Islamic vedios and urdu adab

Islamic vedios and urdu adab this page is created for islamic and urdu adab vedios and reviews .

16/01/2026

قبیلے کےسردار کا دانشمندانہ فیصلہ اور خوف خدا..ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح اور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ کی تواضع کی۔

کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا الیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔

مدعی نے کہا۔
”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی، خزانے کی نہیں“

مدعا الیہ نے جواب میں کہا۔
”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے ، میرا اب اس زمین اور اس میں موجود اشیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے “

سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔
”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“

”ہاں ہے!“

پھر مدعا الیہ سے پوچھا۔
”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“

”جی ہاں....“ مدعا الیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔

”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“

اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا ۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔

سردار نے متردد شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“

”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“

سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“

شہنشاہ نے کہا کہ ۔ ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ مقدمہ ہمارے ملک میں ہوتا تو زمین خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان کچھ اس طرح کا جھگڑا ہوتا کہ بیچنے والا کہتا کہ : میں نے اسے زمین بیچی ہے اور اس سے زمین کی قیمت وصول کی ہے ، اب جبکہ خزانہ نکل آیا ہے تو اس کی قیمت تو میں نے وصول ہی نہیں کی ، اس لیے یہ میرا ہے ۔
جبکہ خریدنے والا کہتا کہ:
میں نے اس سے زمین خریدلی ہے ، تو اب اس میں جو کچھ ہے وہ میری ملکیت ہے اور میری قسمت ہے ۔

سردار نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر تم کیا فیصلہ سناتے؟

شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ:
ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“

”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“

”جی ہاں کیوں نہیں؟“

”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“

”بالکل!“

”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“

”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“

”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔ ”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کررہی ہے۔
اللہ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے
اور ہمیں نیکی کی اور سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین

11/01/2026

اہل بیت رضی اللہ اور ان کی سخاوت
حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیا ء العلوم میں حضراتِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی سخاوت کا ایک عجیب واقعہ ذکر کیا ہے : ابوالحسن مدائنی کہتے ہیں کہ حضرت امام حسن ، امام حسین اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم حج کےلیے تشریف لے جارہے تھے ، راستے میں اُن کے سامان کے اُونٹ ان سے جدا ہو گئے ، یہ بھوکے پیاسے چل رہے تھے ایک خیمہ پر اُن کا گزر ہوا ۔ اس میں ایک بوڑھی عورت تھی ۔ ان حضرات نے اس سے پوچھا کہ ہمارے پینے کو کوئی چیز( پانی یا دُودھ لسی وغیرہ) تمھارے پاس موجود ہے ؟ اس نے کہا ، ہے ۔ یہ لوگ اپنی اونٹنیوں پر سے اُترے ۔ اس بڑھیا کے پا س ایک بہت معمولی سی بکری تھی اس کی طرف اشارہ کرکے اُس نے کہا کہ اس کا دودھ نکال لو اور اس کو تھوڑا تھوڑا پی لو ۔ ان حضرات نے اس کا دودھ نکالا اور پی لیا ۔ پھر اُنہوں نے پوچھا کہ کوئی کھانے کی چیز بھی ہے ؟ اُس بڑھیا نے کہا کہ یہی بکری ہے ۔اس کو تم میں سے کوئی ذبح کرلے تو میں پکا دوں گی ۔ اُنہوں نے اس کو ذبح کیا اس نے پکایا ۔ یہ حضرات کھا پی کرجب شام کو چلنے لگے تو انہوں نے اس بڑھیا سے کہا کہ ہم ہاشمی لوگ ہیں اس وقت حج کے ارادہ سے جا رہے ہیں ۔ اگر ہم زندہ سلامت واپس مدینہ پہنچ جائیں تو تو ہمارے پاس آنا ، تیرے اس احسان کا بدلہ دیں گے ۔ یہ حضرات تو فرماکر چلے گئے شام کو جب اس کا خاوند (کہیں جنگل وغیرہ سے) آیاتو اس بڑھیا نے ہاشمی لوگوں کو قصہ سُنایا ، وہ بہت خفا ہوا کہ تو نے اجنبی لوگوں کے واسطے بکری ذبح کر ڈالی۔ معلوم نہیں کون تھے کون نہیں تھے۔پھر کہتی ہے کہ ہاشمی تھے ۔غرض وہ خفا ہوکر چُپ ہو گیا ، کچھ زمانہ کے بعد ان دونوں میاں بیوی کو غربت نے جب بہت ستایا تو یہ محنت مزدوری کی نیت سے مدینہ منورہ گئے ۔ دن بھر مینگنیاں چُگا کرتے او ر ان کو بیچ کر گزر کیا کرتے ۔ ایک دن وہ بڑھیا مینگنیاں چُگ رہی تھی ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اپنے دوازے کے آگے تشریف رکھتے تھے جب یہ وہاں کو گزری توا س کو دیکھ کر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس کو پہچان لیا اور اپنے غلام کو بھیج کر اس کو اپنے پاس بلوایا اور فرمایا کہ اللہ کی بندی تو مجھے بھی پہچانتی ہے ؟ اس نے کہا میں نے تو نہیں پہچانا ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تیرا وہی مہمان ہوں دودھ او ربکری والا ۔ بڑھیا نے پھر بھی نہ پہچانا اور کہا کیا خدا کی قسم تم وہی ہو ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں وہی ہوں اور یہ فرما کر آپ نے اپنے غلاموں کو حکم دیا کہ اس کےلیے ایک ہزار بکریاں خریدی جائیں ۔ چنانچہ فوراً خریدی گئیں اور ان بکریوں کے علاوہ ایک ہزار دینار (اشرفیاں) نقد بھی عطا فرمائے اور اپنے غلام کے ساتھ اس بڑھیا کو چھوٹے بھائی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ بھائی نے کیا بدلہ عطا فرمایا ؟ اس نے کہا ایک ہزار بکریاں اور ایک ہزار دینار ۔ یہ سُن کر اتنی ہی مقدار دونوں چیزوں کی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے عطا فرمائی ۔ اس کے بعد اس کو حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا اُنہوں نے فرمایا کہ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے کیا کیا مرحمت فرمایا اور جب معلوم ہوا کہ یہ مقدار ہے تو اُنہوں نے دوہزار بکریاں اور دو ہزار ددینار عطا فرمائے اور یہ فرمایا کہ اگر تو پہلے مجھ سے پہلے مل لیتی تو میں اس سے بہت زیادہ دیتا ۔ یہ بڑھیا چار ہزار بکریاں اور چار ہزار دینار (اشرفیاں ) لے کر خاوند کے پاس پہنچی کہ یہ اُس ضعیف اور کمزور بکری کا بدلہ ہے ۔ (احیاء العلوم جلد ٣ صفحہ ٢٤٩،چشتی)

جزاک اللہ خیرا کثیرا۔











04/01/2026

خلیفہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا-
اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- خلیفہ عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ہے۔ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ہے۔
خلیفہ عبدالملک کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-
خلیفہ عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ہوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-
نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔

خلیفہ عبدالملک نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا۔
خلیفہ نے اپنے غلام سے کہا- کہ یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ہو کر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا-
سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ہو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا کہ امیر المؤمنین نے آپکو یاد کیا ہے۔
سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔
خلیفہ عبدالملک نےکہا،
نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ہو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔
سالم بن عبداللہؓ نےکہا،
اے امیرالمؤمنین! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، دنیاوی یا آخرت کی؟
امیرالمؤمنین نےجواب دیا،
کہ میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع ہی ہے۔ سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا- امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی۔ جو اس دنیا کا مالکِ کُل ہے۔ آپ سے کیا مانگوں گا۔ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ہے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں تو میں بیان کرتا ہوں۔
خلیفہ حیران و ششدر ہو کر رہ گیا-
اور کہنے لگا- کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ہے۔
خلیفہ عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ علیہ رحمہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

یوں ایک نوجوان نےحاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا۔
واللہ اعلم بالصواب ۔۔۔۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا

آج کی بات
18/02/2025

آج کی بات

15/02/2025
24/01/2024

🥀❤️🥀

Ahmad Raza





❤️❤️❤️❤️❤️

21/01/2024

🥀🍃💕🤍💕🌿✨



Address

Basti Peer Olyia Shareef
Jalalpur Pirwala
59250

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic vedios and urdu adab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category