Mufti Aarish Qasmi

Mufti Aarish Qasmi Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mufti Aarish Qasmi, Grocers, Mohlla kabli gate mawana kalan, Mawana.

راۓ پور ، سنسار پور ریڑھی تاجپورہ اور دیوبند کا یک روزہ سفراز : محمد ظفیر الاسلام ندویگذشتہ رودادِ سفر میں بتایا تھا کہ ...
01/02/2024

راۓ پور ، سنسار پور ریڑھی تاجپورہ اور دیوبند کا یک روزہ سفر
از : محمد ظفیر الاسلام ندوی

گذشتہ رودادِ سفر میں بتایا تھا کہ پروگرام راۓپور کا بن رہا تھا لیکن دہلی جانا ہوا ، موسم سرما کی چھٹیاں اس مرتبہ کافی طویل ہو گئیں، چنانچہ 19 جنوری بروز جمعہ ایک مرتبہ پھر احباب نے سفر کا پلان تیار کر لیا، اگرچہ 22 جنوری کے پیشِ نظر اکابر کی طرف سے سفر نہ کرنے کے مشورے دۓ جارہے تھے لیکن ہم "اہلِ جنوں" نے "حسبنا اللہ و نعم الوکیل" کہتے ہوۓ چلنے کا عزمِ مصمم کر ہی لیا، ارادہ تھا کہ نمازِ جمعہ کے بعد نکلا جاۓ مگر بعض احباب کی راۓ تھی بعد نمازِ عشاء نکلیں دیوبند رات میں قیام اور علی الصباح راۓپور ، لیکن مشیئت الٰہی غالب آئی اور بروز سنیچر قبلِ فجر ساڑھے چار بجے ہماری گاڑی براہِ جانسٹھ منگلور کی طرف نہر کی پٹری پر دوڑ رہی تھی، جنوری کی یخ بستہ صبح، پر سکون جنگل، خاموش ماحول، لبِ دریا اور ہم رفقاءِ سفر مولانا مبین طالب صاحب Mubeen Talib ، قاری آصف الحسینی صاحب Aasif Al Husaini ، مولانا حبیب اللہ سمیع صاحب قاسمی Habib Sami ، مفتی عارش صاحب قاسمی Arish Qasmi سفر کا لطف اٹھاتے ہوۓ خوش گپیوں کے ساتھ منزل کی جانب رواں دواں تھے، درمیان میں ایک جگہ شاید برلا کے آس پاس پل پر پانی بڑا خوب صورت نظارہ پیش کر رہا تھا یہاں گاڑی روک کر تصویر کشی کی، اور آگے بڑھ گیے۔
تقریبا پونے سات بجے ہم منگلور پہونچ گئے ، یہاں سے اور آگے بڑھ کر بھگوان پور مرکز والی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی، یہاں سات بج کر بیس منٹ پر طلوع آفتاب کا وقت تھا، یہیں سڑک کے کنارے ایک ہوٹل پر چاۓ نوشی کی اور آگے بڑھ گئے، اس دن اللہ کے شکر سے کہرا بھی نہیں تھا، بہرحال ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ہم منزل مقصود پر پہنچ گئے،
راۓپور کا نام سب سے پہلے حضرت مولانا علی میاں علیہ الرحمہ کے تعلق سے سننے میں آیا کہ حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ ہی آپ رح کے شیخ ہیں، پھر بعد میں حضرت مولانا علیہ الرحمہ کی تصنیف "سوانح حضرت مولانا عبد القادر راۓ پوری رحمۃ اللہ علیہ" کا مطالعہ کیا تو حضرت راۓپوری رحمہ اللہ سے عقیدت کے ساتھ اس جگہ سے بھی فطری طور پر محبت ہو گئی تھی، لیکن ابھی تک زیارت کا موقع نہیں ملا تھا، مظاہر العلوم سہارنپور تک تو کئ بار سفر ہوا لیکن راۓ پور جانا نہیں ہو سکا تھا، آج الحمدللہ یہ دیرینہ شوق پورا ہو رہا تھا، خانقاہ ایک وسیع باغ میں واقع ہے، سادہ طرزِ تعمیر پر ایک کشادہ ہال کمرہ اسی سے متصل چند چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوۓ ہیں، اسی خانقاہ کے بارے میں حضرت مولانا علی میاں رحمہ اللہ لکھتے ہیں "جو کچھ ہی عرصہ بعد طالبینِ خدا کا ایسا مرکز بن گئی جس نے مادیت اور غفلت کے اس دور میں اور چودھویں صدی کے وسط میں شاہ غلام علی صاحب دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی خانقاہ کی یاد تازہ کر دی، اور اور بہت سی حیثیتوں سے اپنے وقت میں برّ عظیم ہند کی سب سے بڑی زندہ اور آباد خانقاہ تھی، جہاں ہندوستان کے ہر ذوق اور ہر طبقہ کے ممتاز افراد عشق کا سودا اور دل کی دوا لینے کے لیے ملک کے گوشے گوشے سے جمع ہونے لگے اور جہاں مشکل سے کوئی وقت ذکر اللہ کی صداؤں اور اور عشق و محبت کے نغموں سے خالی ہوتا ہوگا جہاں کی سرشاری اور بے خودی، ماسوی اللہ سے انقطاع اور ساقی کی عالی ظرفی اور فیاضی کو دیکھ کر بہت سے آلودہ دامن پکار اٹھتے تھے

