اردو ادبیات ،رینمائی ،پوسٹنگ

اردو ادبیات ،رینمائی ،پوسٹنگ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from اردو ادبیات ،رینمائی ،پوسٹنگ, Grocers, Bahawalpur.

17/08/2025

1947 سے پہلے برِصغیر میں تین آراء عروج پر تھیں۔ ایک محمد علی جناح کی، دوسری مولانا ابوالکلام آزاد کی اور تیسری انگریزوں کی۔

جناح کہتے تھے
کہ تمام مسلمانوں کو پاکستان کے مطالبے کی حمایت کرنی چاہیے۔
وہ کہتے تھے کہ چونکہ بھارت ایک ہندو اکثریت کا ملک بنے گا تو وہاں مسلمان تو کیا سکھوں کو بھی اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے ہر وقت جھک کر رہنا پڑے گا۔ ان کا ایک مشہور جملہ ہے:

"جو مسلمان اور سکھ آج کانگریس کی حمایت کر رہے ہیں یہ ہمیشہ بھارت میں اپنی وفاداری ہی ثابت کرتے رہیں گے۔"

دوسری طرف مولانا ابوالکلام آزاد نے پاکستان کے متعلق اپنی کتاب
"India Wins Freedom" میں کئی پیشین گوئیاں کیں۔

وہ کہتے تھے کہ جناح مذہب کے نام پر جو ریاست بنانا چاہ رہے ہیں اِس میں نہ جمہوریت سلامت رہے گی نہ معیشت۔
جب یہ مذہبی گرمجوشی ٹھنڈی پڑ جائے گی تو ہر جتھہ دوسرے سے اپنی بات ڈنڈے کے زور پر منوائے گا۔
پاکستان میں مسلمان تو بچیں گے لیکن اسلام نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مشرقی پاکستان علیحدہ ہو جائے گا اور پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق پامال ہوں گے۔

تیسری طرف انگریز تھے۔

وہ کہتے تھے کہ برِصغیر کے لوگ uncivilized اور not ready for self rule ہیں۔ یہ ہمیشہ آپس میں ہی لڑتے رہیں گے۔
لہذا انہیں ہمارے خلاف جدوجہد بند کر دینی چاہیے کیونکہ ہم انہیں اِن کی اپنی حکومت سے بہتر زندگی دے سکتے ہیں۔
اب حالت یہ ہو گئی ہے کہہ:

بھارت کو دیکھیں تو لگتا ہے جناح ٹھیک تھے۔

پاکستان کو دیکھیں تو لگتا ہے مولانا آزاد ٹھیک تھے۔

اور دونوں کو دیکھیں تو لگتا ہے انگریز ہی ٹھیک تھے۔

✍️🥀
منقول

گجرات کے گاؤں بانٹوا کا نوجوان عبدالستار گھریلو حالات خراب ہونے پر کراچی جا کر کپڑے کا کاروبار شروع کرتا ہے کپڑا خریدنے ...
16/08/2025

گجرات کے گاؤں بانٹوا کا نوجوان عبدالستار گھریلو حالات خراب ہونے پر کراچی جا کر کپڑے کا کاروبار شروع کرتا ہے کپڑا خریدنے مارکیٹ گیا وہاں کس نے کسی شخص کو چاقو مار دیا زخمی زمین پر گر کر تڑپنے لگا لوگ زخمی کے گرد گھیرا ڈال کر تماشہ دیکھتے رہے وہ شخص تڑپ تڑپ کر مر گیا..

