25/07/2026
وادیِ تمنا
تحریر: ڈاکٹر تہلیل الرحمن
جب ہمیں یہ خبر ملی کہ جناب میاں محمد نواز شریف صاحب—جنہیں پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ کا تاج تین تین بار بلا شرکتِ غیرے پہننے کا شرف حاصل رہا ہے، اور جن کے دورِ حکومت میں ہر شے اس قدر ارزاں تھی کہ سوائے عقل اور روپیے کے ہر چیز سستی ملتی تھی—اب آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم بننے کے لیے دل میں لڈو پھوڑ رہے ہیں، تو ہمارے گھر کا کتا بھی جو پچھلے دس سال سے صرف مہنگائی پر رو رہا تھا، ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔ اس نے حیرت سے ہماری طرف دیکھا اور بولا: "حج کی حج اور سواج کی سواج! تین بار وفاق کو ہلا دینے کے بعد اب بندہ کشمیر کے پہاڑوں سے بکرے چرانے کی تمنا کرے، تو اس انہونی کو قدرت کا مذاق نہ کہیں تو کیا کہیں؟"
دراصل بات یہ ہے کہ انسان کی طمعِ جاہ و حشم کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ سکندرِ اعظم نے جب پوری دنیا فتح کر لی تو وہ رویا کہ اب فتح کرنے کے لیے کوئی ملک باقی نہیں بچا۔ لیکن ہمارے میاں صاحب اس معاملے میں سکندرِ اعظم سے کہیں آگے ہیں؛ انہوں نے دنیا تو کیا فتح کرنی تھی، خود اپنے ملک کو تین بار فتح کیا، اس کے ایوانِ اقتدار کی خشتِ اول سے لے کر خشتِ آخر تک سے ذاتی مراسم رکھے، اور اب جب وہاں کرنے کو کچھ خاص نیا تماشا باقی نہیں رہا، تو ان کی نظرِ عنایت و کرم آزاد کشمیر کے اس خطے پر پڑی ہے جہاں کی سیاست اتنی متلاطم ہوتی ہے کہ وزیراعظم کو خود یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ صبح اٹھ کر ناشتہ اپنے گھر میں کرے گا یا جیل میں یا پھر کسی دوسرے گروپ کے ہوٹل میں!
پروٹوکول اور پہاڑی بکریوں کا تصادم
ذرا تصور کیجیے اس منظر کا، جب میاں صاحب مظفرآباد کے اس نمدہ پوش اور تنگ و تاریک راستے پر اپنے شاہانہ قافلے کے ساتھ تشریف لے جائیں گے۔
پاکستان میں تو ان کا پروٹوکول دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ ڈیڑھ سو گاڑیاں آگے، ڈیڑھ سو پیچھے، درمیان میں ایک عدد جیمر، اور اس کے پیچھے وزیراعظم کی گاڑی جو خود اتنی چوڑی ہوتی ہے کہ سڑک چھوٹی پڑ جاتی ہے۔ لیکن اب جو وہ کشمیر کی وادیوں میں پہنچیں گے، تو وہاں تو سڑکیں اتنی پتلی ہیں کہ دو بکریاں بھی آمنے سامنے آ جائیں تو ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔
سوچیے! میاں صاحب کی وہ چھ دروازوں والی مرسڈیز، جس کے آگے اور پیچھے گارڈز اس طرح دوڑتے ہیں جیسے کوئی اولمپک کا دوڑ کا مقابلہ ہو، جب وہ نیلم یا جہلم ویلی کے کسی کچے موڑ پر پہنچے گی، تو وہاں بیٹھا ہوا ایک مقامی بکروال اپنی لاٹھی ٹیک کر کھڑا ہو جائے گا۔ وہ حیرت سے پوچھے گا:
"بھائی صاحب! یہ کون سا لشکرِ ظفرپناہ آ رہا ہے؟ کیا ہلاکو خان نے دوبارہ حملہ کر دیا ہے؟"
اور جب اسے بتایا جائے گا کہ یہ پاکستان کے تین بار کے وزیراعظم ہیں جو اب یہاں کے "چھوٹے موٹے" وزیراعظم بننے کی مشق کرنے تشریف لائے ہیں، تو وہ بکروال فوراً اپنی بکریوں کو سنبھالے گا اور کہے گا: "یا اللہ! خیر کر! جو بندہ اسلام آباد کے وزیراعظم ہائوس میں نہیں گھس سکا، وہ ہمارے اس دو کمروں کے سیکرٹریٹ میں کیا تیر مارے گا؟"
