𝗔𝗝𝗞 𝗡𝗘𝗪𝗦

𝗔𝗝𝗞 𝗡𝗘𝗪𝗦 𝓨𝓸𝓾𝓻 𝓼𝓸𝓾𝓻𝓬𝓮 𝓯𝓸𝓻 𝓽𝓲𝓶𝓮𝓵𝔂 𝓾𝓹𝓭𝓪𝓽𝓮 𝓪𝓷𝓭 𝓷𝓮𝔀𝓼 𝓯𝓻𝓸𝓶 𝓐𝔃𝓪𝓭 𝓙𝓪𝓶𝓶𝓾 𝓪𝓷𝓭 𝓚𝓪𝓼𝓱𝓶𝓲𝓻, 𝓟𝓪𝓴𝓲𝓼𝓽𝓪𝓷, 𝓪𝓷𝓭 𝓪𝓻𝓸𝓾𝓷𝓭 𝓽𝓱𝓮 𝔀𝓸𝓻𝓵𝓭. 𝓢𝓽𝓪𝔂 𝓲𝓷𝓯𝓸𝓻𝓶𝓮𝓭 𝔀𝓲𝓽𝓱 𝓽𝓱𝓮 𝓵𝓪𝓽𝓮𝓼𝓽 𝓱𝓮𝓪𝓭𝓵𝓲𝓷𝓮𝓼

آزاد کشمیر بار کونسل کا وزیراعظم سے ملاقات کا فیصلہمظفرآباد: آزاد کشمیر بار کونسل نے ریاست میں آئین و قانون کی بالادستی،...
07/09/2026

آزاد کشمیر بار کونسل کا وزیراعظم سے ملاقات کا فیصلہ

مظفرآباد: آزاد کشمیر بار کونسل نے ریاست میں آئین و قانون کی بالادستی، امن و امان اور عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت سے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

بار کونسل نے انٹرنیٹ سروس فوری بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بندش سے بینکنگ، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بار کونسل کا وفد جلد وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی سے ملاقات کرکے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔

07/09/2026

آزاد کشمیر میں قانون کا جنازہ دھوم سے نکل رہا ہے… اور افسوس یہ ہے کہ جنازہ اٹھانے والے خود قانون کے رکھوالے ہیں!
تین روز قبل آفاق احمد ایڈووکیٹ نے ہائی کورٹ سے 3-MPO کے تحت گرفتار وصی کی رہائی کا فیصلہ حاصل کیا۔ فیصلہ جب تھانے میں پیش کیا گیا تو ایک پرانی FIR میں عدالت سے ریمانڈ حاصل کرتے ہوئے رہائی سے معذرت کر لی گئی۔
آج اسی FIR میں بھی عدالت سے ضمانت حاصل کر لی گئی، لیکن رہائی کا راستہ پھر روک دیا گیا۔ دعویٰ ہے کہ ڈپٹی کمشنر نے 3-MPO کے حکم میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی۔
اب اصل سوال یہ ہے:
اگر ہائی کورٹ کسی شخص کی رہائی کا حکم دے چکی ہو تو انتظامیہ کس اختیار کے تحت ایسا اقدام کر سکتی ہے جو اس فیصلے کے عملی نفاذ میں رکاوٹ بن جائے؟
کیا عدالت کے فیصلے صرف کاغذوں تک محدود رہ گئے ہیں؟
کیا انتظامیہ عدالت کے حکم سے بالاتر ہے؟
اور اگر کسی عدالتی فیصلے کے باوجود انتظامی حکم کے ذریعے کسی شخص کی آزادی مسلسل روکی جائے تو پھر آئین، قانون اور عدالتی اختیار کی بالادستی کہاں باقی رہ جاتی ہے؟
یہ صرف وصی کا معاملہ نہیں۔
یہ سوال ہر شہری کے بنیادی حقوق، عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کا سوال ہے۔
آج اگر ایک شہری کے لیے عدالت سے رہائی کا حکم حاصل کرنا بھی کافی نہیں، تو کل یہ صورتحال کسی اور شہری کے ساتھ بھی پیش آ سکتی ہے۔
ریاست قانون سے چلتی ہے، انتظامی احکامات کی مرضی سے نہیں۔
اگر قانون کے رکھوالے ہی قانون کی حدود پامال کرنے لگیں تو پھر عام شہری کس دروازے پر انصاف کے لیے جائے؟
آزاد کشمیر میں اگر واقعی قانون کی حکمرانی موجود ہے تو اسے صرف بیانات میں نہیں، عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا۔
یہ جبر ہے یا قانون؟
یہ حکمرانی ہے یا من مانی؟
اور سب سے بڑا سوال:
قانون کا جنازہ آخر نکال کون رہا ہے؟
#آزادکشمیر #عدلیہ #انصاف

7 ستمبر 1974 — پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم دن7 ستمبر 1974 کو دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 26...
07/09/2026

7 ستمبر 1974 — پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم دن

7 ستمبر 1974 کو دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 260 میں مسلمان اور غیر مسلم کی آئینی تعریف شامل کی گئی۔

