S Barkati Network

S Barkati Network اتحاد زندگی اور اختلاف موت ہے (حضورحافظ ملت)
امام احمد رضا لائیبریری
(1)

_________ حدیث شریف _________حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے ، آدم کے بیٹ...
10/05/2026

_________ حدیث شریف _________
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی فرماتا ہے ، آدم کے بیٹے ! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا ، میں تیرا سینہ استغنا سے بھر دوں گا اور تیرا فقر دور کر دوں گا ۔ اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال سے بھر دوں گا اور تیرا فقر دور نہیں کروں گا ۔
( سنن ابن ماجہ۔4107 )

__________ نعت نبی ﷺ __________راہ پُر خار ہے کیا ہونا ہےپاؤں افگار ہے کیا ہونا ہےخشک ہے خون کہ دشمن ظالمسخت خوں خوار ہے...
10/05/2026

__________ نعت نبی ﷺ __________
راہ پُر خار ہے کیا ہونا ہے
پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے

خشک ہے خون کہ دشمن ظالم
سخت خوں خوار ہے کیا ہونا ہے

ہم کو بدِ کر وہی کرنا جس سے
دوست بیزار ہے کیا ہونا ہے

تن کی اب کون خبر لے ہے ہے
دل کا آزار ہے کیا ہونا ہے

میٹھے شربت دے مسیحا جب بھی
ضد ہے انکار ہے کیا ہونا ہے

دل کہ تیمار ہمارا کرتا
آپ بیمار ہے کیا ہونا ہے

پَر کٹے تنگ قفس اور بلبل
نو گرفتار ہے کیا ہونا ہے

چھپکے لوگوں سے کیے جس کے گناہ
وہ خبر دار ہے کیا ہونا ہے

ارے او مجرم بے پروا دیکھ
سر پہ تلوار ہے کیا ہونا ہے

تیرے بیمار کو میرے عیسیٰ
غش لگاتار ہے کیا ہونا ہے

نفسِ پُر زور کا وہ زور اور دل
زیر ہے زار ہے کیا ہونا ہے

کام زنداں کے کیے اور ہمیں
شوقِ گلزار ہے کیا ہونا ہے

ان کو رحم آئے تو آئے ورنہ
وہ کڑی مار ہے کیا ہونا ہے

لے وہ حاکم کے سپاہی آئے
صبح اظہار ہے کیا ہونا ہے

نزع میں دھیان نہ بٹ جائے کہیں
یہ عبث پیار ہے کیا ہونا ہے

اُس کا غم ہے کہ ہر اِک کی صورت
گلے کا ہار ہے کیا ہونا ہے

باتیں کچھ اور بھی تم سے کرتے
پر کہاں وار ہے کیا ہونا ہے

کیوں رضؔا کڑھتے ہو ہنستے اٹھو
جب وہ غفّار ہے کیا ہونا ہے
_________________________________
کلام الامام امام الکلام
طالب دعا
ایس،اے،برکاتی

_________ نعت نبی ﷺ _________سرکار دو عالم کے رخ پر انوار کا عالم کیا ہوگاجب زلف کا ذکر ہے قرآں میں رخسار کا عالم کیا ہو...
10/05/2026

_________ نعت نبی ﷺ _________
سرکار دو عالم کے رخ پر انوار کا عالم کیا ہوگا
جب زلف کا ذکر ہے قرآں میں رخسار کا عالم کیا ہوگا

محبوب خدا کے جلووؔں سے ایمان کی آنکھیں روشن ہیں
بے دیکھے ہی جب یہ عالم ہے دیدار کا عالم کیا ہوگا

جب انکے گدا بھر دیتے ہیں شاہانِ زمانہ کی جھولی
محتاج کا جب یہ حالت ہے مختار کا عالم کیا ہوگا

ہے نام میں ان کے اتنا اثر، جی اٹھتے ہیں مردے بھی سن کر
وہ حال اگر خود ہی پوچھیں، بیمار کا عالم کیا ہوگا

جب ان کے غلاموں کے در پر، جھکتے ہیں سلاطین عالم
پھر کوئی بتائے آقا کے دربار کا عالم کا کیا ہوگا

سن سن کے صحابہ کی باتیں کفار مسلماں ہوتے ہیں
پھر دونوں جہاں کے سرور کی گفتار کا عالم کیا ہوگا

طیبہ سے ہوا جب آتی ہے بیکل کو سکوں مل جاتا ہے
اس پار کا جب یہ عالم ہے اس پار کا عالم کیا ہوگا
_________________________________
کلام ۔ حضرت بیکل عزيزى اتساہیؔ بلرامپوری سابق ممبر پارلیمنٹ اوف انڈیا
_________________________________
طالب دعا
ایس،اے،برکاتی

