21/03/2025
ان اللہ علی کل شئی قدیر ❤️
یہ تصویر آپ کے خلئے کی سب سے ڈیٹیلڈ تصویر ہے۔
اس تصویر میں نظر آنے والی وہ دنیا ہے جو آپ کے جسم میں موجود کھربوں خلئیوں میں سے ایک خلئے کے اندر کی دنیا ہے۔ ایک خلئے کے اندر ایک سیکنڈ میں ہزاروں لاکھوں کیمیائی تعامل ہو رہے ہوتے ہیں۔
اس تصویر کے حیران کُن ہونے کے لئے کیا بات ہے؟
ایک خلئیہ عام آنکھ سے نظر نہیں آتا۔ اس کا سائز اتنا کم ہوتا ہے۔ اتنے کم سائز کے خلئے کے اندر ہمار ڈی این اے بھی موجود ہوتا ہے۔ ڈی این اے کا سائز ایک میٹر کے دو کھربوویں حصے جتنا ہوتا ہے۔ جس میں تین ارب بیس پئیر ہوتے ہیں۔ اگر ہم ڈی این اے کو ایک خلئے سے باہر نکال کر اس کو ان فولڈ کریں تو اسکی لمبائی دو میٹر ہو سکتی ہے۔
جبکہ ہمارے جسم میں موجود سیلز یا خلئیوں کی مکمل تعداد کھربوں میں ہے۔ اگر ان میں موجود ڈی این اے کو ہم ان فولڈ کریں تو اس دھاگے کی لمبائی پورے نظام شمسی سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
اسکے علاوہ اسی خلئے میں مائٹو کانڈریا نامی ایک سٹرکچر ہوتا ہے۔ اس کا کام ہمارے خلئیوں کو انرجی پیدا کرکے دینا ہے (گو ہائر لیول پہ یہ کانسپٹ بالکل مختلف ہے) یہ مائٹوکانڈریا اپنا الگ ڈی این اے رکھتی ہے۔ یہ بھی کافی منفرد ہوتا ہے۔
منفرد کیسے؟
ایسے کہ ہماری مائٹو کانڈریا کا ڈی این اے کبھی بھی نہیں بدلتا بلکہ ماں سے بچے میں ایک جیسا ہی ٹرانسفر ہوتا ہے۔ اس سے ہم "اماں حوا" کا بھی پتا لگا سکتے ہیں۔ دراصل یہ جنریشن ٹو جنریشن ایک ہی چلتا ہے اس میں کوئی ہزار جنریشن بعد ایک میوٹیشن ہو سکتی ہے۔ اس وقت ہم میں L نامی گروپ کا ڈی این اے موجود ہے۔
اسی ڈاٹا کی بنا پہ جب آج کے انسان کی مائٹوکانڈریا کا ڈی این اے ہم نے پرانے انسانوں کے ساتھ ملایا تو یہ دو لاکھ سال پرانے ڈھانچے سے بھی جا ملا۔ مطلب وہ انسان ہمارے اجداد میں سے ایک تھے۔ اسی وجہ سے ارتقا کے بھی ٹھوس ثبوت ملتے ہیں۔
اسی طرح اسی خلئے میں کچھ تھیلے ہوتے ہیں جن میں تیزاب موجود ہوتے ہیں ۔ جونہی باہر سے کوئی ایسا مالیکیول اندر آتا ہے جو ہمارے جسم کا حصہ نا ہو تو یہ اس پر حملہ کرکے اسے تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات یہ اندر ہی خودکش دھماکہ کرکے خلیے کو تباہ کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی خلیہ مر جاتا ہے اور پیپ کی شکل میں باہر ملتا ہے۔
اسی طرح اسی ایک خلیے میں جو عام آنکھ سے نظر تک نہیں آتا اس میں ایسے سٹرکچر ہوتے ہیں جو کہ سورج کی روشنی کو پاتے ہی پانی اور کاربن ڈائی آکسائڈ سے مل کر گلوکوز اور آکسیجن بنانا شروع کردیتے ہیں ایسے خلیے کو ہم پودوں میں دیکھ سکتے ہیں۔
اسی طرح انہی خلیوں میں ایسی مشنری ہوتی ہے جو کہ ہر سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بھی ڈی این اے کی نقول بنا رہی ہوتی ہے تاکہ نئے خلیے بن سکیں یا پرانے کی تجدید ہوسکے۔
اس نقول بنانے کے کام کے دوران اگر کوئی چھوٹی موٹی گڑبڑ ہو جائے تو یہ تقسیم در تقسیم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اس کو ہم کینسر کے نام سے جانتے ہیں۔
اسی طرح جب بھی باہر سے کوئی حملہ آور بیکٹیریا یا وائرس آتا ہے تو اسکی بیرونی دیوار سے اندر داخل ہو کر اپنا کام دکھاتا ہے۔ عموما وائرس ہمارے خلیوں کی مشنری کا کنٹرول پا لیتے ہیں اور پھر اپنی نقول تیار کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ یہ وہ نقول ہمسایہ خلیوں میں ٹرانسفر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یوں کوئی بھی وائرس کام کرتا ہے۔
یہ تصویر اس صدی کی سب سے حیران کن تصویر ہے کیونکہ اس تصویر میں وہ شئے ہے جو ہمیں ہمارا وجود دیتی ہے۔ اس میں ایک خلیہ ہے۔ جسے ہم سیل بھی کہہ سکتے ہیں۔
ضیغم قدیر