حرف کار

حرف کار online

25/07/2026

وادیِ تمنا
​تحریر: ڈاکٹر تہلیل الرحمن
​جب ہمیں یہ خبر ملی کہ جناب میاں محمد نواز شریف صاحب—جنہیں پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ کا تاج تین تین بار بلا شرکتِ غیرے پہننے کا شرف حاصل رہا ہے، اور جن کے دورِ حکومت میں ہر شے اس قدر ارزاں تھی کہ سوائے عقل اور روپیے کے ہر چیز سستی ملتی تھی—اب آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم بننے کے لیے دل میں لڈو پھوڑ رہے ہیں، تو ہمارے گھر کا کتا بھی جو پچھلے دس سال سے صرف مہنگائی پر رو رہا تھا، ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔ اس نے حیرت سے ہماری طرف دیکھا اور بولا: "حج کی حج اور سواج کی سواج! تین بار وفاق کو ہلا دینے کے بعد اب بندہ کشمیر کے پہاڑوں سے بکرے چرانے کی تمنا کرے، تو اس انہونی کو قدرت کا مذاق نہ کہیں تو کیا کہیں؟"
​دراصل بات یہ ہے کہ انسان کی طمعِ جاہ و حشم کی کوئی حد مقرر نہیں ہوتی۔ سکندرِ اعظم نے جب پوری دنیا فتح کر لی تو وہ رویا کہ اب فتح کرنے کے لیے کوئی ملک باقی نہیں بچا۔ لیکن ہمارے میاں صاحب اس معاملے میں سکندرِ اعظم سے کہیں آگے ہیں؛ انہوں نے دنیا تو کیا فتح کرنی تھی، خود اپنے ملک کو تین بار فتح کیا، اس کے ایوانِ اقتدار کی خشتِ اول سے لے کر خشتِ آخر تک سے ذاتی مراسم رکھے، اور اب جب وہاں کرنے کو کچھ خاص نیا تماشا باقی نہیں رہا، تو ان کی نظرِ عنایت و کرم آزاد کشمیر کے اس خطے پر پڑی ہے جہاں کی سیاست اتنی متلاطم ہوتی ہے کہ وزیراعظم کو خود یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ صبح اٹھ کر ناشتہ اپنے گھر میں کرے گا یا جیل میں یا پھر کسی دوسرے گروپ کے ہوٹل میں!
​پروٹوکول اور پہاڑی بکریوں کا تصادم
​ذرا تصور کیجیے اس منظر کا، جب میاں صاحب مظفرآباد کے اس نمدہ پوش اور تنگ و تاریک راستے پر اپنے شاہانہ قافلے کے ساتھ تشریف لے جائیں گے۔
​پاکستان میں تو ان کا پروٹوکول دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ ڈیڑھ سو گاڑیاں آگے، ڈیڑھ سو پیچھے، درمیان میں ایک عدد جیمر، اور اس کے پیچھے وزیراعظم کی گاڑی جو خود اتنی چوڑی ہوتی ہے کہ سڑک چھوٹی پڑ جاتی ہے۔ لیکن اب جو وہ کشمیر کی وادیوں میں پہنچیں گے، تو وہاں تو سڑکیں اتنی پتلی ہیں کہ دو بکریاں بھی آمنے سامنے آ جائیں تو ٹریفک جام ہو جاتی ہے۔
​سوچیے! میاں صاحب کی وہ چھ دروازوں والی مرسڈیز، جس کے آگے اور پیچھے گارڈز اس طرح دوڑتے ہیں جیسے کوئی اولمپک کا دوڑ کا مقابلہ ہو، جب وہ نیلم یا جہلم ویلی کے کسی کچے موڑ پر پہنچے گی، تو وہاں بیٹھا ہوا ایک مقامی بکروال اپنی لاٹھی ٹیک کر کھڑا ہو جائے گا۔ وہ حیرت سے پوچھے گا:
​"بھائی صاحب! یہ کون سا لشکرِ ظفرپناہ آ رہا ہے؟ کیا ہلاکو خان نے دوبارہ حملہ کر دیا ہے؟"
اور جب اسے بتایا جائے گا کہ یہ پاکستان کے تین بار کے وزیراعظم ہیں جو اب یہاں کے "چھوٹے موٹے" وزیراعظم بننے کی مشق کرنے تشریف لائے ہیں، تو وہ بکروال فوراً اپنی بکریوں کو سنبھالے گا اور کہے گا: "یا اللہ! خیر کر! جو بندہ اسلام آباد کے وزیراعظم ہائوس میں نہیں گھس سکا، وہ ہمارے اس دو کمروں کے سیکرٹریٹ میں کیا تیر مارے گا؟"
