03/07/2026
**صحابہ کرامؓ کی محبت میں غیرت ہو تو ایسی!**
امام سفیان بن عیینہؒ (198ھ) نے ایک شخص سے پوچھا:
"تم کہاں سے آ رہے ہو؟"
اس شخص نے جواب دیا: فلاں شخص کے جنازے سے
یہ سن کر امام سفیانؒ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
> "میں ایک سال تک تمہیں کوئی حدیث نہیں سناؤں گ۔ اللہ سے معافی مانگو اور دوبارہ کبھی ایسا نہ کرنا۔ تم ایک ایسے شخص کو (اچھی طرح) جانتے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو گالیاں دیتا تھا، اور تم ( پھر بھی ) اس کے جنازے میں شریک ہو گئے؟!"
>
**(شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ للالکائی )*
" سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يَقُولُ لِرَجُلٍ: مَنْ أَيْنِ جِئْتَ؟ قَالَ: مِنْ جِنَازَةِ فُلَانٍ. قَالَ سُفْيَانُ: لَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَنَةً، فَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ وَلَا تَعُدْ، نَظَرْتَ إِلَى رَجُلٍ يَشْتُمُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، فَاتَّبَعْتَ جِنَازَتَهُ؟ "