Muhammad Ahsan officail

  • Home
  • Muhammad Ahsan officail

Muhammad Ahsan officail Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Ahsan officail, Grocers, .

31/05/2023
31/05/2023

ہم مزار بنایئں گے۔۔
24 سال قبل کراچی سے اٹھائی جانے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورورتھ کی جیل ایف ایم سی کارس ول کے ویٹینگ روم میں بے چینی سے پہلو بدل رہی تھی۔۔جہاں اسکی چھوٹی بہن پچھلے 13 سال سے قید تھی۔اس کیساتھ پاکستانی سیاست کا ایک درویش صفت کردار سینٹر مشتاق احمد اور امریکی وکیل کلایئو اسٹافورڈ اسمتھ بھی اس انتظار گاہ میں موجود تھے۔۔
خاتون قیدی کہ بڑی بہن فوزیہ صدیقی سوچ رہی تھی کہ آج 24 برس بعد میں جب چھوٹی بہن کو دیکھوں گی۔۔تو کیا اس کا سامنا کر پاوں گی۔۔اس کے سوالات کا جواب دے پاوں گی۔۔وہ نجانے مجھ سے کیا کیا پوچھے۔۔مجھے اپنے بارے کیا کچھ بتائے تو کیا میں یہ سب سن پاوں گی۔۔جبکہ ہمارا نہ تو باپ ہے اور نہ بھائی۔۔
انہی سوچوں کے عمیق سمندر کی بے ترتیب لہروں میں اس وقت دل دہلا دینے والا ارتعاش آیا جب جیل کی سیکورٹی پہ مامور عملے نے ڈاکٹر فوزیہ کو اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔
زمین و آسمان ساکت تھے۔۔جیل کی اس نیم تاریک گیلری میں صرف قدموں کی چاپ تھی۔۔۔ٹک ٹک ٹک۔۔مگر یہ ٹک ٹک ڈاکٹر فوزیہ کے دل و دماغ پہ ہتھورے برسا رہی تھی۔۔کیونکہ وہ آج اپنی چھوٹی اور لاڈلی بہن سے وطن سے ہزاروں میل دور پورے 24 برس بعد خاندان کا پہلا فرد تھیں جو چند لمحوں میں ملنے جا رہی تھیں۔۔انہیں گلے لگانے۔۔۔دبی دبی چیخوں، آہوں اور سسکیوں کے درمیان صبر و استقامت کا سبق دینے۔۔نئے عزم، ہمت، جرآت اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کا پیغام لائی تھیں جو انہیں گلے لگا کے۔۔بہت سا پیار کر کے۔۔کمر تھپتھپا کے دینا تھا۔۔۔اس کے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر اسکو تسلی دینی تھی۔۔۔
مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا۔۔
اور یوں 24 برس کے سارے ارمان اس وقت کرچی کرچی بن کر بکھر گئے جب ڈاکٹر فوزیہ کو دیوار کے اس طرف بٹھا کر انتظار کرنے کا کہا گیا اور بتایا گیا کہ ابھی کچھ دیر بعد اس موٹے شیشے کے دوسری طرف جو بوڑھی، لاغر، کمزور و ناتواں، لڑکھڑاتی چال کیساتھ، ٹوٹے دانت لیئے، سفید سکارف اور جیل کا خاکی لباس زیب تن کیئے عورت آئے گی تو پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی ہو گی۔۔اور ہاں وہ اونچا سنتی ہے۔۔آپ کو اونچا بول کر اسکو بات سمجھانا پڑے گی۔۔مگر یاد رکھنا کہ تم اسکو بچوں کی تصاویر تک نہیں دکھا سکتیں۔۔کیونکہ ہم دنیا بھر کے انسانی حقوق کے وہ علمبردار ہیں جہاں یہ سب باتیں بے معنی ہوا کرتی ہیں۔۔۔یہ سب اصول، قانون اور ضابطے ہم نے تیسری دنیا کیلئے بنا رکھے ہیں۔۔۔
پھر وہ وقت بھی آن پہنچا۔جب پورے 24 برس بعد ہزاروں میل دور دنیا کے اس کونے میں قید اس مظلوم و محکوم عورت کی پہلی ملاقات آئی۔۔عافیہ بنا کسی ہیجانی کیفیت کے پروقار انداز میں چلتی ہوئی آئی۔۔۔بڑی بہن کے سامنے بیٹھی۔۔۔اور اڑھائی گھنٹوں کی اس ملاقات میں ایک گھنٹہ اپنے اوپر گزرنے والی قیامتوں کا مختصر سا احوال بتایا۔۔پھر بتایا کہ مجھے میری ماں بہت یاد آتی ہے۔۔۔اسکو کیوں نہیں لایا گیا۔۔۔اب کون اسکو بتاتا کہ جس ماں کو تو یاد کر رہی ہے وہ ماں تجھے یاد کرتے کرتے اپنے رب کے حضور واپس پہنچ چکی ہے۔۔۔پھر بچوں کا پوچھا۔۔۔کیس کا ڈسکس ہوا۔۔اور یوں ملاقات کا وقت تمام ہوا۔۔وہ پروقار انداز میں اٹھی۔۔۔واپس مڑی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اپنی بڑی بہن جو اس سے ملنے پاکستان سے آئی تھی اسکی طرف پیٹھ کر کے اپنے مخصوص سیل میں چلی گئی۔۔ایسے جیسے وہ اس ماحول کی پوری عادی ہو چکی ہو۔۔۔جیسے اسکا دل کہہ رہا ہو کہ وہ یہاں سے کبھی بھی نہیں نکل پائے گی۔۔۔۔جیسے وہ اپنی قید سے اس قدر مانوس ہو چکی ہو کہ اسکو اب آزادی سے خوف آ رہا ہو۔۔۔
قیامت کب آیئگی۔۔۔ماسوائے رب کے کوئی نہیں جانتا۔۔مگر یہ منظر قیامت سے کچھ کم نہ تھا۔۔۔۔دنیا بھر کی کتنی آنکھیں ہیں جو اس وقت پرنم ہیں۔۔۔کتنے لب ہیں جو دعائیہ انداز میں لرز رہے ہیں۔۔کتنے ہاتھ ہیں جو بارگاہ خداوندی میں اٹھے ہوئے ہیں۔۔۔
رابطہ بحال ہو گیا۔۔جلد یا بدیر جیل یا زندگی کی یہ قید ختم ہو ہی جایئگی۔۔مگر ایک روز محشر کا میدان بھی سجنا ہے۔۔اور کچھ لوگ وہاں پہنچ چکے ہیں۔۔بش سے مشرف تک۔۔۔ایک ایک کردار وہاں کھڑا ہو گا۔۔اور ان سے ایک ایک مظلوم کا حساب ہو گا۔۔۔
باقی ہم جو ابھی تک زندہ ہیں۔۔ہم مزار بنا دیں گے۔۔۔عافیہ بی بی۔۔ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپکا جنازہ پاکستانی تاریخ کا بڑا جنازہ ہو گا۔۔ ہم بعد از مرگ تیرے لیئے جتنا ممکن ہو سکا آواز اٹھایئں گے۔۔۔مگر ابھی نہیں۔۔۔
کیونکہ ابھی ہم سب مریم نواز، آصفہ بھٹو اور بشری بی بی کی جنگ میں مصروف ہیں۔۔فی الوقت ہم سیاسی اناوں کی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے محاذوں پہ مصروف ہیں۔۔۔ابھی ہمارے پاس اتنا وقت بھی نہیں کہ ہم آپ کیلئے کسی بھی فورم پہ آواز اٹھا سکیں۔۔کیونکہ ہم قوم کو بتانے میں لگے ہیں کہ مریم فرائی پان سے جیل میں کپڑے پریس کیا کرتی تھی۔۔ہم سر میں خاک ڈال رہے ہیں کہ سلیمان شاہ کی بیٹی گرفتار ہو گئی ہے۔۔۔ہمیں یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ کہیں بشری بی بی کا تقدس پامال نہ ہو جائے۔۔۔۔
جب آپ سسک سسک کر مر جاو گی۔۔۔تب ہم سب باہر نکلیں گے۔۔۔۔اور پوری قوت سے نکلیں گے۔۔
تب تک۔۔۔تم جانو۔۔۔تمہارا خاندان جانے۔۔۔چند ایک مخلصین جانیں۔۔۔اور تمہارا خدا جانے۔۔۔ہم آپکا عالیشان مزار بنایئں گے۔۔۔اگر تمہاری باقیات کو کسی سمندر میں نہ بہا دیا گیا تو۔۔۔۔۔۔
غلام شبیر منہاس

