Rizaullah Abul kalam Salafi

Rizaullah Abul kalam Salafi ​اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا

08/06/2026

جب نا ملنے کا خوف ستانے لگے تو یقین سے دعائیں مانگنا،
جب صبر نہ آرہا ہو تب جائے نماز اٹھا کہ خوب رونا،
جب ہمت ہار ماننے لگے تب سجدوں میں اس سے،
ڈھیر ساری باتیں کرنے لگنا،
جب سکون نہ پہنچ پا رہا ہو تو تہجد پڑھنا،
جب اس سے تسلی ملتا دیکھنا چاہ رہے ہو تو قرآن کو پڑھ لینا،
جب انتظار نہیں کر پا رہے ہو تو بس اسکے کن ہونے کا انتظار کرنا۔

17/05/2026

Every morning is a fresh page in your story. Make today beautiful, smile often, and let your hard work speak for itself.

17/05/2026

14/05/2026

#2026 #2026 #2026 #2026 ‏ *جو دروازہ آپ کو بار بار دکھ دیتا ہو اسے ہمیشہ کے لئے بند کر دینا چاہئے ، پھر چاہے اس کے پیچھے کتنا ہی خوبصورت رشتہ کیوں نہ ہو ،کیونکہ رشتے سکھ دینے کے لئے ہوتے ہیں اور جب وہی رشتے دکھ دینے لگیں تو ان سے دوری بنا لینا ہی بہتر ہوتا ہے ۔۔!!💯*

اللَّهُمَّ يَا مُسَبِّبَ الأَسْبَابِ، وَيَا فَاتِحَ الأَبْوَابِ، نَسْأَلُكَ أَنْ تَرْفَعَ قَدْرَنَا، وَتُعْلِيَ شَأْنَنَ...
14/05/2026

اللَّهُمَّ يَا مُسَبِّبَ الأَسْبَابِ، وَيَا فَاتِحَ الأَبْوَابِ، نَسْأَلُكَ أَنْ تَرْفَعَ قَدْرَنَا، وَتُعْلِيَ شَأْنَنَا، وَتَجْعَلَ طُمُوحَاتِنَا تُعَانِقُ السَّمَاءَ.
​اللَّهُمَّ اجْعَلْ خُطَانَا ثَابِتَةً فِي طَرِيقِ المَعَالِي، وَارْزُقْنَا نَجَاحًا تَقَرُّ بِهِ الأَعْيُنُ، وَفَلَاحًا يَشْرَحُ الصُّدُورَ.
​اللَّهُمَّ افْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ الحِكْمَةِ وَالمَعْرِفَةِ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِي عِمَارَةِ الأَرْضِ بِالخَيْرِ وَالإِحْسَانِ.
​رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَاجْعَلْ كُلَّ عَمَلٍ نَقُومُ بِهِ سَبَبًا فِي رِفْعَتِنَا وَتَقَدُّمِنَا.
​اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي أَعْمَارِنَا وَأَعْمَالِنَا، وَاجْعَلْ لَنَا فِي كُلِّ شِدَّةٍ مَخْرَجًا، وَفِي كُلِّ سَعْيٍ تَوْفِيقًا.
​يَا رَبَّ العَالَمِينَ، اسْتَجِبْ دُعَاءَنَا، وَاجْعَلْ مَسِيرَتَنَا حَافِلَةً بِالإِنْجَازَاتِ العَظِيمَةِ.