​ترقیاتی منصوبے: موٹروے سے پائے کے ہوٹلوں تک
​میاں صاحب کا دل اور دماغ بچپن سے ہی پکی سڑکوں میں اٹکا ہوا ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ دنیا کا ہر دکھ صرف ایک ہی دوا سے ٹھیک ہو سکتا ہے، اور وہ ہے "موٹروے"۔
​اگر خدا نے سن لی اور وہ کشمیر کے وزیراعظم بن گئے، تو پھر کشمیر کے نقشے کا حشر دیکھئے۔
​مظفرآباد سے راولاکوٹ تک پہاڑوں کو کاٹ کر ایسی سرنگیں بنائی جائیں گی کہ آدمی ایک سرنگ میں داخل ہوگا تو باہر نکلتے ہی خود کو رائے ونڈ کے جاتی امرا کے گیٹ پر پائے گا۔
​کشمیر کی ہر پہاڑی چوٹی پر "میٹرو بس" چلائی جائے گی۔ سوچئے! مری روڈ کی طرز پر جب نیلم کے پہاڑوں پر میٹرو بس بریک لگائے گی، تو مسافر نیچے کھائی میں گرنے سے پہلے صرف کلمہ ہی پڑھ سکیں گے۔
​اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کشمیر کے ہر موڑ پر سری پائے کے ہوٹل کھل جائیں گے۔ کیونکہ میاں صاحب کا یہ سیاسی فلسفہ ہے کہ جس قوم کا پیٹ پائے سے بھرا ہو، وہ کبھی انقلاب نہیں لاتی، بلکہ صرف سو جاتی ہے۔
​ان کا انتخابی نعرہ اب یہ نہیں ہوگا کہ "ووٹ کو عزت دو"، بلکہ یہ ہوگا:
​"پہاڑ کو سیدھا کرو، سرنگیں بناؤ، اور ہر کشمیری کو ناشتے میں سری پائے کی پلیٹ مفت دو!"
​کشمیر کی سیاست اور ہماری بے بسی
​ویسے بھی کشمیر میں حکومت بنانا اور چلانا کون سا مشکل کام ہے؟ وہاں تو حکومتیں اس طرح بنتی اور بگڑتی ہیں جیسے بچپن میں ریت کے گھروندے۔ ایک صبح ایک صاحب وزیراعظم بنتے ہیں، شام کو ان کی پارٹی کے دس اراکینِ اسمبلی اچانک "بیمار" ہو جاتے ہیں، اور اگلے دن نیا وزیراعظم قسم اٹھا رہا ہوتا ہے۔
​میاں صاحب نے شاید سوچا ہوگا کہ پاکستان کی وفاقی سیاست میں تو عدالتوں، نیب، اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتے عمر بیت گئی، کیوں نہ اب کشمیر کا رخ کیا جائے جہاں سیاست کا یہ کھیل ذرا چھوٹے پیمانے پر، یعنی "لوکل لیول" پر کھیلا جاتا ہے۔ یہاں نہ کوئی اتنی بڑی معیشت کی ٹینشن ہے، نہ آئی ایم ایف کی کوئی تگڑی شرط ہے—بس ہر ماہ اراکینِ اسمبلی کے ہوٹل کے بل ادا کرو، انہیں اسلام آباد کی سیر کرائو، اور حکومت چلاتے رہو۔
​همارا دل میاں صاحب کے اس جذبے پر عش عش کرتا ہے۔ اس عمر میں بھی ان کے اندر ایک نو جوان سیاسی طفل مکتب کی سی تڑپ پائی جاتی ہے۔ تین بار ملک کا سب سے بڑا عہدہ بھوگنے کے بعد، اب کشمیر کے وزیراعظم بننے کی خواہش کرنا دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی اونچے درجے پر کیوں نہ پہنچ جائے، اس کے اندر کا "مقامی چیئرمین" یا "پنچایت کا چوہدری" ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
​اللہ کرے میاں صاحب کی یہ چھوٹی سی دلی مراد بھی پوری ہو جائے، تاکہ ہم کشمیر کے بلند و بالا پہاڑوں پر بھی موٹروے کے بورڈ لگے دیکھ سکیں۔ تب جا کر ہمیں معلوم ہوگا کہ اصل معنوں میں "ترقی" کس بلا کا نام ہے