نوجوان عبدالستار کے دل پر داغ پڑ گیا , سوچا معاشرے میں تین قسم کے لوگ ہیں دوسروں کو مارنے والے مرنے والوں کا تماشہ دیکھنے والے اور زخمیوں کی مدد کرنے والے .. نوجوان عبدالستار نے فیصلہ کیا وہ مدد کرنے والوں میں شامل ہو گا اور پھر کپڑے کا کاروبار چهوڑا ایک ایمبولینس خریدی اس پر اپنا نام لکها نیچے ٹیلی فون نمبر لکھا اور کراچی شہر میں زخمیوں اور بیماروں کی مدد شروع کر دی.
وہ اپنے ادارے کے ڈرائیور بهی تهے آفس بوائے بهی ٹیلی فون آپریٹر بهی سویپر بهی اور مالک بهی وہ ٹیلی فون سرہانے رکھ کر سوتے فون کی گھنٹی بجتی یہ ایڈریس لکهتے اور ایمبولینس لے کر چل پڑتے زخمیوں اور مریضوں کو ہسپتال پہنچاتے سلام کرتے اور واپس آ جاتے .. عبدالستار نے سینٹر کے سامنے لوہے کا غلہ رکھ دیا لوگ گزرتے وقت اپنی فالتو ریزگاری اس میں ڈال دیتے تھے یہ سینکڑوں سکے اور چند نوٹ اس ادارے کا کل اثاثہ تهے ..
یہ فجر کی نماز پڑھنے مسجد گئے وہاں مسجد کی دہلیز پر کوئی نوزائیدہ بچہ چهوڑ گیا مولوی صاحب نے بچے کو ناجائز قرار دے کر قتل کرنے کا اعلان کیا لوگ بچے کو مارنے کے لیے لے جا رہے تھے یہ پتهر اٹها کر ان کے سامنے کهڑے ہو گئے ان سے بچہ لیا بچے کی پرورش کی اج وہ بچہ بینک میں بڑا افسر ہے ..
یہ نعشیں اٹهانے بهی جاتے تھے پتا چلا گندے نالے میں نعش پڑی ہے یہ وہاں پہنچے دیکھا لواحقین بهی نالے میں اتر کر نعش نکالنے کے لیے تیار نہیں عبدالستار ایدھی نالے میں اتر گیا, نعش نکالی گهر لائے غسل دیا کفن پہنایا جنازہ پڑهایا اور اپنے ہاتھوں سے قبر کهود کر نعش دفن کر دی .. بازاروں میں نکلے تو بے بس بوڑھے دیکهے پاگلوں کو کاغذ چنتے دیکھا آوارہ بچوں کو فٹ پاتهوں پر کتوں کے ساتھ سوتے دیکها تو اولڈ پیپل ہوم بنا دیا پاگل خانے بنا لیے چلڈرن ہوم بنا دیا دستر خوان بنا دیئے عورتوں کو مشکل میں دیکھا تو میٹرنٹی ہوم بنا دیا .. لوگ ان کے جنون کو دیکھتے رہے ان کی مدد کرتے رہے یہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ ایدهی فاؤنڈیشن ملک میں ویلفیئر کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا یہ ادارہ 2000 میں گن

لاپرواہی کی انتہا، والدین 10 سالہ بیٹے کو ایئرپورٹ پر اکیلا چھوڑ کر روانہ پرات ایئرپورٹ پر ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہ...
08/08/2025

لاپرواہی کی انتہا، والدین 10 سالہ بیٹے کو ایئرپورٹ پر اکیلا چھوڑ کر روانہ
پرات ایئرپورٹ پر ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں ایک جوڑا اپنے 10 سالہ بیٹے کو اکیلا چھوڑ کر پرواز میں سوار ہوگیا۔
اسپین کی قومی پولیس گارڈیا سیول کے مطابق بچے کو سفری دستاویزات میں مسائل کی وجہ سے بورڈنگ کی اجازت نہیں ملی، جبکہ اس کے والدین نے اس کے چھوٹے بھائی کے ساتھ جہاز میں سوار ہونے کا فیصلہ کیا اور بڑے بچے کو پیچھے چھوڑ دیا، کیونکہ وہ لوگ فلائٹ مس نہیں کرنا چاہتے تھے۔

والدین نے اسے ایئرپورٹ پر چھوڑ کر ایک رشتے دار کو فون کیا کہ وہ آ کر بچے کو لے جائے، جبکہ خود پر سکون انداز میں جہاز پر سوار ہو کر روانہ ہو گئے۔