14/05/2026

#2026 سید احمد خان کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
جواب: سر سید احمد خان 1817ء میں دہلی کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔
​2۔ سر سید کی تربیت کس کے زیر سایہ ہوئی؟
جواب: ان کی تربیت ان کی والدہ کے زیر سایہ ہوئی۔
​3۔ سر سید نے غازی پور میں کون سی انجمن بنائی اور کب؟
جواب: انہوں نے 1862ء میں 'سائنٹیفک سوسائٹی' کے نام سے ایک انجمن بنائی۔
​4۔ سر سید انگلستان سے واپسی پر کون سا رسالہ جاری کیا؟
جواب: انہوں نے 'تہذیب الاخلاق' نامی رسالہ جاری کیا۔
​5۔ رسالہ 'تہذیب الاخلاق' میں کس قسم کے مضامین شائع ہوتے تھے؟
جواب: اس میں سماجی، تہذیبی اور ادبی مضامین شائع ہوتے تھے۔
​6۔ سر سید نے علی گڑھ میں اسکول کب کھولا؟
جواب: انہوں نے 1878ء میں علی گڑھ میں ایک اسکول کھولا (جو بعد میں کالج اور پھر یونیورسٹی بنا)۔
​7۔ سر سید کو 'سر' کا خطاب کب ملا؟
جواب: انہیں 1878ء میں 'سر' کا خطاب ملا۔
​8۔ سر سید احمد خان کی دو مشہور تصانیف کے نام لکھیں۔
جواب: 'آثار الصنادید' اور 'اسبابِ بغاوتِ ہند'۔
​9۔ اردو نثر میں سر سید کا کیا خاص کارنامہ ہے؟
جواب: انہوں نے اردو کی نئی علمی نثر کی بنیاد ڈالی اور مختصر مضمون نگاری کو فروغ دیا۔
​10۔ سر سید احمد خان کا انتقال کب ہوا اور وہ کہاں دفن ہیں؟
جواب: ان کا انتقال 1898ء میں ہوا اور وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دفن ہیں۔دیے گئے صفحات کی روشنی میں طویل سوالات کے مختصر و جامع جوابات درج ذیل ہیں:
​۱۔ گلوبل وارمنگ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
جواب: زمین کے اوسط درجہ حرارت میں جو تدریجی اضافہ ہو رہا ہے، اسے ماہرینِ ماحولیات نے 'گلوبل وارمنگ' (عالمی حدّت) کا نام دیا ہے۔ پچھلے چالیس برسوں سے زمین کا درجہ حرارت رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری دنیا کا ماحولیاتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ یہ ایک سنگین عالمی مسئلہ اور چیلنج بن گیا ہے۔
​۲۔ گلوبل وارمنگ کے کیا اسباب ہیں؟
جواب: اس کا سب سے بڑا سبب انسانی سرگرمیاں اور 'گرین ہاؤس گیسوں کے اثرات' ہیں۔ کل کارخانوں، موٹر گاڑیوں کے اضافے اور جنگلوں کے کٹنے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ جیسی گیسوں کی مقدار بڑھ گئی ہے۔ یہ گیسیں سورج کی تپش کو جذب کر لیتی ہیں، جس سے زمین گرم ہو رہی ہے۔
​۳۔ گلوبل وارمنگ کے تشویش ناک اثرات کیا ہوں گے؟
جواب: درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری برف کے بڑے بڑے تودے (گلیشیرز) تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور ساحلی علاقوں (مثلاً مالدیپ، بنگلہ دیش اور بھارت کے کچھ حصے) کے ڈوبنے کا خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ بے وقت بارشیں، طوفان، سیلاب، قحط اور نئی قسم کی بیماریوں کی کثرت جیسے خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
​۴۔ گلوبل وارمنگ سے بچنے کے لیے کیا کیا اقدام اٹھائے جا سکتے ہیں؟
جواب: اس سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
​زیادہ سے زیادہ پیڑ پودے لگائے جائیں اور جنگلوں کو کٹنے سے روکا جائے۔
​گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جائے۔
​گیس پھینکنے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر چلانے پر پابندی لگائی جائے۔
​کیوٹو (Kyoto) کانفرنس کی ہدایات پر عمل کیا جائے اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزاری جائے۔
​۵۔ اس سبق میں جن الفاظ میں سابقے ہیں، انہیں چن کر جملے بنائیے۔
جواب: سبق میں موجود چند سابقے والے الفاظ اور ان کے جملے یہ ہیں:
​غیر مناسب: آلودہ ماحول تمام جانداروں کے لیے غیر مناسب ہے۔
​بے تحاشہ: فضا میں زہریلی گیسیں بے تحاشہ پیدا ہو رہی ہیں۔
​لا جواب: ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے طلبہ کو لا جواب نسخہ بتایا۔
​باقاعدہ: ہمیں باقاعدہ شجر کاری کی تحریک چلانی چاہیے۔نگار عظیم کے افسانوں کا بنیادی محور خواتین کے جذبات اور ان کے مخصوص معاشرتی مسائل ہیں۔ وہ عورت کی نفسیات اور اس کے دل میں اٹھنے والے تلاطم کو بڑی گہرائی سے محسوس کرتی ہیں اور اسے افسانوی قالب میں ڈھالتی ہیں۔
​ان کی تحریروں میں معاشرتی حقیقت نگاری نمایاں ہے، جہاں وہ سماج میں جاری جبر، استحصال اور بدلتے ہوئے انسانی رویوں پر گہری چوٹ کرتی ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ، سلیس اور اثر انگیز ہے، جس کی وجہ سے قاری خود کو کہانی کے کرداروں سے جڑا ہوا محسوس کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ ان کے افسانے محض کہانیاں نہیں بلکہ موجودہ دور کے انسانی اور نفسیاتی مسائل کا جیتا جاگتا آئینہ ہیں۔نگار عظیم کی افسانوی خصوصیت بیان کیجیے (وَحُكْمُ الْمُضَبَّبِ بِهِمَا حُكْمُهُمَا) لِأَنَّهُ إِذَا اسْتَعْمَلَهُ فَقَدِ اسْتَعْمَلَهُمَا، (إِلَّا أَنْ تَكُونَ الضَّبَّةُ يَسِيرَةً مِنَ الْفِضَّةِ) كَشَعْبِ الْقَدَحِ فَلَا بَأْسَ بِهَا إِذَا لَمْ يُبَاشِرْهَا بِالِاسْتِعْمَالِ، لِمَا رُوِيَ أَنَّ قَدَحَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ انْكَسَرَ فَاتَّخَذَ مَكَانَ الشَّعْبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ، رَوَاهُ.(لَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُ آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي طَهَارَةٍ وَلَا غَيْرِهَا) لِمَا رُوِيَ حُذَيْفَةُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ»، وَقَالَ ﷺ: «الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ»، مُتَّفَقٌ عَلَيْهِمَا، تَوَعَّدَ عَلَيْهِ بِالنَّارِ فَدَلَّ عَلَى تَحْرِيمِهِ، وَلِأَنَّ فِيهِ سَرَفًا وَخُيَلَاءَ وَكَسْرَ قُلُوبِ الْفُقَرَاءِ. لَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُ آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي طَهَارَةٍ وَلَا غَيْرِهَا، لِمَا رُوِيَ حُذَيْفَةُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ» (١)، (٢٢) وَحُكْمُ الْمُضَبَّبِ بِهِمَا حُكْمُهُمَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ الضَّبَّةُ يَسِيرَةً.سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ

عنوان: زم زم کی کھدائی

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ١۲ بیٹے تھے - ان کی نسل اسقدر ہوئی کے مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی اور پورے حجاز میں پھیل گئی - ان کے ایک بیٹے قیدار کی اولاد میں عدنان ہوئے - عدنان کے بیٹے معد اور پوتے کا نام نزار تھا - نزار کے چار بیٹے تھے - ان میں سے ایک کا نام مضر تھا - مضر کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے" یہ فہر بن مالک بھی کہلائے - قریش کی اولاد بہت ہوئی - ان کی اولاد مختلف قبیلوں میں بٹ گئی - ان کی اولاد سے قصیّ نے اقتدار حاصل کیا - قصیّ کے آگے تین بیٹے ہوئے - ان میں سے ایک عبد مناف تھے جن کی اگلی نسل میں ہاشم پیدا ہوئے -
ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی " ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا " اس کا نام شیبہ رکھا گیا - یہ پیدا ہی ہوا تھا کہ ہاشم کا انتقال ہوگیا- ان کے بھائی مطلّب مکہ کے حاکم ہوئے - ہاشم کا بیٹا مدینہ منورہ میں پرورش پاتا رہا " جب مطلّب کو معلوم ہوگیا کہ وہ جوان ہوگیا ہے تو بھتیجے کو لینے کے لیے خود مدینہ گئے - اسے لیکر مکہ مکرمہ پہنچے تو لوگوں نے خیال کیا یہ نوجوان ان کا غلام ہے - مطلّب نے لوگوں کو بتایا " یہ ہاشم کا بیٹا اور میرا بھتیجا ہے " اس کے باوجود لوگوں نے اسے مطلّب کا غلام ہی کہنا شروع کردیا - اس طرح شیبہ کو عبدالمطلب کہا جانے لگا - انہیں عبدالمطلب کے یہاں ابوطالب حمزہ, عبّاس, عبداللہ, ابولہب, حارث, زبیر, ضرار, اور عبدالرحمن پیدا ہوئے- ان کے بیٹے عبداللہ سے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پیدا ہوئے۔
عبدالمطلب کے تمام بیٹوں میں حضرت عبداللہ سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ پاکدامن تھے - عبدالمطلب کو خواب میں زمزم کا کنواں کھودنے کا حکم دیا گیا " یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے کنویں کو, اس کنویں کو قبیلہ
جرہم کے سردار مضاض نے پاٹ دیا تھا - قبیلہ جرہم کے لوگ اس زمانہ میں مکہ کے سردار تھے " بیت اللہ کے نگراں تھے - انہوں نے بیت اللہ کی بے حرمتی شروع کردی - ان کا سردار مضاض بن عمرو تھا " وہ اچھا آدمی تھا اس نے اپنے قبیلے کو سمجھایا کہ بیت اللہ کی بے حرمتی نہ کرو مگر ان پر اثر نہ ہوا " جب مضاض نے دیکھا کہ ان پر کوئی اثر نہ ہوتا تو قوم کو اس کے حال پر چھوڑ کر وہاں سے جانے کا فیصلہ کیا- اس نے تمام مال و دولت تلواریں اور زرہیں وغیرہ خانۂ کعبہ سے نکال کر زمزم کے کنویں میں ڈالدیں اور مٹی سے اسکو پاٹ دیا - کنواں اس سے پہلے ہی خشک ہوچکا تھا-
اب اس کا نام و نشان مٹ گیا - مدتوں یہ کنواں بند پڑا رہا اس کے بعد بنو خزاعہ نے بنو جرہم کو وہاں سے مار بھگایا " بنو خزاعہ اور قصیّ کی سرداری کا زمانہ اسی حالت میں گذرا - کنواں بند رہا یہاں تک کے قصیّ کے بعد عبدالمطلب کا زمانہ آگیا" انہوں نے خواب دیکھا " خواب میں انہیں زمزم کے کنویں کی جگہ دکھائی گئی اور اس کے کھودنے کا حکم دیا گیا-
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ عبدالمطلب نے بتایا :-
" میں حجر اسود کے مقام پر سورہا تھا کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا - اس نے مجھ سے کہا "طیبہ کو کھودو "