23/07/2026

سایہ اور دھوپ
​تحریر: ڈاکٹر تہلیل الرحمن
لیکچرار اردو
​بڑے بوڑھے گھروں کا سایہ ہوتے ہیں، لیکن جب یہ سایہ ایک طرف جھک جائے اور دوسری طرف تیز دھوپ جھلسانے لگے، تو پھر گھر، گھر نہیں رہتا بلکہ ایک سلگتا ہوا تنور بن جاتا ہے۔ ویسے تو ہمارے معاشرے میں بزرگوں کا احترام فرضِ اولین ہے، مگر بعض اوقات بزرگ بھی ایسی سائنسی کیمسٹری استعمال کرتے ہیں کہ محبت کے پیمانے الٹ پلٹ جاتے ہیں۔
​حاجی صاحب کا یہ بڑا سا آبائی مکان بھی کچھ ایسی ہی کہانی سناتا تھا۔ حاجی صاحب اور ان کی بیوی (بڑی بی) کی زندگی کے آخری ایام چل رہے تھے۔ اس گھر میں ان کے دو بیٹے اور ان کی فیملیز ایک ساتھ رہتی تھیں۔ بڑے بیٹے کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ ہوا تھا اور ان کی اکلوتی بیٹی "عائزہ" اس پورے گھر کی چشم و چراغ تھی۔ عائزہ کیا تھی، ایک کھلکھلاتا ہوا پھول تھی—خوبصورت، ذہین اور دادا دادی کی لاڈلی۔
​دوسری طرف چھوٹا بیٹا سہیل تھا، جس کی بیوی کا نام "فوزیہ" تھا۔ سہیل اور فوزیہ کے تین بچے تھے۔ دو بچے تو بالکل صحت مند اور چاق و چوبند تھے، لیکن ان کا سب سے چھوٹا بیٹا "زوبین" پیدائشی طور پر معذور تھا—وہ نہ تو ٹھیک سے بول سکتا تھا اور نہ ہی اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا تھا۔
​گھر کا ماحول اور امتیازی سلوک
​گھر کا دستور عجیبیہ تھا۔ بڑی بی اور حاجی صاحب کی شفقت کا پیمانہ سب کے لیے ایک جیسا نہیں تھا۔ ان کی تمام تر محبت، تمام تر توجہ صرف اور صرف عائزہ کے لیے مخصوص تھی۔
​صبح جب دادی جان ناشتے کی میز پر براجمان ہوتیں، تو ان کے ہاتھ میں ہمیشہ عائزہ کے لیے کوئی خاص شاہی تحفہ ہوتا—کبھی دیسی گھی میں لتھڑا ہوا مکھن کا پراٹھا، تو کبھی بادام اور پستے کا ابلتا ہوا دودھ۔ عائزہ کے نخرے ایسے اٹھائے جاتے جیسے وہ کسی ریاست کی شہزادی ہو۔
​ادھر کچن کے کونے میں بیٹھا ہوا چھوٹا بیٹا سہیل، جو خود ایک کالج میں پڑھاتا تھا، اکثر مزاقاً کہتا:
​"اماں! کبھی کبھی ہمارے زوبین کو بھی بادام والا دودھ پلا دیا کریں، کہیں اس کے حافظے کا معیار بھی عائزہ کی طرح اونچا نہ ہو جائے!"
تو دادی جان چشمے کے فریم کے اوپر سے گھور کر کہتیں:
"چپ کر واہیات! تجھے لکچرار بننے کا شوق ہے تو کالج میں جا کر جھاڑو پھیر، یہاں میری پوتی کے حصے کا دودھ نہ گن!"
​اس کے برعکس، جب فوزیہ کا معذور بیٹا زوبین صحن میں گھسٹتا ہوا آتا یا کسی بے بسی کی حالت میں دادی کے پاس جانے کی کوشش کرتا، تو دادی یا تو منہ پھیر لیتیں یا پھر بیزاری سے کہتیں:
​"پرے ہٹاؤ اس منحوس کو، میرے سر میں درد کر دیتا ہے۔ پتہ نہیں کون سی سزا ہے جو ہماری گود میں ڈال دی ہے۔"
​فوزیہ کا دل یہ سن کر چھلنی ہو جاتا تھا۔ وہ ایک ماں تھی، اور ایک ماں کے لیے اپنے معذور بچے کی اس قدر توہین اور نظر انداز کیا جانا کسی نشتر سے کم نہیں تھا۔ لیکن فوزیہ لاچار تھی؛ وہ سہیل کی شرافت اور گھر کے بڑے رعب کی وجہ سے کچھ بول نہیں تھی۔ وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی جاتی، اپنے معذور زوبین کو سینے سے لگاتی اور دیر تک روتی رہتی۔
​زہر کا گھلنا اور مزاح کا تڑکا
​وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ امتیازی سلوک صرف بڑوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے بچوں کے دلوں میں بھی زہر گھولنا شروع کر دیا۔ فوزیہ کے دوسرے بچے بھی اب سمجھدار ہو رہے تھے۔ وہ دیکھتے کہ ان کے کزن (عائزہ) کو کیسے نئے کھلونے، مہنگے کپڑے اور بے پناہ پیار ملتا ہے، جبکہ انہیں اور بالخصوص ان کے بیمار بھائی کو گھر کے کونے میں دھکیل دیا گیا ہے۔
​بچوں کے دلوں میں حسد اور محرومی کا احساس پلنے لگا۔ وہ آپس میں لڑتے، اور فوزیہ کے بچے اکثر غصے میں آ کر کہتے:
"ممی! دادی صرف عائزہ آپا سے پیار کیوں کرتی ہیں؟ کیا ہم دادی کے سستے داموں خریدے ہوئے پوتے ہیں؟"
​ایک روز گھر میں بڑا دلچسپ اور طنزیہ منظر دیکھنے کو ملا۔ سہیل نے گھر کے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے طنزاً کہا:
​"بیوی! اس گھر کا نظام بالکل ویسا ہے جیسے ہمارے ملک کا تعلیمی بجٹ؛ ایک طرف عالیشان یونیورسٹیوں پر لاکھوں لگ رہے ہیں، اور دوسری طرف پرائمری اسکول کی چھتیں ٹپک رہی ہیں۔ ہمارے زوبین کی حالت بھی اسی ٹپکتے ہوئے اسکول جیسی ہے!"
