اسلام زنداباد

اسلام زنداباد دین کی خاطر

عربوں کے ہاں جو اونٹنی اپنی افادیت کھو دیتی، کسی کام کی نہ رہتی، اُسے پالنے کا خرچہ ، اُس سے حاصل ہونے والے فائدے سے کہی...
12/07/2026

عربوں کے ہاں جو اونٹنی اپنی افادیت کھو دیتی،
کسی کام کی نہ رہتی،
اُسے پالنے کا خرچہ ، اُس سے حاصل ہونے والے فائدے سے کہیں زیادہ ہو جاتا،
تو اُسے ریوڑ سے الگ کر کے جنگل کی طرف چھوڑ آتے ،
جہاں وہ کھلے میدانوں میں آوارہ پھرتی،
جہاں سے چاہتی کھاتی پیتی اور جہاں چاہتی لیٹ جاتی۔

یہ اونٹنی اتنی بے وقعت ہو جاتی کہ اس کی فکر کرنا بھی بے معنی لگتا،
بلکہ اس کی ملکیت کا دعوی کرنے والا بھی کوئی نہ ہوتا۔

یہ اونٹنی اپنے بھاری بھرکم جسم کے ساتھ ،
زمین کے کچھ حصے پر جگہ تو گھیرتی،
آکسیجن بھی استعمال کرتی ،
لیکن اپنے وجود کے مقصد میں کوئی حصہ ادا نہ کر پاتی ،
نہ دودھ دیتی ، نہ بچے ،
نہ اس کی کھال استعمال ہوتی اور نہ گوشت۔

اس اونٹنی کو سُدی کہا جاتا ۔

اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَكَ سُدًى(36)
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ (سورت قیامہ: 36)

قرآن کریم نے اس لفظ کو ایسے انسان کےلیے استعمال کیا ہے جو اپنی اصل ذمہ داری اور مقصد کو چھوڑ بیٹھا ہو،
جس کی زندگی وحی کے نور سے خالی ہو ،
جس کے ذہن میں موت کی کوئی فکر نہ ہو،
جسے آخرت میں جوابدہی کا کوئی احساس نہ ہو،
جو صرف کھاتا پیتا اور عیاشی کرتا ہو،
جس کا سب سے بڑا مقصد گھر بنانا، دوسرے ملک شفٹ ہونا،
بے مقصد سوشل میڈیا استعمال کرنا ہو

اس سے زیادہ زندگی کا کوئی مقصد نہ ذہن میں ہو، نہ عمل میں تو یہ شخص سُدی ہے۔

کیونکہ اس نے اپنی تخلیق کا مقصد چھوڑ دیا ہے،
یہ ایسا جانور ہے جو زمین پر بوجھ ہے،
اس کے مرنے پر نہ زمین روتی ہے، نہ آسمان۔

فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ
پھر نہ ان پر آسمان رویا، نہ زمین۔ (سورت دخان: 29)

جن مقاصد اور اہداف کو وہ اپنی زندگی میں جی رہا ہے،
اس کے بقول یہی زندگی کے حقیقی مقاصد ہیں،
لیکن حقیقت میں یہ مقاصد معاشرے نے اس پر مسلط کیے ہیں،
کامیابی و ناکامی کے یہ معیارات زمانے نے رائج کیے ہیں،

اگر وہ قرآن پڑھ لے،
نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو دیکھ لے،
تو اسے شدت سے احساس ہو کہ میں تو سُدی ہوں۔

جب تک اس کا دل نورِ قرآن سے منور نہیں ہو جاتا،
یہ مادی کامیابیاں اسے اصل مقصدِ زندگی تک پہنچنے ہی نہیں دیں گی۔

یہ قرآن ہی ہے جو دنیا میں مصروف رکھ کر بھی آخرت کو نظروں سے پوشیدہ نہیں ہونے دیتا :

وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا
اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے، اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو۔ (سورت قصص: 77)

ابھی سانس آ رہی ہے،
تو موقع ہے،
سوچ لیں کہ سُدی بن کر زندگی گزارنی ہے یا اپنی مقصدیت اور نافعیت ثابت کرنی ہے؟

اگر با مقصد اور نافع بننا چاہتے ہیں،
تو آج ہی سے قرآن کریم کے ساتھ جڑ جائیں۔ قرآن کو سمجھیں ،اس پر عمل کریں اور اقامت دین کیلئے قرآن کے پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں

احمد رضا

12/05/2025

Address

Dera Ismail Khan
786555

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اسلام زنداباد posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category