I am burewala

I am burewala living burewala and promting cultur

26/04/2026
21/04/2026

زندہ وہی ہے جو آپ کے دل میں زندہ ہے
جو دل سے اتر گیا وہ مر گیا

16/04/2026

Sakooon

16/04/2026

12/04/2026

کسی کو ادھار دینے سے پہلے اچھی طرح گلے لگا لیں
ہو سکتا ہے یہ آپ کی آخری ملاقات ہو

08/04/2026

07/04/2026

A beautiful rainy day

03/04/2026

سوال:-
صبر اور شکر کے مقام پر دوسروں کے سامنے آنسو بہاتے جانا کہاں تک ٹھیک ہے؟
جواب:-
*غم یا غم کا اظہار اگر Pity Invoke کرنے کے لئے ہے تو یہ پراپیگنڈہ ہے ۔ اگر وہ شخص آنسوٶں سے Pity Invoke کرتا ہے تو یہ پراپیگنڈہ ہے ۔ غم ایک ایسی چیز ہے جو آپ کے دل میں اُتر جائے ، آپ کے باطن پر نازل ہو جائے اور آپ اس کو اللہ کی طرف سے ایک خاص احسان سمجھ کے قبول کریں اور غم کو اپنے پر سوار نہ ہونے دیں، غم کے راستے کو اللہ کی یاد کی طرف لے چلو تو پھر اللہ تعالیٰ کا بہت تقرب ملتا ہے
وہ لوگ جنہوں نے غم کو لوگوں کی نگاہوں سے بچایا اور وہ لوگ جو اپنے غم کو رات کے آنسوٶں تک لے گئے وہ فلاح پا گئے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا“ یعنی وہ ہنستے کم ہیں اور روتے زیادہ ہیں ۔ یہ لوگوں کے سامنے کی بات نہیں بلکہ اللہ کے سامنے کی بات ہو رہی ہے ۔ تو اپنے غم کو نامحرموں سے چھپانا ہی بہتر ہے ۔ دنیا سے غم کو چھپانا ہی بہتر ہے ۔ دنیا کا کام یہ ہے کہ وہ آپ کے غم کا لطف برباد کر دے گی ۔ دنیا کو کبھی غم کی قیمت دینے والا نہ بناٶ ۔ دنیا غم کی قیمت نہیں دے سکتی ۔ غم نفاست پیدا کرتا ہے اور دنیا کھردرے سے کیا نفاست دیکھے گی ، آپ کے فائن لباس کی نفاست کیسے دیکھے گی ۔ اگر اللہ سے آپ کو غم مل ہی گیا ہے ۔ تو اسے کٹھور لوگوں کو دکھایا تو کیا دکھایا ۔ غم کو تو کم از کم سنبھال کے رکھو ۔ یہ سرمایہ ہے ۔ اسے دل میں رکھنا ۔ انسانوں سے ہمدردی Seek کرنا غلطی ہے کہ آپ لوگوں سے ہمدردی مانگیں

چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دِکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا

تو اس طرح تو دل جلوں میں شمار نہیں ہوتا ۔ مطلب یہ کہ یہ مقام اور ہے ۔ غم کو امانت سمجھ ۔ غم کو کیفیت بنا ۔ غم کو عبادت بنا ۔ غم کو اللہ کا تقرب بنا ۔ غم اور آنسو اور خدا ایک جگہ رہنے چاہییں ۔اگر انسان کے پاس کتاب کا علم نہ ہو ، مذہب کا بھی زیادہ علم نہ ہو اور وہ خدا کے بارے میں کوئی آسان نسخہ سمجھنا چاہے کہ خدا کیا ہے تو اس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ تنہائی میں نکلنے والے آنسو جو ہیں یہ تیرے اللہ کا قرب ہیں ۔ ایسے آنسو جو کسی انسان کا گِلہ نہ کر رہے ہوں اور تنہائی میں ہوں اور اُس وقت

یا تو رات ہو یا پھر حق کی ذات ہو

تو وہ آنسو جو ہیں وہ اللہ کا تقرب ہیں ۔ ورنہ تو دوسرے آنسو بچوں کے آنسوٶں جیسے ہوتے ہیں یا پھر Crocodile کے ہوتے ہیں

(گفتگو والیم 23 ............. صفحہ نمبر 171 ، 172 ، 173)

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

30/03/2026

Haseen safar

29/03/2026

آییے قرآن کی اس آیت پر تدبر کرتے ھیں جو دلوں کو بدل دینے والی آیت ھے

“يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ
إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ”
(الشعراء 88-89)

قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد،
سوائے اس کے جو اللہ کے پاس سلیم دل لے کر آئے

قلب سلیم دراصل ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کا دل اندر سے صاف، نرم اور بیدار ہو جاتا ہے۔ یہ صرف ایک اصطلاح نہیں بلکہ قرآن کا وہ معیار ہے جس پر انسان کی اصل کامیابی کا فیصلہ ہونا ہے۔ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، صرف وہ دل کام آئے گا جو سلامت ہو—جو حسد، تکبر، کینہ اور دنیا کی آلودگیوں سے پاک ہو۔

ہم اکثر عبادت کو ایک عمل سمجھتے ہیں، ایک فریضہ جو ادا کرنا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں گہری ہے۔ نماز صرف جھکنا نہیں، روزہ صرف بھوکا رہنا نہیں، اور استغفار صرف الفاظ دہرانا نہیں۔ یہ سب دراصل دل کی صفائی کے مراحل ہیں۔ جیسے کوئی آئینہ گرد سے بھر جائے تو اس میں روشنی منعکس نہیں ہوتی، ویسے ہی دل جب گناہوں اور غفلت سے بھر جاتا ہے تو وہ نور کو قبول نہیں کر پاتا۔

اسی لیے استغفار کا اصل مقصد صرف مشکلات کا حل یا رزق میں اضافہ نہیں، بلکہ دل کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اللہ کے نور کو جذب کر سکے۔ جب انسان بار بار “استغفراللہ” کہتا ہے تو وہ صرف گناہ نہیں مان رہا ہوتا، وہ اپنے دل کی تہوں کو صاف کر رہا ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ ایک بھاری پن ہلکا ہونے لگتا ہے، ایک دھند چھٹنے لگتی ہے۔

ذکر بھی یہی کام کرتا ہے۔ جب زبان “سبحان اللہ” کہتی ہے اور دل اس کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو ایک عجیب سا سکون اترنے لگتا ہے۔ یہ سکون صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی بھی ہوتا ہے۔ دل کی دھڑکن نرم پڑتی ہے، سانسیں ہموار ہوتی ہیں، اور انسان اندر سے پرسکون محسوس کرتا ہے۔ گویا ذکر دل کو اس کی اصل حالت میں واپس لے آتا ہے۔

قلبِ سلیم وہ دل ہے جو ہر حال میں اللہ کی طرف متوجہ رہے۔ خوشی میں بھی اور غم میں بھی۔ ایسا دل حالات سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ ہر حال میں ایک اندرونی استحکام رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کی باتوں سے کم متاثر ہوتا ہے اور اللہ کے ساتھ تعلق سے زیادہ جیتا ہے۔ اس میں ایک نور پیدا ہو جاتا ہے جو صحیح اور غلط کے درمیان فرق کو واضح کر دیتا ہے۔

لیکن یہ حالت خود بخود نہیں آتی۔ اس کے لیے انسان کو اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے۔ اپنے دل کے اندر چھپے ہوئے کینے، حسد اور انا کو پہچاننا پڑتا ہے۔ کبھی کسی کو معاف کرنا پڑتا ہے، کبھی خود کو جھکانا پڑتا ہے، کبھی خاموش ہو کر اللہ کے سامنے بیٹھنا پڑتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں دل آہستہ آہستہ نرم ہوتا ہے۔

ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم عبادت کو جسم تک محدود رکھتے ہیں اور دل کو ساتھ نہیں لاتے۔ اسی لیے ہم پڑھتے بہت ہیں مگر بدلتے نہیں۔ حالانکہ اصل تبدیلی دل سے شروع ہوتی ہے۔ جب دل بدلتا ہے تو انسان کا دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے، اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، اس کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔

قلبِ سلیم دراصل وہ دل ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کا غلام نہیں بنتا۔ جو لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اللہ کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ جو خاموشی میں بھی اللہ کو یاد کرتا ہے اور ہجوم میں بھی اپنے رب کو نہیں بھولتا۔

اور شاید یہی اصل کامیابی ہے—کہ انسان اس حال میں دنیا سے جائے کہ اس کا دل بوجھل نہ ہو، اس میں کوئی میل نہ ہو، بلکہ وہ ایک صاف، روشن اور نرم دل لے کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہو۔ کیونکہ آخرکار اللہ کو ہمارے اعمال سے زیادہ ہمارا دل درکار ہے۔

Address

Burewala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when I am burewala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category