​فوزیہ اس فقرے پر پھیکی سی ہنسی ہنس دی، لیکن اس کے اندر خود ایک طوفان اٹھ رہا تھا۔ اس کے دل میں عائزہ کے لیے نفرت روز بروز گہری ہو رہی تھی۔ وہ سوچتی تھی اس بچی کا قصور کیا ہے؟ قصور یہ ہے کہ اسے اس گھر کے بڑوں کا ناجائز اور اندھا پیار مل رہا ہے، جبکہ میرا معذور زوبین کونے میں سسک سسک کر جینے پر مجبور ہے۔"
​وہ ہولناک شام
​برسات کی ایک حبس زدہ شام تھی۔ باہر تیز بارش ہو رہی تھی اور آسمان پر بادل ایسے گرج رہے تھے جیسے کسی کالج کے پرنسپل نے غیر حاضری پر طلباء کو نوٹس جاری کر دیا ہو۔
​بڑی بی اور حاجی صاحب اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے، جبکہ باقی سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ عائزہ اس دن بہت خوش تھی کیونکہ اسے اس کے دادا نے ایک بہت خوبصورت گڑیا لے کر دی تھی۔ وہ ہاتھ میں گڑیا اٹھائے، خوشی سے ناچتی ہوئی فوزیہ کے پورشن کی طرف نکلی—شاید وہ زوبین کو اپنی گڑیا دکھانا چاہتی تھی یا شاید بچوں کی معصومیت میں وہ فوزیہ کو چڑانا چاہتی تھی۔
​عائزہ سیدھی فوزیہ کے کمرے میں داخل ہوئی۔ اس وقت فوزیہ اکیلی بیٹھی تھی اور زوبین زمین پر ایک کونے میں بے سدھ لیٹا ہوا تھا۔
​عائزہ نے مسکراتے ہوئے کہا:
"دیکھیں فوزیہ چچی! مجھے دادا جان نے کتنی پیاری گڑیا دی ہے! زوبین کو تو کوئی بھی نہیں دیتا نا؟"
​اس معصوم جملے نے فوزیہ کے اندر موجود برسوں کا دبا ہوا غصہ، حسد اور محرومی کا لاوا ایک ہی لمحے میں پھاڑ دیا۔ اس کے دماغ کی کوئی رگ جیسے پھٹ گئی۔ اس نے عائزہ کی طرف دیکھا، جو ہنس رہی تھی—وہی ہنسی جو فوزیہ کو روزانہ تڑپاتی تھی، وہی لاڈ پیار جو اس کے اپنے معذور بچے کے حصے کا چھین لیا گیا تھا۔
​شیطان نے فوزیہ کے اعصاب پر مکمل قبضہ کر لیا۔ اس کے دل میں ایک ہی جنون سوار ہو گیا: "آج اس گھر کی اس لاڈلی کو ختم کر دوں گی، تب ان بوڑھوں کو پتہ چلے گا کہ اولاد کی اولاد سے محرومی کا درد کیا ہوتا ہے!"
​اس نے آگے بڑھ کر طیش کے عالم میں عائزہ کو دبوچ لیا۔ بچی نے گھبرا کر چیخنا چاہا، لیکن فوزیہ کی اندھی نفرت اور جنون نے اس معصوم کی آواز کا گلا گھونٹ دیا۔ چند لمحوں کی کشمکش کے بعد، عائزہ کا جسم ڈھیلا پڑ گیا اور وہ بے جان ہو کر زمین پر گر گئی۔ وہ کھلکھلاتا ہوا پھول، جو اس گھر کا غرور تھا، ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
​ندامت کی چتا اور بھیانک انجام
​جب فوزیہ کا جنون اترا اور اس نے اپنے سامنے عائزہ کی لاش دیکھی، تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ ایک خوفناک چیخ کے ساتھ پیچھے ہٹی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں۔ اس نے کیا کر دیا؟ ایک بے گناہ بچی کو اپنے گھریلو حسد اور تفرقہ بازی کی بھینٹ چڑھا دیا تھا!
​گھر میں کہرام مچ گیا۔ بڑی بی اور حاجی صاحب جب بھاگتے ہوئے کمرے میں آئے اور اپنی لاڈلی پوتی کو مردہ پایا، تو وہ وہیں زمین پر گر کر دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ ان کی چیخیں پورا محلہ سر پر اٹھا رہی تھیں۔ گھر میں پولیس آ گئی، تحقیقات ہوئیں، اور قاتل کا نقاب فوزیہ کے چہرے سے ہٹ گیا۔
​جب فوزیہ کو ہتھکڑیاں لگا کر پولیس وین میں ڈالا جا رہا تھا، تو اس کے چہرے پر کوئی خوف نہیں تھا، بلکہ ایک پتھراؤ زدہ خالی پن تھا۔ اس نے جاتے ہوئے اپنی ساس (بڑی بی) کی طرف دیکھا اور روتے ہوئے کہا:
"آج رو رہی ہو نا اپنی اس لاڈلی کے لیے؟ یہی رونا تم نے میرے معذور زوبین کو روزانہ رلا رلا کر میرے دل میں ڈالا تھا۔ آج تم بھی جان گئی ہو کہ جب اولاد کے ساتھ ناانصافی کی جائے، تو دل کتنے ظالم ہو جاتے ہیں..."
​حاصلِ افسانہ
​یہ گھر اب ویران ہو چکا تھا۔ بڑی بی اور حاجی صاحب اپنی اس غلطی کی سزا بھگت رہے تھے جو انہوں نے بچوں کے درمیان فرق رکھ کر رکھاتھا۔ ان کا گھر ٹوٹ جاناتھا، انا اور تفرقہ بازی کی آگ سب کچھ راکھ کر چکی تھی۔
​یہ المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ گھر کے بزرگوں کا کام دلوں کو جوڑنا ہوتا ہے، توڑنا نہیں۔ اور والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی نظر کے سامنے رکھیں، کسی کی طرف داری یا امتیازی سلوک کو اپنے اندر حسد کا ناسور نہ بننے دیں۔ کیونکہ حسد ایک ایسی غلاظت ہے جو نہ صرف انسان کے اپنے سکون کو کھا جاتی ہے، بلکہ ہستے کھیلتے گھرانوں کو بھی قبرستان بنا دیتی ہے۔

