01/01/2024
خدشہ-یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور-یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار-یہ تیرے لب یہ دیار یمن کے سرخ عقیق-یہ آئنے سی جبیں سجدہ گاہ لیل و نہار-یہ بے نیاز گھنے جنگلوں سے بال ترے-یہ پھولتی ہوئی سرسوں کا عکس گالوں پر-یہ دھڑکنوں کی زباں بولتے ہوئے آبرو-کمند ڈال رہے ہیں مرے خیالوں پر-تری جبیں پہ اگر حادثوں کے نقش ابھریں-مزاج گردش دوراں بھی لڑکھڑا جائے-تو مسکرائے تو صبحیں تجھے سلام کریں-تو رو پڑے تو زمانے کی آنکھ بھر آئے-مگر میں شہر حوادث کے سنگ زادوں سے-یہ آئنے سا بدن کس طرح بچاؤں گا-مجھے یہ ڈر ہے کسی روز تیرے قرب سمیت-میں خود بھی دکھ کے سمندر میں ڈوب جاؤں گا