21/07/2025
عورت کے آخری الفاظ:
میں نے نکاح کیا ہے… زنا نہیں کیا💔
ڈیرہ بگٹی کے قریب ایک لڑکا اور لڑکی نے اپنی مرضی سے نکاح کر لیا۔
چپ چاپ رہنے لگے، کسی کو تکلیف نہ دی، بس ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا خواب دیکھا۔
مگر یہاں خواب دیکھنے کی بھی سزا ہے۔
انہیں ڈھونڈ نکالا گیا۔
جرگے نے “واپسی” کا بہانہ بنایا۔
وہ دونوں یہ سوچ کر واپس آگئے کہ شاید بات سن لی جائے گی۔
لیکن بات سنی نہ گئی۔
جرگے نے فیصلہ سنایا کہ انہیں جینے کا کوئی حق نہیں۔
پہلے لڑکے کو گولی مار کر ختم کیا گیا۔
پھر لڑکی کو بھی گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔
یوں ایک کہانی کا اختتام ہو گیا۔
دو زندگیوں کو ایک “رسم” کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
یاد آیا، کچھ دن پہلے کمراٹ کے بارے میں لکھا تھا، وہاں بھی ایسی ہی پسند کی شادیاں کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔
لوگ جانتے ہیں کہ انجام موت ہے، پھر بھی ہر سال کوئی نہ کوئی محبت کرتا ہے، کوئی نہ کوئی جان دیتا ہے، اور روایت کا پیٹ پھر سے بھر دیا جاتا ہے۔
یہاں مذہب کا حوالہ دینا شاید بے معنی ہے، کیونکہ ان علاقوں میں مقامی رسم و رواج دین پر بھی حاوی ہو جاتے ہیں۔
حالانکہ حضرت عمرؓ نے تو اس باپ سے جھگڑا کیا تھا جو اپنی بیٹی کو پسند کی شادی سے روک رہا تھا۔
ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟
ماں باپ اپنی پسند کے “اچھے” رشتے کے لیے جہیز دے کر بیٹی کو روانہ کر دیتے ہیں کہ جاو ہماری مرضی کے ساتھ زندگی گزارو۔
لیکن اگر بیٹی اپنی مرضی سے کسی کو پسند کر لے؟
تو اسے مار ڈالنے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔
سچ کہوں؟
یہ غیرت نہیں… یہ اختیار اور انا کی درندگی ہے۔