09/05/2026

_______ حدیث مصطفیٰ ﷺ _______
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے گئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا ، بھائی جان ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کیا آپ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں رہے ؟ کیا آپ نے فلاں کام نہیں کیا ؟ فلاں کارنامہ انجام نہیں دیا ؟ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا ، میں دو چیزوں میں سے کسی ایک پر بھی نہیں رو رہا ، میں نہ دنیا کے چھوٹنے کی وجہ سے روتا ہوں ، نہ آخرت کو ناپسند کرتے ہوئے ، لیکن ( میں اس لیے اشکبار ہوں کہ ) سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا ، اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اس سے تجاوز کیا ہے ، انھوں نے کہا ، حضور نبی کریم ﷺ نے آپ سے کیا وعدہ لیا تھا ؟ فرمایا، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا، آدمی کو اتنا کچھ کافی ہوتا ہے جتنا مسافر کا زاد راہ ، اور مجھے یقین ہے کہ میں ( اس ) حد سے تجاوز کر گیا ہوں ، اور اے سعد ! آپ جب ( کسی جھگڑے کا ) فیصلہ کریں تو اپنے فیصلے میں اللہ کا خوف پیش نظر رکھیں ۔ اور جب ( مستحقین میں کوئی چیز ) تقسیم کریں تو تقسیم کے وقت ( تقوی کو ملحوظ رکھیں ، ) اور جب آپ ( کسی پروگرام کے بارے میں ) سوچیں ( یا ارادہ کریں ) تو اپنی سوچ میں ( اور ارادے میں اللہ سے ڈریں ، )
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، مجھے معلوم ہوا کہ انھوں نے ترکے میں صرف تقریباً بیس دینار چھوڑے جو
ان کے ذاتی اخراجات کے لیے تھے ۔
( سنن ابن ماجہ۔4104 )

_______ حدیث مصطفیٰ ﷺ _______حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، دل کی مثال...
09/05/2026

_______ حدیث مصطفیٰ ﷺ _______
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، دل کی مثال ایک پر کی سی ہے ، جسے ہوائیں چٹیل میدان میں الٹاتی پلٹاتی رہتی ہیں ۔
( سنن ابن ماجہ۔88 )

_________ نعت نبی ﷺ _________کاش! پھر مجھے حج کا، اِذن مل گیا ہوتااور روتے روتے میں ، کاش! چل پڑا ہوتاہائے! پھوٹی قسمت ن...
09/05/2026

_________ نعت نبی ﷺ _________
کاش! پھر مجھے حج کا، اِذن مل گیا ہوتا
اور روتے روتے میں ، کاش! چل پڑا ہوتا

ہائے! پھوٹی قسمت نے،حاضِری سے روکاہے
کاش! میں مدینے میں ، پھر پہُنچ گیا ہوتا

اِس سفر کی تیّاری، کرچکا تھا میں ساری
کاش! میری قسمت نے ساتھ دیدیا ہوتا

میرے قلبِ مُضطَر کو بھی قرار آجاتا
حج کا مُژدہ کوئی کاش! آکے دے گیا ہوتا

مجھ کو چھوڑ کر تنہا قافِلہ چلا طیبہ
کاش! ساتھ میں لے کر مجھ کو بھی گیا ہوتا

کاش! اِن کی راہوں کو پھول اور کانٹوں کو
چومتا گیا ہوتا جھومتا گیا ہوتا

مِثلِ سالِ رَفتہ پھر کاش! چشمِ تر لے کر
سبزسبز گنبد کے روبرو کھڑا ہوتا

مجھ کو پھر مدینے میں اس برس بھی بُلواتے
آپ کا بڑا اِحساں مجھ پہ یہ شہا ہوتا

زیرِ گنبدِ خَضرا اشکبار آنکھوں نے
کاش! میری فُرقت کا داغ دھو دیا ہوتا

کاش! گنبدِ خضرا کے حسین جلووں میں
میرا روتے روتے ہی دم نکل گیا ہوتا

دم نکل گیا ہوتا میرا اِن کے قدموں میں
ساتھ گر مقدَّر نے میرا دے دیا ہوتا

جن دنوں مدینے میں حاضِری ہوئی تھی کاش!
مَرکے ان کے کُوچے میں دَفن ہو گیا ہوتا

کاش! ایسا ہو جاتا گورے گورے قدموں میں
گر کر آپ کا عطارؔ آپ پر فِدا ہوتا
_______________________________
کلام ۔ پیرطریقت، امیراہلسنت حضرت الیاس عطار قادری برکاتی صاحب دامت برکاتہم
طالب دعا
ایس،اے،برکاتی