شرارتی کچھوے نے گھر میں آگ لگا دی

ایئرپورٹ کے عملے نے فوری طور پر علاقائی پولیس کو اطلاع دی، بعد میں طیارے کے پائلٹ سے بھی رابطہ کیا گیا، پائلٹ نے بتایا کہ والدین واقعی سفر پر روانہ ہو چکے ہیں اور ان کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ بھی تھا۔

پولیس نے والدین کو تلاش کر کے واپس بلایا اور معاملے کی تحقیقات شروع کیں، بچے کو والدین کے حوالے کر دیا گیا تاہم ان پر بچے کو چھوڑنے (child abandonment) کا مقدمہ درج کیا گیا۔

یہ واقعہ اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا جب ایئرپورٹ پر کام کرنے والے ایک ورکر نے اس پوری کہانی کو ٹک ٹاک پر شیئر کیا۔

05/08/2025

راولپنڈی کا چڑیاں مارنے والا لڑکا:
ایک سچّی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔، ایک عظیم تبدیلی"
ایک قدرت کا معجزہ
راولپنڈی کے ایک پرانے محلے میں ایک شخص اپنے دو بیٹوں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ اُس کے پاس زمین، جائیداد اور عزّت کی کوئی کمی نہ تھی۔ قدرت کا نظام چلا اور وہ انتقال کر گیا۔ دو بیٹے پیچھے رہ گئے — ایک بڑا، دوسرا اس سے تقریباً پندرہ سال چھوٹا۔ بڑا بھائی ذمے دار نکلا۔ اُس نے اپنے چھوٹے بھائی کی پرورش کی، اُسے محبت دی، تربیت دی، حتیٰ کہ شادی کے بعد بھی اپنے بچوں کی طرح پالا۔

مگر چھوٹے بھائی میں ایک عجیب سی عادت تھی — وہ چڑیوں سے نفرت کرتا، اُن کے انڈے توڑتا، بچوں کو مارتا۔ ایک دن جب وہ گھر آیا، اُس کی جیب خون آلود تھی۔ بڑے بھائی نے نرمی سے سمجھایا مگر وہ اندر سے بغاوت کی طرف مائل ہوتا چلا گیا۔ ماں کا انتقال ہوا، بڑے بھائی کو اللہ نے ایک بیٹا عطا کیا، اور یہی لمحہ چھوٹے بھائی کے لیے حسد اور کم ظرفی کا آغاز بن گیا۔ وہ توجہ کے مرکز سے ہٹ گیا تھا، اور اُسے یہ برداشت نہ ہوا۔

وقت گزرا، بڑے بھائی کی سڑک حادثے میں وفات ہوگئی۔ چھوٹا بھائی طاقتور ہو چکا تھا۔ اُس نے زبردستی کاغذات پر دستخط کروائے، جائیداد ہتھیائی، بھابھی اور یتیم بھتیجوں کو گھر سے نکال دیا۔ بھابھی جاتے جاتے کہہ گئی:
"یہ یتیموں کا مال ہے، ایک دن کینسر بن کر تمہارے گلے سے نکلے گا۔"

چند سال بعد بھتیجا کامیاب ہوا، بھابھی کا گھر بس گیا۔ مگر چھوٹے بھائی نے دنیا کی رنگینیوں کو چن لیا — شراب، سگریٹ، گناہ، بے حیائی، غفلت۔
وقت گزرا... گناہ، ظلم، نشہ، اور بددعائیں جیسے اُس کی روح پر داغ بن چکے تھے۔ لیکن وہ بے فکر تھا۔ ایک دن اچانک گلے میں درد اُٹھا، کچھ دن بعد خون آنا شروع ہو گیا۔ ڈاکٹر کے پاس گیا، جانچ ہوئی، رپورٹ نے جیسے زمین کھینچ لی:

"گلے کا کینسر ہے، وہ بھی آخری اسٹیج پر۔"

اُس کی سانسیں اکھڑنے لگیں، ہاتھ کانپنے لگے، ماتھے پر پسینہ جم گیا — اُسے اپنی بھابھی کے وہ الفاظ یاد آئے:

