Affan Awan

Affan Awan In the summers, if you ever come home to find that the fridge isn't stocked with mangoes, your heart breaks instantly.

24/11/2025

🌱 قدرتی کی مفت کھاد: کیا آپ اس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں؟ 🌱
​مٹی کا ہر ایکڑ پہلے ہی غذائی اجزاء کی ایک ناقابل یقین انوینٹری سے بھرا ہوا ہے—آپ کو بس اسے استعمال کرنے کے لیے صحیح بائیولوجی کی ضرورت ہے۔
​💡 ایک Total Nutrient Digest analysis (مٹی کے اوپر کے 8 انچ) کے مطابق، یہاں بتایا گیا ہے کہ فی ایکڑ پاؤنڈز میں کیا پہلے ہی دستیاب ہے
​🟣 آرگینک نائٹروجن (N): 2,415 پاؤنڈز
​⚪ فاسفورس (P): 910 پاؤنڈز
​🔴 پوٹاشیم (K): 8,558 پاؤنڈز
​🟡 کیلشیم (Ca): 47,395 پاؤنڈز
​🟢 میگنیشیم (Mg): 13,031 پاؤنڈز
​🟠 سلفر (S): 810 پاؤنڈز
​⚫ زنک (Zn): 116 پاؤنڈز
​🔵 آئرن (Fe): 32,305 پاؤنڈز
​🟤 مینگنیز (Mn): 745 پاؤنڈز
​🍯 کاپر (Cu): 25 پاؤنڈز
​⚪ بوران (B): 96 پاؤنڈز
​⚫ مولیبڈینم (Mo): 1 پاؤنڈ
​​مگر یہاں ایک مسئلہ ہے: اس میں سے زیادہ تر فصلوں کے لیے بند اور ناقابلِ استعمال ہے جب تک کہ مائکروبیل اور فنگل سسٹم مکمل طور پر کام نہ کر رہے ہوں۔
​🔒 بحالیاتی حیاتیات (Regenerative Biology) سے غذائی اجزاء کی دولت کو کھولنا:
​✅ مائکورائزل کالونائزیشن (Mycorrhizal Colonization)
یہ علامتی فنجائی (symbiotic fungi) جڑوں کے سسٹمز کو ان کی قدرتی رسائی سے 100 گنا تک بڑھا دیتے ہیں—خاص طور پر فاسفورس، کیلشیم، زنک، اور کاپر کے لیے— جس سے "بند" غذائی اجزاء پودے سے کاربن کے تبادلے میں دستیاب ہو جاتے ہیں۔
​✅ رائزوفیگی سائیکل (Rhizophagy Cycle)
پودے اپنی جڑوں کی نوکوں کے اندر مخصوص بیکٹیریا سے غذائی اجزاء جذب اور نکالتے ہیں۔ یہ خرد حیاتیات (microbes) پھر خارج ہو جاتے ہیں اور رائزوسفیئر (rhizosphere) کو دوبارہ آباد کرتے ہیں— نائٹروجن، آئرن، مینگنیز، اور بہت کچھ کو حیرت انگیز کارکردگی کے ساتھ گردش میں لاتے ہیں۔
آزادانہ طور پر رہنے والے نائٹروجن فکسرز
​بیکٹیریا جیسے Azospirillum \space brasilense، Azotobacter، اور Paenibacillus فضا میں موجود نائٹروجن کو پودوں کے لیے قابلِ استعمال امونیم میں تبدیل کرتے ہیں—جو کہ ہر ایکڑ کے اوپر تیرتی ہوئی نائٹروجن گیس کے 30,000 ٹن کے ذخیرے کو استعمال میں لاتے ہیں۔
​💰 خلاصہ (The Bottom Line):
ان قدرتی نظاموں کو بہتر بنا کر، کسان یہ کر سکتے ہیں:
​مصنوعی کھاد کے استعمال کو ڈرامائی طور پر کم کر سکتے ہیں۔ 🚜
​فصلوں میں غذائیت کی کثافت (density) کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ 🥬
​طویل مدتی مٹی کی زرخیزی اور ساخت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ 🌱
​ماحولیاتی اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ 🌎
​Reconstruct-Ag میں، ہم فارموں کی مدد کرتے ہیں کہ وہ کسٹم مائیکروبیل ٹیسٹنگ، ہدف شدہ انوکولنٹس (targeted inoculants)، اور آپ کی مٹی اور آب و ہوا کے مطابق بنائی گئی بحالی کی حکمت عملیوں (regenerative strategies) کے ذریعے اس بائیولوجی کو فعال کریں۔