میں نے اس پوچھا "طیبہ کیا ہے؟"
مگر وہ کچھ بتائے بغیر چلاگیا - دوسری طرف رات پھر خواب میں وہی شخص آیا " کہنے لگا "برہ کو کھودو "
میں نے پوچھا "برّہ کیا ہے" وہ کچھ بتائے بغیر چلے گیا-
تیسری رات میں اپنے بستر پر سورہا تھا کہ پھر وہ شخص خواب میں آیا - اُس نے کہا " مضنونہ کھودو "
میں نے پوچھا " مضنونہ کیا ہے؟" وہ بتائے بغیر چلا گیا -
اس سے اگلی رات میں پھر بستر پر سورہا تھا کہ وہی شخص پھر آیا اور بولا "زم زم کھودو " میں نے اس سے پوچھا "زم زم کیا ہے؟ " اس بار اس نے کہا:
" زمزم وہ ہے جس کا پانی کبھی ختم نہیں ہوتا, جو حاجیوں کے بڑے بڑے مجموعوں کو سیراب کرتا ہے "
عبدالمطلب کہتے ہیں , میں نے اس سے پوچھا
"یہ کنواں کس جگہ ہے؟ "
اس نے بتایا -
"جہاں گندگی اور خون پڑا ہے, اور کوّا ٹھونگیں مار رہا ہے"
دوسرے دن عبدالمطلب اپنے بیٹے حارث کے ساتھ وہاں گئے - اس وقت ان کے یہاں یہی ایک لڑکا تھا - انہوں نے دیکھا وہاں گندگی اور خون پڑا تھا اور ایک کوّا ٹھونگیں مار رہا تھا, اس جگہ کے دونوں طرف بُت موجود تھے اور یہ گندگی اور خون دراصل ان بتوں پر قربان کئیے جانے والے جانوروں کا تھا, پوری نشانی مل گئی تو عبدالمطلب کدال لے آئے اور کھدائی کے لئیے تیار ہوگئے لیکن اس وقت قریش وہاں آ پہنچے -انہوں نے کہا :
" اللہ کی قسم ہم تمہیں یہاں کھدائی نہیں کرنے دیں گے, تم ہمارے ان دونوں بُتوں کے درمیاں کنواں کھودنا چاہتے ہو جہاں ہم ان کے لئیے قربانیاں کرتے ہیں - "
عبدالمطلب نے ان کی بات سن کر اپنے بیٹے حارث سے کہا :
"تم ان لوگوں کو میرے قریب نہ آنے دو, میں کھدائی کا کام کرتا رہوں گا اس لئیے کہ مجھے جس کام کا حکم دیا گیا ہے میں اس کو ضرور پورا کروں گا- "
قریش نے جب دیکھا کہ وہ باز آنے والے نہیں تو رک گئے - آخر انھوں نے کھدائی شروع کردی - جلد ہی کنویں کے آثار نظر آنے لگے - یہ دیکھ کر انہوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور پکار اٹھے
" یہ دیکھو یہ اسماعیل علیہ السلام کی تعمیر ہے "
جب قریش نے یہ دیکھا کہ انہوں نے کنواں تلاش کرلیا تو ان کے پاس آگئے اور کہنے لگے :
"عبدالمطلب اللہ کی قسم " یہ ہمارے باپ اسماعیل علیہ السلام کا کنواں ہے اور اس پر ہمارا بھی حق ہے" اس لئیے ہم اس میں تمہارے شریک ہوں گے -"
یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا :
" میں تمہیں اس میں شریک نہیں کرسکتا " یہ مجھ اکیلے کا کام ہے"
اس پر قریش نے کہا :
" تب پھر اس معاملے میں ہم تم سے جھگڑا کریں گے"
عبدالمطلب بولے :
" کسی سے فیصلہ کروالو "
انہوں نے بنوسعد ابن ہزیم کی کاہنہ سے فیصلہ کرانا منظور کیا - یہ کاہنہ ملک شام کے بالائی علاقے میں رہتی تھی - آخر عبدالمطلب اور دوسرے قریش اس کی طرف روانہ ہوئے - عبدالمطلب کے ساتھ عبدمناف کے لوگوں کی ایک جماعت تھی -
جبکہ دیگر قبائل قریش کی بھی ایک ایک جماعت ساتھ تھی - اس زمانہ میں ملک حجاز اور شام کے درمیان ایک بیابان میدان تھا , وہاں کہیں پانی نہیں تھا - اس میدان میں ان کا پانی ختم ہوگیا - سب لوگ پیاس سے بے حال ہوگئے, یہاں تک کہ انہیں اپنی موت کا یقین ہوگیا - انہوں نے قریش کے دوسرے لوگوں سے پانی مانگا لیکن انہوں نے پانی دینے سے انکار کردیا - اب انہوں نےادھر ادھر پانی تلاش کرنے کا ارادہ کیا -