حشر تک یا رب طفیل خادمان مے فروش
ایک درِ توبہ کھلا رکھ، ایک دکانِ مے فروش
(سوانح حضرت مولانا عبدالقادر ص/ 82 )
فی الحال منشی عتیق صاحب یہاں گدی نشیں ہیں، جو حضرت مفتی عبد القیوم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے داماد اور خلیفہ ہیں، سب سے پہلے ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوۓ، بڑی محبت و شفقت کے ساتھ حضرت نے ملاقات کی ، تعارف ہوا کچھ دیر یہاں کے بزرگوں کے حالات بیان کرتے رہے، اور ملک کے حالات کے تناظر میں بالخصوص 22/ جنوری کے سلسلہ میں گفتگو ہوئی، پھر ناشتہ کیا، اور ناشتہ کے بعد حضرت سے رخصت ہوۓ، حضرت نے راۓ پور سے متعلق کچھ کتابیں بھی ہدیہ کیں۔
اسی باغ میں ایک طرف وسیع و عریض مدرسہ کی عالی شان عمارت بھی ہے ، اور ایک مسجد ، اسی کے تقریباً متصل بزرگوں کی قبریں موجود ہیں ، یہاں فاتحہ خوانی کرنے کے بعد واپسی کے لیے نکل گیے۔
اگلی منزل سنسار پور تھی پہلے ہی عزیز دوست منصور غازی ندوی صاحب سے رابطہ ہو چکا تھا ، تقریباً بیس پچیس منٹ میں ہم مدرسہ فیضِ رحمانی دارِ جدید سنسار پور پہنچ گیے یہ مفتی مکرم سنسار پوری رحمۃ اللہ علیہ کے ادارہ مدرسہ فیض رحمانی کے زیرِ انتظام دینیات و اسلامیات کے ساتھ اسکولی طرز پر آٹھویں کلاس تک تعلیم کا نظام ہے، قدیم مدرسہ فیضِ رحمانی اندر بستی میں ہے، یہاں منتظمین سے ملاقات اور چاۓ ناشتہ کے بعد منصور غازی صاحب کی رہبری میں مدرسہ معہد العلوم سنسار پور پہنچے، یہ مدرسہ حضرت شیخ یونس جونپوری رحمہ اللہ کے معتمد خاص مولانا اکبر سنسار پوری رحمۃ اللہ علیہ کا قائم کردہ ہے، حضرت شیخ رحمہ اللہ کے نام پر ہی یہاں ایک خوب صورت مسجد تعمیر کی گئ ہے ، جس کا تعمیری کام حضرت شیخ رحمہ اللہ کی نگرانی ہی میں شروع ہوا تھا، یہاں سے فارغ ہو کر منصور غازی ندوی صاحب کی رہبری ہی میں مدرسہ فیض رحمانی اور مفتی مکرم صاحب نوراللہ مرقدہ کی خانقاہ کی زیارت کی ، اسی مدرسہ میں مولانا عبدالقادر راۓ پوری کی قیام گاہ بھی موجود ہے ، مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے مفتی عزیر صاحب دامت برکاتہم جو فی الحال مدرسہ کی نظامت سنبھالتے ہیں ان سے ملاقات نہ ہو سکی ۔
یہیں سے جنگلوں میں سے ہوتے ہوۓ ریڑھی تاجپورہ پہونچ گیے ، یہاں جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ ایک قدیم تاریخی مشہور دینی درس گاہ ہے، سالوں سے اس کا نام نہ جانے کتنی بار سماعتوں سے ٹکرایا ہوگا لیکن آج پہلی بار اس کی زیارت کا موقع نصیب ہو رہا تھا۔
جامعہ ہٰذا کا قیام ’’مدرسہ تعلیم القرآن‘‘ کی شکل میں 1336ھ میں بدست الحاج مولانا منشی علی محمد صاحب پانڈولوی رحمۃ اللہ عمل میں آیا۔
