Muhammad Mesba ur Rehman Zehri

Muhammad Mesba ur Rehman Zehri Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Mesba ur Rehman Zehri, Grocers, Ahsan abad karachi, Karachi.

03/04/2026

Aik din In shallah

29/03/2026

Eid Mubarak

29/01/2026

مکتہ المکرمہ

28/11/2025
تربیت ایسی کہ فقیروں کے ساتھ کھایا ہے انا ایسی کہ نوابوں کو ٹھکرا یا ہے صاحب
06/11/2025

تربیت ایسی کہ فقیروں کے ساتھ کھایا ہے
انا ایسی کہ نوابوں کو ٹھکرا یا ہے
صاحب

داستان تحریک ختم نبوت 1974آج سے 55 سال پہلے پاکستان میں  1970 کے اندر جنرل الیکشن ہوئے تھے 1970 کے الیکشن میں واضح طور پ...
07/09/2025

داستان تحریک ختم نبوت 1974

آج سے 55 سال پہلے پاکستان میں 1970 کے اندر جنرل الیکشن ہوئے تھے

1970 کے الیکشن میں واضح طور پر پوری قوم دو حصوں کے اندر بٹی ہوئی تھی دایاں بازو اور بایاں بازو
مشرقی پاکستان میں جناب مجیب الرحمن صاحب نے بڑی واضح اکثریت حاصل کی
یہاں مغربی پاکستان میں جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور ان کی پارٹی نے واضح طور پر اکثریت حاصل کی اگر الیکشن کے نتائج کو تسلیم کر لیا جاتا تو پورے پاکستان پر حکمرانی کرنے کے مستحق تھے مجیب الرحمن صاحب
بہرکیف اس الیکشن کے تقریبا کوئی تین سال بعد یعنی 1973 میں ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کی یونین کا الیکشن تھا تب چونکہ اوپر ایک تقسیم موجود تھی دایاں اور بایاں تو وہی اثرات نچلی سطح تک آئے
چنانچہ اس الیکشن میں بھی طلباء کی تنظیم کے اندر واضح طور پر دو گروپ شمار کیے گئے ایک کو دایاں بازو اور دوسرے کو بایاں بازوکہاجاتاتھا
دائیں بازو نے اپنا پینل کھڑا کیا اور بائیں بازو نے اپنا پینل
بائے بازو پینل نے اپنے ساتھ قادیانیوں کو بھی ملایااور اپنے پینل میں دو تین قادیانیوں کو سیٹوں پر کھڑا کر دیا جس وقت طلباء کے دونوں پینل آمنے سامنے ہوئے تو دائیں بازوں کے طلباء کو موقع ملا انہوں نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے حوالے سے اپنی تقریروں کے اندر گفتگو کرنا شروع کی ختم نبوت پر ان کی ذہن سازی ہوئی ملتان میں ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر ہے طلبہ کرام کا ایک گروپ ملتان دفتر ایا اور حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر رحمہ اللہ تعالی سے درخواست کی کہ حضرت ہمارے مد مقابل قادیانی ہیں ہم ختم نبوت کے حوالے سے کام کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں ختم نبوت کے حوالے سے مواد درکار ہیں تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر صاحب رحمہ اللہ تعالی نے ان طلباء کرام کو آئینہ مرزائیت نامی چھوٹا سا 16 صفحات کا رسالہ مرتب کر کے دیا طلبہ کرام نے خوب چھاپا اور مساجد مدارس بازار جلسے جلوس میں فری تقسیم کیا گیا طلبہ کرام نے دن رات اپنی گفتگو میں مرزائیت کو بھی موضوع بحث بنایا جب الیکشن ہوا تو اس میں بائیں بازو شکست کھاگئے تو جو وہ کہتے ہیں ہم تو ڈوبے ہے صنم
تمہیں بھی لے ڈوبیں گے
والا معاملہ پیش آیا
قادیانیوں کی نحوست یہ پڑی کہ ان کے قادیانی بھی شکست سے دوچار ہوئے اور ان کا پورا پینل شکست کھا گیا
دائیں بازو والے حضرات کا پورا پینل کامیاب ہو گیا دائیں بازو والے ساتھی دو تین مہینے سے الیکشن مہم میں مصروف تھےطلبہ کرام نے تھکاوٹ دور کرنے کے لیے سیر و تفریح کے حوالے سے آپس میں مشورہ کر کے کہا کہ اب ہم سیر وتفریح کے لیے سوات پشاور جانا چاہتے ہیں سب ساتھی پشاور اور سوات کے سفر کے حوالے سے متفق ہوئے مشاورت ہوئی کہ ہم ٹرین کے ذریعے سے جانا چاہتے ہیں انہیں پاکستان ریلوے حکام کو درخواست دی کہ ہم 22 مئی 1974 کو خیبرمیل نامی ٹرین کے ذریعے سفر کرنا چاہتے ہیں
ہمیں اضافی دو بوگیاں دے دی جائیں
پاکستان ریلوے حکام نے کہا کہ خیبر میل پہلے اتنی لمبی ٹرین ہے ان کے ساتھ مزید بوگیاں لگانا ممکن نہیں اگر جرات بھی کی جائے تو 22 مئی کو پھر بھی ممکن نہیں کیونکہ 22 مئی ایک شادی پارٹی کراچی سے پشاور جا رہی ہے ان کی اضافی بوگیاں لگنی ہیں اس لیے آپ یاتو تاریخ ملتوی کریں اگر تاریخ ملتوی نہیں کرنا تو ہم اس دن خیبر میل کے بجائے چناب ایکسپریس کے ذریعے آپ لوگوں کو بھیچ سکتے ہیں اس زمانے میں خیبر میل کا روٹ ملتان خانیوال چیچہ وطنی
ساہیوال اوکاڑا رائیونڈ لاہور گجرانوالہ پشاور جبکہ چناب ایکسپریس کا روٹ
ملتان سے خانیوال عبدالحکیم شورکوٹ ٹوبہ فیصل آباد چنیوٹ چناب نگر سابقہ نام ربوا اب جب ان طلبا ءکرام کو یہ چانس دیا گیا تو ان طلباء کرام نے کہا آم کھانے ہے پیڑ نہیں گننے
