26/03/2026
زیرِ نظر تصاویر بھارت کی ہیں، جہاں پیٹرول اور گیس کی قلت نے ایک شدید بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ بڑے شہروں میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں، لوگ بے چینی کا شکار ہیں، کہیں جھگڑے ہو رہے ہیں اور افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمت 500 بھارتی روپے (یعنی لگ بھگ 1500 پاکستانی روپے) فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ وہی بھارت ہے جو روس اور ایران دونوں سے تیل درآمد کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود جنگ کے معاشی اثرات سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہی مناظر آہستہ آہستہ دیگر ممالک میں بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے لیے یہ ایک مثبت پہلو ہے کہ اب تک اس مشکل وقت میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی بڑی قلت سامنے نہیں آئی۔
لیکن ہمیں حقیقت سے آنکھیں نہیں چرانی چاہئیں ، اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات سے پاکستان بھی زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
یہاں آج کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا ثالثی کردار کوئی بڑی بات نہیں، مگر دوسری جانب پوری دنیا کی نظریں اس تنازع پر جمی ہوئی ہیں۔ یومِ پاکستان پر عالمی توجہ اور بڑے ممالک کا ہمارے واری صدقے جانا اور اہمیت بھی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہے ، یہ بات یاد رکھیں کہ آبنائے ہرمز دنیا کی معاشی شہ رگ ہے۔ اگر کوئی ملک اس آگ کو پھیلنے سے روکنے، اسے خلیجی خطے تک جانے سے بچانے اور سفارتی سطح پر امن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تو یقیناً دنیا اسے سنجیدگی سے لیتی ہے۔
آخرکار، اس جنگ کا فیصلہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھ میں ہے لیکن بطور پاکستانی ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ ہم اس نازک موقع پر آگ بھجانے اور دنیا کو امن کی طرف لے جانے کی کوشش کرنے والوں میں شامل ہیں۔ باقی ہم اس میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں یہ تو اللّٰہ ہی بہتر جانتا ہے !
اور اگر کسی کو پاکستان کا یہ کردار ناگوار گزر رہا ہے، تو اللہ اس کی اس تکلیف میں مزید اضافہ فرمائے