ترقیاتی منصوبے: موٹروے سے پائے کے ہوٹلوں تک
میاں صاحب کا دل اور دماغ بچپن سے ہی پکی سڑکوں میں اٹکا ہوا ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ دنیا کا ہر دکھ صرف ایک ہی دوا سے ٹھیک ہو سکتا ہے، اور وہ ہے "موٹروے"۔
اگر خدا نے سن لی اور وہ کشمیر کے وزیراعظم بن گئے، تو پھر کشمیر کے نقشے کا حشر دیکھئے۔
مظفرآباد سے راولاکوٹ تک پہاڑوں کو کاٹ کر ایسی سرنگیں بنائی جائیں گی کہ آدمی ایک سرنگ میں داخل ہوگا تو باہر نکلتے ہی خود کو رائے ونڈ کے جاتی امرا کے گیٹ پر پائے گا۔
کشمیر کی ہر پہاڑی چوٹی پر "میٹرو بس" چلائی جائے گی۔ سوچئے! مری روڈ کی طرز پر جب نیلم کے پہاڑوں پر میٹرو بس بریک لگائے گی، تو مسافر نیچے کھائی میں گرنے سے پہلے صرف کلمہ ہی پڑھ سکیں گے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کشمیر کے ہر موڑ پر سری پائے کے ہوٹل کھل جائیں گے۔ کیونکہ میاں صاحب کا یہ سیاسی فلسفہ ہے کہ جس قوم کا پیٹ پائے سے بھرا ہو، وہ کبھی انقلاب نہیں لاتی، بلکہ صرف سو جاتی ہے۔
ان کا انتخابی نعرہ اب یہ نہیں ہوگا کہ "ووٹ کو عزت دو"، بلکہ یہ ہوگا:
"پہاڑ کو سیدھا کرو، سرنگیں بناؤ، اور ہر کشمیری کو ناشتے میں سری پائے کی پلیٹ مفت دو!"
کشمیر کی سیاست اور ہماری بے بسی
ویسے بھی کشمیر میں حکومت بنانا اور چلانا کون سا مشکل کام ہے؟ وہاں تو حکومتیں اس طرح بنتی اور بگڑتی ہیں جیسے بچپن میں ریت کے گھروندے۔ ایک صبح ایک صاحب وزیراعظم بنتے ہیں، شام کو ان کی پارٹی کے دس اراکینِ اسمبلی اچانک "بیمار" ہو جاتے ہیں، اور اگلے دن نیا وزیراعظم قسم اٹھا رہا ہوتا ہے۔
میاں صاحب نے شاید سوچا ہوگا کہ پاکستان کی وفاقی سیاست میں تو عدالتوں، نیب، اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتے عمر بیت گئی، کیوں نہ اب کشمیر کا رخ کیا جائے جہاں سیاست کا یہ کھیل ذرا چھوٹے پیمانے پر، یعنی "لوکل لیول" پر کھیلا جاتا ہے۔ یہاں نہ کوئی اتنی بڑی معیشت کی ٹینشن ہے، نہ آئی ایم ایف کی کوئی تگڑی شرط ہے—بس ہر ماہ اراکینِ اسمبلی کے ہوٹل کے بل ادا کرو، انہیں اسلام آباد کی سیر کرائو، اور حکومت چلاتے رہو۔
همارا دل میاں صاحب کے اس جذبے پر عش عش کرتا ہے۔ اس عمر میں بھی ان کے اندر ایک نو جوان سیاسی طفل مکتب کی سی تڑپ پائی جاتی ہے۔ تین بار ملک کا سب سے بڑا عہدہ بھوگنے کے بعد، اب کشمیر کے وزیراعظم بننے کی خواہش کرنا دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی اونچے درجے پر کیوں نہ پہنچ جائے، اس کے اندر کا "مقامی چیئرمین" یا "پنچایت کا چوہدری" ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
اللہ کرے میاں صاحب کی یہ چھوٹی سی دلی مراد بھی پوری ہو جائے، تاکہ ہم کشمیر کے بلند و بالا پہاڑوں پر بھی موٹروے کے بورڈ لگے دیکھ سکیں۔ تب جا کر ہمیں معلوم ہوگا کہ اصل معنوں میں "ترقی" کس بلا کا نام ہے