Our honey 🍯 is unprocessed a has no added ingredients. It's free of corn syrup, fructose, agave, preservatives, and  oth...
11/11/2025

Our honey 🍯 is unprocessed a has no added ingredients. It's free of corn syrup, fructose, agave, preservatives, and other additives.
All of our honey is Pakistan 🇵🇰 Grade A and is free of problem contaminants.
#03043752697

انسانی غذائیت میں شہد کی ایک طویل تاریخ ہے اور اسے مختلف کھانوں اور مشروبات میں میٹھا بنانے اور مسالا کے طور پر استعمال ...
10/11/2025

انسانی غذائیت میں شہد کی ایک طویل تاریخ ہے اور اسے مختلف کھانوں اور مشروبات میں میٹھا بنانے اور مسالا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں شہد کو شفاء کا بہترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور اسے جنت کی غذاؤں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

Iran's toffee grapes are only 5000/9kg in Islamabad Fruit Market.
07/11/2025

Iran's toffee grapes are only 5000/9kg in Islamabad Fruit Market.

07/11/2025

Preparation for extracting honey🍯 from the hive🐝.
🍯🐝
🍯🐝

🏔⛰
🐄🐄

27/09/2025

It’s a great clip about pruning small Mango trees 🌳.
Mango Valley 🇵🇰

25/09/2025

آم کے درختوں کی کھاد کا پروگرام-
آم کے درخت کو کیسے کھادیں۔
عمومی تحفظات:-
آم کے درختوں کو کھاد دینا ایک سنگین معاملہ ہے۔ ہمیں اپنے آم کے درختوں کو بغیر کسی وجہ یا درختوں کی مخصوص ضرورت کے تصادفی طور پر کھاد نہیں ڈالنی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھیں بند کرکے کھاد ڈالنے کے نتیجے میں غذائی اجزاء کی اضافی سطح ہو سکتی ہے۔ اگرچہ غذائی اجزاء کی اضافی سطح اچھی چیز کی طرح لگتی ہے، لیکن یہ حقیقت میں ہمارے آم کے درخت کی صحت پر نقصان دہ اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مخصوص غذائی اجزاء کی اضافی سطح کے نتیجے میں دیگر غذائی اجزاء "بند" ہو سکتے ہیں اور درخت تک رسائی کے قابل نہیں رہتے ہیں۔

ذیل میں ایک جدول ہے جس میں دیگر غذائی اجزاء پر ضرورت سے زیادہ غذائی اجزاء کا اثر دکھایا گیا ہے۔