عبدالمطلب اٹھ کر اپنی سواری کے پاس آئے, جوں ہی ان کی سواری اٹھی, اس کے پاؤں کے نیچے سے پانی کا چشمہ ابل پڑا - انہوں نے پانی کو دیکھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا - پھر عبد المطلب سواری سے اتر آئے - سب نے خوب سیر ہوکر پانی پیا اور اپنے مشکیزے بھر لیے - اب انہوں نے قریش کی دوسری جماعت سے کہا:"آؤ تم بھی سیر ہوکر پانی پی لو -" اب وہ بھی آگے آئے اور خوب پانی پیا - پانی پینے کے بعد وہ بولے:
" اللہ کی قسم.... اے عبدالمطلب! یہ تو تمہارے حق میں فیصلہ ہوگیا - اب ہم زمزم کے بارے میں تم سے کبھی جھگڑا نہیں کریں گے - جس ذات نے تمہیں اس بیابان میں سیراب کردیا، وہی ذات تمہیں زمزم سے بھی سیراب کرے گا، اس لیے یہیں سے واپس چلو -"
اس طرح قریش نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ عبدالمطلب پر مہربان ہے، لہٰذا ان سے جھگڑنا بے سود ہے اور کاہنہ کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں ، چنانچہ سب لوگ واپس لوٹے -
واپس اکر عبدالمطلب نے پھر کنویں کی کھدائی شروع کی - ابھی تھوڑی سی کھدائی کی ہوگی کہ مال، دولت، تلواریں اور زرہیں نکل آئیں - اس میں سونا اور چاندی وغیرہ بھی تھی - یہ مال ودولت دیکھ کر قریش کے لوگوں کو لالچ نے آگھیرا - انہوں نے عبدالمطلب سے کہا :
"عبدالمطلب! اس میں ہمارا بھی حصہ ہے -"
ان کی بات سن کر عبدالمطلب نے کہا :
"نہیں ! اس میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ، تمہیں انصاف کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے - آؤ پانسو کے تیروں سے قرعہ ڈالیں -"
انہوں نے ایسا کرنا منظور کرلیا - دو تیر کعبے کے نام سے رکھے گئے، دو عبدالمطلب کے اور دو قریش کے باقی لوگوں کے نام کے.... پانسہ پھینکا گیا تو مال اور دولت کعبہ کے نام نکلا، تلواریں اور زرہیں عبدالمطلب کے نام اور قریشیوں کے نام کے جو تیر تھے وہ کسی چیز پر نہ نکلے - اس طرح فیصلہ ہوگیا - عبدالمطلب نے کعبے کے دروازے کو سونے سے سجا دیا -
زمزم کی کھدائی سے پہلے عبدالمطلب نے دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! اس کی کھدائی کو مجھ پر آسان کردے، میں اپنا ایک بیٹا تیرے راستے میں ذبح کروں گا - اب جب کہ کنواں نکل آیا تو انہیں خواب میں حکم دیا گیا -
"اپنی منت پوری کرو، یعنی ایک بیٹے کو ذبح کرو -"سہی' اور 'صحیح' کے فرق کو جملے میں استعمال کرکے واضح کریں۔
جواب:
​صحیح: اس کا مطلب ہے درست یا ٹھیک۔
جملہ: احمد نے ریاضی کے تمام سوالات صحیح حل کیے۔
​سہی: یہ کلمہ قبولیت یا تاکید کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
جملہ: آپ نہیں جاتے تو نہ جائیں، میں اکیلا ہی چلا جاؤں گا سہی۔
​۲. نگار عظیم کی شخصیت پر پانچ جملے لکھیے۔
جواب:
۱. نگار عظیم عہدِ حاضر کی ایک اہم افسانہ نگار ہیں۔
۲. انہوں نے اردو اور ڈرائنگ و پینٹنگ میں ایم۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔
۳. انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے سعادت حسن منٹو کی افسانہ نگاری پر پی ایچ ڈی کی۔
۴. وہ اپنے افسانوں میں عورتوں کے نفسیاتی مسائل اور معاشرتی استحصال کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتی ہیں۔
