29/07/2025
# # **اسلام میں اولاد کی تربیت: ایک مقدس امانت**
**تحریر: بھلی بات سیریز**
جب اللّٰہ تعالیٰ کسی انسان کو اولاد کی نعمت سے نوازتا ہے، تو وہ صرف ایک تعلق یا محبت نہیں عطا فرماتا… بلکہ ایک بہت بڑی **ذمہ داری**، **امانت** اور **امتحان** بھی عطا کرتا ہے۔
یہ بچے، جن کے چہرے پر معصومیت کی چمک ہوتی ہے… جن کے ہاتھ ابھی قلم پکڑنے کے قابل نہیں ہوئے، جن کی زبان ابھی ٹھیک سے بولنا نہیں سیکھ پاتی — **انہیں سنوارنا، نکھارنا، اور جنت کی طرف لے جانا** والدین کا فرضِ عظیم ہے۔
# # # 💠 قرآن و سنت کا تصورِ تربیت
اللہ تعالیٰ سورۂ *تحریم* میں فرماتے ہیں:
> **"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا"**
> (اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ)۔
یہ آیت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ والدین کی ذمہ داری صرف کھلانا پلانا نہیں، بلکہ انہیں **جہنم سے بچانے کی فکر** کرنا ہے۔ یعنی انہیں **ایمان، اخلاق، ادب، حیاء، دینداری اور محبتِ رسول ﷺ** کا پیکر بنانا ہے۔
# # # 💠 نبی کریم ﷺ کی تربیتی مثال
سرکار دو عالم ﷺ کی سیرت والدین کے لیے کامل نمونہ ہے۔
جب چھوٹے بچوں کو دیکھا تو ان کے ساتھ محبت کا اظہار فرمایا، انہیں گود میں اٹھایا، ان کے لیے دعائیں کیں۔
حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب دوڑتے ہوئے آئے، تو آپ ﷺ ان کو اپنے کندھوں پر بٹھا لیتے۔ فرمایا کرتے:
> **"هُمَا رَيْحَانَتَایَ مِنَ الدُّنْيَا"**
> (یہ دونوں میری دنیا کی خوشبو ہیں)۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
> **"أكرِمُوا أَوْلَادَكُمْ، وأحسِنُوا أَدَبَهُمْ"**
> (اپنی اولاد کو عزت دو، اور ان کے ادب و اخلاق کو سنوارو)
> *(رواه ابن ماجه)*
# # # 🌹 تربیت کے بنیادی اصول
1. **محبت کے ساتھ تربیت**
ڈانٹ، مار اور چیخ و پکار سے بچوں کے دل بند ہو جاتے ہیں۔
لیکن محبت، شفقت اور وقت دینے سے دل کھلتے ہیں۔
وہ ماں باپ جن کی گود میں قرآن کی آواز گونجتی ہے،
ان کے بچے کبھی راہوں سے نہیں بھٹکتے۔
2. **عملی نمونہ بنیں**
بچے وہ نہیں کرتے جو آپ کہتے ہیں، بلکہ وہی سیکھتے ہیں جو **آپ کرتے ہیں**۔
اگر آپ نماز کے پابند ہیں، زبان پر درود ہے، نظریں پاکیزہ ہیں —
تو وہی کردار آپ کی نسلوں میں منتقل ہو گا۔
3. **وقت دینا سیکھیں**
آج کے والدین بچوں کو مہنگے اسکول، ٹیوشن، موبائل اور کھلونوں سے پالنا چاہتے ہیں —
مگر یاد رکھیں! بچوں کو **آپ کا وقت اور توجہ** چاہیے، چیزیں نہیں۔
4. **دعائیں کریں**
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹوں کے لیے دعا کرتے تھے:
> **"رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي"**
> (اے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا)
> *(سورہ ابراہیم)*
راتوں کو اٹھ کر، سجدوں میں رو رو کر اولاد کے حق میں دعائیں مانگنا —
یہ وہ تربیت ہے جو فرشتوں کو بھی رشک میں ڈال دیتی ہے۔
# # # 🌟 آج کی ضرورت
آج اگر دنیا میں بگاڑ ہے، تو وہ **گھروں کے بگاڑ** سے ہے۔
اگر امت میں روشنی چاہیے، تو وہ **ماں کی گود سے شروع ہوگی**۔
اگر باپ تربیت میں کوتاہی کرے گا، تو بیٹے ظلم کی راہوں پر چلیں گے۔
اپنے بیٹوں کو **حضرت ابوبکر، عمر، علی، حسن، حسین رضی اللّٰہ عنہم** جیسا بنائیے۔
اپنی بیٹیوں کو **حضرت فاطمہ، زینب، خدیجہ، عائشہ رضی اللّٰہ عنہن** جیسا بنائیے۔
تبھی یہ دنیا گلزار بھی بنے گی، اور آخرت بھی سنورے گی
# # # 📌 آخر میں ایک پکار:
**اے والدین! یہ بچے آپ کے خوابوں کا تسلسل ہیں۔
انہیں صرف دنیا کے لیے نہ بنائیے،
انہیں جنت کے لیے بھی سنواریے۔**✍️ ذوالفقار مصطفی ہاشمی
قادری
24-07-2025
\
\
\
\
\
\
\
\
\
\
\
\