20/03/2025
اگر آ پ پوسٹ سے گزر رہے ہیں اور آ پکا تعلق
حبیبکا،نیزہ جودھیکا، خیر شاہ، بچیانوالی،فدائی شاہ اور گردونواح سے اور آ پ پوسٹ کو شیئر نہیں کر رہے تو مبارک ہو آپ ایک بغیرت انسان ہیں ۔
بات کرتے ہیں نئے پیدا ہونے والے بدماشوں اور ڈکیتوں کی جو ہمارے علاقے میں خوف کی علامت بنے ہوئے ہیں اور سر عام بھتہ وصول کر رہے ہیں ۔ آج سے 4٫5 دن پہلے فدائی شاہ کے آ صف سیال کو کال آتی ہیں میں عامر جودھیکا بات کر رہا ہوں شام تک 10 لاکھ روپے پہنچ جانے چاہیے اور پیسے نا دینے پر بھاری نقصان کی دھمکی بھی دی ۔سیال صاحب نے پیسےنا دیے شام کو پھر وہی ہوا جسکا عامر نے کہا تھا سیال کی دودھ والی گاڑی جب حبیبکا کراس کرتی ہے تو چاروں ٹائر اور فرنٹ سکرین میں برسٹ مارے اور گاڑی کا 5٫6 لاکھ کا نقصان کر دیا ۔پھر دربارہ کال کی اور پیسے نا دینے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی ۔اگلی شام تک جب پیسے نا پہنچے تو عامر جودھیکا وٹو نے ہمراہ اپنے ایک ساتھی کے آ صف سیال کے چیلر واقع فدائی شاہ پر حملہ کر دیا اور تقریبآ 4٫5 چیلر جن کی مالیت 25 سے تیس لاکھ بنتی ہے ان میں بریسٹ مارے اور بائیک پر بیٹھ کر فائرنگ کرتا ہوا چلا گیا اور اگلی صبح آ صف کو کال کرکے اسکی ہارون آ باد جانے والی دودھ کی گاڑی کو اڑانے کی دھمکی دی تو سیال نے مجبور ہوکر پیسے دے دیے ۔
اب اس کے بعد باری آئی علی بہادر لوہار کی اور اس کو بھی کال کرکے 5 لاکھ کی ڈیمانڈ کی تو اسنے بھی منت ترلے کے ساتھ کچھ پیسے دے کر جان بخشی کروائی ہے ۔
اس کے علاوہ ریاض گل ،فیاض سکھیرا اور چند ایک کو آ ج بھی کال آ ئی ہے اب وہ دیتے ہیں یا نہیں بعد کا معاملہ ہے ۔
سوال یہ ہے ہماری پولیس کیا کررہی ہے ؟؟؟؟
کیا یہ بات ہمارے ڈی ۔پی ۔او صاحب کے نوٹس میں نہیں کہ ان کی عوام سے سرعام بھتہ لیا جا رہا ہے ؟؟
اس کے علاوہ ایک سوال لنڈے کے دانشوروں سے جو فیسبک پر چنگیز خان بنے ہوئے ہیں آپ لوگ اس کے خلاف آواز کیوں نہیں ا ٹھا رہے ۔
اور جہاں تک سننے میں آ یا ہے ان کو ایک جودھیکا سردار کی طرف سے پناہ اور سپورٹ دی جا رہی ہے
مزید ملتے ہیں اگلی قسط میں ۔وسلام