21/07/2026

پٹرول میں 35 پیسے کی تاریخی کمی: ایک معاشی معجزہ اور عوام کی کچی نینّد

تحریر: ڈاکٹر تہلیل الرحمن
لیکچرار اردو

​سنا ہے آج صبح جب سورج طلوع ہوا تو اس کی روشنی اتنی مدہم نہیں تھی جتنا ہمارا دل۔ وجہ؟ حکومتِ وقت نے پٹرول کی قیمتوں میں "بم پھوڑ" دیا ہے۔ جی ہاں! وہی پٹرول، جو ہمارے ملک میں خونِ دل کی طرح رگوں میں نہیں بلکہ ٹینکوں میں دوڑتا ہے۔ حکومتِ عالیشان نے غریب عوام کی حالتِ زار پر رحم کھاتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں پورے 35 پیسے فی لیٹر کمی کا تاریخی اعلان کیا ہے۔
​دل تو چاہتا ہے کہ اس خوشی میں پورے محلے میں پکوڑے تقسیم کیے جائیں، لیکن ڈر یہ ہے کہ کہیں پکوڑوں کے تیل کی قیمت پٹرول سے بھی اوپر نہ چلی جائے۔
​اضافہ بمقابلہ کمی: ریاضی کا نیا قانون
​ہمارے یہاں معاشیات کے اصول دنیا سے الگ تھلگ، بالکل الٹے چلتے ہیں۔ جب پٹرول کی قیمت میں اضافے کا وقت آتا ہے، تو حکومت کسی صوفی بزرگ کی طرح سخاوت پر اتر آتی ہے۔ اضافے کے وقت قطرے قطرے کا حساب نہیں ہوتا، بلکہ سیدھا فائر ہوتا ہے:
​کبھی 50 روپے کا جھٹکا!
​کبھی 60 روپے کا طوفان!
​اور کبھی 70 روپے کا ایسا زلزلہ کہ انسان پٹرول ڈلوانے کے بعد موٹر سائیکل وہیں چھوڑ کر پیدل گھر کی طرف روانہ ہو جائے۔
​لیکن جب بات قیمت کم کرنے کی آئے، تو وزارتِ خزانہ کے کلرک اتنے کنجوس ہو جاتے ہیں کہ جیسے ان کی اپنی جیب سے پیسے نکل رہے ہوں۔ اس وقت وہ دنیا کے سب سے بڑے حساب دان بن جاتے ہیں اور ملی گرام (milligram) کے حساب سے کمی کرتے ہیں:
​کبھی 35 پیسے کی خیرات!
​کبھی پورا 1 روپیہ منہ پر مار دیا!
​اور کبھی فیاضی دکھاتے ہوئے 1 روپیہ 10 پیسے کم کر کے احسانِ عظیم جتا دیا جاتا ہے۔
​عوام کا ردِعمل: شکرانے کے نوافل
​اس 35 پیسے کی تاریخی کمی کے بعد پٹرول پمپوں پر جو نظارہ دیکھنے کو ملا، وہ دیدنی تھا۔ ایک صاحب اپنی ٹپ ٹپ کرتی پرانی موٹر سائیکل لے کر پمپ پر پہنچے اور کیشئر سے بولے:
​"بھائی صاحب! ذرا 35 پیسے کا پٹرول ڈال دیں، آج حکومت نے اتنی بڑی بچت جو کر دی ہے، اس خوشی میں گاڑی کا پیٹ بھرنا بنتا ہے!"
​کیونکہ 35 پیسے میں آج کے دور میں کیا آتا ہے؟
​اگر آپ بائیک پر ہیں، تو یہ 35 پیسے کا پٹرول آپ کو ٹینک کے ڈھکن تک بھی نہیں پہنچا پائے گا۔
​اگر آپ سائیکل پر ہیں، تو یہ 35 پیسے ہوا میں اڑ کر آپ کے منہ پر آ لگیں گے اور آپ گمان کریں گے کہ شاید پٹرول کی خوشبو سے ہی طبیعت بحال ہو گئی ہے۔
​معاشی ماہرین کی آراء
​ہمارے ایک دانا بزرگ نے اس انکشاف پر فرمایا کہ دراصل حکومت نے یہ 35 پیسے کم کر کے عوام کو بہت بڑا نفسیاتی سکون دیا ہے۔ پچھلے ہفتے جو لوگ مہنگائی کے مارے ڈپریشن میں مبتلا تھے، وہ اب 35 پیسے کی بچت سے اتنے پرامید ہو گئے ہیں کہ انہوں نے دبئی کے ٹکٹ کینسل کروا کے یہیں محنت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
​حکومت کا یہ اقدام دراصل غریب کی پیٹھ پر مرہم رکھنے کے مترادف ہے—بس فرق یہ ہے کہ مرہم اتنا باریک ہے کہ زخم کو ڈھونڈنے کے لیے بھی دوربین کی ضرورت پڑتی ہے۔
​اختتامیہ
​غرض یہ کہ حکومت کی یہ عنایت تاڑ کی طرح اونچی اور چونٹی کے قدم جیسی سبک ہے۔ ہم حکومت کے اس جرأت مندانہ قدم پر دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اگلی بار جب پٹرول کم ہو، تو خدا کے واسطے یہ 35 پیسے کا بنچ مارک توڑ کر کم از کم 50 پیسے تک کی چھلانگ لگائی جائے، تاکہ عوام غشی کے دوروں سے بچ سکیں!