خیبر میل کے بجائے چناب ایکسپریس سے بوگیاں دے دی جائے تو ہم سفر کر لیں گے چنانچہ 22 مئی 1974 کو طلباء کرام نے سفر شروع کیا
نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کی جس وقت ٹرین چلی
اور چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئی پہلے اس کا نام ربوا تھا
بعد میں تبدیل کر کے چناب نگر رکھا گیا شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ قادیانیوں آج تمہارے شہر کا نام مٹا ہے ایسا وقت آنے والا ہے
کہ پوری دنیا میں ڈھونڈنے سے بھی قادیانیت نام کی کوئی چیز نہیں ملے گی
ان شاء اللہ الرحمن
اس زمانے میں قادیانیوں کی عادت یہ تھی کہ جو ٹرین گاڑی ان کے اسٹیشن جناب نگر سے گزرتی تو قادیانی بدبخت ارتدادی لٹریچر پمفلٹ رسائل اخبارات ہینڈ بل وغیرہ فری تقسیم کیا کرتے
الفضل نامی اخبار ہم الدجل کہتے ہیں تقسیم کیا کرتے
مسلمان غلط فہمی سے ان رسائل کو پڑھتے اور کچھ قادیانی ہو جاتے اور جن کو قادیانیت کے حوالے سے معلومات ہوتی وہ ارتدادی رسائل کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے
22 مئی 1974 کو جب ٹرین چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو قادیانیوں نے حسب عادت ارتدادی لٹریچر تقسیم کرنا شروع کیا نشتر میڈیکل کالج کے طلباء نے جب ان ارتدادی لٹریچر کو دیکھا
کہ اس میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے خلاف باتیں لکھی ہوئی ہیں اور مرزے قادیانی لعین علیہ لعنہ کو نبی تسلیم کرنے کی باتیں ہیں
ان طلباء کرام کا 1973یونین الیکشن کے موقع پرختم نبوت کے حوالے سے ان کے ذہن بنے ہوئےتھے
جب قادیانیوں کے غلیظ لٹریچر نشترمیڈیکل کالج طلبہ نے دیکھا تو اس سے چھیرا
پھر یوں چھیرا کہ چار ٹکڑے کیے زمین پر ڈالا
پاؤں سے مسلا
اس کے اوپر تھوکا
اور تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد
اور مرزا قادیانی لعین مردہ باد کہ نعرے لگائے
سکول کالج کے طلباء کا ازادانہ مزاج ہوتا ہے
بڑی بہادری کے ساتھ نعرے لگائے
قادیانیوں نے بڑی ترچھی نگاہوں سے ان طلباء کی طرف دیکھا جو ہی ٹرین گئ قادیانیوں کے سینے کے اوپر سانپ لوٹنے لگا
وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئے کہ ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا اور 1970 کے قومی الیکشن میں 16 کروڑ روپے پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن مہم پر خرچ کیےدن رات محنت کیآج پوزیشن یہ ہے
کہ ہمارے اسٹیشن پر ہمارے حضرت کے خلاف نعرے
اس زمانے میں قادیانی جماعت کا چیف گروہ اور لاٹ پادری مرزا ناصر قادیانی تھا
جو قادیانی جماعت کا نام نہاد تیسرا خلیفہ تھامرزا ناصر تک رپورٹ پہنچی
وہ پریشان ہوا
اور اپنے بھائی جو بعد میں قادیانی جماعت کا چوتھا خلیفہ بنا مرزا طاہر قادیانی
مرزا ناصر اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان جو رابطے کا کام دیتا تھا
وہ مرزا طاہر تھا تو مرزا ناصر قادیانی نے اپنے بھائی مرزا طاہر قادیانی کو پاکستان کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے پاس بھیجا اور ہدایت کی کہ جاکر بٹھو کو کہو
کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہو گئی
مرزا طاہر قادیانی نے پاؤں سر پہ رکھے دوڑ لگائی سیدھا جناب ذوالفقار علی بٹوں کے پاس جا کر ان کو کہا کہ بٹھو صاحب ہمارے ساتھ بڑی زیادتی ہو گئی 1970 کے الیکشن میں ہم نے آپ کا ساتھ دیا
یہ مدد کی وہ مدد کی اپ یہاں پر پہنچے ہیں
تو اس کے اندر ہمارا بھی حصہ ہے اور آج ہماری مدد اور محنت کا یہ صلہ دیا جا رہا ہے
کہ ہمارے شہر میں ہمارے حضرت کے خلاف نعرے
کہتے ہیں حسن وہ ہوتا ہے
جس کا سوکن کو بھی اعتراف ہو
بٹھو ایک محب وطن قومی لیڈر تھے قد کاٹ کا ادمی تھا
بھٹو سمجھ گئے
کہ قادیانیوں کو ہم نے استعمال کرنا تھا کر لیا
اب اگر قادیانی کی وجہ سے اگر میں ان طلباء پر مقدمہ چلاتا ہوں
یا گرفتار کرتا ہوں
تو کراچی سے لے کر خیبر تک لاہور سے کوئٹہ تک ملک کے طلباء بھی میرے خلاف جلوس نکالیں گے
مسجد مدرسہ بھی میرے خلاف ہو جائے گا
بھٹو صاحب نے مرزا طاہر کو ایک ایسا چکر دیا کہ اس کا رخ ہی موڑ دیا بھٹو نے کہا کہ مرزا طاہر میں تو یہ سمجھتا تھا
کہ آپ بہت بڑی لابی ہے لیکن اج مجھے پتہ چلا کہ دنیا میں آپ سے بڑا کوئی بزدل نہیں
تم سب سے بڑے بزدل ہو
چار طالب علموں نے نعرے لگائے تم سے وہ بھی نہیں سنبھالے جاتے اب مرزا طاہر قادیانی یہ سمجھا کہ بھٹو صاحب نے فری ہینڈ دے دیا ہے
یعنی بھٹو نے ہمیں ان بچوں کو مارنے کی اجازت دے دی ہے
مرزا طاہر یہاں سے اٹھا
اور سیدھا اپنے بھائی مرزا ناصر قادیانی کے پاس چناب نگر پہنچا اور بھائی کو ساری تفصیلات بتا دی اور کہا
