٹوز میں مصروف رہتے ہیں مہمان ائیں اور کھانا کھا کر لفافہ دے کر چلے جائیں۔

ڈاکٹر صاحب نے ایک بہت بڑی بات کہی۔۔
انہوں نے کہا کہ "آپ جیسی نسل چاہتے ہیں ویسی شریک حیات تلاش کریں۔
چونکہ مجھے ا اپنے گھر میں عالم پیدا کرنے کی خواہش تھی تو میں نے ایک عالمہ کو تلاش کیا۔
اس کی تلاش میں مجھے کئی سال انتظار اور شہر سے باہر سے بیاہ کر لانا پڑا۔
آج میرا بیٹا الحمدللہ دین کا داعی ہے۔ "
جبکہ ہمارے نوجوان تو یہ ذمہ داری ماؤں کو دے دیتے ہیں کہ وہ خوبصورت دلہن تلاش کریں۔
ہم اپنے بیٹوں کے جوڑ تلاش کرتے وقت کن چیزوں کو تلاش کرتے ہیں؟؟
کئی لوگ تو سالوں سے گرین کالڈ ہولڈر دلہن کی تلاش میں بیٹے کی عمر بڑھاتے چلے جا رہے ہیں۔۔

ڈاکٹر صاحب کی ہر بات میں بین السطور کوئی پیغام تھا۔

کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ انڈیا اپنے یہاں سرمایہ کاروں کو بلا رہا ہے اور ہم عالموں کو۔۔
ہم سرمایہ کاری کا بہت محدود مفہوم لیتے ہیں۔اصل "سرمایہ" ہماری نسل ہے اور بہترین "سرمایہ کاری" اس کے دین کو بچانے کی فکر کرنا۔۔۔

29/09/2024
ڈاکٹر ذاکر نائک : تعارف18 اکتوبر 1965ء کو بمبئی میں پیدا ہونے والے ذاکر نائیک پیشے کے لحاظ سے تو ایک .MBBS ڈاکٹر ہیں لیک...
25/09/2024

ڈاکٹر ذاکر نائک : تعارف

18 اکتوبر 1965ء کو بمبئی میں پیدا ہونے والے ذاکر نائیک پیشے کے لحاظ سے تو ایک .MBBS ڈاکٹر ہیں لیکن دعوت دین اور مختلف مذاہب میں PhD کی ڈگری مصر کی یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ 1991ء میں بمبئی میں اسلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھی۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی زبان میں لکنت بھی ہے اور وہ اکثر دعائے موسوی ،رب اشرح لی صدریَ َََِِ.....’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے اور میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے (کہ لوگ) میری بات کو سمجھ لیں‘‘ پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی لکنت زدہ زبان میں ایسی تاثیر ڈالی کہ اس نے سارے عالم میں اسلام کی مٹھاس پھیلا دی۔

20 سال میں وہ تمام براعظموں کے اکثر ملکوں میں بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کر چکے ہیں۔

یکم اپریل 2000 کو امریکہ میں ان کا عیسائیوں کے نامی عالم ولیم کیمبل کے ساتھ کئی گھنٹے طویل مناظرہ ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ جس کا عنوان ’’قرآن اور بائیبل، سائنس کی روشنی میں‘‘ تھا۔ جسے ایک امریکی ٹی وی چینل پر براہ راست دکھایا گیا تھاجس کے بعد کم از کم 34 ہزار لوگوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا اس کے بعد ہر جگہ انہیں ’’تقابل ادیان‘‘ کا سب سے بڑا ماہر سمجھا جانے لگا اور ہر جگہ انہیں دعوت دین کے لئے بلایا جانے لگا۔ جس سے بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں کو فکر لاحق ہوئی کہ وہاں بھی لوگ ان سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنا شروع تھے۔ یوں 21جنوری 2006ء کو بھارت میں ہندوؤں کے سب سے بڑے عالم روی شنکر کے ساتھ ان کا ’’اسلام میں تصور خدا اور ہندو مذہب‘‘ کے موضوع پر مناظرہ ہوا تو انہوں نے شنکر کو تھوڑی ہی دیر میں بے بس کر دیا ۔یہ منظر دیکھ کر کتنے ہی ہندو مسلمان ہو گئے۔

