01/09/2026
مودی کی 'ششٹر لینڈ' ڈپلومیسی اور ایرانی چاہنے والوں کا 'مکہ معاہدہ' پر ماتم!
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہ اجلاس سے مودی جی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی مسکراتی ہوئی تصویر نے منافقت کے کئی نئے باب کھول دیے ہیں۔
ایک طرف مودی جی ہیں جو اسرائیل کو اپنا "پھادر لینڈ" مانتے ہیں، ایران پر حملوں کے لیے صہیونی ریاست کو "آل دی بیسٹ" کہتے ہیں، اور جنگ کے دوران اسرائیل کو مسلسل ڈرونز اور فوجی ہارڈویئر سپلائی کر رہے ہیں تاکہ ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ لیکن دوسری طرف، بشکیک پہنچ کر مودی جی نے شاید ایران کو دل ہی دل میں "ششٹر لینڈ" (Sisterland) کہا اور ایرانی صدر تہران پر گرتے مودی کے ہتھیاروں کو بھول کر تزویراتی مجبوری کی چادر اوڑھ کر بغل گیر ہو گئے۔
جب پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان "مکہ دفاعی معاہدہ" ہوتا ہے—جو کہ ایک خالصتاً مسلم دفاعی شیلڈ ہے—تو ایران کے حامیوں کو شدید مروڑ اٹھتے ہیں۔ وہ دن رات سوشل میڈیا پر واویلا کرتے ہیں کہ "پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے یہ معاہدہ کیوں کیا؟ یہ امتِ مسلمہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے!"
مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ:
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا آپس میں دفاعی اتحاد بننا ان کے لیے "جرم" ہے۔
لیکن ایران کا اسی مودی سے پینگیں بڑھانا، چابہار کے سودے کرنا اور مسکرا کر ہاتھ ملانا ان کے لیے "عظیم ڈپلومیسی" بن جاتا ہے، جو مودی اسرائیل کو ہتھیار دے کر مسلمانوں پر حملے کروا رہا ہے۔
ایران کے چاہنے والوں کی منطق بھی کمال کی ہے۔ ان کے نزدیک اسرائیل کے یار مودی سے مسکرا کر ملنا تو تہران کی "حکمتِ عملی" ہے، لیکن مکہ میں بیٹھ کر پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا اپنی حفاظت کے لیے ہاتھ ملانا گناہِ کبیرہ ہے۔ نعرے "مرگ بر اسرائیل" کے لگتے ہیں، لیکن معانقے اسرائیل کے سب سے بڑے سپلائر مودی سے کیے جاتے ہیں۔ سیاست اور اندھی عقیدت اسی منافقت کا نام ہے!
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا اتحاد 'غداری' اور ایران کا مودی سے معانقہ 'حکمتِ عملی'؟ اس پر آپ کا کیا کہنا ہے کمنٹ کریں ؟ 👇👇