مائیکرو نیوٹرینٹس کے ساتھ ایک مکمل کھاد کا انتخاب
یاد رکھین کھاد کا انتخاب کرتے وقت، 3 بڑی تعدادوں کو دیکھنا بہت ضروری ہے: N-P-K (نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم)۔ مثالی طور پر، ہم جس کھاد کو منتخب کرتے ہیں اس میں ثانوی غذائی اجزاء (یعنی کیلشیم، میگنیشیم، سلفر وغیرہ) کے ساتھ ساتھ مائیکرو نیوٹرینٹس (یعنی بوران، مینگنیج، آئرن، مولیبڈینم وغیرہ) کی صحت مند فراہمی ہونی چاہیے۔
آم کے درخت کی کھاد کا انتخاب کرتے وقت غیر پھلدار آم کے درختوں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے کہ نائٹروجن (پہلا) نمبر 10 سے کم اور پوٹاشیم (تیسرے) نمبر سے کم ہو۔ اس کی مثالوں میں [8-3-9 ]یا [8-2-12] شامل ہوں گے۔ ایک بار جب درخت باقاعدگی کے ساتھ پھل آنا شروع کر دیتا ہے، تو ہمیں ذیادہ پوٹاشیم پر مبنی کھاد اور مائیکرو نیوٹرینٹ فولیئر سپرے کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔
نائٹروجن کھاد کو محدود کرنا۔
مین نے ہمیشہ یہ تبلیغ کی ہے کہ ہمارے آم کے درختون کو ملنے والی نائٹروجن کی مقدار کو محدود کرنا بہت ہی اہم ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آم کے جوان درختوں کو اگنے کے لیے زیادہ نائٹروجن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ درحقیقت، آم کے درخت کی پتیوں میں نائٹروجن کی مقدار عجیب طور پر کم ہے 1% (جبکہ زیادہ تر پھل دار درخت تقریباً 10% ہیں)۔ نتیجے کے طور پر، آم کے درخت اصل میں بہت زیادہ نائٹروجن کے لیے منفی ردعمل دے سکتے ہیں۔
ایک بار جب آم کا جوان درخت بن جاتا ہے اور ایک چھتری تیار کر لیتا ہے جو باقاعدہ پھلوں کی پیداوار میں مدد دے سکتا ہے، تو درخت کو فوری طور پر ایسی کھادوں اور (کوئی بھی چیز جو مٹی کی نائٹروجن کی سطح کو بڑھا سکتی ہے) کو ختم کر دینا یعنی استعمال نہی کرنا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پھلون یعنی آمون کے سیٹ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ درختوں کی نشوونما کو بھی محدود کرنا چاہتے ہیں، جس کے نتیجے میں درخت کی بڑھوتری کی شرح بھی کم ہو جائے گی۔
مزید برآں، آسٹریلیا کے محکمہ پرائمری انڈسٹریز اینڈ ریجنل ڈویلپمنٹ کے زراعت اور خوراک کے مطابق، نائٹروجن کی ضرورت سے زیادہ مقدار فراہم کرنے سے آم "خراب [ذائقہ] کوالٹی اور ناقص شیلف لائیف کی خصوصیات کے ساتھ سبز پھل “ کا باعث بن سکتا ہے۔
آم کے درخت کو کب کھاد ڈالیں۔
1- حال ہی میں لگائے گئے آم کے درختوں کو کھاد نہیں ملنی چاہیے۔
2- آم کے درختوں کو کھاد صرف ان کی ضرورت کے مطابق ہی دینی چاہیے۔
عام طور پر، ہمیں پھولوں لانے کے لیے ایک بار موسم خزاں (ستمبر، اکتوبر، نومبر) میں اور ایک بار پھر موسم بہار (مارچ، اپریل، مئی) میں، پھلوں کے معیار کو متاثر کرنے کے لیے کھاد ڈالنی چاہیے۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ، کب/کیسے کھاد ڈالی جائے۔ کھاد کا استعمال کھاد کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔ نتیجے کے طور پر، یہ ضروری ہے کہ کھاد کے استعمال کو کی کھاد کے لیبل کی مخصوص ہدایات پر عمل کیا جاے کیونکہ لیبل ہی کھاد کا قانون ہے۔
(چوہدری خالد فلوریڈا)

