27/02/2026
اسکرین پر علی کا چہرہ تھا۔
مگر اس کے پیچھے ایک سایہ کھڑا تھا۔
لمبی گردن۔ بند آنکھیں۔ مسکراہٹ۔
اچانک اسکرین سیاہ ہو گئی۔
دروازے پر پھر دستک ہوئی۔
اس بار آواز باہر نہیں…
علی کے اندر سے آئی۔
اس کے ہونٹ آہستہ مسکرائے۔
کیونکہ اب خوف باہر نہیں تھا۔
وہ اس کے اندر زندہ تھا۔
علی آہستہ آہستہ بستر سے اترا۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
مگر اب نیلی روشنی دروازے کے نیچے سے نہیں…
اس کے سینے سے نکل رہی تھی۔
وہ آئینے کے سامنے جا کر رکا۔
چہرہ اُس کا تھا۔
مگر آنکھوں میں وہی سرخ چمک۔
اچانک آئینے میں موجود عکس نے آنکھ جھپکی۔
علی نے نہیں۔
کمرے میں سرگوشی گونجی:
"اب تم دروازہ ہو۔"
اسی لمحے دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔
ٹھک! ٹھک! ٹھک!
مگر اس بار کوئی باہر نہیں تھا۔
کیونکہ جو اندر آنا چاہتا تھا…
وہ پہلے ہی اندر تھا۔
اور جو باہر جانا چاہتا تھا…
وہ اب کبھی نہیں جا سکتا تھا۔
(اختتام… یا شاید آغاز؟)