03/04/2026
سوال:-
صبر اور شکر کے مقام پر دوسروں کے سامنے آنسو بہاتے جانا کہاں تک ٹھیک ہے؟
جواب:-
*غم یا غم کا اظہار اگر Pity Invoke کرنے کے لئے ہے تو یہ پراپیگنڈہ ہے ۔ اگر وہ شخص آنسوٶں سے Pity Invoke کرتا ہے تو یہ پراپیگنڈہ ہے ۔ غم ایک ایسی چیز ہے جو آپ کے دل میں اُتر جائے ، آپ کے باطن پر نازل ہو جائے اور آپ اس کو اللہ کی طرف سے ایک خاص احسان سمجھ کے قبول کریں اور غم کو اپنے پر سوار نہ ہونے دیں، غم کے راستے کو اللہ کی یاد کی طرف لے چلو تو پھر اللہ تعالیٰ کا بہت تقرب ملتا ہے
وہ لوگ جنہوں نے غم کو لوگوں کی نگاہوں سے بچایا اور وہ لوگ جو اپنے غم کو رات کے آنسوٶں تک لے گئے وہ فلاح پا گئے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا“ یعنی وہ ہنستے کم ہیں اور روتے زیادہ ہیں ۔ یہ لوگوں کے سامنے کی بات نہیں بلکہ اللہ کے سامنے کی بات ہو رہی ہے ۔ تو اپنے غم کو نامحرموں سے چھپانا ہی بہتر ہے ۔ دنیا سے غم کو چھپانا ہی بہتر ہے ۔ دنیا کا کام یہ ہے کہ وہ آپ کے غم کا لطف برباد کر دے گی ۔ دنیا کو کبھی غم کی قیمت دینے والا نہ بناٶ ۔ دنیا غم کی قیمت نہیں دے سکتی ۔ غم نفاست پیدا کرتا ہے اور دنیا کھردرے سے کیا نفاست دیکھے گی ، آپ کے فائن لباس کی نفاست کیسے دیکھے گی ۔ اگر اللہ سے آپ کو غم مل ہی گیا ہے ۔ تو اسے کٹھور لوگوں کو دکھایا تو کیا دکھایا ۔ غم کو تو کم از کم سنبھال کے رکھو ۔ یہ سرمایہ ہے ۔ اسے دل میں رکھنا ۔ انسانوں سے ہمدردی Seek کرنا غلطی ہے کہ آپ لوگوں سے ہمدردی مانگیں
چمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دِکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا
تو اس طرح تو دل جلوں میں شمار نہیں ہوتا ۔ مطلب یہ کہ یہ مقام اور ہے ۔ غم کو امانت سمجھ ۔ غم کو کیفیت بنا ۔ غم کو عبادت بنا ۔ غم کو اللہ کا تقرب بنا ۔ غم اور آنسو اور خدا ایک جگہ رہنے چاہییں ۔اگر انسان کے پاس کتاب کا علم نہ ہو ، مذہب کا بھی زیادہ علم نہ ہو اور وہ خدا کے بارے میں کوئی آسان نسخہ سمجھنا چاہے کہ خدا کیا ہے تو اس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ تنہائی میں نکلنے والے آنسو جو ہیں یہ تیرے اللہ کا قرب ہیں ۔ ایسے آنسو جو کسی انسان کا گِلہ نہ کر رہے ہوں اور تنہائی میں ہوں اور اُس وقت
یا تو رات ہو یا پھر حق کی ذات ہو
تو وہ آنسو جو ہیں وہ اللہ کا تقرب ہیں ۔ ورنہ تو دوسرے آنسو بچوں کے آنسوٶں جیسے ہوتے ہیں یا پھر Crocodile کے ہوتے ہیں
(گفتگو والیم 23 ............. صفحہ نمبر 171 ، 172 ، 173)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