"یتیموں کا مال ایک دن کینسر بن کر نکلے گا۔"
بہت رویا اپنے ماں باپ
اپنے بھائی بھابھی یاد ائے
انکے ساتھ کی ہوئی زیادتی یاد ائی
اور اپنی موت کے لمحے گننا شروع کردئے
حالت ایسی ہوگئی کھانسی اور خون اور درد سے کہ چارپائی سے لگ گیا
اب اسکے لیے سب بے معنی ہوگیا تھا
بس اپنے گناہ اور زیادتیاں اسکا ضمیر ملامت کرتی تھی
اب نہ دوست کام آئے،

بعض تصاویر ایسی ہوتی ہیں کہ کھنچوانے والے اور کھینچنے والے دونوں کو اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ شاہکار بن جائیں گے۔ یہ ایک ای...
05/08/2025

بعض تصاویر ایسی ہوتی ہیں کہ کھنچوانے والے اور کھینچنے والے دونوں کو اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ شاہکار بن جائیں گے۔ یہ ایک ایسی ہی تصویر کی کہانی ہے۔

تصویر میں دکھائی دینے والا شخص ارنیسٹو چی گویرا ہے۔ دن ہے 5 مارچ 1960۔ اور وقت ہوا ہے دن کی گیارہ بج کے بیس منٹ۔ یہ جگہ ہے کیوبا کا دارالحکومت ہوانا۔ فوٹو گرافر کا نام ہے البرٹو کورڈا جس نے چی گویرا سے تقریباً 20 فٹ فاصلے سے یہ تصویر لی ہے۔

دنیا کی تاریخ میں یہ سب سے مشہور تصویر ہے۔ پچھلے ساٹھ سالوں میں اس کی لاکھوں نہیں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کاپیاں بنائی اور تقسیم کی جا چکی ہیں۔

اس وقت چی گویرا کیوبا کا وزیر برائے صنعت اور ترقی تھا۔ فیڈرل کاسترو کیوبا کے صدر کے عہدے پر براجمان تھا۔ یہ دونوں انتہائی نڈر، بے باک، جنگ جو گوریلے ہونے کے ساتھ ساتھ بہت پکے دوست بھی تھے۔ دونوں کا دشمن ایک ہی تھا۔ امریکہ اور اس کا سرمایہ دارانہ نظام۔ ان کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا ناسور امریکہ اور اس کا نظام تھا جو چھوٹے ملکوں میں جان بوجھ کر جنگیں کرواتا ہے تاکہ اپنی جیبیں بھر سکے ۔ دنیا کی معیشت پر سانپ بن کر بیٹھا ہوا ہے۔ کیوبا ایک سوشلسٹ ملک تھا جس نے امریکہ کے سامراج کے خلاف سر اٹھانے کی جسارت کی تھی۔

ادھر امریکہ مہاراج کو ہر سوشلسٹ ملک جیسے کے روس ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ کیوبا تو امریکہ کے بالکل ساتھ تھا۔ اگر سوشلزم کیوبا میں جڑ پکڑ لیتا تو امریکہ پر خطرے کی گھنٹی ہر وقت بجتی رہتی۔ یوں سمجھ لیجئے کہ روس امریکہ کے سر پر بیٹھ جاتا۔

چنانچہ امریکہ کچھ بھی کر کے کیوبا میں سوشلسٹ حکومت تباہ و برباد کرنا چاہتا تھا۔ سب سے زیادہ غصہ امریکہ کو چی گویرا پر تھا جس نے بھری اقوام متحدہ میں امریکہ کو تقریبا گالیاں دے دی تھی۔ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے چوری چھپے جی گویراکی سپاری تک دے چکا تھا۔

بہرحال، اسی دوران ایک بڑا واقعہ ہوگیا۔

کیوبا نے بیلجیئم سے چھہتر ٹن ہتھیار خریدے جو ہوانا کی بندرگاہ پر اتارے جا رہے تھے۔ کسی نامعلوم تحریک کاری کی وجہ سے دھماکا ہوگیا۔ منوں بارود سے لدا جہاز دھماکے سے پھٹ گیا اور تقریبا سو سے زیادہ سول لوگوں کی جان گئی اور سینکڑوں شدید زخمی ہوئے۔

