19/03/2026
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ آپ سب بھائی خیریت سے جی رہے ہونگے
آج ایک اھم ترین مسئلہ پیش خدمت یہ ہے کہ روایات و پس منظر کے خلاف آج قریبی ملک افغانستان نے سرکاری سطح پر ایک ایسے وقت میں شوال المکرم سن 1447 بمطابق 2026 عیسوی کے چاند دیکھنے اور عید منانے کا اعلان کیا ہے کہ جس وقت فی الحقیقیت شوال کا چاند افق پر جدید تحقیق کے روشنی میں پیدا بھی نہیں ہوا ہے ۔
اب انہوں نے جب بالفعل اعلان کیا ہے تو ان کے حق میں شاھد درست ہو لیکن پاکستان اور بالخصوص ھمارے باجوڑ میں جو ھمارے اپنے علماء کرام سعودی عرب کے ساتھ روزے کے دلیل میں افغانستان کو پیش کرتے تھے وہ اور ان کے پیروکار عوام و مقتدی کیا آج افغانستان کے دلیل پر عید بھی منائیں گے یا عوام و مقتدی ان کے اس دلیل پر ان کے ساتھ آج عید منانے کو تیار ہیں ؟ جواب ہے بالکل نہیں ۔اور ہونا بھی نہیں چاہئیے ۔
تو سب سے پہلے ان علماء سے عاجزانہ درخواست ہے کہ فضول میں آئیندہ کےلئے افغانستان کے دلیل پر خود کو یا عوام کو دھوکہ اور بے وقوف نہ بنائے اور نہ سعودی کے نام پر عوام کو راہِ حق سے بٹکھائے ۔
لھذا جن مشائخ سے ھم سب مستفید ہوکر عالم کے نسبت حاصل کر چکے ہیں ان پر اور ان کے دلائل پر اعتماد کر کے اپنے اور اپنے عوام کی اصلاح کرے ۔
اگر ھم جماعت اشاعت التوحید سے ہیں تو پنج پیر شیخ صاحب اور ان کے ھدایات کو ملحوظ رکھنا ہی دانائی ہے ۔اگر ھم دیوبندی ہیں تو باقی کل پاکستان میں اپنے اکابر کا اتباع لازم پکڑے
اگر آپ جماعت اسلامی میں ہیں تو ان کے مرکز اور مشائخ ہیں ان کے ماتحت چلے یا کم از کم اتحاد کے دلائل کے انبار لگانے کے والے اپنے ملک اور علاقے کے اجتماعی اھلِ علم کے پیروی کرے ۔لیکن خدا را اس زن دلائل سے نکلے کے آج تو سب لوگوں کا روزہ ہے اس لئے ھم نے رکھا ہے، آج سعودی عرب میں روزہ ہے اس لیے ھم نے رکھااور آج افغانستان میں روزہ ہے اس لیے ھم نے رکھا ۔یہ صرف خود کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں ۔
اور ھمارے ائیمہ حضرات کی تو ایمان یہاں برباد ہے کہ جی میں نے آج عید اس لئے منائی کہ میرے تمام مقتدی آج عید منا رہے تھے اور مجھ سے نماز عید کے کہہ رہے تھے میں مجبور تھا ،آپ مجبور نہیں اللہ تعالیٰ کے باغی ہیں کہ نافرمانی مانتے اور جانتے ہوے آپ نے دو ٹکے کی خاطر فرض حکم کو توڑ دیا اور یہ کہہ کر بات ختم کی کہ یہ اجتھادی مسئلہ ہے اس میں اختلاف نہیں کرنا چاہئیں اور بس جس نے سعودی کے ساتھ عمل کیا انہونے بھی درست کیا اور جنہوں نے پاکستان کے ساتھ کیا وہ بھی درست ہے ۔یہ دلائل اور رائے اھل رائے اور اھلِ اجتھاد کیلئے ہیں ھم آپ کو اس کی نہ اجازت ہے نہ یہ ھمارے لئے دلیل ہے ۔ھم ان کے مقلد ہیں اور مفتٰی بہ قول پر عمل کرنا ھم پر لازم ہے اور بس ۔فقط