𝗔𝗴𝗿𝗼𝗻𝗼𝗺𝘆

𝗔𝗴𝗿𝗼𝗻𝗼𝗺𝘆 Agronomist. All crop sciences...

07/06/2024

دیمک لگی ہوئی ہو تو
2 پیک امیڈا کلوپڑڈ کے اور ساتھ 1سے 2لیٹر مٹی کا تیل فلڈ کریں فی ایکڑ 100% مرجاۓ گی۔ اگر مٹی کا تیل نا ملے تو مجبوراً کلوری پریفاس لے لیں۔

Adeel Imtiaz (Pre- Agronomist)..کپاس کا اکھیڑا:-.  (Root Rot)یہ بیماری پھپھوندی کی وجہ  سے ہوتی ہے اس بیماری کا حملہ فصل...
15/05/2024

Adeel Imtiaz (Pre- Agronomist)..
کپاس کا اکھیڑا:-. (Root Rot)
یہ بیماری پھپھوندی کی وجہ سے ہوتی ہے اس بیماری کا حملہ فصل پر عام طور پر جولائی یا اگست کے مہینوں میں ہوتا ہےابتدائی مراحل میں پودوں کے پتے اچانک مرجھا جاتے ہیں متاثرہ پودے کھینچنے سے أسانی سے زمین سے باہر نکل أتے ہیں
علامات:-
اگر پودے کا زمین سے نکال کر معائنہ کیا جائے تو اس کی ثانوی جڑیں بالکل ختم ہوئی نظر أتی ہیں موصلی جڑ کی چھال بالکل ریشہ کی مانند دکھائی دیتی ہے اگر بیماری سے متاثرہ پودے کو زمین سے نکال کر اس کی جڑ کو انگوٹھے سے دبائیں تو گلے ہوئے حصے سے زرد رنگ کابدبودار پانی نکلتا ہے یہ بیماری کھیت میں ٹکڑوں کی صورت میں اتی ہے اور زمین میں ہر سال تقریبا انہی ٹکڑوں میں موجود ہوتی ہے
انسداد :-
* ۔ کپاس کے ساتھ موٹھ کاشت کرنے سے اس بیماری کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے موٹھ کی فصل کو اگست کے پہلے یا دوسرے ہفتے نکال دینا چاہیے
* ۔ فصلوں کے ہیر پھیر سے اس بیماری کو کم کیا جا سکتا ہے
* ۔ کپاس کی فصل اگیتی کاشت کرنے سے بیماری کی شدت میں کمی أ جاتی ہے
کیمیائی کنٹرول :-
1. ٹریکوڈرما: یہ فنگسائیڈ ہے جو جڑوں کی پھپوندی کے خلاف لڑائی کرتا ہے۔
2. ٹریکوڈرما : یہ بیوفنگسائیڈ ہے جو میکروبیل فعالیت کو بڑھاتا ہے اور جڑوں کو محفوظ بناتا ہے۔
3. پیراکونازول: یہ ایک ایفنڈی کونازول کی قسم ہے جو جڑوں کی سوزش کو روکتا ہے۔

یہ کیمیکلز عموماً کپاس کی جڑوں پر لاگو کیے جاتے ہیں۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ آپ ایک ماہر سے مشورہ کریں تاکہ آپ کو موثر علاج کی تجویز کی جاۓ۔

پیاز کی فصل کے لیے کھاد کی ضرورت کی معلومات درج ذیل ہیں:نائٹروجن (N): پیاز کی فصل کے دوران نائٹروجن کی زیادہ ضرورت ہوتی ...
07/05/2024

پیاز کی فصل کے لیے کھاد کی ضرورت کی معلومات درج ذیل ہیں:

نائٹروجن (N): پیاز کی فصل کے دوران نائٹروجن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے جو پودے کو بڑے اور صحت مند بلبلیں دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
پوٹاشیم (K): پوٹاشیم بلبلیوں کی مضبوطی اور قوت کے لیے ضروری ہے۔
فاسفورس (P): فاسفورس بلبلیوں کی بہترین نشوونما اور کمال کے لیے ضروری ہے
Working as a Pre-Agronomist.
Early stage of onion
Nitrogen use 25-30kg per acre

کنگی (Rust)گندم کے پتوں اور تنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اسکا حملہ فصل پر فروری سے لیکر مارچ کے آخر تک ہوتا ہے، موسم سر...
23/02/2024

کنگی (Rust)

