Sach Aur Ishq

03/03/2026

27/02/2026

27/02/2026

اسکرین پر علی کا چہرہ تھا۔
مگر اس کے پیچھے ایک سایہ کھڑا تھا۔
لمبی گردن۔ بند آنکھیں۔ مسکراہٹ۔
اچانک اسکرین سیاہ ہو گئی۔
دروازے پر پھر دستک ہوئی۔
اس بار آواز باہر نہیں…
علی کے اندر سے آئی۔
اس کے ہونٹ آہستہ مسکرائے۔
کیونکہ اب خوف باہر نہیں تھا۔
وہ اس کے اندر زندہ تھا۔
علی آہستہ آہستہ بستر سے اترا۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
مگر اب نیلی روشنی دروازے کے نیچے سے نہیں…
اس کے سینے سے نکل رہی تھی۔
وہ آئینے کے سامنے جا کر رکا۔
چہرہ اُس کا تھا۔
مگر آنکھوں میں وہی سرخ چمک۔
اچانک آئینے میں موجود عکس نے آنکھ جھپکی۔
علی نے نہیں۔
کمرے میں سرگوشی گونجی:
"اب تم دروازہ ہو۔"
اسی لمحے دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔
ٹھک! ٹھک! ٹھک!
مگر اس بار کوئی باہر نہیں تھا۔
کیونکہ جو اندر آنا چاہتا تھا…
وہ پہلے ہی اندر تھا۔
اور جو باہر جانا چاہتا تھا…
وہ اب کبھی نہیں جا سکتا تھا۔
(اختتام… یا شاید آغاز؟)

26/02/2026

رات کے تین بجے دروازے پر دستک ہوئی۔
کمرے میں اندھیرا تھا، مگر دروازے کے نیچے سے نیلی روشنی اندر آ رہی تھی۔
علی ہلنا چاہتا تھا مگر جسم سن ہو چکا تھا۔
ہینڈل خود بخود ہلنے لگا۔
اچانک اسے محسوس ہوا… سایہ دروازے سے نہیں، بستر کے نیچے سے نکل رہا ہے۔
ایک سفید، لمبا ہاتھ آہستہ آہستہ اوپر آیا۔
دیوار پر الفاظ ابھرے:
"تم نے دروازہ خود کھولا تھا۔"
(جاری ہے…)
بستر کے نیچے سے بھاری سانسوں کی آواز آئی۔
دو آنکھیں کھلیں۔
ایک سرخ۔
ایک مکمل سیاہ۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔
پھر آواز آئی — مگر باہر سے نہیں۔
علی کے اپنے گلے سے:
"ہم اب الگ نہیں ہیں۔"
وہ چونک کر اٹھ بیٹھا۔
سب خواب تھا…؟
مگر موبائل کا کیمرہ خود بخود آن ہو گیا۔
(آخری حصہ باقی ہے…)

26/02/2026

آئینے میں جو چہرہ تھا… وہ علی کا نہیں تھا۔

وہی آنکھیں… مگر ان میں گہری سیاہی تیر رہی تھی۔ ہونٹ آہستہ آہستہ مسکرائے — مگر علی کے ہونٹ ساکت تھے۔

کمرے میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا چلا۔ دیواروں کی نیلی روشنیاں ایک ایک کر کے بجھنے لگیں۔ اب صرف آئینہ چمک رہا تھا۔

پھر آئینے میں موجود "وہ" بولا۔

"تم سمجھتے ہو خوف ختم ہو گیا؟ خوف کبھی ختم نہیں ہوتا… وہ شکل بدلتا ہے۔"

علی نے پیچھے ہٹنا چاہا — مگر دروازہ غائب ہو چکا تھا۔

اچانک آئینے پر دراڑ پڑی۔

پہلی…
پھر دوسری…
پھر پورا شیشہ مکڑی کے جال کی طرح ٹوٹنے لگا۔

ہر دراڑ سے سرگوشیوں کی آوازیں آنے لگیں۔

"تم نے جھوٹ بولا تھا…"
"تم نے موقع کھو دیا تھا…"
"تم بھاگے تھے…"

یہ اس کی اپنی یادیں تھیں۔ وہ لمحے جن سے وہ ہمیشہ بچتا رہا تھا۔

اچانک آئینے کا شیشہ ٹوٹ کر نیچے نہیں گرا — بلکہ باہر کی طرف ابھرنے لگا۔ جیسے کوئی اندر سے باہر آ رہا ہو۔

