22/11/2024
حکمران ہو تو ایسا ہے
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ 😊
انھوں نے ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام کی آبیاری کی چاہے جو ہوجایے رشتے ناطے کوئ معنی نہیں رکھتے اگر عدل و انصاف میں رکاوٹ بنتے ہیں تو ان کو بھی قربان کرنے میں دریغ نہیں کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا دو سال کے اندر پھر سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور کو واپس لا کھڑا کردیا اور سارے اسلامی مملکت کو امن و امان کا گہوارہ بنا دیا اللہ ان کو پوری امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے آمین
لیکن آج صورتحال اس کے بلکل برعکس ہے لیڈر چاہے سیاسی ہو یا ملی عہدہ ملتے ہیں سب سے پہلے اپنی کرسی مظبوط کرتا ہے رعایا اور عوام پر چاہے کتنے ہی ظلم کے پہاڑ توڑے جائیں بلکل بھی جور و جفا میں دریغ نہیں کرتے اور یہ سوچتے ہیں یہ عہدہ ہمارے گھر سے باہر نا جانے پائے سب کچھ اپنے ہی گھر میں رہ جائے یہی کچھ صورت حال مدارس و مساجد کے ذمہ داران کا ہے ایک مدرسے میں اگر کوئ غلطی سے مہتمم یا ناظم بن گیا پھر وہ دھیرے دھیرے اپنے کنبے قبیلے کو آباد کرنے لگتا ہے چاہے وہ اہل ہوں یا نا ہوں دوسرے چاہے کتنے ہی صلاحیت کے حامل کیوں نا ہو ان کو وہ مقام و مرتبہ کبھی حاصل نہیں ہوتا جو گھر کے افراد کو ہوتا ہے۔ کتنے ہی اچھی صلاحیت اور بہترین استعداد کے حامل لوگوں کو صرف اس لیے مدرسے سے نکال دیا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے ذمہ داران کے ناحق اور غلط حکموں میں ان کا ساتھ نہیں دیا ان کی جی حضوری نہیں کی وہیں دوسرے جن کو کچھ نہیں آتا جاتا سوائے چاپلوسی اور جی حضوری کے ان کو بڑے بڑے عہدے اور مقام حاصل ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ ہماری مساجد و مدارس کی حفاظت فرمائے
✍️سراج احمد سراجی