19/07/2026

تعلیم کا جنازہ اور جاہل معاشرے کی فتح: ایک فکری المیہ
​تحریر: ڈاکٹر تہلیل الرحمن (لیکچرار اردو)
​ہمارے گردوپیش کا منظرنامہ ایک ایسی تلخ حقیقت کی عکاسی کر رہا ہے جہاں تہذیب، علم اور شعور، ہوس اور مادیت کی تندوتیز لہروں میں تنکے کی طرح بہہ رہے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں 'تعلیم' کا مفہوم بدل کر محض 'ڈگری کے حصول کی دوڑ' تک محدود ہو چکا ہے۔ ایک طالب علم اپنی زندگی کے 25 سے 30 قیمتی سال تعلیمی اداروں کی چار دیواری میں گزارتا ہے، لیکن نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ ایک ہاتھ میں کاغذ کا ٹکڑا (ڈگری) اور دوسرے ہاتھ میں خالی پن، احساسِ محرومی اور عملی زندگی سے مکمل لاتعلقی۔
​ڈگری اور شعور کا تضاد
​یہ مقامِ صد افسوس ہے کہ تعلیمی اداروں سے نکلنے والے نوجوان کے پاس علم کا وہ جوہر نہیں جو اسے ایک 'انسان' بناتا ہے۔ ہم نے تعلیم تو دی، مگر 'تربیت' کا شعبہ ویران چھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے پڑھا لکھا طبقہ، جس کے پاس ڈگریاں تو ہیں مگر تہذیبِ گفتگو، کھانے پینے کے آداب، چلنے پھرنے کے سلیقے اور بڑوں کے سامنے بیٹھنے کے قرینے عنقا ہیں۔ وہ جس کے پاس علم جتنا زیادہ ہے، اس کی 'انانیت' اتنی ہی توانا ہو جاتی ہے، جبکہ عاجزی و انکساری کا دامن خالی ہوتا ہے۔ آج کا تعلیم یافتہ نوجوان، معاشرتی زندگی میں ایک ایسا اجنبی ہے جسے یہ تک نہیں معلوم کہ دوسروں کے حقوق کیا ہیں اور اپنی حد کیا ہے۔
​ہنر بمقابلہ ڈگری: ایک تلخ حقیقت
​ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں 'ہنر' اور 'شرم' کو متضاد سمجھ لیا گیا ہے۔ ایک ان پڑھ شخص اپنی انا کو قدموں تلے روند کر ہر وہ کام کر گزرتا ہے جو اسے رزق فراہم کر سکے، جبکہ تعلیم یافتہ طبقہ اپنی جعلی انا کے حصار میں قید ہو کر عملی جدوجہد سے پہلو تہی کرتا ہے۔ آج سڑک پر محنت کرنے والا ان پڑھ شخص، ایک پی ایچ ڈی ہولڈر سے زیادہ معاشی خود مختاری رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ علم برا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے جو 'علم' حاصل کیا، وہ محض کتابی تھا، عملی نہیں تھا۔ ہم نے سیکھا تو بہت کچھ، مگر 'کرنا' کچھ نہیں سیکھا۔
​مادیت اور اخلاقی گراوٹ
​آج کا معاشرہ صرف اور صرف 'ہوس' اور 'لالچ' کی بنیاد پر استوار ہے۔ جس معاشرے میں اخلاقیات اور دینی اقدار کو طاق پر رکھ کر صرف مال و دولت کو کامیابی کا واحد معیار مان لیا جائے، وہاں تعلیم صرف پیسے اور وقت کا ضیاع بن کر رہ جاتی ہے۔ پڑھا لکھا شخص آج شرم کے مارے کہیں مزدوری نہیں کر سکتا، اور دوسری طرف اس کے پاس ہنر بھی نہیں کہ وہ باعزت روزگار کا کوئی متبادل ذریعہ پیدا کر سکے۔ یوں وہ دونوں جہانوں کے درمیان لٹک کر رہ گیا ہے۔
​کیا تعلیم واقعی ضیاع ہے؟
​جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک 30 سال کا نوجوان جو پوری زندگی کتابوں میں گزار چکا ہے، وہ آج کسی کے سامنے چار جملے ڈھنگ سے بولنے کے قابل نہیں، تو اس نظامِ تعلیم پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ یہ تعلیم نہیں، یہ تو وقت کی بربادی کا ایک منظم سازش ہے۔ جب ڈگری یافتہ شخص کے پاس 'تمیز' اور 'ہنر' دونوں مفقود ہوں، تو وہ معاشرے کے لیے ایک بوجھ بن جاتا ہے۔
​اختتامیہ
​ہم ایک ایسی اندھی گلی میں کھڑے ہیں جہاں ڈگریوں کے انبار تو لگے ہیں، مگر انسانیت کا قحط ہے۔ اگر تعلیم سے تہذیب، اخلاق، ہنر اور رزق حلال کی تلاش نہیں جنم لیتی، تو ایسی تعلیم صرف اور صرف وقت، پیسہ اور زندگی کا ضیاع ہے۔ ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کو بنیاد سے بدلنا ہوگا، جہاں کتابوں کے ساتھ ساتھ کردار سازی اور ہنر مندی کو اولیت دی جائے۔ ورنہ، یاد رکھیے، ایک ایسا پڑھا لکھا معاشرہ جس کے پاس شعور نہیں، وہ جاہل معاشرے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
​ہمیں علم کا پیاسا بننا ہے، نہ کہ محض ڈگری کا بھوکا۔ جب تک ہم 'انا' کو چھوڑ کر عمل کی دنیا میں قدم نہیں رکھیں گے، تب تک یہ 'تعلیم یافتہ بیروزگار' کا ٹائٹل ہمارے ماتھے کا جھومر بنا رہے گا۔