آئین میں یہ الفاظ شامل کیے گئے:

"ہر شخص جو حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی مدعیِ نبوت کو نبی یا دینی مصلح مانتا ہو، وہ آئین یا قانون کے مقاصد کے ضمن میں مسلمان نہیں۔"

یہ آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور ہوئی اور مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں آیا۔

یہ واقعہ پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔

#7ستمبر1974

JAAC اور حکومت کے ممکنہ نئے معاہدے کی 10 بنیادی شرائط 5 جون اور بعد کے واقعات کی آزادانہ تحقیقاتہلاکتوں، فائرنگ اور تشدد...
07/09/2026

JAAC اور حکومت کے ممکنہ نئے معاہدے کی 10 بنیادی شرائط

5 جون اور بعد کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات
ہلاکتوں، فائرنگ اور تشدد کی غیر جانب دار تحقیقات، ذمہ داران کا تعین۔

سیاسی مقدمات کا خاتمہ
پرامن احتجاج سے متعلق FIRs واپس، گرفتار کارکنوں کے معاملے کا قانونی حل۔

JAAC
کی قانونی حیثیت واضح کی جائے
کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن، قانونی بنیاد اور شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں۔

سابقہ معاہدوں پر مکمل عملدرآمد
ہر مطالبے کا آڈٹ ہو، دعوے نہیں بلکہ عملی ثبوت پیش کیے جائیں۔

بجلی اور آٹے کا مستقل حل
عوام کو قابلِ برداشت بجلی ٹیرف اور آٹے کی قیمت و سبسڈی کا مستقل نظام دیا جائے۔

حکمران طبقے کی مراعات میں کمی
غیر ضروری مراعات اور سرکاری اخراجات کا شفاف آڈٹ اور خاتمہ۔

12 مہاجر نشستوں کا آئینی حل
سیاسی مفاد نہیں، آئینی، قانونی اور عوامی مشاورت کی بنیاد پر فیصلہ۔

شفاف انتخابات اور انتخابی اصلاحات
انتخابی شکایات کی تحقیقات، شفاف نتائج اور مؤثر انتخابی نظام۔

پرامن احتجاج کا تحفظ
جلسہ، ریلی اور دھرنا شہری حق ہے۔ پرامن اختلاف کو جرم یا دہشت گردی نہ بنایا جائے۔

معاہدے کی عملی ضمانت
ہر مطالبے کے ساتھ ذمہ دار ادارہ + آخری تاریخ + سرکاری نوٹیفکیشن + عملدرآمد کا ثبوت لازمی ہو

📢 9 اگست — شٹر ڈاؤن اور پہیہ جامعوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 اگست کو پورے کشمیر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دی گئ...
07/09/2026

📢 9 اگست — شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام

عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 اگست کو پورے کشمیر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دی گئی ہے۔

ہم تمام کشمیری عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کال پر لبیک کہتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کریں اور 9 اگست کے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کو بھرپور اور کامیاب بنائیں۔

یہ وقت اتحاد، یکجہتی اور اپنے جائز مطالبات کے لیے پُرامن طور پر اپنی آواز بلند کرنے کا ہے۔

آئیں، متحد ہو کر اپنی آواز بلند کریں اور 9 اگست کی کال کو مکمل طور پر کامیاب بنائیں۔

✊ اتحاد — یکجہتی — جدوجہد

#9اگست
#شٹرڈاؤن


#کشمیر

07/09/2026

اسلام آباد: اینٹی ٹیررازم کورٹ کا اہم فیصلہ

آزاد کشمیر میں ہونے والے احتجاجی واقعات سے منسوب کیس میں سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت 96 افراد کو عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد مقدمے میں گرفتار افراد کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق کیس میں نامزد دیگر افراد سے متعلق قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔

🔥 وزیراعظم شہباز شریف صاحب! قانون کی بات اچھی ہے، مگر قانون سب کے لیے ہونا چاہیے!آپ کہتے ہیں لاقانونیت کی اجازت نہیں دی ...
06/09/2026

🔥 وزیراعظم شہباز شریف صاحب! قانون کی بات اچھی ہے، مگر قانون سب کے لیے ہونا چاہیے!

آپ کہتے ہیں لاقانونیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بالکل نہیں دینی چاہیے—مگر پھر ریاستی طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات کا حساب بھی ہونا چاہیے۔

آپ کہتے ہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔
جناب! عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات سے بھاگی نہیں تھی۔ 25 اکتوبر کا معاہدہ بھی مذاکرات ہی سے ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد کیوں نہ ہوا اور اعتماد کیوں ٹوٹا؟

آپ کہتے ہیں "اغیار کے اشاروں پر کام ہو رہا تھا۔"
تو پھر ثبوت کہاں ہیں؟ وزراء اور سرکاری حلقوں کے الزامات بہت سن لیے، ایک قابلِ تصدیق ثبوت عوام کے سامنے رکھیں!

