04/06/2026
زندگی میں پہلی بار نانی کے گھر عید گزارنے کا یہ تجربہ میرے لیے محض ایک تہوار نہیں، بلکہ محبتوں کا ایک ایسا سفر تھا جس کے احساسات کو لفظوں کے دائرے میں قید کرنا شاید ممکن ہی نہیں۔ وہاں جو لاڈ ملا، جو بے لوث خدمت اور اپنائیت نصیب ہوئی، میں اس کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔ یہ وہ پیار ہے جس کا قرض چاہ کر بھی نہیں اتارا جا سکتا۔
اس خوبصورت سفر کی بہت سی یادیں ہیں، جن میں سے ایک جھلک اس ویڈیو میں بھی ہے۔ یہ ویڈیو اس شاندار شام کی ہے جب بڑے ماموں جان نے ہم سب لڑکوں کے لیے ایک پرخلوص دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ محفل میں رونقیں تھیں، کزنز اور دوستوں کے قہقہے تھے... مگر اس پوری رونق کے جو اصل 'ہیرو' تھے، جن کی بدولت یہ سب مسکراہٹیں بکھر رہی تھیں، وہ خود اس فریم میں کہیں نظر نہیں آئیں گے۔
جی ہاں! ہمارےبڑے ماموں جان... ان کا رعب بھی ہے اور بے پناہ احترام بھی۔ ان کے سامنے کیمرہ اٹھانا مجھ ناچیز کے بس کی بات کہاں! اسے آپ ہمارا ڈر سمجھیں یا حدِ ادب، لیکن کچھ ہستیاں اتنی محترم ہوتی ہیں کہ ان کا عکس کیمرے کی آنکھ میں نہیں، بلکہ دل کے نہاں خانوں میں محفوظ کیا جاتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر وہ الوداعی لمحہ... جب واپسی کے وقت نانی جان نے بالکل بچپن کے دنوں کی طرح، چوری چھپے میرے ہاتھ پر کچھ پیسے لا کر رکھ دیے۔ محبت سے لپٹی اس دھیمی آواز میں بولیں: ’’یہ میں نے خاص تمہارے لیے الگ کر کے رکھے تھے...‘‘
میرے بار بار انکار پر بھی ان کا وہ اصرار، اور ان کے بزرگ ہاتھوں کا وہ لمس میرے وجود میں اتر گیا۔ وہ محض کاغذ کے نوٹ نہیں، نانی کی دعائیں اور لازوال محبت کا وہ سرمایہ ہیں جسے میں نے آج بھی اپنے بٹوے میں ایک مقدس تعویذ کی طرح سنبھال کر رکھا ہے۔
ماموں جان کی شفقت، دوستوں کا خلوص اور کزنز کا ساتھ... آپ سب نے مل کر اس عید کو میری زندگی کا سب سے انمول اثاثہ بنا دیا۔ بس دل سے یہی دُعا ہے کہ نانی جان اور ماموں جان کا یہ پُرخلوص سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رہے اور یہ رونقیں یوں ہی قائم رہیں۔ آمین۔