عافیہ ، عافیت کی راہ تک رہی ہے ۔۔۔۔ نقاب میں  ملبوس عافیہ کی تصویر  دیکھ کر دل بوجھل سا ہو گیا ہے ۔ بیس سال یعنی 7300 دن...
31/05/2023

عافیہ ، عافیت کی راہ تک رہی ہے ۔۔۔۔

نقاب میں ملبوس عافیہ کی تصویر دیکھ کر دل بوجھل سا ہو گیا ہے ۔ بیس سال یعنی 7300 دن ہوگئے ہیں اس بہن کی اسیری کو ، برسوں بعد بہن سے ملی۔ دور پار شیشے کے اندر سے ہی ٹیلیفونک گفتگو کا سلسلہ ہوا ہو گا۔ بہن کی محبت سینے سے لگنے کے لیے تڑپتی رہی۔کس کرب کا عالم ہو گا ۔

آنکھیں اپنوں میں سے کسی ایک کو دو دہائیوں بعد سامنے پا کر بھی متلاشی ہی رہیں۔ سامنے بیٹھے ہوئے بھی سامنے تو نہیں ،
ہزار پہریداروں میں، سیکیورٹی کیمروں کے جھرمٹ میں بہن سے کہاں اپنا دکھ درد کہہ پائی ہو گی۔
وہ جو قیامتیں برپا ہوئیں، وہ جو ستم ٹوٹے، وہ جو صنف نازک کو ستم کی چکی میں یوں پیسا جاتا رہا،اس کے وجود کے جو بارہا چیتھڑے اڑائے گئے۔ اس کے سب ہی ارمان جو سفاکیت سے کرچی کرچی کیے گئے۔

وہ شاید کچھ بھی نہیں بتا پائی ہوگی۔ وہ تو وہی فارمل بات کرتی رہی یا شاید اس کو اجازت ہی اتنی تھی کہ وہ کہتی رہی کہ "مجھے بچے یاد آتے ہیں۔ مجھے اماں جان کو ملنا یے۔ "

ٹوٹے ہوئے دانتوں سے، قوت گویائی کا مجتمع کر کے یہی چند جملے وہ دہراتی رہی۔ بہن بہن کے سامنے بیٹھے اپنی بے بسی پر ماتم کر رہی ہو گی۔ قومی بے حسی پر نوحہ کناں تو ضرور ہوئی ہو گی۔
مگر اس کا یہ انتظار جانے کب ختم ہو گا۔ جانے کب۔۔۔ اور
ہو گا بھی یا نہیں۔ وہ واپس اپنوں میں لوٹ پائے گی یا نہیں۔ کچھ پتہ نہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ یہ نجانے کس کے جرموں کی سزا اس کے کھاتے ڈالی گئی۔ اشرافیہ کے لیے یہ سب کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

خدا جانے یہ قوم، اپنی اس عافیہ کو کبھی عافیت میں دیکھ پائیں گے کہ نہیں،
یا پھر عافیہ سنت آسیہ نبھاتی ہوئی رب رحمان کے قریب ترین کسی گھر میں منتقل ہو جائے گی۔ ام یاسر کے حلقے میں جا بیٹھے گی۔ جنت الفردوس کی مکین بن جائے گی۔

مگر بروز محشر بایی ذنب قتلت کا سوال جانے کتنے ہی گریبان اپنی لپیٹ میں لے لے۔۔۔

31/05/2023

ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ڈاکٹر فوزیہ سے 20 سال بعد ملاقات یہ ایسی ملاقات تھی جس کا درد ہر شخص نے محسوس کیا ہے
ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے موقع پر ایم ایس او کا ویڈیو پیغام

حوانیت ترقی کرتا رھا انسانیت شرماگی۔۔۔ڈاکٹرعافیہ سے  ڈاکٹر فوزیہ کی  جیل میں ملاقات ۔ملاقات کا خلاصہ۔😭😭😭یہ ملاقات 20سال ...
31/05/2023

حوانیت ترقی کرتا رھا انسانیت شرماگی۔۔۔
ڈاکٹرعافیہ سے ڈاکٹر فوزیہ کی جیل میں ملاقات ۔
ملاقات کا خلاصہ۔😭😭😭
یہ ملاقات 20سال بعدہوئی جو ڈھائی گھنٹےجاری رہی،ڈاکٹر فوزیہ کو عافیہ سے گلے ملتے،ہاتھ ملانے تک کی اجازت نہیں تھی😭،ڈاکٹر فوزیہ کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کو اس کے بچوں کی تصاویر دکھا سکے😭،جیل کے ایک کمرے میں درمیان میں موٹا شیشہ لگا تھا😭اور اس کے آر پار ملاقات تھی😭،عافیہ سفید سکارف اور خاکی جیل ڈریس میں تھی،😭ڈھائی گھنٹے کی ملاقات میں پہلے ایک گھنٹہ ڈاکٹر عافیہ نے روز اپنے اوپر گزرنے والی اذیت کی تفصیلات سنائی😭😭😭😭،ڈاکٹر عافیہ نے کہا کہ مجھے اپنی امی بچے ہر وقت یاد آتے ہیں😭😭😭(ان کو اپنی امی کی وفات کا علم نہیں ہے😭 )۔ڈاکٹر عافیہ کے سامنے والے دانت جیل میں حملے سےگر چکے/ضائع ہوچکےہیں😭😭۔ان کو سر پر ایک چوٹ کی وجہ سے سننے میں بھی مشکل پیش آرہی تھی😭😭😭۔

27/05/2023

علامہ اقبال کے اشعار اپنی أواز میں سماعت فرماٸیں اور شیٸر بھی کریں کیا کمال کے اشعار ہیں۔۔

24/05/2023

مولانا فضل الرحمن اس ملک کی بنیاد ہے اور بنیاد کے بغیر ملک نہیں چلتا❤❤

24/05/2023

کمال۔۔

بہت ہی پیارے بھاٸ حسام خورشید کو صدر باغ ڈیجیٹل میڈیا کلب  منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ❤❤
20/05/2023

بہت ہی پیارے بھاٸ حسام خورشید کو صدر باغ ڈیجیٹل میڈیا کلب منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ❤❤

18/05/2023

اقرأن اکیڈمی دھیرکوٹ کے ہونہار بچے۔۔

Address


Telephone

+923485937710

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Ahsan officail posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Ahsan officail:

  • Want your business to be the top-listed Grocery Store?

Share