کہ میں نے بھٹو کی گفتگو سے یہ سمجھا ہے
کہ بھٹو نے ہمیں ان بچوں کو مارنے کیا اجازت دے دی ہے
مرزا ناصر قادیانی نے معلومات حاصل کی کہ یہ سکول کے بچے کہاں گئے واپسی کب ہوگی
بتایا گیا کہ 22 مئی 1974 کو ملتان سے نکلے ہیں
اور 28 مئی 1974 کو سوات سے واپس پشاور پہنچیں گے اور اسی دن شام کو ٹرین کے ذریعے سے روانہ ہوں گے
29 مئی کو ٹرین جناب نگر پہنچے گی مرزا ناصر قادیانی نے ہدایت جاری کی کہ پشاور سے سرگودھا تک تقریبا8 ریلوے اسٹیشن بنتے ہیں
اور بتایا گیا کہ تمام اسٹیشنوں پر قادیانی ہی تعینات ہے
مرزا ناصر قادیانی کہا
کہ 29 مئی تمام ریلوے اسٹیشن سے پندرہ بیس قادیانی غنڈے سوار ہو اور کوئی خالی ہاتھ بھی نہ ہو سکول کے بچوں کو سبق سکھانا ہے
28 مئی 1974 کو طلبہ کرام پشاور سے ٹرین گاڑی میں سوار ہو گئے اور ٹرین گاڑی روانہ ہوئی
ہدایات کے مطابق اسٹیشنوں والے ایک دوسرے کو پل پل کی خبریں دے رہے ہیں کہ ٹرین فلاں مقام پر پہنچی
کنٹرول روم سے ٹرین کا ٹائم پوچھا معلوم کیا کہ وہ طلبہ کی بوگیاں کہاں ہے
کہا اگر انجن کی طرف سے شمار کرے تو ساتواں اٹھواں نمبر ہے
اگر گارڈ کی ڈبے کی طرف سے شمار کرے
تو تیسرا اور چوتھا نمبر بنتا ہے
قادیانی سوار ہوتے رہے
اور طلباء کی ڈبوں پر نظر تھی ٹرین بالکل بھرگئی
29 مئی 1974 کو جس وقت چناب نگر ٹرین پہنچی
تو قادیانی جماعت کا جو بعد میں چوتھا نام نہاد خلیفہ بنا مرزا طاہر قادیانی اس کی قیادت میں 2ہزار چناب نگر کے اوباش غنڈے دہشت گرد اور ظالم لوگوں نے ان معصوم طلباء پر حملہ کر دیا
کسی کی ناک کی ہڈی ٹوٹی کسی کے یہاں پر زخم آیا
کسی کا سر پھٹا
کس کا گریبان
اور کس کی کلائی مروڑی
کس کے دانت ٹوٹے
قادیانیوں نے وہ ظلم کیا
کہ ظلم و بربریت کی انتہا کر دی
ایک طالب علم کو اتنا مارا
کہ دوسرے قادیانی نے کہا کہ اس کو پانی دو ورنہ مر جائے گا
اس کا قتل تمہارے سر ہوگا ایک قادیانی نے پینٹ آتار کر
اس کے منہ کے اندر پیشاب کر دیا
اس وقت یہ کیفیت تھی
کہ قادیانیوں نے ظلم کی انتہا کر دی
فیصل آباد ریلوے کنٹرول روم برابر پوچھ رہا ہے
کہ ٹرین کو 15 منٹ ہو گئے ادھا گھنٹہ ہو گیا ایک گھنٹہ ہو گیا
اپ روانہ کیوں نہیں کر رہے اسٹیشن ماسٹرکہتا ہے
فساد ہو گیا لڑائی ہو گئی بس روانہ کرتے ہیں
جب قادیانیوں نے تمام حسرتیں پوری کر دی
اب جیسے ٹرین چلی
اس زمانے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مبلغ حضرت مولانا تاج محمود صاحب رحمتہ اللہ تعالی زندہ تھے اور فیصل آباد کالونی کے اندر ان کی جامع مسجد تھی وہاں ان کی رہائش تھی
کنٹرول روم کا ایک بڑا افسر جو مولانا تاج محمود کا مرید تھا حضرت کے پاس گیا
اور ساری رپورٹ تفصیلات حضرت کو بتا دی
حضرت مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ تعالی نے پورے شہر میں اعلانات کرا دیے
ڈاکٹروں کی ٹیم بلوائی
مولانا تاج محمود رحمتہ اللہ تعالی نے فیصل آباد میں
یہ انتظام کیا کہ کچہری بازار جو 8 بازاروں کے بالکل وسط میں ہے اور اس کے اتنے بلند مینار ہے کہ سارے شہر کے اندر اس کی اواز گونجتی ہے
اس کے سپیکروں پہ اعلان کرادیا کہ آج قادیانیوں نے مسلمان طلباء کو مارا ہے
جو مسلمان طلباء عزیز کی معاونت کرنا چاہتے ہیں
وہ اسٹیشن پر پہنچیں
کوئی ٹھنڈا پانی لے کر کوئی بسکٹ لے کر
کوئی بیکری کا سامان لے کر کوئی انگور لے کر
کوئی ٹھنڈے جوس کے ڈبے پکڑے ہوئے یدخلون فی المحطتہ افواجا
فوج در فوج اسٹیشن کی طرف فیصل اباد فیصل آبادیوں نے روح کیا
ادھر ٹرین پہنچی تو فیصل اباد اسٹیشن پر پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں تھی
زخمی طالب علموں کو ڈرپ لگائی
کسی کو مرہم کس کو گولی
کس کو انجیکشن لگا
اب ان طلباء کو جب ہوش آیا
کہ ہم لاوارث نہیں ہے
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں
کہ جو لوگ ختم نبوت کا کام کرتے ہیں
یہ لاوارث نہیں ہے
اللہ رب العالمین کی رحمت بھی ان کے ساتھ ہے
اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت بھی قیامت کے دن ان کے ساتھ ہوگی ان شاء اللہ یہ لاوارث نہیں
اور یہ مسئلہ بھی لاوارث نہیں
ہے
مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا
میرے بیٹوں جب تک تمہارے خون کے ایک ایک قطرے کا قادیانیوں سے حساب نہیں لیا جاتا
ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے
اب طلباء کی جان میں جان آئی پانچ چھ طالب علموں کی کوپڑی کے اندر کیا آیا
کہ وہ وہاں سے اٹھے
اور جا کر ٹرین کے سامنے لیٹ گئے اور انہوں نے کہا صاحب ٹرین چلا کر ہمارا قیمہ کرو
وہ ہمیں منظور ہے لیکن ہمارے جیتے جی مطالبات مانے بغیر ٹرین چلے ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے ہمارے ساتھ بہت زیادیاتی ہوئی ہے ہم احتجاج کرتے ہیں