اس کے بعد اس کی نشأۃِ ثانیہ مردِ مومن، مخلص باصفا مصلحِ قوم الحاج ڈپٹی عبدالرحیم صاحب نوراللہ مرقدہ کے ہاتھوں ہوئی، الحمدللہ ایک صدی سے زائد عرصہ سے مسلسل دینی و علمی خدمات انجام دینے میں مصروف ہے، مفصل تعارف کے لیے ادارے کی ویب سائیٹ سے رجوع کیا جاۓ ، https://www.jamiaislamiarirhitajpura.com/about.html
یہاں مولانا سلیمان صاحب دامت برکاتہم سے ملاقات ہوئی جو ہمارے رفیقِ سفر قاری آصف الحسینی صاحب کے استاد بھی ہیں، اور ہمارے دوست عبد الواسع ندوی صاحب (پوتے حضرت مولانا اصغر صاحب سابق شیخ الحدیث جامعہ ہٰذا) کے پہوپہی زاد بھائی بھی ہیں، مولانا نے جامعہ کی زیارت کرائی اور اپنے ساتھ محبت سے کھانا کھلایا۔
یہاں سے فارغ ہو کر احباب کا مشورہ ہوا دیوبند چلا جاۓ یا کلیر شریف، لیکن اس سے پہلے سہارنپور جانا تھا وہاں راستہ میں قاری صاحب کو اپنے ایک استاد صاحب سے ملاقات کرنا تھی چو جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ ہی میں تدریسی خدمات انجام دیتے ہیں ،
چنانچہ سہارنپور پہنچ کر مولانا سے ملاقات ہوئی ، اب دیر بھی کافی ہو رہی تھی لہذا کلیر کا ارادہ ترک کر کے دیوبند کا رخ کر لیا گیا۔
تقریباً سوا چار بجے قبل عصر ہم دیوبند میں داخل ہو چکے تھے، یہاں کچھ خریداری، نماز وغیرہ سے فراغت کے بعد شیخ الہند لائبریری کے سامنے تصویر کشی، ویڈیو گرافی کی گئ، اور پھر رفیقِ سفر مولانا حبیب اللہ سمیعی کی ہمشیرہ کے گھر پہنچے، مولانا کفیل صاحب (بہنوئی مولانا حبیب اللہ) بڑے خلیق، ملنسار ، خوش گفتار ، خوش مزاج اور مہمان نواز انسان ہیں پہلے بھی کئی بار ان سے ملاقات ہو چکی ہے، بڑی محبت سے پیش آئے، پر تکلف ناشتہ سے ضیافت کی، ان سے رخصت ہوکر مدرسہ اصغریہ پہونچے، یہاں مفتی عارش صاحب کے بھانجے مولانا سعد اللہ صاحب کے بیٹے زیرِ تعلیم ہیں ، یہیں نمازِ مغرب ادا کی۔
ہمارے سفر کی یہی آخری منزل تھی ، یہاں سے واپس موانہ کلاں کی طرف گاڑی دوڑا دی گئی، طنز و مزاح اور خوش گپیوں کے ساتھ یہ خوش گوار سفر بخیر و عافیت سوا آٹھ بجے شب اختتام کو پہنچا۔
وقت میں کافی برکت ہوئی ایک دن میں ہم نے اتنا طویل سفر کر لیا ، تین سو کلومیٹر سے زائد اور ہر منزل پر سکون سے رکنا، ملاقاتیں کرنا محض اللہ کے فضل و کرم سے یہ سب ہوا ۔

Tamam hazrat aaj magrib ki namaz ke baad Qirat ki mehfil men Rangreziyan masjid mawana men zarur shirkat farmayen
29/01/2024

Tamam hazrat aaj magrib ki namaz ke baad Qirat ki mehfil men Rangreziyan masjid mawana men zarur shirkat farmayen

24/01/2024

Address

Mohlla Kabli Gate Mawana Kalan
Mawana
250401

Telephone

+918126018275

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Aarish Qasmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mufti Aarish Qasmi:

Share

Category