شیشے کے ٹکڑوں میں سے ایک ہاتھ نکلا۔
سفید… سرد… اور انگلیاں غیر فطری طور پر لمبی۔

وہ ہاتھ علی کی کلائی پکڑ لیتا ہے۔

برف جیسی ٹھنڈک اس کی رگوں میں دوڑ گئی۔

"اب تم بھاگ نہیں سکتے…"

اچانک پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔

علی نے چیخنے کی کوشش کی — مگر آواز نہیں نکلی۔

پھر اندھیرے میں ایک سرخ آنکھ کھلی۔

صرف ایک۔

وہ آہستہ آہستہ قریب آنے لگی۔

اور تب علی کو احساس ہوا…

وہ کمرہ نہیں تھا۔

وہ کسی کے اندر تھا۔

کسی ایسی ہستی کے… جو سالوں سے اس کے اندر پل رہی تھی۔

روشنی کی آخری کرن بجھی۔

اور سرگوشی آخری بار سنائی دی —

"خوف سے لڑنے والے زندہ رہتے ہیں…
خوف سے بھاگنے والے… اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔"

اچانک علی کی آنکھ کھل گئی۔

وہ اپنے بستر پر تھا۔

پسینے میں ڈوبا ہوا۔

سب خواب تھا…؟

دروازے پر دستک ہوئی۔

ٹھک… ٹھک… ٹھک…

رات کے تین بج رہے تھے۔

اور دروازے کے نیچے سے وہی مدھم نیلی روشنی اندر آ رہی تھی…

26/02/2026

وہ آہستہ آہستہ اس چھوٹے دروازے کے اندر داخل ہوا۔ اندر ایک تنگ سا راستہ تھا، دیواروں پر مدھم سی نیلی روشنی جل رہی تھی، جیسے ستارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ سرگوشی کی آواز پھر ابھری…

"شرط یہ ہے… کہ تم سچ برداشت کر سکو۔"

علی رک گیا۔

"کیسا سچ؟" اس نے کپکپاتی آواز میں پوچھا۔

اچانک سامنے دیوار پر دھندلی سی تصویر بننے لگی۔ تصویر میں علی خود کھڑا تھا… لیکن وہ اکیلا نہیں تھا۔ اس کے پیچھے وہی سایہ کھڑا تھا جو کل رات گلی میں نظر آیا تھا۔

آواز نے کہا: "یہ سایہ تمہارا دشمن نہیں… تمہارا خوف ہے۔ اگر تم اپنے سب سے بڑے خوف کا سامنا کر لو… تو تمہیں ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔ لیکن اگر ہمت ہار گئے… تو یہ دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔"

روشنی تیز ہونے لگی۔ سایہ آہستہ آہستہ علی کی طرف بڑھنے لگا۔

علی کے قدم پیچھے ہٹنا چاہتے تھے… مگر دل کہہ رہا تھا: "آج نہیں تو کبھی نہیں۔"

اس نے آنکھیں بند کیں… اور ایک قدم آگے بڑھا دیا۔

اچانک سارا کمرہ روشن ہو گیا۔

جب علی نے آنکھیں کھولیں… تو سایہ غائب تھا۔ سامنے ایک آئینہ تھا۔

25/02/2026

اگلی صبح علی نے دل کی دھڑکن سنبھالی اور وہی گلی پھر سے دیکھی…
کاغذ تو وہی پڑا تھا، لیکن اب اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا…
علی کے قدم لرز رہے تھے، لیکن تجسس نے اسے اندر جانے پر مجبور کر دیا…
اندر سے ہلکی روشنی اور ایک سرگوشی کی آواز آ رہی تھی…
آواز نے کہا: "آؤ، تمہارے سوالوں کے جواب یہاں ہیں… لیکن ایک شرط ہے…" ❤️
اگلی قسط کے لیے follow کریں اور بتائیں، آپ کیا سوچتے ہیں کہ شرط کیا ہو سکتی ہے؟

25/02/2026

رات کے 12 بجے تھے… شہر کی گلی میں ایک عجیب آواز گونجی… [pause]
دل دھڑک رہا تھا، اور میں نے دیکھا کہ ایک سایہ آہستہ آہستہ قریب آ رہا تھا… [pause]
لیکن جیسے ہی میں نے آنکھیں جھکائیں، سامنے ایک چھوٹا سا کاغذ پڑا تھا… [pause]
اس پر لکھا تھا: "اگر تم جاننا چاہتے ہو تو کل دوبارہ آنا…" ❤️
اگلی قسط کے لیے follow کریں، اور کمنٹس میں بتائیں، آپ کیا سوچتے ہیں کہ آگے کیا ہوگا؟

25/02/2026


Sacchi story

Address

Ferozepur Road
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sach Aur Ishq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category