پاکستان کو واضح طور پر قادیانی اسٹیج بنا دیا گیا ہے
ان کو جرات کیسے ہوئی
اس موقع پر ڈی ایس پی موجود تھے
اور انہوں نے طلباء سے پوچھا کہ اپ کے مطالبات کیا ہیں
طلباء نے کہا کہ قادیانی کے خلاف کیس درج کیا جائے
ان کی گرفتاریاں کیں جائیں
اور یہ کہ کسی ہائی کورٹ کے جج سے اس واقعے کی انکوائری کرائی جائے
ڈی ایس پی نے چیف منسٹر حنیف رامےبدبودار قادیانی کے سامنے مطالبات پیش کیے حنیف رامے نے ٹالنے کی کوشش کی مگر ڈی ایس پی صاحب نے کہا
کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے
تو ٹرین کا تو جو ہوگا سو ہوگا
میں کچھ نہیں کہہ سکتا
لیکن مجھے اتنا معلوم ہے
کہ شام ہونے سے پہلے پہلے پورے فیصل آباد میں ایک گھر بھی قادیانیوں کا سلامت نہیں رہے گامسلمان اتنے مشتعل ہے کہ تحریک چلے گی
اور اگر فیصل آباد سے یہ تحریک چلی
تو صرف فیصل آباد نہیں
اس نے پورے وطن عزیز کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ہے
حنیف رامےکو بات سمجھ میں آئی
اور انہوں نے مقدمہ درج کرنے کا آرڈر دے دیا مقدمہ درج ہونے کے بعد 2200 قادیانی گرفتار کیے گئے
9 جون 1974 کو حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ
بانی و مہتمم جامعہ بنوری ٹاون کراچی کی جانب سے ایک نمائندہ اجتماع لاہور میں رکھا گیا
جس میں تمام مسلمانوں کے فرقوں اور جماعتوں کے مندوب شریک ہوئے اور اس اجتماع میں اس واقعے پر تفصیلی گفتگو اور مشاورت ہوئی
اس اجتماع میں حضرت مولاناسید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو عارضی صدر منتخب کیا گیا
13 جون کو وزیراعظم پاکستان جناب ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم نے ایک طویل تقریر ریڈیو پر نشر کی جس میں حادثہ ربوا
پر ایک حرف بھی نہیں کہا البتہ ختم نبوت پر اپنا ایمان جتاتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ 90 سال کا پرانا مسئلہ ہے
اتنی جلدی کیسے حل ہو سکتا ہے
16 جون ملک پاکستان میں مکمل ہڑتال کے اعلان اور مرزائی امت کے مکمل مقاطعہ بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا
خیبر پختون خواہ سے کراچی اور لاہور سے کوئٹہ تک ایسی مکمل ہڑتال ہوئی
جو پاکستان میں اپنی نظیر اپ تھی ایسی مثالی ہڑتال ہوئی
بقول شاہین ختم نبوت
حضرت مولانااللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے
کہ فرشتے بھی اسمانوں سے جھانک جھانک کر دیکھتے تھے کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے مسئلے پر مسلمان قوم کتنی حساس ہے
حضرت مولانا شیخ یوسف بنوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کراچی سے چلتے ہوئے ایک موقع پر اپنا بریف کیس اٹھایا اور مفتی ولی حسن ٹونکی رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے کہا
یہ میری دو سفید چادریں دیکھ لیں
مفتی صاحب میں یہ سوچ کر اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں کہ یا تو مسئلہ حل ہوگا
اور فاتح بن کر واپس آئیں گے اور اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو میری لاش آئے گی
29 جون کو بنگلہ دیش کے دورے پر جاتے ہوئے وزیراعظم پاکستان بھٹو صاحب نے اعلان کیا
کہ قادیانی مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے قومی اسمبلی کو ایک تحقیقاتی کمیٹی کی حیثیت سے دے دی جائے گی اور یہ مسئلہ قومی اسمبلی کے حوالے ہوگا
اور قومی اسمبلی کے اراکین اس پر ازادانہ رائے دیں گے قومی اسمبلی جو فیصلہ کرے گی میں بحیثیت ایک پاکستانی اپنا ووٹ بھی اس کے حق میں دوں گا
پارٹی کے اعتبار سے پاکستان پیپلز پارٹی کی قومی اسمبلی کے اندر واضح اکثریت تھی بھٹو صاحب نے کہا
کہ میں اسمبلی کے اپنے سارے ممبران کو ازاد کرتا ہوں
ازادانہ طور پر وہ قادیانی مسئلہ کے اوپر بحث کرے مسلمان ہونے کے ناطے جو چاہے وہ فیصلہ کرے
پارٹی کی طرف سے ان کے اوپر کوئی پابندی نہیں ہوگی
بٹھو صاحب کے اس اعلان کے بعد جب مسئلہ قومی اسمبلی کے حوالے کیا تو قادیانی فورا بلوں سے باہر نکلے
انہوں نے ایک درخواست وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے نام لکھا
کہ جناب چونکہ قادیانیت کا مسئلہ قومی اسمبلی کے اندر زیر بحث انا ہے
تو قومی اسمبلی میں ہمیں بھی اکر اسمبلی کے فلور پر اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت ملنی چاہیے ہمیں سنے بغیر ہمیں گفتگو کا موقع دیے بغیر اگر اپ فیصلہ کریں گے تو ناانصافی ہوگی
اگر اپ نے ہمارے عقیدے پر بحث کرنی ہے
کہ ہمارا عقیدہ کیا ہے
ہمیں سنے بغیر فیصلہ بالکل نہ دیا جائے