18/07/2026

تاریخِ رؤیا اور تعبیر کے اسرار: انبیاء، سلفِ صالحین اور معاصر مفکرین کے افکار کی روشنی میں
​تحریر: ڈاکٹر تہلیل الرحمن (لیکچرار اردو)
​انسانی وجود مادی کائنات اور ماورائی دنیا کے مابین ایک ایسا پل ہے جس کا مادی ظہور بیداری میں اور روحانی سفر نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ خواب محض خیالات کا بے ہنگم ہجوم نہیں، بلکہ یہ انسانی شعور، لاشعور اور عالمِ ملکوت کے مابین رابطے کا ایک قدیم ترین ذریعہ ہے۔ بالخصوص فوت شدگان کو خواب میں دیکھنا، ان کا زندوں سے کلام کرنا، یا کسی مادی چیز کا تقاضا کرنا ایک ایسا مابعد الطبیعیاتی تجربہ ہے جس نے ہر دور کے انسان کو حیرت اور تفکر میں مبتلا رکھا ہے۔ موجودہ مادی، معاشی اور نفسیاتی بحرانوں کے دور میں جہاں ایک طرف سائنسی مادہ پرستی خواب کو محض دماغی خلیات کی کارکردگی قرار دیتی ہے، وہیں دوسری طرف مذہبی طبقے میں دینی متون اور جدید نفسیاتی و دنیاوی علوم کے مابین ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے ایک فکری خلا موجود ہے۔ اس الجھن کو دور کرنے کے لیے ہمیں تاریخِ انسانی کے آغاز یعنی انبیائے کرام کے زمانوں سے لے کر سلفِ صالحین اور موجودہ دور کے عظیم اسلامی مفکرین، محدثین اور علمائے تعبیر کے افکار کا ایک جامع مطالعہ کرنا ہوگا۔
​خواب کی حقانیت اور اس کے علامتی اشارات کی سب سے مستند تاریخ انبیائے کرام کے واقعات ہیں۔ انبیائے کرام کے خواب عام انسانوں کی طرح ظنی نہیں بلکہ "وحیِ الٰہی" اور قطعی ہوتے ہیں، جن میں کائنات کے بڑے بڑے حقائق کو تمثیلی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیٹے کو ذبح کرنے کا خواب اس بات کی دلیل ہے کہ خواب بسا اوقات عین حقیقت ہوتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب جس میں ستاروں، سورج اور چاند کو سجدہ ریز دیکھا، ایک خالص علامتی اشارہ تھا جس کی تعبیر برسوں بعد ظاہر ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں خود کو صحابہ کے ہمراہ مسجدِ حرام میں داخل ہوتے دیکھا، جو فتحِ مکہ کی صورت میں سچی حقیقت بن کر سامنے آیا۔ یہ تمام واقعات بتاتے ہیں کہ خوابوں کے اشارات کا ایک مخصوص فہم ہوتا ہے جو حقیقتِ حال کو آشکار کرتا ہے۔
​سلفِ صالحین اور ائمہ امت نے خوابوں کے اسرار پر گہرے تفکرات پیش کیے ہیں۔ امام غزالیؒ اپنی معرکہ آرا تصانیف میں لکھتے ہیں کہ نیند کی حالت میں جب حواسِ خمسہ معطل ہو جاتے ہیں، تو روح کا تعلق مادی دنیا سے کٹ کر عالمِ ملکوت سے جڑ جاتا ہے، اور اگر دل گناہوں سے پاک ہو تو لوحِ محفوظ کے احوال اس پر منعکس ہوتے ہیں۔ امام احمد رضا خان فاضل بریلویؒ کا نظریہ یہ ہے کہ فوت شدہ شخص چونکہ دارِ حق میں ہے، اس لیے اس کا کچھ مانگنا برزخ میں مادی ضرورت کی وجہ سے نہیں بلکہ ایصالِ ثواب کا تقاضا ہوتا ہے۔ آپ کے نزدیک اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ مرحوم نے کوئی چیز مانگی ہے، تو لواحقین اگر اس چیز کو صدقہ کر دیں تو یہ پسماندگان کی محبت اور مستحقین کی امداد کا بہترین ذریعہ ہے، اور روح تک اس کا ثواب بعینہٖ پہنچتا ہے۔
​موجودہ دور کے مفکرین نے خواب کی شرعی حیثیت اور جدید نفسیاتی احوال کو یکجا کر کے متوازن اصول وضع کیے ہیں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ خوابوں کا تعلق انسان کی بیداری کی کیفیت سے گہرا ہے، اور آج کل کثرتِ تفکرات کے باعث اکثر خواب "اضغاثِ احلام" یا پریشان کن خیالات کے زمرے میں آتے ہیں، اس لیے شریعت کے فرائض کے خلاف خواب کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا نظریہ یہ ہے کہ خواب کبھی بھی "شرعی حجت" نہیں ہو سکتا، اس لیے زندگی کے فیصلے شریعت کے ظاہری احکامات کے تحت ہونے چاہئیں، نہ کہ خوابوں کی بنیاد پر۔ مولانا ثاقب رضا مصطفائی صاحب خواب کو اولاد کے لیے ایک غیبی "ویک اپ کال" قرار دیتے ہیں کہ وہ اپنے محسنوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اسی طرح مفتی مرید الرحمان صاحب کا ماننا ہے کہ خواب بسا اوقات انسان کے اپنے اندرونی صدمے یا "احساسِ جرم" کا نتیجہ ہوتے ہیں، اس لیے ہر خواب کو وہم بنانے کے بجائے اسے استغفار اور صدقہ تک محدود رکھنا چاہیے۔
​حاصلِ کلام یہ ہے کہ عصرِ حاضر کے انسان کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ نہ تو خوابوں کو محض دماغی خرافات سمجھ کر یکسر مسترد کرے اور نہ ہی ان کے پیچھے لگ کر اپنی عملی زندگی کو اوہام کے سپرد کرے۔ خواب برزخ کی کھڑکی سے آنے والی وہ جھلک ہے جو پسماندگان کو آخرت کی یاد دلاتی ہے اور حقوقِ العباد کی ادائیگی کا سبب بنتی ہے۔ اگر خواب میں کوئی پیارا محتاج نظر آئے، تو حسبِ توفیق اس کی پسندیدہ چیز یا مادی اشیاء مساکین میں تقسیم کر کے ان کی روح کو ثواب پہنچایا جائے اور اسے آخرت کی یاد دہانی سمجھا جائے۔ البتہ زندگی کے حقیقی فیصلوں، عقائد اور معاملات کے لیے ہماری بیداری کی دنیا کا امام صرف اور صرف شریعتِ محمدی ﷺ کے واضح قوانین اور عقلِ سلیم ہی ہے، کیونکہ اسلام بیداری کا دین ہے، خوابوں کا نہیں۔