اگلے سال یعنی 2007ء میں انہوں نے بمبئی میں سالانہ 10روزہ ’’امن کانفرنس‘‘ کا انعقاد شروع کیا جس میں دنیا بھر سے مبلغین اسلام جو ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ساتھی تھے، آنا شروع ہوئے۔ وہ مذاہب عالم کا اسلام کے ساتھ تقابل پیش کرتے اور بے شمار لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیتے۔ یہ سلسلہ 2012ء تک جاری رہا، جب اس کانفرنس میں ریکارڈ 10لاکھ لوگ شریک ہوئے تو بھارتی انتہا پسند ہندو سماج ہل کر رہ گیا۔ انتہا پسند ہندو تنظیمیں متحرک ہو گئیں۔ اور سالانہ کانفرنس کے خلاف تحریک شروع کر کے اسے رکوا دیا۔
مگر ڈاکٹر ذاکر کی دعوت کا سلسلہ ان کے Peace TV، ویڈیو ریکارڈنگز، تحریروں، انٹرنیٹ اور غیر ملکی دوروں کے ذریعے جاری رہا۔ Peace TV کی Viewer شپ 10کروڑ سے تجاوز کر گئی

انہوں نے 2006میں پیس ٹی وی انگلش کا آغاز کیا توجلد ہی یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا چینل بن گیا جو دنیا کے 200سے زائد ملکوں میں دیکھا جا رہا ہے ، اس کے اب بھی 25فیصد ناظرین غیر مسلم ہیں۔انہوں نے 2011ء میں بنگلہ جبکہ 2015ء میں چینی زبان میں چینل کی نشریات کا آغاز کیا۔

ڈاکٹر ذاکر کے لئے اس سے پہلے مشکل مرحلہ اس وقت آیا جب جون2010ء میں انہوں نے کینیڈا اور برطانیہ کے دورے کی تیاری کی تویہاں موجود قادیانی لابی نے حکومتوں سے شکایت کی کہ یہ مبلغ قادیانیوں اور مقامی حکومتوں کے لئے خطرہ ہیں، یوں انہیں داخلے سے روک دیا گیا۔
2010میں ہی بھارتی نشریاتی ادارے ’’انڈین ایکسپریس‘‘نے انہیں ملک کی 90 بااثر شخصیت میں شامل کیا۔

2011سے 2014 تک امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی نے انہیں دنیا کی 500 بااثر ترین شخصیات میں مسلسل برقرار رکھا۔ انہیں خدمات کے اعزاز میں29 جولائی 2013ء کو انہیں متحدہ عرب امارات نے 2013ء کی بہترین مسلم شخصیت قرار دے کر ’’بین الاقوامی قرآن ایوارڈ‘‘ دیا انہیں ملائشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ ، شارجہ ایوارڈ اور ’’شاہ فیصل ایوارڈ مل چکے ہیں
مگر انکا اصل ایوارڈ یہ ہے کہ 2020 میں الجزیرہ نیوز کی ریسرچ کے مطابق 2016 سے 2020 تک 11 لاکھ غیر مسلم کو مسلمان بنایا ۔
۔ھندوستان کے پنڈتوں نے ان کے خلاف مہم میں مسلم علماء کو استعمال کرکے ان کے خلاف فتوے شائع کیے ۔اور حکومت نے چلاوطنی پر مجبور کیا ۔ ملائیشیا کے سربراہ حکومت مہاتیر محمد نے دعوت دی اور ملائیشن شہریت دے دی ۔ اور یوں ملائیشیا منتقل ھوکر اپنی دعوتی کام کو جاری رکھے ھوئے ھیں ۔ اللہ پاک ان کی عمر میں برکت ڈال دے ۔ اور اسلام کی دعوت کے لیے زندہ سلامت رکھے آمین
ڈاکٹر ذاکر نائک 30 ستمبر کو پاکستان آ رہے ہیں

‏مزدور بھائی ملتان کی زرعی یونیورسٹی میں ایک حادثہ ہوا ہے اس میں ڈرائیور نے ایک 5th سمیسٹر کی لڑکی کو کُچل دیا ہے،لیکن ب...
24/09/2024