مفتی محمود رح کی ذہانت

جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے حضرت مولانا مفتی محمود رحمتہ اللہ تعالی کو بلایا
اور قادیانیوں کی درخواست ان کے سامنے رکھی
حضرت مولانا مفتی محمود رحمتہ اللہ تعالی نے درخواست کو دیکھا اور کہا
کہ بھٹو صاحب ایک منٹ ضائع کیے بغیر ان قادیانیوں کو کہیں کہ وہ فورا اسمبلی میں آجائے اور اکر بحث کے اندر حصہ لے ان شاء اللہ الرحمن محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا حق ادا کرنے کے لیے ہم اسمبلی میں پہلے سے موجود ہے
اور قادیانیت کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ ان کی نسلیں یاد رکھیں

30 جون کو قومی اسمبلی میں ایک متفقہ قرارداد پیش ہوئی جس پر غور کے لیے پوری قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی میں تبدیل کر دیا گیا

5 پانچ اگست سے لے کر 23 اگست تک وقفوں سے مکمل 11 روز میں 42 گھنٹے اور 50 منٹ ربوا والے گروپ کے نام نہاد خلیفہ مرزا ناصر قادیانی کو قومی اسمبلی میں اپنا بیان اور شہادت ریکارڈ کرانے کا موقع دیا
اور ان پر جرح کی گئی

لاہوری گروپ کے تین رہنما
صدر الدین
عبدالمنان عمر
مسعود بیگ
کو 27 28 اگست قومی اسمبلی میں 8 گھنٹے
20 منٹ تک بولنے کا موقع دیا گیا
قادیانی کے دونوں گروپ اپنے آپ کو مسلمان ثابت نہیں کر سکے
قادیانیوں کے دو گروپ ہیں
ایک ربوا والے
اور دوسرا لاہور والے
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری علیہ الرحمہ سے کسی نے سوال کیا
حضرت لاہوری اورچناب نگر والے قادیانیوں میں کیا فرق ہے حضرت نے برجستہ فرمایا
کہ ایک سفید خنزیر ہے
دوسرا کالا خنزیر ہے
خنزیر خنزیر ہوتا ہے
چاہے سفید ہو یا کالا
لاہور والے ہو یا سرگودھا والے دونوں اعلی قسم کے کافر ہے
قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے دو ماہ میں 28 اجلاسات کیے
96 گھنٹے صرف کیے
قومی اسمبلی کی اس کاروائیوں کو پبلک میں شائع کرنے پر حکومت نے پابندی لگائی تھی کچھ سال قبل فہمیدہ مرزا نامی خاتون نے اس کاروائی کو عام کرنے کے لیے 40 لاکھ کی خطیر رقم دل کھول کرخرچ کی
ایک بندے نے عدالت سے درخواست کی
کہ کوئی حکومتی کاروائی 30 سال سے زائد نہیں چھپ سکتی عدالت نے حکم دیا
اس کاروائی کی ایک کاپی اس شخص کو دے دی جائے
اور اس کو مل گئی اور اس نے نیٹ پر ڈال دی
تو پوری دنیا میں عام ہو گئی
پھر الحمدللہ ہم سب کی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس پوری کاروائی کو پانچ جلدوں میں قومی اسمبلی کی مصدقہ رپورٹ کے عنوان سے چھاپ دی
پورے پاکستان میں مجلس کے دفاتر سے باسانی یہ کتاب مل سکتی ہے
احباب مجلس کے مبلغین سے رابطہ کرکے 5 جلدیں رعایتا1500روپیہ قیمت وصول کرسکتے ہیں
کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے یوں محسوس کریں گے
کہ گویا میں قومی اسمبلی میں اپنی آنکھوں سے کاروائیوں کو دیکھ رہا ہوں
ایک ایک لمحہ اس کتاب میں محفوظ ہے
بروز جمعہ
6 ستمبر اور 7 ستمبر کی
درمیانی رات
6 اور 7 ستمبر 1974 کی درمیانی رات جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ تعالی کو پیغام بھیجا
کہ اج 6 ستمبر جمعہ کا دن ہے اور کل 7 ستمبر ہفتے کو قوم کے سامنے قادیانی مسئلے کے فیصلے کا اعلان کرناہے
میری خواہش ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے 4 بندے آجائے
اور حکومت کی طرف سے بھی 4 بندے آجائے
تاکہ مشاورتی بیٹھک ہوں وزیراعظم ہاؤس کے اندر بیٹھ جاتے ہیں
باہم مشاورہ کرتے ہیں
تاکہ کل اختلافات کے شکار نہ ہو جائیں
اور کسی بات پر متفق ہو جائے

