Hazrat Ali ke Aqwal

Hazrat Ali ke Aqwal https://www.youtube.com/ Hazrat Ali a.s ke Aqwal

07/05/2024
06/05/2024

حضرت آدم علیہ السلام کا فرمان انسان کے اندر خوب سے خوب تر اور مفید سے مفید تر کی تلاش کا جذبہ ہر وقت کام کرتا ہے۔

plz follow me
06/05/2024

plz follow me

Follow me plz
06/05/2024

Follow me plz

27/04/2024

بیشک جو سکوں سجدے میں ہے
دنیا کی کسی چیز میں نہی
اللہ پاک ہر کسی کو ولایت کہ ساتھہ سجدا نصیب کرے
آمیں❤🙌🏻

27/04/2024

, علی علیہ السلام کے ماننے والوں پیچ کو لائک اور شیئر اور فالو کریں حلال ہے ہمشہ فالو کریں سی سب مل کر نعر حیدر حق یاعلی مدد

23/04/2024

امام حسینؑ احادیث نبوی میں
حضرت رسول خدا ص اپنےفرزند ارجمند امام حسین علیہ السلام سے بے انتہا محبت کیا کرتے تھے آپ کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کی شان و منزلت اور کیا مقام تھا اس سلسلہ میں آپ کی بعض احادیث پیش خدمت ہیں۔

1۔ حُسَينٌ مِنِّي وأنا مِن حُسين، أحَبَّ اللهُ مَن أحبَّ حُسَيناً والحسين سبط من الأسباط

حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں ، اللہ ہر اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین ؑسے محبت کرتا ہے

الجامع الصحيح سنن الترمذيالجزء 5 الصفحة 658۔ 2۔المعجم الكبير ج3 ح2586 ص32

2۔ الحسن والحسین سیدا شباب اہل الجنۃ

حسنؑ اور حسینؑ جوانان جنت کے سردار ہیں

سنن الترمذي ت شاكر 5/ 656

3۔ أن الحسين باب من أبواب الجنة من عاداه حرّم الله عليه ريح الجنة

بے شک حسینؑ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہیں جو کوئی بھی حسینؑ سے دشمنی رکھے اللہ نے اس پر جنت کی خوشبو حرام کردی ہے

مائة منقبة: ص22 المنقبة الرابعة.

4۔ من أحب الحسن و الحسين فقد أحبني ، و من أبغضهما فقد أبغضني .

جو حسنؑ اور حسینؑ سے محبت کرتا ہے پس وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان دونوں سے بغض رکھتا ہے پس وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے

و رَواه أحمد بن حنبل في مسنده : 2 / 288 .

5۔ من اراد ان ینظر الی سید شباب اھل الجنۃ فلینظر الی حسین ابن علی ۔

جو کوئی بھی جنت کے جوانوں کے سردار کو دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئیے کہ حسینؑ بن علیؑ کو دیکھے

سیراعلام النبلاء ، ج۳ ، ص ۱۹۰

6۔ انی حرب لمن حاربکم وسلم لمن سالمکم

(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جناب علی ؑ فاطمۃ ؑ حسنؑ اور حسین ؑ کی جانب دیکھ کر فرمایا) میری ہر اس سے جنگ ہے جس کی آپ سے جنگ ہے اور اس سے سلامتی ہے جس کی آپ کے ساتھ سلامتی ہے

فرائد السمطين: ج2 ص83

7۔ الحسن والحسين ابناي، من أحبَّهما أحبَّني، ومن أحبَّني أحبَّه اللهُ،

حسنؑ اور حسینؑ میرے دو بیٹے ہیں جو ان دونوں سے محبت رکھے اس نے مجھ سے محبت رکھی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی

المستدرك على الصحيحين رقم الحديث: 4719

8۔ عن البَرَّاء بن عازب، قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله حاملاً الحسين بن علي عليهما السلامعلى عاتقه وهو يقول: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحبُّهُ فَأحِبَّه

"براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا ص کو دیکھا کہ آپ ص حسینؑ بن علیؑ کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے یہ فرما رہے تھے" خداوندا! میں حسین ؑ سے محبت کرتا ہوں تو بھی حسینؑ سے محبت کرے"

9۔ عن أنس بن مالك قال:سمعت رسول الله يقول نحن ولد عبد المطلب سادة أهل الجنة، أنا وحمزة وعلي وجعفر والحسن والحسين والمهدي

"انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ص کو یہ فرماتے ہوئے سنا "ہم عبد المطلب کی اولاد اہل جنت کے سردار ہونگے: میں حمزہؑ علیؑ جعفرؑ حسنؑ اور حسینؑ "

مناقب الإمام علي من الرياض النضرة ح268 ص202

10۔ قال رسول الله لعلي بن ابي طالب: إن أول أربعة يدخلون الجنة أنا وأنت والحسن والحسين"

"رسول اکرم ص نے امام علی ؑ سے فرمایا" بتحقیق سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے چار افراد میں،آپ،حسنؑ اور حسینؑ ہونگے"

