18/10/2023
وہ آنکھوں میں سمائے تو سماتے ہی گئے۔
میرے سامنے مسکرائے تو مسکراتے ہی گئے۔
سوچا تھا مختصر سا ہو گا یہ سفر لیکن۔
انہوں نے تعلق نبھائے تو نبھاتے ہی گئے۔
میرے چراغِ محبت کی لو نہ ٹھنڈی ہوئی۔
رقیب اگرچہ خوب ہوائیں چلاتے ہی گئے۔
اک دعا ان کو پانے کی جو قبول ہوئی۔
ہم بھی پھر ہاتھ ہر بار پھیلاتے ہی گئے۔
ہماری کشتی عشق آخر کنارے پہ لگی۔
اگرچہ طوفان سمندر میں آتے ہی گئے۔
مجنوں شکریہ ان کا میں کیسے ادا کروں۔
میرے نصیب جگائے تو جگاتے ہی گئے۔