آپ کہتے ہیں آل پارٹیز کانفرنس میں طے ہوا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ اگلی اسمبلی میں حل ہوگا۔
تو پھر 25 اکتوبر کے معاہدے میں یہ شرط کیوں نہیں رکھی گئی؟

اور سب سے اہم سوال:

5 مارچ کے واقعات میں عمر نذیر کشمیری پر حملہ اور شاہزیب حبیب اللہ کی ہلاکت—اس کی شفاف تحقیقات کہاں ہیں؟

وزیراعظم صاحب!
طاقت استعمال کرکے اختلاف دبانا بھی لاقانونیت کے سوال سے باہر نہیں۔

عوام لاقانونیت نہیں چاہتے، انصاف چاہتے ہیں۔
مذاکرات چاہتے ہیں، مگر وعدہ خلافی کے ساتھ نہیں۔
قانون چاہتے ہیں، مگر ایسا قانون نہیں جو صرف کمزور پر لاگو ہو۔

اب وقت الزام تراشی کا نہیں، ثبوت، معاہدے اور جواب دہی کا ہے۔

#کشمیر #مذاکرات

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسوب 2 ستمبر کے اعلامیے کے مطابق آج 5 ستمبر کو راولاکوٹ سے ایک اہم اعلان متوقع ہے۔ اعلامیے ...
05/09/2026

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسوب 2 ستمبر کے اعلامیے کے مطابق آج 5 ستمبر کو راولاکوٹ سے ایک اہم اعلان متوقع ہے۔ اعلامیے میں اعلان کی نوعیت یا مزید تفصیلات واضح نہیں کی گئیں

حکومت کو اب اُن بزرگوں سے بھی خطرہ ہے جو بغیر سہارے کے اپنے قدموں پر چلنے کے قابل نہیں؟سفید ریش، جھکی کمر اور کمزور جسم ...
04/09/2026

حکومت کو اب اُن بزرگوں سے بھی خطرہ ہے جو بغیر سہارے کے اپنے قدموں پر چلنے کے قابل نہیں؟
سفید ریش، جھکی کمر اور کمزور جسم والے بزرگ بھی اگر گرفتار کیے جا رہے ہیں تو سوال بہت بڑا ہے۔
اُن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق کی آواز بننے کے لیے گھر سے نکلے؟
جب پیر و جوان، بزرگ، بچے اور خواتین ایک ہی مطالبے پر یکجا ہوں تو اسے طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا۔
یہ کسی ایک طبقے کا نہیں، عوام کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔
ریاست کی طاقت اپنے ہی شہریوں کو گرفتار کرنے میں نہیں، اُن کے مسائل حل کرنے میں نظر آنی چاہیے۔
اگر بزرگوں کی آواز بھی حکومت کے لیے خطرہ بن گئی ہے تو پھر مسئلہ احتجاج کرنے والوں میں نہیں، نظام میں ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ طاقت اور گرفتاریوں کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔
عوام کو دبانے سے آواز ختم نہیں ہوتی، بلکہ مزید بلند ہوتی ہے۔

#آزادکشمیر #مذاکرات

مضبوط فوج، مگر سیاست سے دور — کیونکہ سیاسی مداخلت فوج کو بھی نقصان دیتی ہے!فوج کی طاقت سرحدوں کے دفاع میں ہے، اقتدار کے ...
04/09/2026

مضبوط فوج، مگر سیاست سے دور — کیونکہ سیاسی مداخلت فوج کو بھی نقصان دیتی ہے!
فوج کی طاقت سرحدوں کے دفاع میں ہے، اقتدار کے کھیل میں نہیں۔
جب فوج سیاسی معاملات میں فریق بنتی ہے تو عوام کے ایک حصے کا اعتماد ادارے سے متاثر ہوتا ہے اور فوج کی غیرجانبداری پر سوال اٹھتے ہیں۔
حکومتیں اگر عوامی مینڈیٹ کے بجائے طاقتور حلقوں کے سہارے بنیں یا گرائی جائیں تو ووٹ کی حرمت اور جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے۔
سیاسی فیصلوں میں مداخلت سے فوج پر سیاسی الزامات آتے ہیں، جبکہ اصل نقصان ادارے کی ساکھ اور قومی یکجہتی کو پہنچتا ہے۔
جمہوریت کمزور ہو تو سیاسی عدم استحکام، معاشی بے یقینی اور ادارہ جاتی ٹکراؤ بڑھتا ہے۔
فوج کو سیاست سے دور رکھنا فوج کے خلاف نہیں؛ یہ فوج کے وقار اور پیشہ ورانہ کردار کے حق میں ہے۔
ہمیں ایسی ریاست چاہیے جہاں ووٹ حکومت بنائے، آئین حدود طے کرے اور فوج سرحدوں کی حفاظت کرے۔
طاقتور فوج + مضبوط جمہوریت = مضبوط پاکستان؛ سیاسی مداخلت نہیں، آئینی بالادستی چاہیے!
#جمہوریت

Address

Abu Dhabi
00000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝗔𝗝𝗞 𝗡𝗘𝗪𝗦 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category