مفکر اسلام مفتی محمود
رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا
ٹھیک ہے
اپوزیشن کی طرف سے
1 مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمت اللہ تعالی 2 مولانا شاہ احمد نورانی رحمت اللہ تعالی
3 پروفیسر غفور
4 چودھری ظہور الہی

جبکہ حکومت کی طرف سے
1 جناب وزیراعظم زلفقار علی بھٹو مرحوم
2 وزیر قانون عبدالحفیظ
پیر زادہ مرحوم
3 مولانا کوثر نیازی صاحب
4 افضل چیمہ

6 اور 7 ستمبر کی رات درج بالا حضرات کی بیٹھک ہوئی
جناب ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم پاکستان نے
حضرت مولانا مفتی محمود رحمتہ اللہ تعالی پر چڑھائی کرتے ہوئے کہا
مفتی صاحب 29 مئی کا
واقعہ تھا جو گزرا جون کا مہینہ گزرا جولائی گزرا
اگست گزرا
اب ستمبر کی 6 تاریخ ہے
تین مہینے سے بھی زیادہ وقت جلوس نکل رہے ہیں
کارخا نے بند ہے
فیکٹریاں بند ہے
طلباء جلوس نکال رہے ہیں سکول کالج مدرسے کی چھٹی ہو گئی ہے
میں اپ سے پوچھتا ہوں
کہ کیا اپ مولوی صاحبان نے قسم اٹھا رکھی ہے
کہ پاکستان کی ترقی نہیں ہونے دینی
مفتی محمود رحمتہ اللہ تعالی نے کہا
گفتگو تو بعد میں کریں گے میں آپ سے ایک وضاحت چاہوں گا
کہ میری اطلاع صحیح ہے یا غلط
کل آپ کے گھر مولانا غلام غوث ہزاروی رحمتہ اللہ تعالی تشریف لائے تھے
بھٹو صاحب نے کہا
بالکل
مفتی صاحب رحمتہ اللہ تعالی نے پھر کہا
کہ نصرت بھٹو آپ کی بیوی کے ساتھ کے ساتھ مولانا کی ملاقات ہوئی تھی تھی

مفتی صاحب رحمتہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ بہت اچھا
میری اطلاع یہ ہے
کہ مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ تعالی کے پاس مرزے کی اوریجنل کتابیں تھی
بھٹوکہنے لگا جی
وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی اہلیہ نصرت بھٹو ایرانی نثراد تھی
مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ تعالی مرزے کی کتابیں لے کر گئے تھے
مرزا قادیانی ملعون نے

سیدہ فاطمۃ الزہرا ر ضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق یہ اہانت کی

سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ اہانت کی

سیدنا حسن ر ضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق یہ کہا

سیدنا حسین ر ضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق یہ کہا

سیدنا خدیجہ ر ضی اللہ تعالی عنہا کو یہ تبر بولے

وہ کتابیں دکھائیں
تو بھٹو صاحب نے کہا
اپ کی اطلاع صحیح ہے
مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا
بہت اچھا آب میں وضاحت یہ چاہوں گا
کہ اپ مہربانی کر کے ہمیں بتانا پسند کریں گے
کہ مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ تعالی
کے آنے کے بعد نصرت بھٹو
نے آپ کو اکر کیا کہا تھا
اب بٹھو صاحب نے کہا
مولانا غلام غوث ہزاروی رحمتہ اللہ سےجب ملاقات ہوئی میری بیوی کی
ملاقات کے بعد میری اہلیہ ادھی مولوانی بن گئی تھی
میرے پاس میری اہلیہ ائی
اور زور سے میری میز پر مکا مار کے مجھے کہا
زلفی صاحب
میں مرز ے قادیانی کی کتابوں کو دیکھ کر آئی ہوں
مرزا اور اس کے ماننے والے کافر ہے
یہ تو سادات کی اہل بیت کی اہانت کرتے ہیں
وقت ضائع نہ کرو قادیانی کو کافر قرار دو
مفتی محمود رحمہ اللہ تعالی نے وزیراعظم جناب ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم
سے کہا
کہ وزیراعظم صاحب
پاکستان کے وزیراعظم کی اہلیہ کہتی ہے کہ قادیانی کافر
کراچی سے لے کر خیبر تک عوام بھی کہتے ہیں
قادیانی کافر
پاکستان کی 18 کروڑ عوام کہتی ہے
قادیانی کافر