12/07/2026

معاشرتی تضاد اور ہماری اخلاقی ذمہ داری
​تحریر: تہلیل الرحمن
(پی ایچ ڈی اردو اسکالر، منہاج یونیورسٹی لاہور)
​مقدمہ
​انسان کو اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے، اور اس شرافت کا تقاضا بخل، تکبر اور تعصب سے پاک ایک متوازن معاشرے کا قیام ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے تضادات جڑ پکڑ چکے ہیں جو ہماری اخلاقی اور فکری پسماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ زیرِ بحث قول: "اگر گندگی اٹھانے والا چوڑا ہے تو، ہم گندگی پھیلانے والے کیا ہوئے؟" کوئی عام جملہ نہیں، بلکہ یہ ہماری معاشرتی منافقت، طبقاتی تقسیم اور انسانیت سوز رویوں پر ایک گہرا طنز اور تازیانہ ہے۔ یہ قول ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنی نام نہاد "شرافت" کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
​لفظی و اصطلاحی مغالطہ اور معاشرتی رویہ
​ہمارے معاشرے میں "چوڑا" یا "بھنگی" جیسے الفاظ کو گالی یا تحقیر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جو کہ سراسر غیر انسانی اور غیر اسلامی رویہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صفائی کرنے والا عملہ (Sanitation Workers) معاشرے کا وہ مخلص ترین طبقہ ہے جو دوسروں کے پھیلائے ہوئے تعفن کو سمیٹ کر ماحول کو رہنے کے قابل بناتا ہے۔
​منطقی اور اخلاقی طور پر دیکھا جائے تو:
​مجرم کون؟ گندگی پھیلانے والا، کیونکہ وہ ماحول کو آلودہ کر کے بیماریوں اور غلاظت کا سبب بنتا ہے۔
​محسن کون؟ گندگی اٹھانے والا، کیونکہ وہ اپنی جان اور صحت کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کو پاکیزگی فراہم کرتا ہے۔
​مگر المیہ یہ ہے کہ ہم گندگی پھیلانے والے "بابرکت اور معزز" ٹھہرتے ہیں اور صفائی کرنے والے "ملعون اور حقیر"۔ یہ سوچ مکرہ اور بدبودار ہے۔
​قرآن و حدیث کے حوالے سے پاکیزگی اور مساوات
​اسلام نے طہارت کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے اور رنگ، نسل یا پیشے کی بنیاد پر تفریق کی سخت ممانعت کی ہے۔
​۱۔ صفائی کی اہمیت:
نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
"الطَّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ" (صحیح مسلم: 223)
ترجمہ: "پاکیزگی ایمان کا نصف حصہ ہے۔"
جب پاکیزگی آدھا ایمان ہے، تو اس ایمان کو برقرار رکھنے میں مددگار بننے والا طبقہ حقیر کیسے ہو سکتا ہے؟
​۲۔ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا:
شعب الایمان کی حدیث ہے کہ ایمان کے ستر سے زائد شعبے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے:
"وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ" (صحیح مسلم: 35)
ترجمہ: "اور اس کا ادنیٰ درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز (کوڑے کرکٹ) کو ہٹانا ہے۔"
جو کام ایمان کی ایک شاخ ہے، اسے پیشہ بنا کر معاشرے کی خدمت کرنے والے کو ہم کم تر سمجھتے ہیں، جو ہماری اپنی ایمانی کمزوری کی دلیل ہے۔
​۳۔ مساواتِ انسانی:
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر حضور پاک ﷺ نے واضح فرما دیا:
"یقیناً تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں... فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔" (مسند احمد)
​ادبی و فکری تناظر
​اردو ادب میں بھی ہمیشہ ایسے طبقاتی رویوں کی نفی کی گئی ہے۔ مفکرِ اسلام علامہ اقبالؒ نے جہاں "مردِ مومن" اور "خودی" کا تصور دیا، وہیں انہوں نے معاشرتی مساوات پر زور دیتے ہوئے کہا تھا:
​ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
​اگر نماز میں سب ایک ہیں، تو زندگی کے عام معاملات میں پیشے کی بنیاد پر انسانوں کو اچھوت یا چوڑا بنا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ بابا بلھے شاہ اور دیگر صوفیائے کرام نے بھی ہمیشہ ظاہر کی صفائی سے زیادہ باطن کی صفائی اور انسان دوستی کا درس دیا۔ گندگی باہر کی ہو تو صاف ہو جاتی ہے، لیکن سوچ کی گندگی اور تکبر پورے معاشرے کو مفلوج کر دیتا ہے۔
​حاصلِ کلام (نتیجہ)
​یہ اصلاحی قول ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے۔ اگر ہم کوڑا پھیلانے، سڑکوں پر تھوکنے اور ماحول کو گندا کرنے کے بعد بھی خود کو "شریف" اور "اعلیٰ ذات" کا سمجھتے ہیں، تو یہ ہماری ذہنی پستی ہے۔ اصل "چوڑا" یا غلیظ وہ نہیں جو گندگی صاف کرتا ہے، بلکہ اصل غلیظ وہ ہے جس کی سوچ تعصب کا شکار ہے اور جو گندگی پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔
​معاشرے کو اگر بدلنا ہے تو ہمیں پیشوں کے احترام (Dignity of Labor) کو فروغ دینا ہوگا اور صفائی کرنے والوں کو تحقیر کے بجائے "محسنِ معاشرہ" تسلیم کرنا ہوگا۔ تب ہی ہم ایک پاکیزہ، صحت مند اور حقیقی اسلامی و انسانی معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں گے

05/07/2026

شادی نہ ہونے سے یا دیر سے ہونے سے انسان مر نہیں جاتا
لیکن شادی غلط جگہ ہو جانے سے انسان مر جاتا ہے
بانو قدسیہ

Address

Faisalabad
Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when حرف کار posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category