‏مزدور بھائی ملتان کی زرعی یونیورسٹی میں ایک حادثہ ہوا ہے اس میں ڈرائیور نے ایک 5th سمیسٹر کی لڑکی کو کُچل دیا ہے،
لیکن بات تب خراب ہوئی جب یونیورسٹی انتظامیہ نے لاش کو 3 گھنٹے صرف اس لئے نہیں اٹھانے دیا کیونکہ اسکے والد صلح نامے پر دستخط نہیں کر رہے تھے اور so cold وی سی صاحب نے اسکے والد کو کہا کہ دستخط کرو اور کوئی آیف آئی آر نہ کرواؤ
اسکی لاش دو سے تین گھنٹے یونیورسٹی کی سڑک پر گرمی میں سڑتی رہی، میں آیکو ایک دو تصویریں بھی ثبوت کہ لئے بھیج رہا ہوں۔ اور پھر بعد میں زرعی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے خود ہی کیمرے توڑ کر اسکی فوٹیج ضبط کر لی۔ ہم یونیورسٹی انتظامیہ کی اس بے حسی پر آپکا ساتھ چاہتے ہیں تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو

‏بہت سے جانور بہت خود غرض لگتے ہیں. جیسے جنگل کا بادشاہ شیر ہو. اس کے شکار کو اسکا بھائی بچہ کوئی بھی ہاتھ لگائے یہ اس ک...
21/09/2024

‏بہت سے جانور بہت خود غرض لگتے ہیں. جیسے جنگل کا بادشاہ شیر ہو. اس کے شکار کو اسکا بھائی بچہ کوئی بھی ہاتھ لگائے یہ اس کو مارنے پر آمادہ ہو جاتا ہے. سالمن مچھلی بھی بہت عجیب ہے. سینکڑوں میل کا مشکل سفر کر کے یہ اپنے آبائی علاقوں میں انڈے دے جاتی ہیں لیکن ان بچوں کی پرورش و پیدائش کا انتظار نہیں کرتی. ان کو فطرت و تقدیر کے حوالے چھوڑ آتی ہیں.

ایک مادہ چمگادڑ ہے جو اپنے نر سے ملاپ کے بعد اس نر کو ہی مار دیتی ہے. لیکن اگر آپ جانوروں کی دُنیا پر آگاہ ہوں تو آپ کو یہ خود غرضی نہیں لگتی. کیونکہ ان کی دنیا ہی ایسی ہے. اتنا ہی ان کو شعور دیا گیا ہے. ان کا کوئی امتحان نہیں اس زندگی کا کوئی حساب نہیں ہے. نہ ان کی کوئی توقعات ہیں. شیر کو پتہ ہے کل بڑھاپے میں طاقت کے زوال کے بعد اس کے منہ میں کوئی نوالہ نہیں ڈالے گا. بھوک سے کمزور ہو کر ہی اس نے مرنا ہے.

انسان کا معاملہ البتہ الگ ہے. اسے شعور دیا گیا ہے. اس کی زندگی کا پل پل کتاب ہو رہا ہے کل جسکا حساب ہوگا. جس انسان کو یہ یاد رہتا ہے وہ اپنا حساب درست رکھتا ہے. جو خود غرض بن کر یہ بھول جاتا ہے موت اس پر ہنستی ہے کہ شائد اس نے بھی خود کو جانور سمجھ لیا ہے. یہ بھی سمجھ رہا ہے جیسے کل اسکا حساب نہ ہوگا.

دُنیا کا کوئی جانور خود غرض نہیں البتہ وہ انسان جو انسانیت بھول کر جانور بن جائے وہ خود غرض بھی ہوتا ہے اور انتہائی جاہل اور بے وقوف بھی. کیونکہ وہ زندگی کا سب سے بڑا سچ یعنی موت بھول چکا ہوتا ہے. اور پھر بھی مر جاتا ہے اپنا سب کچھ دنیا میں چھوڑ کر خالی ہاتھ چلا جاتا ہے.

یہی خود غرض و جاہل لوگ دنیا کو انسانیت کیلئے وہ جنگل بنا دیتے ہیں جہاں کمزوری جرم سمجھی جاتی ہے. وقت کے ایسے ہر طاقتور ظالم کی ہمنوائی بھی جرم ہے. اور جرم کی سزا لازم ہے چاہے یہاں ملے یا وہاں ملے.

Address

Sangla Hill
Riyadh
39600

Telephone

+966535972682

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahsan life style posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ahsan life style:

Share

Category