جی گہرا جو وزیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر ڈاکٹر بھی تھا خود بھاگ کر بندرگاہ پر پہنچا۔ زخمیوں کو طبی مدد فراہم کی۔ کئی زخمیوں نے چی گویرا کے ہاتھ میں دم توڑا۔

بھلے

05/08/2025

ایک دن میں نکر پہن کر مسجد میں چلا گیا،مولوی صاحب غصے میں آگئے بولے تُم مسجد میں نکر پہن کر کیوں آئے ہو،ایسا کرو گے تو تُم جہنم میں جاؤ گے،میں گھر آکر ماں جی کو بتایا تو بولیں پُتر! مولوی صاحب غصے میں ہوں گے اس لیے ایسا بول دیا اُنہوں نے،ورنہ جہنم حاصل کرنے کیلیے بیٹا بڑی محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔پُتر جہنم حاصل کرنے کے لیے بڑا سخت دل ہونا پڑتا ہے۔پُتر جہنم لینے کیلیے دوسروں کا حق مارنا پڑتا ہے۔اس کےلیے قاتل بننا پڑتا ہے،فساد پھیلانا پڑتا ہے۔مخلوقِ خُدا کو اذیت دینی پڑتی ہے،نہتے انسانوں پر آگ اور بارود کی بارش کرنی پڑتی ہے۔شیطان کا پیروکار بن کر محبت سے نفرت اور نفرت سے محبت کرنی پڑتی ہے۔پُتر اس کے لیے قزاق بننا پڑتا ہے۔پُتر اس کے لیے ماؤں کی زندگیاں گُم کرنے کےلیے خرکار بننا پڑتا ہے،خالق اور رحمت العالمین سے تعلق توڑنا پڑتا ہے۔تب کہیں جاکر جہنم ملتی ہے،پُتر توں تو بڑا کاہل ہے پانی بھی خود نہیں پیتا تُجھ سے اتنی محنت کہاں ہو پائے گی؟ تُوں تو چڑیا کی موت پر ہفتوں روتا ہے توں اتنا سنگدل کیسے بن سکتا ہے؟

طارق بلوچ صحرائی کی کتاب "گونگےکاخواب" سے اقتباس

گونگے کا خواب | طارق بلوچ صحرائی |

منقول

را ایک دوست بلڈ بینک میں کام کرتا تھا 2022 میں نے ایک بلڈ بینک ادارے کو اپنے خون کا عطیہ دیا تو میرے دل میں تجسس پیدا ہو...
04/08/2025

را ایک دوست بلڈ بینک میں کام کرتا تھا 2022 میں نے ایک بلڈ بینک ادارے کو اپنے خون کا عطیہ دیا تو میرے دل میں تجسس پیدا ہوا کہ کیا واقعی ہمارا دیا گیا خون ضرورت مندوں تک پہچتا ہے یا نہیں یہ سوال میں نے اپنے دوست سے کیا تو اس کا جواب سن کے بے حد افسوس ہوا
بلڈ بینک والے سارا خون جمع کرکے وہ سارا خون ضرورت مندوں کو منہ مانگے دام فروخت کرتے ہیں اور عام کاروباروں کی طرح اس کاروبار کا بھی آجکل عروج ہے ہر ہفتے کوئی نا کوئی بلڈ بینک ٹیم اپنی دکان کھول کر بیٹھ جاتی ہے جہاں سے غریبوں کا خون مفت میں لے کر پرائیوٹ ہسپتالوں اور ضرورت مندوں کو منہ مانگے دام فروخت کیا جاتا ہے ۔ آپ تمام پڑھنے والوں سے گزارش ہے اپنے خون کا عطیہ سرکاری ہسپتال میں کس غریب ضرورت مند کو دیں اور ان فراڈی بلڈ بینک والوں سے پرہیز رکھیں شکریہ

Address

Bahawalpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اردو ادبیات ،رینمائی ،پوسٹنگ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category