22/09/2025

سیلاب اور آم کے باغات۔
سیلاب سے آم کے باغات کو
پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکتا ہے۔
‎*قلیل مدتی لائحہ عمل:*
‎1. *نقصان کا جائزہ*: باغات کے نقصان کا مکمل جائزہ لیں تاکہ واضح ہو سکے کہ کون سے باغات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور کون سے جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
‎2. *باغات کی صفائی*: سیلاب کے بعد باقی ماندہ گندگی اور ملبے کو ہٹا کر درختوں کی جڑوں کو ہوا دینے کی کوشش کریں۔
‎3. *درختوں کی ابتدائی دیکھ بھال*: متاثرہ درختوں کو فوری طور پر کھاد اور پانی کی مناسب مقدار دی جائے تاکہ وہ اپنی صحت بحال کر سکیں۔
‎4. *قرضوں اور امداد کی فراہمی*: حکومت اور دیگر اداروں سے قرضوں اور امدادی پیکجز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسانوں کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
‎*طویل مدتی لائحہ عمل:*
‎1. *نئے باغات لگانا*: نئے سرے سے باغات لگانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے، جس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق آم کی اقسام کا انتخاب کیا جائے۔
‎2. *سائنسی طریقے اپنانا*: درختوں کی افزائش اور پیداوار بڑھانے کے لیے جدید سائنسی طریقے اپنائے جائیں، جیسے کہ ڈرپ ایریگیشن اور دیگر جدید زرعی ٹیکنالوجیز۔
‎3. *بیماریوں اور آفات کے خلاف مزاحمت*: آم کے درختوں کو بیماریوں اور آفات سے بچانے کے لیے موثر تدابیر اختیار کی جائیں، جیسے کہ بیسٹ مینجمنٹ پریکٹسز (BMPs) کا استعمال۔
‎4. *تخنیکی تربیت اور آگاہی*: کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور ان کے ازالے کے لیے جدید ترین زرعی تکنیکوں کے بارے میں تربیت دی جائے۔
‎5. *حکومتی مدد اور پالیسی*: حکومت کی جانب سے کسانوں کو مالی مدد، سبسڈی، اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
‎ان تدابیر کو اپنا کر آم کے باغات کو دوبارہ صحت مند اور پیداواری بنایا جا سکتا ہے۔

21/09/2025

*سیلاب اور آم کے باغ کو نقصانات*
حالیہ سیلاب سے ہیڈ تریموں سے لیکر ہیڈ پنجنند تک اور ہیڈ سدھنائی سے لیکر ہیڈ پنجنند تک دریا کے دونوں اطراف آم کے باغات کو شدید نقصان پہنچا شاید اس کا ازالہ نہ ہو سکے اور ان باغات کو نئے سرے سے لگانا پڑے جس کے لئے بہت سارے وسائل کی ضرورت ہوگی ۔۔۔ سیلاب اور اس طرح کی دوسری آفات ظاہر ہے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مسلسل رونما ہو رہی ہیں ۔ جس کو مدنظر رکھ کر ہمیں لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا
اس میں دو قسم کا لائحہ عمل کی ضرورت ہوگی
1۔ قلیل مدتی لائحہ عمل
2۔ طویل مدتی لائحہ عمل

02/09/2025

حالیہ سیلاب کے بعد آم کے باغات کی دیکھ بھال:

حالیہ سیلاب سے ملتان ،مظفر گڑھ اور رحیم یار خان کے اضلاع میں آم کے بہت سے باغات کو متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم سب سے زیادہ نقصان ضلع مظفر گڑھ میں ہونے کا اندیشہ ہے ۔ ان کے علاوہ دیگر چند اضلاع میں بھی آم کے باغات سیلاب کی زد میں آئے ۔ سیلاب سے متاثر ہ آم کے باغات پر توجہ دینے اور ان سفارشات پر عمل کر کے باغات کو دوبارہ سے صحت مند بنایا جا سکتا ہے اور ان سے بھر پور پیداوار اور بہترین کوالٹی کا پھل حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

اس حوالے سے سب سے اہم بات نکاسی آب کو جلد از جلد یقینی بنانا ہے۔ تاکہ ان کے باغات میں مسلسل پانی کی موجودگی سے پودوں کی جڑوں کا نقصان کم سے کم ہو

آم کے باغات جو دریائی علاقے میں ہوتے ہیں ۔ وہ عام طور پر 8 تو 10دن تک پانی کی زد میں رہتے ہیں ۔ لیکن وہ علاقے جہاں پانی کا بہاؤ رُک جائے تو وہاں پر موجود آم کے باغات کو پانی کے مسلسل کھڑا رہنے سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے ۔
البتہ آم کے بڑے پودے سیلاب کا زیادہ دیر تک مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


سیلاب سے متاثرہ درختوں کی تمام شاخیں جو پانی میں ڈوبنے کے بعد خشک ہو چکی ہوں انہیں قینچی یا آری کی مدد سے کاٹ دیں ۔ یاد رہے کہ کٹائی میں کلہاڑی کا استعمال ہر گز نہ کریں ۔ کٹے ہوئے حصے/زخموں پر بورڈو پیسٹ لگا دیں ۔

