05/05/2024
یہ خبر پڑھی تو بہت افسوس ہوا کہ بھلائی کا زمانہ نہیں
پہلی بات تو یہ ہے کہ استاد کو سارے بچے پیارے ہوتے ہیں اور استاد کا بالکل بھی دل نہیں کرتا کہ کسی طلباء کو مارے۔
دوسری بات یہ ہے کہ گورنمنٹ سکولز کے طلباء چاہے پاس ہوں یا فیل ہوں اس سے استاد کی تنخواہوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
پھر استاد بچوں کو مار کر اپنی نوکری خطرے میں کیوں ڈالتا ہے۔ آ بیل مجھے مار والی کہاوت پر عمل کیوں کرتا ہے؟
اس کا جواب میں تفصیل سے دیتا ہوں۔
بڑے اور اچھے پرائیوٹ سکولوں میں امیروں کے بچے پڑھتے ہیں جن کو تقریبا پڑھائی کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔ اور سکول کے بعد ٹیوشن بھی جاتے ہیں اور اچھے مارکس لے جاتے ہیں۔
اب رہی بات گورنمنٹ سکولز کی تو وہاں پر ذیادہ تر ایسے لوگوں کے بچے ہوتے ہیں جو دیہاڑی دار یا بمشکل گزارہ کرنے والے۔ اکثر بچے چھٹی کے بعد محنت مزدوری کرتے ہیں اور والد کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ استاد کو اللہ تعالی نے ایسی صفت دی ہے کہ وہ طلباء کو پہچان لیتا ہے کہ وہ کس طرح کا ہے اور کس مقام تک جا سکتا ہے۔ کیونکہ غریب طلبا جسمانی اور زہنی طور پر صحت مند ہوتے ہیں اور ان میں کام کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔
استاد کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ طالب علم بہت کچھ کر سکتا ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اس کا والد بھی میں ہوں اور اس کا سب کچھ میں ہوں۔ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ اگر پڑھ گیا تو والدین کا سہارا بنے گا۔ ٹیچر کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس گھر میں ٹائم نہیں ہوتا۔ پر سکول میں جتنا وقت ہوتا ہے وہ تب تک تو اپنا کام اچھے سے کرے۔ جب وہ اپنا کام اچھے سے نہیں کرتا تو استاد کو غصہ آتا ہے جو انسانی نیچر ہے۔ پھر وہ بچے کو سزا اس کے بھلے کے لئے دیتا ہے تاکہ وہ اچھا پڑھے اور بڑا آدمی بنے۔
خدارا غریب کے بچوں کو پڑھنے دیں۔ ہم سب ماریں کھا کھا کر اس مقام پرپہنچے ہیں۔ چار بندے دو ہاتھ اور دو پاؤں سے پکڑ کر چھکنجا لگاتے تھے اور استاد صاحب درگت بناتے تھے۔ اور آج ہم انہیں اساتزہ کرام کو اکثر مل کر آتے ہیں اور سلام دعا کرتے ہیں اور ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔
فرض کرو کہ اس وقت بھی یہ اصول ہوتا کہ استاد بچے کو نہیں مار سکتا تو ہم بھی والد کو لے جاتے اور آج دھکے کھا رہے ہوتے۔
ہمارا ایک فیلو تھا وہ کلاس میں سیکنڈ نمبر پر تھا ایک دن استاد صاحب نے کچھ کہا تو وہ اپنے والد کو لے آیا اور اس کے والد نے استاد کی بےعزتی کی اور لڑنے لگا تو ہم کچھ سٹوڈنٹس ڈھال بن گئے تھے۔ آلحمداللہ ہم سب اچھی جگہ پر ہیں اور وہ بچارا آجکل جگہ جگہ دھکے کھا رہا ہے۔
جس نے استاد کی عزت کی وہ کامیاب ہوا اور استاد کی سزا، طلباء کی کامیابی ہے
منجانب:
محمد ساجد بشیر تحصیل صدر لیاقت پور پیٹا پنجاب