۵. افسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے تنقید اور سفرنامہ نگاری میں بھی اہم کارنامے انجام دیے ہیں۔
​۳. صنفِ افسانہ پر پانچ جملے لکھیے۔
جواب:
۱. افسانہ اس نصری کہانی کو کہتے ہیں جسے ایک ہی نشست میں پڑھا جا سکے۔
۲. افسانہ زندگی کے کسی ایک گوشے یا پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔
۳. افسانے میں اختصار اور وحدتِ تاثر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
۴. اس میں کرداروں کی تعداد محدود ہوتی ہے اور پلاٹ گتھا ہوا ہوتا ہے۔
۵. جدید دور میں افسانہ انسانی نفسیات اور سماجی مسائل کو بیان کرنے کا مقبول ترین ذریعہ ہے۔
​طویل سوالات
​۱. سراج کی والدہ اپنے بیٹے کے گھر پر اکتاہٹ کیوں محسوس کرنے لگی تھی؟
جواب: سراج کی والدہ جب بنگلور اپنے بیٹے کے پاس گئیں تو وہاں کی زندگی کے جمود اور تنہائی نے انہیں اکتاہٹ میں مبتلا کر دیا۔ ان کی بہو 'عرفانہ' گھر کے تمام کام خود کرتی تھی اور ساس کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتی تھی۔ بیٹے اور بہو کی حد سے زیادہ خدمت اور آرام طلبی نے انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ اس گھر میں صاحبِ خانہ نہیں بلکہ محض ایک 'مہمان' بن کر رہ گئی ہیں۔ اپنی مرضی سے کام نہ کر پانے اور گھر کے نظام میں دخل نہ ہونے کی وجہ سے وہ بے چینی اور اکتاہٹ محسوس کرنے لگی تھیں۔
​۲. زیرِ نصاب افسانہ 'آشیانہ' کے مرکزی کردار پر روشنی ڈالیے۔
جواب: افسانہ 'آشیانہ' کا مرکزی کردار سراج کی والدہ (بیگم برکت علی صدیقی) ہیں۔ وہ ایک روایتی اور محنتی خاتون ہیں جو زندگی بھر اپنے گھر کو سنوارنے میں لگی رہیں۔ ان کا کردار ایک ایسی عورت کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنے بچوں کی کامیابی پر خوش تو ہے، لیکن اپنی خود مختاری اور گھریلو مصروفیت کی قیمت پر آرام و آسائش قبول نہیں کرنا چاہتی۔ وہ مامتا اور خودداری کا سنگم ہیں، اسی لیے جب انہیں بنگلور کے بڑے گھر میں اپنی اہمیت کم ہوتی نظر آئی، تو انہوں نے دوبارہ اپنے چھوٹے اور پرانے آشیانے میں رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنی مرضی کی زندگی جی سکیں۔
​۳. افسانے کے ارتقاء کا جائزہ لیجیے۔
جواب: اردو افسانے کا ارتقاء داستانوں اور ناولوں کے بعد ہوا۔ اردو میں افسانے کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کے شروع میں پریم چند کے مجموعے 'سوزِ وطن' سے ہوا۔ پریم چند نے افسانے کو زندگی کی حقیقی عکاسی اور دیہاتی مسائل سے روشناس کرایا۔ ان کے بعد انگارے کی تحریک نے افسانے میں سماجی حقیقت نگاری اور بے باکی پیدا کی۔ سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی اور کرشن چندر نے اس صنف کو فن اور اسلوب کے نئے افق عطا کیے۔ دورِ حاضر میں نگار عظیم جیسے فنکار انسانی نفسیات، خاص طور پر نسائی مسائل کو افسانے کا موضوع بنا کر اس صنف کو مزید ثروت مند بنا رہے ہیں۔​سوال 1: قمر جہاں کے افسانوں کے موضوعات پر روشنی ڈالئے۔
​جواب: قمر جہاں کے افسانوں کے موضوعات جدید سائنسی اور مادی عہد کے پیدا کردہ سماجی و نفسیاتی مسائل پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں درج ذیل موضوعات نمایاں ہیں:
​مادی ماحول کے مسائل: وہ آج کے مشینی دور میں انسان کو درپیش معاشرتی الجھنوں کو اپنا موضوع بناتی ہیں۔
​تہذیبی و اخلاقی زوال: موجودہ دور کی ایجادات نے انسانی تہذیب اور اخلاقی پہلوؤں کو کس طرح مجروح کیا ہے، یہ ان کے یہاں اہم موضوع ہے۔
​مادیت کا غلبہ: ان کے افسانوں کا مرکزی خیال اکثر مادیت کے غلبے اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی دکھوں کے گرد گھومتا ہے۔
​ذہنی کرب اور تنہائی: قمر جہاں نے ان افراد کی ذہنی کیفیت اور اذیت کی ترجمانی کی ہے جو روپے کمانے کی دوڑ میں اپنے معاشرے اور تہذیب سے کٹ جاتے ہیں۔
​سوال 2: کہانی کا عنوان "کٹی ہوئی شاخ" کیوں ہے؟ واضح کیجئے۔
​جواب: کہانی کا عنوان "کٹی ہوئی شاخ" ایک استعارہ ہے جو اس شخص کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو اپنی جڑوں (وطن، تہذیب اور اپنوں) سے کٹ چکا ہو۔
​جس طرح درخت سے کٹ جانے والی شاخ دوبارہ ہری نہیں ہو سکتی، اسی طرح کہانی کا مرکزی کردار بیرون ملک سے روپیہ کما کر جب واپس آتا ہے تو خود کو اپنے ہی گھر میں اجنبی محسوس کرتا ہے۔
​وہ محسوس کرتا ہے کہ وقت کے طویل سفر اور مشینی زندگی نے اس پر غیریت کی مہر ثبت کر دی ہے۔
​وہ اپنے گھر کی دہلیز پر کھڑا ہو کر بیتے لمحوں کو پکارتا ہے، مگر اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اب اس معاشرے کا حصہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی "کٹی ہوئی شاخ" بن چکا ہے جس کا اب اپنی جڑوں سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔
​سوال 3: مہاجر ادب کی اصطلاح سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا یہ افسانہ اس زمرے میں ہے؟ مدلل جواب دیجئے۔
​جواب: مہاجر ادب سے مراد وہ تخلیقات ہیں جو ہجرت کے دکھ، پردیس میں اجنبیت کا احساس، اپنی مٹی سے دوری اور دو تہذیبوں کے درمیان کشمکش کو بیان کرتی ہیں۔
​جی ہاں، یہ افسانہ اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ:
​اس کا مرکزی کردار معاشی خوشحالی کے لیے خلیجی ممالک (خلیج) ہجرت کرتا ہے۔
​افسانے میں ہجرت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس "ذہنی کرب" کو دکھایا گیا ہے جو انسان کو اپنی تہذیب سے کٹنے کے بعد لاحق ہوتا ہے۔
​کردار کی وہ کیفیت جہاں وہ خود کو "پنڈولم کی طرح جھولتا" اور "زمین سے منقطع" محسوس کرتا ہے، مہاجر ادب کی بہترین مثال ہے۔
​سوال 4: کہانی کے مرکزی کردار کی ذہنی و جذباتی کیفیت کو اختصار میں لکھئے۔
​جواب: کہانی کے مرکزی کردار کی ذہنی و جذباتی کیفیت بے چینی، پچھتاوے اور اجنبیت کا مجموعہ ہے:
​اجنبیت کا احساس: وطن واپسی پر وہ ہر چیز کو اچھوتا پاتا ہے اور خود کو اپنوں کے درمیان بھی اجنبی محسوس کرتا ہے۔
​مادیت سے اکتاہٹ: اس نے تمام مادی آسائشیں (فریج، اے سی، کار) حاصل کر لیں، لیکن اس کی روح کو چین نہیں ملا۔
​جذباتی ٹوٹ پھوٹ: وہ اپنے والدین کے انتقال اور بیماری پر تڑپ کر رہ گیا لیکن وہاں کی مشینی زندگی کی وجہ سے جی بھر کے رو بھی نہ سکا۔
​بے بسی: اسے لگتا ہے کہ وہ ایک مشینی زندگی کا حصہ بن کر اپنے لطیف احساسات کھو چکا ہے اور اب وہ نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا۔