اس پیسٹ کو زخم پر لگانے کیلئے کوچی یا بُرش کا استعمال کریں ۔

پودے کے تنے کا وہ حصہ جو پانی میں مسلسل ڈوبا رہا ہو وہاں پودے کے تنے پر پھپھوند کش زہر کا ایک کا سپرے لازمی کریں۔ مثلا" مینکو زیب 250گرام ، کاپر ہائیڈرو آکسائیڈ 250 گرام یا تھائیو فینیٹ میتھائل 200 گرام فی 100لٹر پانی میں اسپرے کریں ۔

سیلاب خواہ تھوڑے دن رہے یا زیادہ دن یہ پودے کی جڑوں کو ضرور متاثر کرتا ہے ۔ اس لئے جڑوں کی بہتر نشونما کو یقینی بنانے کیلئے فاسفورس اور پوٹاش والی کھادیں ضرور ڈالیں ۔یاد رہے کہ ایک بڑے پودے کیلئے 5 کلو گرام ایس ایس پی یا 2 کلو گرام ڈی اے پی ) اور 1 کلو گرام ایس او پی کھاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔

وہ پودے جو زیادہ دیر پانی رُکنے کی وجہ سے صحت میں کمزور ہو گئے ہوں انہیں کھاد کے ساتھ ہی 2/1 کلو گرام نیلا تھو تھا ڈالیں تا کہ جڑوں میں جو سیلاب کی وجہ سے گلنے سڑنے کا عمل ہو رہا ہے ۔ اُس کا تدارک ہو سکے ۔

سیلاب کا پانی پودوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ زمین کی ساخت کو تبدیل اور کھیت کو غیر ہموار کر دیتا ہے ۔ اسی طرح آبپاشی کا نظام مثلاً کھال اور وَٹیں بھی درہم برہم ہو جاتی ہیں ۔ ممکنہ طور پر کھیت کی سطح کو ہموار کریں اگرچہ زمین کی سطح کو دوبارہ ہموار کرنا سب سے مشکل ، تکلیف دہ ، مہنگا اور طویل دورانیہ کا کام ہے ۔ مگر اس پہ عمل کرنا اشد ضروری ہوتا ہے۔

باغات کو سیلاب کے بعد 2-3 مہینے تک مکمل آبپاشی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس دوران کھالوں کی مرمت اور وَٹ بندی کر لیں ۔ لیکن اگر سطح ہموار کرنا جلدی ممکن نہ ہو تو پودوں کی آبپاشی کیلئے نالیوں وغیرہ کی مدد سے پودوں کی آبپاشی کا مناسب انتظام کر لیں تاکہ دسمبر جنوری میں کورے سے بچاؤ کے لیے ضرورت کے مطابق ہلکی ابپاشی کی جاسکے ۔

اگر پانی کے بہاؤ سے زمینی کٹائی کے نتیجہ میں پودوں کے نیچے سے بالخصوص تنوں کے قریب سے مٹی نکل گئی ہو تو ان گڑھوں کو فوری طور پر پُر کریں کیونکہ ایک مٹی کے بغیر ان جڑوں کی نشونما نہیں ہو سکتی اور دوسرا زیادہ مٹی نکلنے کی صورت میں پودے کا آندھی وغیرہ سے گرنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ زمین وَتر آنے پر ان گڑھوں کو مٹی ڈال کر بھر دیں اور جگہ کو پرانے لیول پر بحال کر دیں ۔

وہ باغات جہاں پر سیلاب سے پودے مر جائیں اور علاج کرنے کا موقع نہ ملے تو سیلاب سے خشک ہونے والے پودوں کو نکال کر اُن کی جگہ نئے پودے لگائیں ۔ پودے لگانے کا بہترین موسم ستمبر و اکتوبر میں نئے پودے لگانا زیادہ مناسب ہے کیونکہ سردیوں میں ان پودوں کی جڑیں نشونما کے مرحلہ سے گزر کر موسم بہار میں پودے کی بڑھوتری کا باعث بنتی ہیں ۔ تا ہم پودے لگانے سے پہلے گڑھوں کے اندر پھپھوند کش دوائی پانی میں ملا کر ڈالیں تاکہ جراثیم کو ختم کیا جا سکے ۔