_________ نعت نبی ﷺ _________رفعتِ مصطفائی پر عرش کی عقل دنگ ہےان کی ہر اک ادا میں کیا محبوبیت کا رنگ ہےخوشبوئے مصطفیٰ س...
09/05/2026

_________ نعت نبی ﷺ _________

رفعتِ مصطفائی پر عرش کی عقل دنگ ہے
ان کی ہر اک ادا میں کیا محبوبیت کا رنگ ہے

خوشبوئے مصطفیٰ سے ہیں دونوں جہاں کی نکہتیں
جنبشِ لب کی اک ادا مصحفِ خوش ترنگ ہے

واللیل و والضحیٰ سے ہیں آقا کے زلف و رخ مراد
دل نور جسم نور ہے نورانی انگ انگ ہے

عظمت و شانِ مصطفیٰ کوئی بتا سکے گا کیا
ہوش کے ہوش گُم ہوئے فکرِ رسا کو لنگ ہے

کیسی ہے سیر لامکاں جو تھا نہاں ہوا عیاں
روح الامیں سے پوچھیے کیسے کا آج سنگ ہے

آغاز سے اخیر تک قرآں ہے نعتِ مصطفیٰ
محبوب کے بیان کا کیسا انوکھا ڈھنگ ہے

کیسے ہیں خوش نصیب وہ سوتے ہیں جو بقیع میں
مجھ کو بھی واں جگہ ملے دل میں مرے امنگ ہے

انکارِ علم مصطفیٰ گھٹّی میں ہے تری پڑا
نجدی ترا ٹھکانا کیا تُو تو کٹی پتنگ ہے

گستاخِ مصطفیٰ ہے تُو چل رے وہابی دور ہو
پھٹکار تیری شکل پر دل پہ بھی تیرے زنگ ہے

محبوبِ کبریا کی ذات واجبِ احترام ہے
توہین ان کی جو کرے اس سے ہماری جنگ ہے

ملتا ہے مصطفیٰ کا در آلِ رسول کے طفیل
مارہرہ سے مدینے تک روحانی اک سرنگ ہے

عشقی کا عشق دیکھیے عینی کا نور دیکھیے
اچھے میاں کی بارگاہ گلشنِ ہفت رنگ ہے

نظمی کیے ہی جائے گا میلادِ مصطفیٰ بیاں
اس کو کبھی نہ روکنا سنّی بڑا دبنگ ہے

نظمی کو نار کی طرف لے چلیں جب ملائکہ
آقا کہیں کہ چھوڑ دو یہ تو مرا ملنگ ہے
_______________________________
کلام ۔ حضور سید آل رسول حسنین میاں نظمی قادری برکاتی مارہروی رحمۃاللہ علیہ
طالب دعا
ایس،اے،برکاتی


08/05/2026

_______ حدیث مصطفیٰ ﷺ _______
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ باہر لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ﷺ ! ایمان کیا ہے ؟ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، ( ایمان یہ ہے ) کہ تو اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر اور اس سے ملاقات پر ایمان لائے اور دوبارہ زندہ ہونے پر بھی ایمان لائے ، اس نے کہا ، اے اللہ کے رسول ﷺ ! اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ، یہ کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ، فرض نماز قائم کرے ، فرض کو ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے ، اس نے کہا ، اے اللہ کے رسول ﷺ ! احسان کیا ہے ؟ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے ، اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھتا ہے ، اس نے کہا ، اے اللہ کے رسول ﷺ ! قیامت کب آئے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، جس سے اس کے متعلق پوچھا جا رہا ہے ، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا لیکن میں تجھے اس کی علامتیں بتاتا ہوں ، جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی تو یہ اس کی ایک علامت ہے ، جب بکریوں کے چرواہے ایک دوسرے کے مقابلے میں لمبی چوڑی عمارتیں بنائیں تو یہ بھی اس کی علامت ہے ، ( لیکن اس کے وقت کا تعین ) ان پانچ چیزوں میں شامل ہے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، پھر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ، ﴿ إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ﴾ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ، وہ بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ( مادہ کے ) رحموں میں کیا ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کسی کو معلوم نہیں کہ اس کو کس زمین میں موت آئے گی ، یقیناً اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا باخبر ہے ۔
( سنن ابن ماجہ۔64 )

