Explore Everywhere

Explore Everywhere Welcome to Explore Everywhere! 🗻📷🌍
Documenting my daily routine, travel activities, and the beauty of the world through my lens. Join the journey!

25/04/2026

پاکستان میں اچھی زندگی گذارنے

کیلئے ماہانہ انکم کتنی ہونی چاہیے؟

🇬🇧🇬🇧🇬🇧🇬🇧یو کے کی ایک عام صبح تھی۔ بس اسٹاپ پر لوگ خاموشی سے قطار بنا کر کھڑے تھے۔ ہر شخص اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا،...
11/01/2026

🇬🇧🇬🇧🇬🇧🇬🇧

یو کے کی ایک عام صبح تھی۔ بس اسٹاپ پر لوگ خاموشی سے قطار بنا کر کھڑے تھے۔ ہر شخص اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا، کسی کو جلدی آگے نکلنے کی فکر نہیں تھی۔ یہاں قطار بنانا صرف عادت نہیں بلکہ تہذیب سمجھا جاتا ہے۔

سڑک پر اجنبی بھی ہلکی سی مسکراہٹ اور “Sorry” سے بات شروع کرتے ہیں۔ اختلاف ہو تو آواز اونچی نہیں کی جاتی۔ لوگ قانون کی پابندی کو اپنی سہولت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

دفاتر اور اسکولوں میں وقت کی پابندی بہت اہم ہے۔ چند منٹ کی دیر بھی معذرت کے ساتھ قبول کی جاتی ہے۔ بارش ہو یا سردی، زندگی اپنے نظم کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔

یو کے کی خوبصورتی بلند آوازوں یا دکھاوے میں نہیں، بلکہ احترام، برداشت، مساوات اور اصولوں پر قائم رہنے میں ہے

عمیری والی ویڈیو پر ایک خاتون کا تبصرہ:افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے نے پیشاب والی جگہ کو اتنی غیر معمولی اہمیت ...
11/01/2026

عمیری والی ویڈیو پر ایک خاتون کا تبصرہ:
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے نے پیشاب والی جگہ کو اتنی غیر معمولی اہمیت دے دی ہے کہ ہم اس سے آگے سوچنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عمیری کا اصل مقصد عورت اور اس کے خاندان کو بدنام کرنا تھا، اور عورت سے گالیاں دلوَا کر اس نے یہ مقصد حاصل کر لیا۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کی اصل وجہ یہی ہے۔عمیری نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ایک عورت کو، جو اپنی نفسانی کمزوریوں کا شکار تھی، شراب پلا کر اس سے غیر مناسب گفتگو کروائی۔ اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہوتا ہے۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ ویڈیو میں عورت مسلسل بولتی رہی جبکہ عمیری بہت کم بولتا نظر آیا۔ مزید یہ کہ عورت نے دو مرتبہ عمیری سے نکاح کی بات کی اور یہاں تک کہا کہ وہ اپنی زمین اس کے نام کرنے کو بھی تیار ہے۔ اگر عورت واقعی گناہ کی عادی ہوتی تو وہ کبھی نکاح کی بات نہ کرتی۔ نشے کی حالت میں عورت کو ہوش نہیں تھا، جیسا کہ عام طور پر شراب پینے کے بعد ہوتا ہے، جبکہ عمیری کہیں بھی بے ہوش یا بے قابو نظر نہیں آیا۔

اس ویڈیو پر گندگی پھیلانے کا الزام لگانا درست نہیں، کیونکہ ہمارا معاشرہ پہلے ہی اس حد تک گندہ ہو چکا ہے کہ یہ ویڈیو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ جو معاشرہ خود گندگی کو کریدنے میں مصروف ہو، وہ خود کو کیسے اچھا یا اسلامی کہہ سکتا ہے؟ اگر آج اسلامی قوانین اور حیا پر کوئی ویڈیو بنائی جائے تو شاید ہفتے بھر میں سو ویوز بھی نہ آئیں، کیونکہ لوگ ایسی چیزیں دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ جو چیزیں لوگ پسند کرتے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔

تو پھر صرف عمیری یا اس عورت کو ہی گندا کیوں کہا جا رہا ہے؟ ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں، سب کو معلوم ہے کہ کون کتنا حاجی یا حاجن ہے۔

معاشرے کی اصلاح کا ایک ہی مؤثر طریقہ ہے: ایسے جرائم پر اسلامی سزاؤں کا نفاذ، نکاح کو آسان بنانا، ایک سے زائد شادیوں کو معیوب نہ سمجھنا، اور عورتوں کا اپنی اصل ذمہ داری یعنی بچوں کی تربیت پر توجہ دینا۔ اگر ایسا ہو تو نہ عمیری جیسے نوجوان مرد سامنے آئیں گے اور نہ ایسی عورتیں۔

عمیری اور اس کی معشوقہ کے مسئلے کا ایک حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس عورت کا پہلا نکاح ختم کر کے اسے عمیری کے نکاح میں دے دیا جائے۔ زنا بالرضا کو معاشرے سے ختم کرنے کا یہ ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اسی طرح جن خواتین کی خواہشات پوری نہیں ہوتیں، وہ اپنے اور اپنے خاندان کا نام خراب کرنے کے بجائے طلاق لے کر اپنی مرضی سے نکاح کر لیں۔

یہ کیس ہمارے گھٹن زدہ معاشرے میں کوئی نیا نہیں، اور اگر ہم نے اپنی سوچ نہ بدلی تو ایسے واقعات بار بار سامنے آتے رہیں گے۔
آپ کا ردِعمل کیا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

03/01/2026

وہ کہتی رہی عمیری نکاح کر لے
عمیری کہتا ہے کہ میرے پاس سرمایہ ہوتا تو دو سال پہلے شادی کر لیتا
ہاہ غربت تیڈی بھینڑ کوں یہاں 😂

03/01/2026

ھاے او میری 😭

03/01/2026

اطلاعات کے مطابق عمیری کی ویڈیو میں لیے جانے والے نام باشو ، دانوُ اور کھارو تینوں بھائیوں کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے😂

❌❌❌❌ 🇬🇧غیر قانونی تارکین وطن واپس لینے پر برطانیہ کا جمہوریہ کانگو پر ویزا پابندیاں لگانے کا فیصلہبرطانیہ نے سیاسی پناہ ...
02/01/2026

❌❌❌❌ 🇬🇧
غیر قانونی تارکین وطن واپس لینے پر برطانیہ کا جمہوریہ کانگو پر ویزا پابندیاں لگانے کا فیصلہ
برطانیہ نے سیاسی پناہ سے متعلق قوانین پر عمل نہ کرنے والے ممالک کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

لندن سے برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ نے جمہوریہ کانگو پر ویزا پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جمہوریہ کانگو غیر قانونی تارکین وطن اور مجرم واپس لینے پر آمادہ نہ ہوا۔

برطانوی وزرا کے مطابق کانگو نومبر میں اعلان کردہ نئے اسائلم قواعد پر عمل میں ناکام رہا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق کانگو کے شہری فاسٹ ٹریک ویزا سہولت حاصل نہیں کرسکیں گے، کانگو کے سیاست دانوں اور وی آئی پیز کو برطانیہ میں خصوصی سہولت نہیں ملے گی۔

برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق انگولا اور نمیبیا اپنے شہری واپس لینے پر رضا مند ہیں اور ویزا پابندیوں سے بچ گئے۔

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے دیگر ممالک پر بھی پابندیاں لگانے کا عندیہ دیا ہے۔

برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق نئے معاہدوں کی صورت میں ہزاروں افراد کو برطانیہ سے نکالا جا سکتا ہے۔

برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق پناہ گزینوں کو عارضی اسٹیٹس دیا جائے گا، رہائش کی ضمانت نہیں۔۔

01/01/2026

اسکاٹ لینڈ کا نیا سال – ایک انوکھی کہانی

اسکاٹ لینڈ میں نئے سال کی رات کو ہوگمینی کہا جاتا ہے، اور یہ عام نئے سال جیسا نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ اس رات پرانے سال کی روحیں زمین پر گھومتی ہیں اور لوگ آگ، موسیقی اور رسموں کے ذریعے انہیں رخصت کرتے ہیں۔

ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ایک نوجوان لڑکا ایون رہتا تھا۔ اس کے دادا نے اسے بتایا تھا کہ اگر نئے سال کی رات آدھی رات کے بعد سب سے پہلا مہمان گھر میں داخل ہو اور اس کے ہاتھ میں کوئلہ ہو، تو پورا سال خوشحالی آتی ہے۔ اسے فرسٹ فوٹنگ کہتے ہیں۔

اس سال ایون نے فیصلہ کیا کہ وہ خود گاؤں والوں کے لیے خوش قسمتی بنے گا۔ جیسے ہی گھڑی نے بارہ بجائے، وہ ہاتھ میں کوئلہ، روٹی اور نمک لے کر دروازے پر نکلا۔ باہر سرد ہوا تھی، لیکن ہر طرف خوشی اور قہقہے گونج رہے تھے۔

گاؤں کے بیچوں بیچ لوگ جلتے ہوئے آگ کے گولے گھما رہے تھے۔ یہ رسم برائی اور اندھیرے کو جلانے کی علامت تھی۔ ایون نے آگ کی روشنی میں لوگوں کے چہروں پر امید دیکھی۔

جب وہ پہلے گھر میں داخل ہوا تو سب نے تالیاں بجائیں۔ اس لمحے ایون کو احساس ہوا کہ نیا سال صرف تاریخ بدلنے کا نام نہیں، بلکہ امید، دوستی اور نئی شروعات کا پیغام ہے۔

اسی رات پورے گاؤں نے مل کر پرانے دکھوں کو الوداع کہا اور نئے سال کو خوش دلی سے خوش آمدید کہا۔

01/01/2026

اسکاٹ لینڈ کی تاریخ قدیم قبائل سے شروع ہوئی جیسے پِکٹس جنہوں نے صدیوں تک رومی فتح کے خلاف مزاحمت کی۔ نویں صدی میں، ان مختلف قبائل کو کینتھ میک الپن کے تحت متحد کر کے ابتدائی سلطنت البا تشکیل دی گئی۔ یہ قوم انگلینڈ کے خلاف جنگ آزادی کے دوران خودمختاری کے لیے اپنی شدید جدوجہد کے ذریعے نمایاں ہوئی۔ ولیم والیس اور رابرٹ دی بروس جیسی شخصیات بینک برن کی جنگ میں آزادی حاصل کرنے کے بعد قومی ہیرو بن گئیں۔ 1603 میں یونین آف کراؤنز کے بعد، اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ الگ قومیں رہتے ہوئے ایک ہی بادشاہ کے زیرِ حکمرانی آ گئے۔ یہ صورتحال 1707 میں بدل گئی جب ایکٹ آف یونین نے باضابطہ طور پر دونوں ممالک کو ملا کر مملکتِ برطانیہ عظمیٰ (Kingdom of Great Britain) بنا دیا۔ 18ویں صدی کے دوران، اسکاٹش روشن خیالی نے ملک کو سائنس اور فلسفے کا ایک بین الاقوامی مرکز بنا دیا۔ 19ویں صدی میں اسکاٹ لینڈ ایک صنعتی سپر پاور بن گیا، جو جہاز سازی اور انجینئرنگ میں دنیا کی قیادت کر رہا تھا۔ 1999 میں، اسکاٹ لینڈ نے ایڈنبرا میں اپنی منتقل شدہ (devolved) پارلیمنٹ کے آغاز کے ساتھ اپنی مقننہ دوبارہ حاصل کی۔ آج، اسکاٹ لینڈ برطانیہ کے ایک اہم جزوی ملک کے طور پر اپنی منفرد قومی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

Address

Pindi Bhattian

Telephone

+923645644646

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Explore Everywhere posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Explore Everywhere:

Share