13/05/2026

13/05/2026

#2026

06/05/2026

صرف بیوقوف لوگ ہی عقلمندوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عقلمند لوگ بس وہ کرتے ہیں جو انہیں کرنا ہوتا ہے
اس جملے کے پیچھے چھپی حکمت کو ہم تین اہم نکات میں سمجھ سکتے ہیں:
توجہ کا مرکز (Focus): بیوقوف یا کم فہم لوگ اپنی توانائی اس بات پر ضائع کرتے ہیں کہ دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ وہ اپنی "عقلمندی" کا لبادہ اوڑھ کر دوسروں سے داد وصول کرنا چاہتے ہیں۔
حقیقی مہارت (Authenticity): ایک واقعی ذہین انسان کو کسی کے سرٹیفکیٹ یا تعریف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اپنی دھن میں مگن رہتا ہے اور اس کا کام خود بولتا ہے۔
عمل بمقابلہ دکھاوا: یہاں کرس راک یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ جب آپ کسی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو آپ کی توجہ کام سے ہٹ کر "دکھاوے" پر چلی جاتی ہے، جو کہ خود ایک نادانی ہے۔
خلاصہ:
یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو دوسروں پر ثابت کرنے کے بجائے، انہیں بہتر سے بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ کامیابی خود بخود لوگوں کو متاثر کر دے گی۔

Address

Jalalgarh Purnia
Purnia College Chawk

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rizaullah Abul kalam Salafi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share