04/04/2023
ایسے لوگ بھی اس سرزمین پے گزرے ھیں جن کی قدم پوشی کو جی چاھتا ھے اورایسے لوگوں کی وجہ سے یہ جہاں آباد ھے
قدرت اللہ شہاب کی تصنیف "شہاب نامہ" سے ایک اقتباس ...
"منگلا ڈیم کا نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا"
*قدرت اللّٰه شہاب* کہتے ہیں کہ جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پُرانا شہر آباد تھا۔جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حِصَّہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا راستے میں ایک مَفلُوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھَٹے پُرانے تھے، دونوں کے جوتے بھی ٹُوٹے پھُوٹے تھے، اُنہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا " بیت المال کس طرف ہے؟ " میں نے پوچھا بیت المال میں تمہارا کیا کام ؟
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا ؛ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کُرید کُرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس "کھوتی" پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جا رہے ہیں ۔ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بِٹھا لیا تا کہ اُنہیں بیت المال لے جائیں ۔
آج بھی وہ نحیف و نَزَار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سَر شرمندگی اور ندامت سے جھُک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں اُن دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا ۔ مجھے تو چاہیئے تھا کہ میں اُن کے گِرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سَر پر رکھ کر بیٹھتا ۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں ۔