Esta Mart

Esta Mart Online Grocery Store
Get Products delivered to your doorstep Online Grocery Store, where you can buy any grocery product and get it delivered within minutes.

We also deliver On-Demand products to your doorstep.

"وَ  اعْتَصِمُوْا  بِحَبْلِ  اللّٰهِ  جَمِیْعًا"آج کی ضرورتPosted by: Imran Mubarak AhmadShared via IMS
23/08/2026

"وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا"

آج کی ضرورت

Posted by: Imran Mubarak Ahmad

Shared via IMS

17/08/2026

"توحید -کافر اور مؤمن کے درمیان حجاب"

القرآن - سورۃ نمبر 17 الإسراء
آیت نمبر 45-46

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا ۞ وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا‌ ؕ وَاِذَا ذَكَرۡتَ رَبَّكَ فِى الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَهٗ وَلَّوۡا عَلٰٓى اَدۡبَارِهِمۡ نُفُوۡرًا‏ ۞

ترجمہ:
جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم Drتمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں ۞ اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں ۞
تفہیم القرآن
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی

سورۃ نمبر 17 الإسراء
آیت نمبر 46

تفسیر:
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 51
یعنی آخرت پر ایمان نہ لانے کا یہ قدرتی نتیجہ ہے کہ آدمی کے دل پر کفل چڑھ جائیں اور اس کے کان اس دعوت کے لیے بند ہوجائیں جو قرآن پیش کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کی تو دعوت ہی اس بنیاد پر ہے کہ دنیوی زندگی کے ظاہری پہلو سے دھوکہ نہ کھاؤ۔ یہاں اگر کوئی حساب لینے والا جواب طلب کرنے والا نظر نہیں آتا تو یہ نہ سمجھو کہ تم کسی کے سامنے ذمہ وار و جواب دہ ہو ہی نہیں۔ یہاں اگر شرک، دہریت، کفر، توحید، سب ہی نظریے آزادی سے اختیار کیے جاسکتے ہیں، اور دنیوی لحاظ سے کوئی خاص فرق پڑتا نظر نہیں آتا، تو نہ سمجھو کہ ان کے کوئی الگ الگ مستقل نتائج ہیں ہی نہیں۔ یہاں اگر فسق و فجور اور اطاعت وتقوی، ہر قسم کے رویے اختیار کیے جاسکتے ہیں اور عملا ان میں سے کسی رویے کا کوئی ایک لازمی نتیجہ رونما نہیں ہوتا تو یہ نہ سمجھو کہ کوئی اٹل اخلاقی قانون سرے سے ہے ہی نہیں۔ دراصل حساب طلبی و جواب دہی سب کچھ ہے، مگر وہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں ہوگی۔ توحید کا نظریہ برحق اور باقی سب نظریات باطل ہیں، مگر ان کے اصلی اور قطعی نتائج حیات بعد الموت میں ظاہر ہوں گے اور وہیں وہ حقیقت بےنقاب ہوگی جو اس پر وہ ظاہر کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ ایک اٹل اخلاقی قانون ضرور ہے جس کے لحاظ سے فسق و نقصان رساں اور طاعت فائدہ بخش ہے، مگر اس قانون کے مطابق آخری اور قطعی فیصلے بھی بعد کی زندگی ہی میں ہوں گے۔ لہٰذا تم دنیا کی اس عارضی زندگی پر فریفتہ نہ ہو اور اس کے مشکوک نتائج پر اعتماد نہ کرو، بلکہ اس جواب دہی پر نگاہ رکھو جو تمہیں آخرکار اپنے خدا کے سامنے کرنی ہوگی، اور وہ صحیح اعتقادی اور اخلاقی رویہ اختیار کرو جو تمہیں آخرت کے امتحان میں کامیاب کرے۔ یہ ہے قرآن کی دعوت۔ اب یہ بالکل ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ جو شخص سرے سے آخرت ہی کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے اور جس کا سارا اعتماد اسی دنیا کے مظاہر اور محسوسات و تجربات پر ہے، وہ کبھی قرآن کی اس دعوت کو ناقابل التفات نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے پردہ گوش سے تو یہ آواز ٹکرا ٹکرا کر ہمیشہ اچٹتی ہی رہے گی، کبھی دل تک پہنچنے کی راہ نہ پائے گی۔ اسی نفسیاتی حقیقت کو الله تعالیٰ ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ جو آخرت کو نہیں مانتا، ہم اس کے دل اور اس کے کان قرآن کی دعوت کے لیے بند کردیتے ہیں۔ یعنی یہ ہمارا قانون فطرت ہے جو اس پر یوں نافذ ہوتا ہے۔
یہ بھی خیال رہے کہ کفار مکہ کا اپنا قول تھا جسے الله تعالیٰ نے ان پر الٹ دیا ہے۔ سورة حم سجدہ میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ " وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْ اَکِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَا اِلَیْہِ وَفِی اٰذَانِنَا وَقْرٌوَّ مِنْۢ بَینِکَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ (آیت 5) یعنی وہ کہتے ہیں کہ " اے محمد ﷺ ، تو جس چیز کی طرف ہمیں دعوت دیتا ہے اس کے لیے ہمارے دل بند ہیں اور ہمارے کان بہرے ہیں اور ہمارے اور تیرے درمیان حجاب حائل ہوگیا ہے۔ پس تو اپنا کام کر، ہم اپنا کام کیے جا رہے ہیں“۔ یہاں ان کے اس قول کو دہرا کر الله تعالیٰ یہ بتارہا ہے کہ یہ کیفییت جسے تم اپنی خوبی سمجھ کر بیان کر رہے ہو، تو دراصل ایک پھٹکار ہے جو تمہارے انکار آخرت کی بدولت ٹھیک قانون فطرت کے مطابق تم پر پڑی ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 52
یعنی انہیں یہ بات سخت ناگوار ہوتی ہے کہ تم بس الله ہی کو رب قرار دیتے ہو، ان کے بنائے ہوئے دوسرے ارباب کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔ ان کو یہ وہابیت ایک آن پسند نہیں آتی کہ آدمی بس الله ہی الله کی رٹ لگائے چلا جائے۔ نہ بزرگوں کے تصرفات کا کوئی ذکر۔ نہ آستانوں کی فیض رسانی کا کوئی اعتراف۔ نہ ان شخصیتوں کی خدمت میں کوئی خراج تحسین جن پر، ان کے خیال میں، الله نے اپنی خدائی کے اختیارات بانٹ رکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ عجیب شخص ہے جس کے نزدیک علم غیب ہے تو الله کو، قدرت ہے تو الله کی، تصرفات و اختیارات ہیں تو بس ایک الله ہی کے۔ آخر یہ ہمارے آستانوں والے بھی کوئی چیز ہیں یا نہیں جن کے ہاں سے ہمیں اولاد ملتی ہے، بیماریوں کو شفا نصیب ہوتی ہے، کاروبار چمکتے ہیں، اور منہ مانگی مرادیں بر آتی ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الزمر، آیت 45، حاشیہ 46)

Posted by: Fakhra Nazir

Shared via IMS

"حدیث نبوی ﷺ"حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جَمِيعًا عَنْ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَال...
17/08/2026

"حدیث نبوی ﷺ"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى جَمِيعًا عَنْ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ قَامَ رَجُلٌ يُثْنِي عَلَى أَمِيرٍ مِنْ الْأُمَرَاءِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثِيَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ

Abu Ma'mar reported that a person lauded a ruler amongst the rulers and Miqdad began to throw dust upon him and he said:
Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded us that we should throw dust upon the faces of those who shower too much praise.

Sahih Muslim #7505

Status: صحیح

Posted by: Imran Mubarak Ahmad

Shared via IMS

"تعلیم و تربیت"حکومت تک پہنچیں اور اللہ کا نظام غالب کرینPosted by: Imran Mubarak AhmadShared via IMS
16/08/2026

"تعلیم و تربیت"

حکومت تک پہنچیں اور اللہ کا نظام غالب کرین

Posted by: Imran Mubarak Ahmad

Shared via IMS

"تعلیم و تربیت"حی الفلاحPosted by: Imran Mubarak AhmadShared via IMS
16/08/2026

"تعلیم و تربیت"

حی الفلاح

Posted by: Imran Mubarak Ahmad

Shared via IMS

"aa contrast in Surah Mulk"Upright: Clear purpose, internal stability, and conscious alignment with truth.• Face-Down: D...
13/08/2026

"aa contrast in Surah Mulk"

Upright: Clear purpose, internal stability, and conscious alignment with truth.
• Face-Down: Disoriented, blinded by immediate obsessions, and internally chaotic.Al Mulk 67:22

Posted by: Arooj Fatima

Shared via IMS

"القرآن حکیم"عدل کے خلافPosted by: Imran Mubarak AhmadShared via IMS
13/08/2026

"القرآن حکیم"

عدل کے خلاف

Posted by: Imran Mubarak Ahmad

Shared via IMS

"Real success is with Allah"Prophet (ﷺ) compared the five daily prayers to a flowing river outside one's door, cleaning ...
07/08/2026

"Real success is with Allah"

Prophet (ﷺ) compared the five daily prayers to a flowing river outside one's door, cleaning a person who bathes in it five times daily of all dirt and sin.

Posted by: Arooj Fatima

Shared via IMS

"Tawwakul and Sabr"Tawakkul ams sabr.Posted by: Arooj FatimaShared via IMS
05/08/2026

"Tawwakul and Sabr"

Tawakkul ams sabr.

Posted by: Arooj Fatima

Shared via IMS

"2-4 Complete Faith Molecule"Slide 7Posted by: IMS UserShared via IMS
04/08/2026

"2-4 Complete Faith Molecule"

Slide 7

Posted by: IMS User

Shared via IMS

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 22:00
Tuesday 09:00 - 22:00
Wednesday 09:00 - 22:00
Thursday 09:00 - 22:00
Friday 09:00 - 22:00
Saturday 09:00 - 22:00
Sunday 09:00 - 22:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Esta Mart posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category