_______ حدیث مصطفیٰ ﷺ _______ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ، کچھ لوگ ہدایت پر تھے ،...
08/05/2026

_______ حدیث مصطفیٰ ﷺ _______
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ، کچھ لوگ ہدایت پر تھے ، پھر اس کے بعد گمراہی اختیار کر لی تو انہیں جھگڑے ہی نصیب ہوئے ، پھر حضور نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ، ﴿ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ﴾، بلکہ یہی لوگ جھگڑالو ہیں ۔
( سنن ابن ماجہ۔48 )

_________ نعت نبی ﷺ _________کعبے کے در کے سامنے مانگی ہے یہ دعا فقطباتھوں میں حشر تک رہے دامنِ مصطفیٰ فقطاپنے کرم سے اے...
08/05/2026

_________ نعت نبی ﷺ _________
کعبے کے در کے سامنے مانگی ہے یہ دعا فقط
باتھوں میں حشر تک رہے دامنِ مصطفیٰ فقط

اپنے کرم سے اے خدا عشقِ رسول کر عطا
آخری دم زباں پہ ہو صلِّ علیٰ صدا فقط

طیبہ کی سیر کو چلیں قدموں میں ان کے جان دیں
دفن ہوں ان کے شہر میں ہے یہی التجا فقط

یوں تو ہر اک نبی ولی رب کے حضور ہے شفیع
شافعِ روزِ حشر کا ہم کو ہے آسرا فقط

معراج کا شرف ملا یوں تو ہر اک رسول کو
عرش سے آگے جا سکے احمدِ مجتبیٰ فقط

نورِ محمد سے ہی کون و مکاں کو ہے ثبات
مطلوبِ کائنات ہے محبوبِ کبریا فقط

دنیا کی ساری نعمتیں میری نظر میں ہیچ ہوں
رکھنے کو سر پہ گر ملیں نعلینِ مصطفیٰ فقط

صَلِّ عَلیٰ نَبِینا، صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
حشر کے روز ہر زباں پر ہو یہی صدا فقط

منکر نکیر قبر میں ہم سے سوال جب کریں
ایسے میں ورد ہم رکھیں آپ کے نام کا فقط

نزع کے وقت جب مری سانسوں میں انتشار ہو
میری نظر کے سامنے گنبد ہو وہ ہرا فقط

دن رات میرے سامنے تذکرہء حبیب ہو
مجھ سے مریضِ عشق کی ہے یہی اک دوا فقط

شمس و قمر شجر حجر حور و ملک زمیں فلک
انسان و جن سبھی میں ہیں انوارِ مصطفیٰ فقط

اَرِنِیْ کی آرزو رہی سیدنا کلیم کو
دیدار رب کا کر سکے سردارِ انبیا فقط

خاتمِ مرسلین کی ذات بھی کیا عجیب ہے
لازم ہے انبیا کو بھی ان کی ہی اقتدا فقط

نعتِ رسولِ پاک ہے نظمی کا مقصدِ حیات
قبر میں بھی لبوں پہ ہو سرکار کی ثنا فقط
_______________________________
کلام ۔ حضور سید آل رسول حسنین میاں نظمی قادری برکاتی مارہروی رحمۃاللہ علیہ
طالب دعا
ایس،اے،برکاتی
#كعبےکےدرکےسامنے

07/05/2026

_______ حدیث مصطفیٰ ﷺ _______
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا ، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ( ایسا ) وعظ فرمایا ، جس کے اثر سے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور دل ( اللہ کی ناراضی اور عذاب سے ) خوف زدہ ہو گئے ، ہم نے عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ﷺ ! یہ تو ایسا وعظ ہے جیسے کسی رخصت کرنے والے کی نصیحت ، تو آپ ہم سے کیا وعدہ لیتے ہیں ؟ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، میں تمہیں روشن ( شریعت ) پر چھوڑ رہا ہوں ، جس کی رات بھی دن کی طرح ( روشن ) ہے ، میرے بعد وہی شخص کج روی اختیار کرے گا جو ہلاک ہونے والا ہے ، تم میں سے جو کوئی زندہ رہے گا ، وہ جلد بہت اختلاف دیکھے گا ، لہٰذا تمہیں میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کا جو طریقہ معلوم ہو اسی کو اختیار کرنا ، اسے ڈاڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے پکڑنا، اور ( امیر کی ) اطاعت کو لازم پکڑنا اگرچہ وہ حبشی غلام ہو کیوں کہ مومن تو نکیل والے اونٹ کی طرح ہوتا ہے جہاں لے جایا جائے ، چلا جاتا ہے ۔
( سنن ابن ماجہ۔43 )

Address

Mirganj Gopalganj
Mirganj
841438

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when S Barkati Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category