ایک بھٹو صاحب ہے
جو کہہ رہے ہیں
کہ تین مہینے گزر گئے
جلوس نکل رہے ہیں
کارخانے بند پڑے ہیں
فیکٹریاں بند پڑی ہیں
سکول بند پڑے ہیں
کالج بند پڑے ہیں
یونیورسٹیوں میں چھٹی
ہوگئی
تین مہینے ہو گئے
قانون سازی نہیں ہو رہی
جناب بھٹو صاحب اپنی
ضد پر ہے
نہ عوام کی مانتے ہیں
نہ خاتون اول کی مانتے ہیں
کیا میں پوچھ سکتا ہوں
کہ جناب بھٹو صاحب
کیا آپ نے قسم اٹھا رکھی ہے
کہ پاکستان کی ترقی نہیں ہونے دینی
اب بھٹو صاحب کہنے لگے
چھوڑ دو مفتی صاحب
یہ ساری باتیں
یہ فرمائیے آپ کے مطالبات کیا ہیں
بھٹو صاحب نے وزیر قانون عبد الحفیظ پیر زادہ کو کہا
کہ مفتی صاحب کو قلم اور کاغذ دو
مفتی صاحب مطالبات بتائیں مطالبات کیا ہیں
بھٹو صاحب کا خیال تھا
کہ مفتی صاحب 10 مطالبے پیش کریں گے
مطالبات میں تو یہی ہوتا ہے
کہ کچھ لو کچھ دو
چار باتیں مان لوں گا
چار منوا لوں گا
چار مان لوں گا
چھ منوالوں گا
یہ چھ مان لوں گا
چار منوالوں گا
مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالی فرمانے لگے
کہ بھٹو صاحب
ہم مسلمانوں کا کوئی مطالبہ نہیں ہے
ہماری تو صرف یہ درخواست ہے کہ دو سطر آئین میں لکھ دے
کہ مرزا اور اس کے ماننے والے کافر
مفتی صاحب چاہتے تھے
کہ قادیانی چوہڑے چمار پارسی ہندو جہاں اور اقلیتیں ہے
وہاں ان خبیثوں کا نام آئے
جبکہ ذوالفقار علی بھٹو
چاہتے تھے
کہ قادیانیوں کا نام نہ آئے

بھٹو صاحب پھر کہنے لگے
مفتی صاحب بہت مشکل مسئلہ ہے آج مرزے قادیانی نے دعوی نبوت کیا
اپ کہتے ہیں یہ کافر
ان کا نام لکھ دو کافروں میں

کل کوئی اور نبوت کا دعوی کرے گا
آپ کہیں گے
ان کا نام لکھو
مفتی صاحب تو کیا ہم ہر آنے والے بدبخت مدعی نبوت کا نام پاکستان کے آئین میں لکھیں گے

بھٹو صاحب کہنے لگے
مفتی صاحب مطلقا لکھ دیتے ہیں
کہ جو ختم نبوت کا منکر ہو وہ کافر ہے
کسی کے نام لکھنے کی ضرورت نہیں ہے
مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ تعالی سمجھ گئے
کہ بھٹو صاحب کہاں سے بول رہے ہیں
حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالی نےبھٹو
کو ایک بہترین مثال کے ذریعے سے سمجھانے کی کوشش کی
مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالی فرمانے لگے
جناب بھٹو صاحب میرے پاؤں میں کانٹا لگا ہے میں کہتا ہوں میرا کانٹا نکالو آپ کہتے ہیں لوہے کی جوتی بنوا دیتے ہیں
کہ ائندہ کبھی کانٹا نہیں لگے گا مجھے لوہے کی جوتی نہیں چاہیے
میرا کانٹا نکالو
بھٹو صاحب
قادیانیت اسلام کے جسم میں ایک کانٹا ہے اس کانٹے کو نکالو کل کوئی اتا ہے
پرسوں کوئی اتا ہے
سال کے بعد کوئی اتا ہے
وہ بعد کا مسئلہ ہے
بعد میں دیکھیں گے
لکھ دو ائین میں کہ
قادیانی کافر ہیں
بھٹو صاحب پھر کہنے لگے مفتی صاحب
اگر بالفرض ہم پاکستان کے آئین میں لکھ بھی دے
کہ قادیانی کافر ہے
اور کراچی سے لے کر خیبر پختونخوا تک ہزاروں قادیانی ہے وہ کہیں نہیں مانتے ہیں
ہم قادیانی اس قانون کو
تو قادیانی پر ہم اس قانون
کو کیسے لاگو کریں

مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالی فرمانے لگے
بھٹو صاحب یہ کوئی مشکل نہیں ہے
جب کوئی پاکستانی شہری نادرہ جاتا ہے
شناختی کارڈ بنوانے کے لیے
تو وہاں آپ ایک کام کریں
اگر کوئی عیسائی اتا ہے
کوئی سکھ آتا ہے
کوئی بدھ مت آتا ہے
کوئی ہندو اتا ہے
اس کو شناختی کارڈ جاری کیا جائے
لیکن اگر کوئی پاکستانی شہری جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے نادرہ اتا ہے تو وہاں اس کو ایک اپیلی کیشن فارم دیا جائے
اس میں ایک حلف نا مہ ہو
کہ میں بحیثیت مسلمان
حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک کا
آخری نبی
آخری رسول مانتا ہوں
حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعوی نبوت کرنے والے مرزے قادیانی
اور اس کے ماننے والے کو کافر سمجھتا ہوں
اگر مسلمان ہوگا
تو وہ دستخط کرے گا
اگر قادیانی ہوگا
دستخط نہیں کرے گا
اگر دستخط کرے گا
تو قادیانی نہیں رہےگا
اگر دستخط نہیں کرے گا
تو شناختی کارڈ نہیں بنے گا
کیسے نہیں مانیں گے یہ بدبخت

