23/04/2026
گزشتہ رات دس بجے جنازے کے اعلان میں بتایا گیا کہ نمازِ جنازہ مسجد عبدالعزیز، نیو سٹی ختم نبوت چوک پر ادا کی جائے گی، اور بعد ازاں میت کو کھوئی رٹہ لے جایا جائے گا۔ اس صورتحال نے نیو سٹی کے حوالے سے کئی سوالات اور خدشات کو جنم دیا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ نیو سٹی کو بلاوجہ تنقید یا سازش کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ہم، بطور رہائشی نیو سٹی، انسانی ہمدردی اور اخلاقی ذمہ داری کے تحت ہر پوسٹ پر معذرت بھی کر چکے ہیں، مگر افسوس کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باقاعدہ انکوائری کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔
اہم سوال یہ ہے کہ پوٹھی، ترپہ، پلیالہ اور سائیں اختر دربار تک جتنی ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم ہوئیں اور زمینیں فروخت کی گئیں، کیا ان میں کہیں بھی قبرستان کے لیے جگہ مختص کی گئی؟ اگر نہیں، تو پھر ہر مسئلے کا الزام صرف نیو سٹی پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟
اگر ترپہ میں مسئلہ ہے تو قصور وار نیو سٹی کیوں؟
اگر پلیالہ یا پوٹھی میں مسئلہ ہے تو ذمہ داری نیو سٹی پر کیوں؟
اب سب ہیرو بننے کے چکر میں کوئی مداری چترپڑی قبرستان کی تصویریں لگا رہا کوئی خالق آباد کی لگا رہا چترپڑی قبرستان کسی کے باپ دادا کی جاگیر نہیں وہ عام عوام کےکیے مختص ہے جبکہ نیوسٹی قبرستان نیوسٹی کے رہائشیوں کےلیے مختص ہے تھوتھال،ایف ون،نتھیا،سنگوٹ کوئی بھی علاقہ ہو کوئی کسی کو نہیں دفنانے دیتا ادھر کبھی کوئی رولا نہیں پڑا حالانکہ سب جانتے کئیوں کی گلیوں سے میت نہیں گزر سکتی صرف بندے یا گدھے گزر سکتے کسی کو دو چار فیٹ راستہ تک نہیں دیتے
یہ پورا علاقہ ہزاروں کنال اراضی پر مشتمل ہے جہاں ترقیاتی کام ہوئے، مگر قبرستان کے لیے جگہ نہ رکھنا ایک بنیادی کوتاہی ہے، جس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔اور اس ہاؤسنگ سوسائٹی یا سکیم والے سے پوچھا جائے
ہم ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کی شفاف انکوائری کروائی جائے سب سکیموں کے قبرستان کا رقبہ چیک کیا جائے اور مستقبل میں ایسے مسائل سے بچنے کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے، تاکہ کسی ایک فریق کو بلاوجہ موردِ الزام نہ ٹھہرایا جائے