گندم کے پتوں اور تنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اسکا حملہ فصل پر فروری سے لیکر مارچ کے آخر تک ہوتا ہے، موسم سرما میں بارشیں اس بیماری کے پھیلنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
بھوری کنگی (Brown Leaf Rust)
گندم کے بڑھوتری کے مراحل میں ایک ہفتے یا اس سے زیادہ دنوں تک کم درجہ حرارت اور ہوا میں زیادہ نمی کا تناسب اس بیماری کے پھیلنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔اس کا زیادہ حملہ جنوبی پنجاب میں دیکھنے میں آتا ہے۔
زردکنگی (Yellow Rust)
اگر ایک ہفتہ تک درجہ حرارت10 سے15 ڈگری سینٹی گریڈ اور فضا میں نمی کا تناسب 80 فیصد یا اس سے زیادہ ہوتو اس کے پھیلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور یہ گندم کے پتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔زرد کنگی کا زیادہ حملہ شمالی اور وسطی پنجاب میں ہوتا ہے۔
سیاہ کنگی (Stem Rust)
تنے کی کنگی ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اسکا زیادہ حملہ تب ہوتا ہوتا ہے، جب دن گرم ، رات کا درجہ حرارت معتدل اور بارش یا پودوں پہ شبنم پڑی ہو۔نائٹروجنی کھاد کا بے دریغ استعمال بھی اس بیماری کو بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔
👈کنگی سے بچاؤ کے لئے پروپیکونازول بحساب 200ملی لیٹر فی ایکڑ سپرے کرنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
کھلی کانگیاری(Loose S**t)
یہ بیماری سیاہ سفوفی خوشوں کی صورت میں نمودار ہوتی ہے، سیاہ ر نگ کا یہ سفوف جو کہ دانوں کی جگہ بیمار خوشوں میں نظر آتا ہے، دراصل بیماری پیدا کرنے والی پھپھوندی کے جراثیم ہوتے ہیں۔
👈کھلی کانگیاری اور کرنال بنٹ کے تدارک کے لئے بوائی سے پہلے بیج کوتھائیوفینیٹ میتھائل بحساب دو تا اڑھائی گرام فی کلو گرام۔

ہلدی کی کاشت کے لئے محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی سفارشات
23/02/2024

ہلدی کی کاشت کے لئے محکمہ زراعت حکومت پنجاب کی سفارشات

 # # ہلدی کی پیداواری ٹیکنالوجی: ایک جامع جائزہہلدی ایک قیمتی مصالحہ ہے جسے مختلف پکوانوں میں ذائقے اور رنگ کے لیے استعم...
23/02/2024

# # ہلدی کی پیداواری ٹیکنالوجی: ایک جامع جائزہ

ہلدی ایک قیمتی مصالحہ ہے جسے مختلف پکوانوں میں ذائقے اور رنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہلدی کی کاشت مختلف علاقوں میں کی جاتی ہے، بشمول پنجاب، سندھ، اور بلوچستان۔ ہلدی کی کامیاب کاشت کے لیے موزوں آب و ہوا، زمین، کھاد، اور دیگر زراعی طریقوں کا استعمال ضروری ہے۔

**موسم:**

ہلدی ایک گرمسیری پودا ہے جسے مرطوب اور معتدل آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی کاشت کے لیے مثالی درجہ حرارت 20 سے 30 ڈگری سیلسیس ہے۔ ہلدی کی کاشت کا موزوں وقت مارچ اور اپریل کا مہینہ ہے۔

**زمین:**

ہلدی کی اچھی پیداوار کے لیے زرخیز، بھاری میرا زمین جس میں پانی کا نکاس اچھا ہو، موزوں رہتی ہے۔ ہلدی کی کاشت کے لیے زمین کا پی ایچ 6.5 سے 7.5 کے درمیان ہونا چاہیے۔

**بوائی:**

ہلدی کی بوائی کے لیے عام طور پر گنڈیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بوائی سے پہلے گنڈیوں کو 24 گھنٹے کے لیے پانی میں بھگو دیا جاتا ہے۔ بوائی کے لیے 10 سے 15 سینٹی میٹر گہری اور 45 سے 60 سینٹی میٹر چوڑی کیاریاں بنائی جاتی ہیں۔ گنڈیوں کو کیاریوں میں 20 سے 25 سینٹی میٹر کے فاصلے پر لگایا جاتا ہے۔

**کھاد:**

ہلدی کی اچھی پیداوار کے لیے کھاد کا استعمال ضروری ہے۔ ہلدی کی کھاد کے لیے درج ذیل سفارشات کی جاتی ہیں:

* **نائٹروجن:** 80 کلو گرام فی ایکڑ
* **فاسفورس:** 50 کلو گرام فی ایکڑ
* **پوٹاش:** 120 کلو گرام فی ایکڑ

فاسفورس اور پوٹاش والی کھاد کی ساری مقدار بوائی کے وقت ڈالی جاتی ہے۔ نائٹروجنی کھاد کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

* پہلا حصہ اگاؤ کے 60 دن بعد
* دوسرا حصہ بوائی کے 90 دن بعد
* تیسرا حصہ بوائی کے 120 دن بعد

**آبپاشی:**

فصل کی کاشت کے فوراً بعد آبپاشی کی جاتی ہے۔ اس کے بعد، موسمی حالات اور فصل کی ضرورت کے مطابق آبپاشی جاری رکھی جاتی ہے۔ تاہم، یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ پانی کھیت میں کھڑا نہ رہے، ورنہ ہلدی کی گنڈیاں گل سکتی ہیں۔

**آفات و امراض:**

ہلدی کی فصل کو مختلف آفات و امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے اہم آفات میں سفید مکھی، تھریپس، اور ٹڈیاں شامل ہیں۔ اہم امراض میں پتی کا دھبہ، جڑ کا گلاؤ، اور پھپھوندی شامل ہیں۔ ان آفات و امراض سے بچاؤ کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔

**برداشت:**

ہلدی کی فصل 8 سے 10 ماہ میں تیار ہو جاتی ہے۔ ہلدی کی برداشت کے لیے پتوں کا پیلا ہونا اور گنڈیوں کا زمین سے باہر نکلنا علامت ہے۔ برداشت کے بعد ہلدی کی گنڈیوں کو اچھی طرح سے دھو کر صاف کیا جاتا ہے اور پھر انہیں سائے میں خشک کیا جاتا ہے۔

**پیداوار:**

ہلدی کی اوسط پیداوار 5 سے 7 ٹن فی ایکڑ ہے۔ تاہم، بہتر ٹیکنالوجی اور زراعی طریقوں کے استعمال سے 11 سے 13 ٹن فی ایکڑ تک پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

**نتیجہ:**

ہلدی کی کاشت ایک منافع بخش کاروبار ہو سکتی ہے اگر اسے جدید ٹیکنالوجی اور بہترین زراعی طریقوں کے استعمال سے کیا جائے۔

**گندم کے کھیتوں میں خالی بالیاں**گندم کے کھیتوں میں خالی بالیوں کی اطلاعات ایک تشویشناک خبر ہے۔ یہ بالیاں ظاہری طور پر ...
23/02/2024

**گندم کے کھیتوں میں خالی بالیاں**

گندم کے کھیتوں میں خالی بالیوں کی اطلاعات ایک تشویشناک خبر ہے۔ یہ بالیاں ظاہری طور پر ٹھیک دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان میں بہت کم دانے یا کوئی دانہ بھی نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ کئی علاقوں میں دیکھا گیا ہے، اور اس کی وجہ سے فصل کی پیداوار میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔

**وجہ**

خالی بالیوں کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ منجمدگی ہے۔ چھوٹا، تیار ہونے والا گندم کا دانہ سرد درجہ حرارت کے لیے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ یہ پودوں کے (پتوں اور تنوں) سے زیادہ حساس ہے۔ منجمدگی کے واقعات نے ممکنہ طور پر گندم کے دانوں کو نشو و نما کے ایک خاص مرحلے پر مرنے کا باعث بنا۔

**اثرات**

خالی بالیوں کا مسئلہ گندم کی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ مسئلہ گندم کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

**حل**

منجمدگی سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے کسان کئی اقدامات کر سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

* **منجمدگی سے بچنے والی گندم کی اقسام کا انتخاب**
* **فصل کو مناسب وقت پر لگانا**
* **منجمدگی سے بچاؤ کے لیے پانی کا استعمال**
* **منجمدگی سے بچاؤ کے لیے کیمیائی مادوں کا استعمال**

**مزید تحقیق کی ضرورت**

خالی بالیوں کے مسئلے کی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس تحقیق سے اس مسئلے کی وجوہات اور اسے کنٹرول کرنے کے طریقوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

**تجاویز**

* متاثرہ کسانوں کو اپنے مقامی زرعی توسیع کے دفتر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
* کسانوں کو منجمدگی سے ہونے والے نقصان سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
* حکومت کو متاثرہ کسانوں کی مدد کے لیے مالی امداد فراہم کرنی چاہیے۔

23/02/2024
Yellow Rustگندم میں رسٹ کا حملہ اور موسمی صورت حال۔۔۔۔۔گندم میں فنگس یا رسٹ کا حملہ عموما فروری اور مارچ میں دیکھنے میں ...
26/01/2024