جس وقت مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالی نے یہ کہا
تو بھٹو صاحب
خیر سے ڈھیر ہو گئے

برابر میں وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب تشریف فرما تھے
وہ کہنے لگے
مفتی صاحب مجبوری ہے
ہم پاکستان کے آئین میں کسی کا نام درج نہیں کر سکتے ہیں
وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے ائین کی کتاب میں کسی
آدمی کا نام نہیں ہے
لہذا ہم مرزے قادیانی کا نام آئین کی کتاب میں درج نہیں کر سکتے
مفتی محمود رحمہ اللہ تعالی فرمانے لگے
مجھے حیرت ہے
وزیر قانون صاحب آپ پر
آپ کو قانون کا پتہ ہی نہیں ہے اپ کو پاکستان کا وزیر قانون بنایا کسی نے
کیا اپ کو معلوم نہیں
کہ پاکستان کے آئین میں قائد اعظم کا نام موجود ہے
آپ کیسے کہہ سکتے ہیں
کہ آئین میں کسی کا نام نہیں ہوتا
خیر سے جناب وزیر قانون صاحب بھی ڈھیر ہو گئے
ایک لطیفہ مشہور ہے
کہ ایک دفعہ پاکستانی وزراء کا ایک وفد افغانستان کے دورے پر روانہ ہوا
وفد جب افغانستان پہنچا
تو افغانی وزراء کا اور پاکستانی وزرا کا تعارف کا مرحلہ آیا
ایک افغانی زمہ دار کہنے لگا
ماشاءاللہ یہ ہمارے
وزیر خوراک ہیں
یہ وزیر قانون ہے
یہ فلاں وزیر ہے
اور یہ وزیر ریلوے ہیں

تو پاکستانی وزراء میں سے ایک وزیر ہنسنے لگا
کسی نے کہا
کیوں ہنس رہے ہو
کہا اللہ کے بندو افغانستان میں ریلوے کا نام و نشان نہیں
اور تم نے ریلوے کا وزیر بنادیا
افغانستان کے ایک وزیر کہنے لگا
ہنسنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
جس طرح تمہارے پاکستان میں وزیر قانون تو ہے
لیکن قانون کوئی نہیں
اسی طرح ہمارے ہاں
فی الحال ریلوے تو نہیں
البتہ وزیر ریلوے بنایاہے
مفتی صاحب فرمانے لگے
تمہیں قانون کا پتہ ہی نہیں اپ کو وزیر قانون بنائیں کسی نے
مجھے اس پر حیرت ہے
جس نے اپ کا نام وزیر قانون کے لیے پیش کیا ہے
اور اسے پہ ہنسی ارہی ہے

اخر میں مولوی کے مقابلے میں مولوی آیا
لوہا لوہے کو کاٹتا ہے
مفتی صاحب کے مقابلے میں مولانا کوثر نیازی صاحب میدان میں اترے
مولانا کوثر نیازی نے
اتنا خطرناک وار کیا
زبان مفتی صاحب کی بولی
مگر تائید بھٹو صاحب کی
کہنے لگا مفتی صاحب
پاکستان کےآئین میں مرزے لعین کا نام لکھ کرآپ پاکستان کے آئین کو کیوں پلید کرنا چاہتے ہیں
بڑی جذباتی گفتگو کی
مرزا کافر ہے
خنزیرہے
ابلیس ہے
اس دیوث کا پاکستان کے پاک آئین میں بالکل نام درج نہیں ہونا چائیے
حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ سمجھ گئے
کہ یہ بغل بچہ کہاں سے بول رہا ہے
مفتی صاحب مسکرائے
اور فرمانے لگے
کوثر نیازی
آپ کہتے ہیں
کہ مرزے کا ناپاک نام پاک آئین میں نہیں ہونا چائیے

کیا قرآن میں شیطان کا نام نہیں ہے

کیا قرآن میں فرعون کا نام نہیں ہے

کیا قرآن میں ہامان کا نام نہیں ہے

کیا قرآن میں خنزیر کا نام نہیں ہے
یقینا خنزیر شیطان ہامان سب کا نام ہے

اگر ان کا نام آنے سے قرآن مجید پلید نہیں ہوا
تو مرزے کانام آنے سے پاکستان
کا آئین بھی پلید نہیں ہوگا
خیر سے نیازی بھی ڈھیر ہوگئے
اس کی گردن کا جو سریاتھا
وہ بھی مڑا اس کی گردن نیچے جھکی
بھٹو صاحب کہنے لگے
مفتی صاحب ہم ہار گئے
آپ جیت گئے
مفتی فرمانے لگے
یوں کہو
کفرہارگیا
اسلام جیت گیا
اگلے دن 7ستمبر 1974
بروز ہفتہ 4بج کر 35منٹ پر
قومی اسمبلی آف پاکستان نے متفقہ طور پر تمام ممبران نے یک زبان ہوکر یہ عظیم الشان فقید المثال
جرات مندانہ
تاریخ ساز فیصلہ صادر فرمایا
کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں
اسلام اور اہل اسلام سے قادیانیت کا کوئی تعلق نہیں ہے

کل بھی حق جیتا تھا
آج بھی حق جیتے گا

کل بھی کفر ہارا تھا
آج بھی کفر ہارا ہے

جمع وترتیب
مفتی شاکراللہ خیسوری
مسئول عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ شمالی کراچی
شعبہ نشریات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت زہری

09/05/2024

Address

Ahsan Abad Karachi
Karachi

Telephone

+923377766273

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Mesba ur Rehman Zehri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category