20/09/2025
ہمارے والدین نے ہمیں بہت زیادہ آسائشات میں نہیں پالا۔ ضروریات پوری کرتے رہے لیکن فرمائشوں کو ہمیشہ کبھی سختی سے اور کبھی نرمی سے ٹال گئے۔
ہم پل بھی گئے۔ پڑھ بھی گئے۔ ہمارے اندر صبر بھی ہے۔ ہم خواہشات کے نہ پورا ہونے کو ہینڈل کرنا بھی جانتے ہیں۔ ہمیں دل بڑا کرنا آتا ہے اور دل مارنا بھی۔ ہمیں شئیرنگ بھی آتی ہے۔ ہم تھوڑے میں گزارا کرنا بھی جانتے ہیں. ۔ ہم پیزا بھی کھا لیتے ہیں اور دال سبزی بھی۔ہمیں رویے برداشت کرنے آتے ہیں، غصہ برداشت کرنا آتا ہے۔ ہم میں سیلف کنٹرول بھی ہے اور ہم اپنی حدود سے بھی واقف ہیں۔
ہم اسی اور نوے کی دہائی کے بچے جو اب ٹین ایج بچوں کے اماں ابا ہیں ہم نے بڑی بیلنسڈ زندگی گزاری الحمدللہ
لیکن ہم تربیت کے معاملے میں تھوڑی مار کھا گئے۔ ہم نے اپنے والدین کو سمجھنے میں غلطی کی۔ ہمیں لگا کہ وہ ہمارے بارے میں لاپرواہ تھے اس لیے ہم نے اپنے بچوں کی بہت زیادہ پرواہ کرنا شروع کردی۔ ہمیں لگا والدین ہمیں اگنور کرتے تھے تو ہم نے بچوں کو بہت زیادہ وقت دینا اور ان کی ہر طرح کی بات سننا ضروری سمجھا۔
ہمیں لگتا تھا ہمیں بلاوجہ ڈانٹا جاتا تھا تو ہم بچوں کے لیے ایکسٹرا سویٹ بن گئے۔
ہم سمجھے ہمارے والدین نے ہمیں خود سے دور دور رکھا تو ہم نے اولاد کو اپنے سر پر چڑھا لیا۔
ہمیں لگا کہ ہماری خواہشات دبا دی جاتی تھیں تو ہم نے اپنی اولادوں کے منہ کھولنے سے پہلے ان کے سامنے آسائشات کا ڈھیر لگا دیا۔
بدلے میں ہم نے کیا کمایا؟
یہ تو آپ اپنی اولادوں کو دیکھ کر سمجھ ہی گئے ہوں گے۔
صرف ان کی ہی اولاد کنٹرول میں ہے جنہوں نے تربیت کے پرانے سخت طریقے اپنائے۔ باقی تو سارے برگر ہی ہین۔
آج ایک اور بات سمجھ لیں کہ ہمارے والدین کم تعلیم یافتہ تھے لیکن ناسمجھ نہیں تھے۔ انہیں بہتر پتا تھا کہ انسان کے بچے کو انسان کا بچہ بنانے کے لیے کتنی محبت دینی ہے اور کتنی سختی کرنی ہے انہیں سب پتا تھا۔ انہیں علم تھا کہ معاشرے کی گرمی سردی برداشت کرنے کی ٹریننگ گھر سے ہی دی جانی چاہئے۔
فیکٹری کی کارکردگی کیسی ہے یہ پراڈکٹ دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے۔ اب اپنی پراڈکٹ دیکھیں اور اپنے والدین کی دیکھیں۔ صحیح غلط واضح ہوجائے گا۔