09/01/2024
کیا پاکستان میں کوئی شخص جیل سے الیکشن لڑ سکتا ہے؟
ماہرِ قانون اور عمران خان کے وکیل علی ظفر نے جیل میں ان سے ملاقات کے بعد کہا کہ سابق وزیر اعظم کی نااہلی کی سزا ختم کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر ہوچکی ہے۔ انھیں امید ہے کہ جلد توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطل ہوجائے گی جس کے بعد وہ انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔
مگر کیا کوئی شخص جیل سے الیکشن لڑ بھی سکتا ہے، اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہم نے قانونی ماہرین اور سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا۔
ماہر قانون عارف چوہدری نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی الزام میں جیل میں بند ہے اور اب تک اسے مجرم قرار نہیں دیا گیا تو وہ جیل میں بیٹھ کر الیکشن لڑ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل ایک طرح کی کسٹڈی یعنی سپرداری ہوتی ہے۔
عارف چوہدری کا کہنا تھا کہ جیل میں موجود شخص جب تک سزا یافتہ نہیں ہوتا وہ اس وقت تک ایک آزاد شہری کی طرح الیکشن لڑ سکتا ہے۔
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا اس بارے میں کہنا تھا کہ بظاہر جیل میں موجود کسی ملزم کے الیکشن لڑنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے تاہم یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے کیونکہ اس کا دار و مدار اس پر عائد الزام کی نوعیت سے ہے۔ اگر وہ کسی فوجداری مقدمے میں ملزم ہے تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے اور اگر وہ کسی دیوانی مقدمے کا ملزم ہے تو مختلف۔
ماہر قانون سعد رسول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت جہاں ہر شخص کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق دیا گیا ہے تو اس کے تحت الیکشن لڑنے اور ووٹ دینے کا حق میں اس کے تحت ہی ملتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین میں اس طرح کی صورت میں الیکشن لڑنے کی کوئی ممانعت درج نہیں ہے تو لہذا جب آئین میں ایسی کوئی ممانعت نہ ہو تو اس کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا جاتا ہے یعنی اگر پاکستان کے قانون یا الیکشن ایکٹ 2017 میں ایسی کوئی ممانعت ہونا ضروری ہے ورنہ قانون یہ تصور کرتا ہے کہ اگر قانون یا آئین میں کوئی ممانعت نہیں تو کسی بھی شخص کے جیل سے بیٹھ کر الیکشن لڑنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے تا وقت کہ وہ اس وقت کسی جرم میں مرتکب قرار نہ پایا ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی معلومات کے مطابق اب تک الیکشن ایکٹ 2017 میں ایسی کوئی ممانعت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں