08/09/2026
___ جو بھی لیتا ہے ترا نام مدینے والے ___
_______________________________
جو بھی لیتا ہے ترا نام مدینے والے
اس کے بن جاتے ہیں سب کام مدینے والے
آرزو ہے کہ کروں جا کے وہاں میں بھی سلام
تو جہاں کرتا ہے آرام مدینے والے
کبھی طٰہ کہا تجھ کو کبھی یٰسین کہا
جانے کتنے ہیں ترے نام مدینے والے
مسکرا کرتو جواباً انہیں دیتا تھا دعا
جو تجھے دیتے ہیں دشنام مدینے والے
اس سے بہتر بھی کوئی اور وظیفہ ہوگا!
میرے لب پر ہے ترا نام مدینے والے
کسی صورت سے پہنچ جاؤں ترے قدموں تک
یہ دعا ہے سحر و شام مدینے والے
جو بھی سنتا ہے محبت اسے ہو جاتی ہے
کتنا پیارا ہے ترا نام مدینے والے
جب ترے دامن رحمت سے ہے وابستہ سعیدؔ
پھر اسے غیروں سے کیا کام مدینے والے
_______________________________
نتیجۂ فکر ۔ جناب سعید شہیدی صاحب
طالب دعا
ایس، اے، برکاتی