Yellow Rust
گندم میں رسٹ کا حملہ اور موسمی صورت حال۔۔۔۔۔
گندم میں فنگس یا رسٹ کا حملہ عموما فروری اور مارچ میں دیکھنے میں آتا ہے۔اب میں دیکھتے ہیں کہ کون سا موسم اس کے پھیلنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔روزانہ ھوا میں نمی کا تناسب 4 سے 5 گھنٹے کے لیے زیادہ رہے یعنی پتے گیلے رہیں اور ٹمپریچر 24 گھنٹوں میں سے زیادہ تر 12 سے 20 سینٹی گریڈ کے قریب رہے تو یہ فنگس تیزی سے پھیلتا ہے ۔ 12 سے 20 سینٹی گریڈ ٹمپریچر پر فنگس تیزی سے پھیلتی ہے۔۔۔۔جیسے ہی ٹمپریچر 12 سینٹی گریڈ سے کم ہوتا ہے تو اس کے بڑھنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔12 سے 8 سینٹی گریڈ پر اس کے بڑھنے کی رفتار کم ہو کر ایک تہائی رہ جاتی ہے۔۔۔۔8 سینٹی گریڈ سے کم ٹمپریچر پر یہ کام کرنا چھوڑ دیتی ہے اور بے حس و حرکت ہو کر سو جاتی ہے مگر مرتی نہیں ہے اور کورا بھی برداشت کر جاتی ہے اور ٹمپریچر بڑھنے پر دوبارہ بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔اب جب دن کے وقت ٹمپریچر بڑھتا ہے تو 20 سینٹی گریڈ تک یہ پھلیتی رہتی ہے اور 20 سے 22 سینٹی گریڈ پر اس کے بڑھنے کی رفتار کم ہو کر ایک تہائی رہ جاتی ہے اور جیسے ہی ٹمپریچر 22 سینٹی گریڈ سے بڑھتا ہے تو یہ پھر بے حس وحرکت ہو کر سو جاتی ہے مگر سخت گرمی میں بھی یہ مرتی نہیں ہے اور 40 سینٹی گریڈ ٹمپریچر بھی برداشت کرتی ہے مگر پھیلنا بند کر ہو جاتی ہے۔۔۔۔جیسے ہی ٹمپریچر 22 سینٹی گریڈ سے کم ہوتا ہے تو یہ پھر پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔۔۔اس کا انفکشن پہلے پتوں میں آتا ہے اور پیلا پوڈر کچھ دنوں کے بعد بنتا ہے۔۔۔۔یہ ہوا کے زریعے دور دور کے علاقوں تک پھیل جاتی ہے اور گندم کی پیداوار کا 10 سے 50 فیصد تک نقصان کرتی ہے۔۔۔۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بارش سے ختم ہو جاتی ہے مگر حقیقت میں یہ بارش ہونے پر یہ تیزی سے پھیلتا ہے۔۔۔اس کے پھیلنے کا خطرہ اس وقت کم ہو جاتا ہے جب موسم خشک ہو جائے اور رات کا کم از کم درجہ حرارت 16 سینٹی گریڈ سے بڑھ جائے اور دن کے اوقات درجہ حرارت 22 سینٹی گریڈ سے بڑھ جائے۔۔۔۔
کنٹرول:
گندم میں فنگس کو کنٹرول کرنے کے لیے مندرجہ ذیل زہریں کارآمد ہیں۔۔۔
Difinaconozol+Azoxystrobin
Tebuconozol+Azoxystrobin
Tebuconozol+Triazoxystrobin
Myclobutanil
Propiconozol+Azoxystrobin
ان میں سے کوئی ایک فارمولیشن کسی اچھی ملٹی نیشنل کمپنی کی لے کر 100 سے 120 لیٹر پانی میں ملا کر فی ایکڑ سپرے کریں

تیلا (سست تيلا )امیڈا کلاپرڈکا سپرےکریں۔
11/01/2024

تیلا (سست تيلا )
امیڈا کلاپرڈکا سپرےکریں۔

Both are use to Control W**d ۔۔ گندم کی  جڑی بوٹیاں ..چوڑے پتوں والی دنبی سٹی کےلئے
15/12/2023

Both are use to Control W**d ۔۔
گندم کی جڑی بوٹیاں
..
چوڑے پتوں والی
دنبی سٹی کےلئے

Address

Jahanian

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝗔𝗴𝗿𝗼𝗻𝗼𝗺𝘆 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category