04/02/2024
خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید خان رحمہ اللہ نے جب جرمنی کے ساتھ ریلوے لائن کا معاہدہ کیا تھا ، تو ایک شرط یہ بھی رکھی تھی:" جب کاریگر کام کرتے ہوئے مدینہ پاک سے بیس کلو میٹر دور رہ جائیں گے تو اپنے ہتھوڑوں پر کپڑا باندھ لیں گے "( تاکہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک شہر میں شور کی آوازیں نہ آئیں )
اللہ اللہ ، کیسے مودب تھے وہ لوگ۔ خلافت عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور عاشق رسولﷺ گزرے ہیں
آپ کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین سروس شروع کی گئی, آج بھی وہ ریلوے لائن مدینہ شریف میں بچھی ہوئ ہے ۔ اور ترکی ریلوےاسٹیشن کے نام سے مشہور ہے . اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلہ کا ہوا کرتا تھا، مکمل تیاریاں ہونے کے بعد مدینہ شریف میں ترکی اسٹیشن پر سلطان عبدالحمید ثانی کو اوپنگ (افتتاح) کے لیے بلایا گیا تو سلطان نے دیکھا۔ کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آوازیں نکال رہا ہے ۔ تو سلطان عبدالحمید غضبناک ہو گئے ۔ اور کچرا اٹھا کر انجن کو مارنا شروع کر دیا۔ اور کہا۔ حضور ﷺ کے شہر میں اتنی تیز آواز تیری....؟
*ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر*
*نفس گم کردہ می آید جنیدؓ و بایزیدؓ اینجا*
تقریباؔؔ 100 سال کا عرصہ ہونے کو آیا،اس وقت جو انجن بندہوا تھا۔ وہ آج بھی ایسے ہی مدینہ شریف میں رکھا ہوا ہے، جو ترکی اسٹیشن سے مشہور ہے ، اس قدر ادب کہ وہ انجن کی بلند آواز کو بھی شہرِ رسولﷺ میں پسند نہیں کرتے تھے تو سوچو وہ اپنے محبوب سے کس قدر محبت فرماتے ھوں گے..!!
یہ عشق تھا۔ یہ ادب تھا۔ جو ان کے سینوں میں موجزن تھا،
اللہ تعالی ہمیں بھی ایسا عشق و ادب اور شہر رسولﷺ کی باادب حاضری نصیب کرے..۔۔۔۔ امین