سیلابی پانی میں مٹی کے باریک ذرات خاص طور پر سِلٹ کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ جن کھیتوں میں یہ پانی رُکتا ہے یہ ذرات نیچے زمین پر بیٹھ جاتے ہیں اور اس طرح یہ زمین کے باریک سوراخوں کو بند کر دیتے ہیں ۔ یہ باریک سوراخ بند ہونے سے ایک تو کھیت سے پانی جلدی خشک نہیں ہوتا اور پانی ختم ہونے پر زمین کے اندر ہوا داخل نہیں ہو سکتی ۔ اس طرح پانی ختم ہونے کے باوجود جڑوں کی دشواری کم نہیں ہوتی اور یہ آکسیجن کی کمی کا شکار رہتی ہیں ۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ زمین وَتر آنے پر اس میں روٹا ویٹر یا ہلکا گہرا ہل (تقریباً 2 انچ ) چلائیں تاکہ زمین کے مسام کُھل جائیں اور پودے کی جڑوں کو دوبارہ ہوا ملنا شروع ہو جائے۔

پاکستان مین کچھُ نرسریوں والے  “میازاکی آم” کے نام پر خوب فراڈ کر رہے ہین اور آم کے پودے کے عام خریدار کو بےوقوف بنا رہے...
31/08/2025

پاکستان مین کچھُ نرسریوں والے “میازاکی آم” کے نام پر خوب فراڈ کر رہے ہین اور آم کے پودے کے عام خریدار کو بےوقوف بنا رہے ہیں جبکہ حقیقت مین کوئی میازاکی نام کا کلٹیور یعنی قسم کے آم کا ساری دنیا مین کوئی وجود ہی نہی ہے۔
جہان تک جاپان کے “میازاکی آم “ کا تعلق ہے تو حقیقت مین یہ فلوریڈا کا “ارون” مینگو ہے [نیچے ارون مینگو کی تصویردیکھین] جو جاپان کے شہر میازاکی مین کاشت ہونے کی وجہ سے زبان عام مین اسکا نام “میازاکی” مینگو پڑ گیا ہے۔
یہ آم صرف بطور خاص اپنی رنگت کی وجہ سے مشہور ہے جوکہ جاپانی کاشتکار بڑی محنت اور لگن سے ایک خاص طریقہ کار کے تحت حاصل کرتے ہین۔ رہ گئی مٹھاس تو ہمارے پاکستان اور فلوریڈا مین دنیا کی بہترین مٹھاس والے آم کاشت کیے جاتے ہین۔
باقی جاپانی قوم کی یہ روائیت ہے کہ وہ اپنے نئے سال کے ہر پھل کو مارکیٹ مین لانے سے پہلے اسکی بولی لگاتے ہین جس مین وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہین اور یہ بولی ہزاروں ڈالرز تک چلی جاتی ہے۔
جاپان مین میازاکی آم کی بولی توکوئی چیز ہی نہی وہان پر 2020 مین “روبی رومن انگور” کے ایک کچھے کی بولی تقریبا بارہ ہزار [12000.00$] لگی تھی.
اسی طرح ایک جاپانی خربوزے “کینٹالوپس،”خاص طور پر پریمیم یوباری کنگ قسم کی نیلامی کی قیمت میں نمایاں طور پر اتار چڑھاؤ آتا ہے، جس میں یوباری کنگ خربوزے کی ایک جوڑی 2019 میں ریکارڈ 5 ملین ین (45,000$) میں فروخت ہوئی اور مئی میں 3.5 ملین ین (25,000$) تک پہنچ گئی۔
نوٹ :- یاد رہے یہُ سب بولیان صرف پھلون کے پروموشنل مقاصد کے لیے ہوتی ہیں۔جوکہ جاپانی لوگ اپنے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے کرتے ہین۔
[بقلم چوہدری خالد فلوریڈا ]

Natural ripe of Seasonal Chonsa 🥭   🍃🥭Mango Valley 🇵🇰         ☎️0300 8649501
25/06/2025

Natural ripe of Seasonal Chonsa 🥭
🍃🥭
Mango Valley 🇵🇰


☎️0300 8649501

Address

Ghotki

Telephone

+923043752697

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Affan Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Affan Awan:

Share