(نور الأبصار ص123)

ابو ہریرہ سے روایت ہے :میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ص امام حسینؑ کواپنی آغوش میں لئےہوئےیہ فرمارہےتھے :

11۔ اللھم انی احِبُّه فاحبّه"

پروردگار میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر

(مستدرک حاکم ،جلد ٣،صفحہ ١٧٧)"

اسی طرح ارشاد فرمایا

12۔ اللھم انی اُ حِبُّہ وَ أُحِبَّ کُلَّ مَنْ یُحِبُّہُ''

''خدایا میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جو اس سے محبت کرتا ہے اس سے بھی محبت کرتا ہوں''

(نور الابصار، صفحہ ١٢٩)

یعلی بن مرہ سے روایت ہے :ہم نبی اکرم ص کےساتھ ایک دعوت میں جا رہے تھے تو آنحضرت ص نے دیکھا کہ حسین ع سکوں سے کھیل رہے ہیں تو آپ ص نےکھڑےہوکراپنےدونوں ہاتھ امام کی طرف پھیلادئے ،آپ مسکرارہے تھے اور کہتے جا رہے تھے، بیٹا ادھر آؤ ادھرآؤ یہاں تک کہ آپ نے امام حسین ؑ کو اپنی آغوش میں لیا ، ان کے بوسے لئے اور فرمایا:

13۔ حسين منی وانامن حسين،احب اللّٰه من احب حسينا،حسين سبط من الاسباط

"حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں خدایاجو حسینؑ سے محبت کرے تو اس سے محبت کر ، حسینؑ بیٹوں میں سے ایک بیٹا ہے"

(سنن ابن ماجہ ،جلد ١،صفحہ ٥٦)

13۔سلمان فارسی سے روایت ہے :جب میں نبی ص کی خدمت میں حا ضر ہوا تو امام حسینؑ آپ کی ران پر بیٹھے ہوئے تھے اور نبی اکرم ص آپ کے رخسار پربوسہ دیتے ہوئے فر ما رہے تھے:

14۔ انت سيد ُبْنُ سَيد،انت امام بن امام،وَاَخُوْااِمَامٍ،وَاَبُوالاَئِمَةِ،وَاَنْتَ حُجَّةُ اللّٰه وَابْنُ حُجَّتِه،وَاَبُوْحُجَجٍ تِسْعَةٍ مِنْ صُلْبِکَ،تَاسِعُهمْ قَائِمُهمْ

''آپ سید بن سید،امام بن امام ،امام کے بھا ئی،ائمہ کے باپ ،آپ اللہ کی حجت اور اس کی حجت کے فرزند،اور اپنے صلب سے نو حجتوں کے باپ ہیں جن کا نواں قا ئم عج ہوگا ''۔

) حیاةالامام حسین ، جلد ١،صفحہ ٩٥(

ابن عباس سے مروی ہے :رسول اسلام اپنے کا ندھے پر حسینؑ کو بٹھا ئے لئے جا رہے تھے تو ایک شخص نے کہا :

15 ۔''نِعم المرکب رکبت ياغلام ،فاجا به الرسول :''ونعم الراکب هوَ''

''کتنا اچھا مرکب (سواری) ہے جو اس بچہ کو اٹھا ئے ہوئے ہے، رسول اللہ ص نےجواب میں فرمایا:''یہ سواربہت اچھاہے ''۔
۔( تاجِ جامع للاصول ،جلد ٣،صفحہ ٢١٨)

رسول اللہ کا فرمان ہے :

16۔''ھذا(يعنی :الحسين )امام بن امام ابوائمةٍ تسعةٍ''

یہ، یعنی امام حسینؑ،امام ابن امام اور نو اماموں کے باپ ہیں۔

۔( منہاج السنة، جلد ٤،صفحہ ٢١٠)

یزید بن ابو زیاد سے روایت ہے :نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عائشہ کے گھر سے نکل کر حضرت فاطمہ زہرا (س) کے بیت الشرف کی طرف سے گذرے تو آپ کے کانوں میں امام حسینؑ کے گریہ کرنے کی آواز آ ئی، آپ بے چین ہوگئے اور جناب فاطمہ (س) سے فر مایا:

17۔ اَلَمْ تَعْلَمِیْ اَنَّ بُکَائَه يوْذِينِیْ؟

''کیا تمھیں نہیں معلوم حسینؑ کے رونے سے مجھ کو تکلیف ہو تی ہے ''۔

( مجمع الزوائد، جلد ٩،صفحہ ٢٠١)

یہ وہ بعض احا دیث تھیں جو رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بیٹے امام حسینؑ سے محبت کے سلسلہ میں بیان فرمائی ہیں یہ شرافت و کرامت کےتمغے ہیں جوآپ نے اس فرزند کی گردن میں آویزاں کئے جو بنی امیہ کے خبیث افراد کے حملوں سے آپ کی اقدار کی حفاظت کر نے والا تھا ۔

Address

Dera Ghazi Khan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hazrat Ali ke Aqwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category