پشتو اردو کہانیاں Urdu poshto stores

پشتو اردو کہانیاں Urdu poshto stores اردو پشتو کہانیاں

22/06/2026

پرانا زمانہ

ہارٹ اٹیک (Heart Attack) اور فالج (Stroke) دنیا بھر میں اموات اور معذوری کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے ...
18/06/2026

ہارٹ اٹیک (Heart Attack) اور فالج (Stroke) دنیا بھر میں اموات اور معذوری کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ان بیماریوں کے زیادہ تر کیسز چند اہم خطرے کے عوامل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگرچہ "99 فیصد" کا دعویٰ سائنسی طور پر درست نہیں، لیکن درج ذیل چار عوامل سب سے زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں:

1۔ ہائی بلڈ پریشر (بلند فشارِ خون)

ہائی بلڈ پریشر کو "خاموش قاتل" کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر لوگوں کو اس کی علامات محسوس نہیں ہوتیں۔ مسلسل بلند فشارِ خون خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جس سے دماغ کی رگ پھٹ سکتی ہے یا بند ہو سکتی ہے، اور دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔

بچاؤ:

نمک کا کم استعمال

باقاعدہ ورزش

وزن کو قابو میں رکھنا

ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات کا استعمال

2۔ تمباکو نوشی

سگریٹ، شیشہ، نسوار اور دیگر تمباکو مصنوعات خون کی نالیوں کو تنگ کرتی ہیں اور خون میں آکسیجن کی مقدار کم کرتی ہیں۔ اس سے دل اور دماغ تک خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔

بچاؤ:

تمباکو نوشی مکمل طور پر ترک کریں۔

دھوئیں والی جگہوں سے بھی حتیٰ الامکان دور رہیں۔

3۔ ذیابیطس (شوگر)

شوگر کی بیماری خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور دل و دماغ کی بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ اگر شوگر قابو میں نہ ہو تو شریانوں میں چکنائی جمع ہونے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

بچاؤ:

خون میں شوگر کی باقاعدہ جانچ

متوازن غذا

ورزش

ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات

4۔ کولیسٹرول اور خون میں چکنائی کی زیادتی

خراب کولیسٹرول (LDL) شریانوں میں جمع ہو کر ان کو تنگ یا بند کر سکتا ہے۔ جب دل یا دماغ کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے تو ہارٹ اٹیک یا فالج واقع ہو سکتا ہے۔

بچاؤ:

چکنائی والی غذا کم کھائیں۔

پھل، سبزیاں اور فائبر والی غذا زیادہ استعمال کریں۔

باقاعدہ طبی معائنہ کروائیں۔

دیگر اہم خطرات

موٹاپا

جسمانی سرگرمی کی کمی

ذہنی دباؤ

غیر صحت بخش غذا

خاندانی تاریخ

زیادہ شراب نوشی

یاد رکھنے کی بات

دل کے دورے اور فالج کے اکثر کیسز قابلِ روک تھام ہیں۔ صحت مند غذا، روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش، تمباکو نوشی سے پرہیز، اور بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھ کر خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

یورپ میں ممالک کی تعداد اس بات پر منحصر ہے کہ کن ممالک کو یورپ میں شمار کیا جائے۔ عام طور پر 44 سے 50 خودمختار ممالک یور...
15/06/2026

یورپ میں ممالک کی تعداد اس بات پر منحصر ہے کہ کن ممالک کو یورپ میں شمار کیا جائے۔ عام طور پر 44 سے 50 خودمختار ممالک یورپ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

یورپ کے بارے میں اہم معلومات

براعظم: Europe

ممالک کی تعداد: تقریباً 44–50

کل آبادی: تقریباً 74 کروڑ (740 ملین) افراد

رقبہ: تقریباً 1 کروڑ 18 لاکھ مربع کلومیٹر

سب سے زیادہ آبادی والا ملک: Russia (اگر پورے روس کو شمار کیا جائے)

یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک: Germany

چند بڑے یورپی ممالک

Germany

France

United Kingdom

Italy

Spain

Poland

Ukraine

Russi۔

پشاور، 1857ء: توپ سے اڑا کر سزائے موت دیے جانے والے (مجاہدینِ آزادی)(مجاہدینِ آزادی) کو انتہائی سفاکانہ سزاؤں کا سامنا ک...
12/06/2026

پشاور، 1857ء: توپ سے اڑا کر سزائے موت دیے جانے والے (مجاہدینِ آزادی)
(مجاہدینِ آزادی) کو انتہائی سفاکانہ سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں توپوں کے دہانے کے ساتھ باندھ کر عوام کے سامنے اڑا دیا جاتا تھا۔ بہت سے دیگر افراد کو سرِعام پھانسی دی گئی اور بعد ازاں ان کی لاشوں کو چونے میں ڈال دیا گیا تاکہ ان کی ہڈیاں اور گوشت مکمل طور پر مٹ جائیں۔
اس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ برطانوی حکام بغاوت کو کچلنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں، اور یہ کہ مجرموں کو ایسی ہولناک موت دی جائے کہ ان کی باقیات اسلامی روایات کے مطابق دفن بھی نہ کی جا سکیں۔
برطانوی حکام کا خیال تھا کہ جسم کو جلا دینا یا اس کی باقیات کو ختم کر دینا روح کے سکون اور آخرت سے متعلق مذہبی عقائد پر اثر انداز ہوگا۔ اسی سوچ کے تحت یہ خوفناک سزائیں دی گئیں۔
موجودہ پشاور ایئرپورٹ یا فضائیہ کا اڈہ انہی پھانسیوں اور سزاؤں کی جگہ پر واقع بتایا جاتا ہے۔ ان واقعات کا ذکر متعدد برطانوی مصنفین نے اپنی تحریروں میں کیا ہے۔
تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے سپاہیوں کو ان سزاؤں کا منظر دیکھنے پر مجبور کیا جاتا تھا تاکہ دوسروں کے لیے عبرت کا سامان ہو اور آئندہ کسی بغاوت کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
تفصیلی بیان — 10 جون 1857ء
10 جون 1857ء کو پشاور میں برطانوی سیاسی افسر ہربرٹ ایڈورڈز نے چالیس گرفتار ہندوستانی باغی سپاہیوں کو توپ سے اڑا دینے کا حکم دیا۔ اس طریقۂ سزا میں مجرم کو توپ کے دہانے سے باندھ دیا جاتا تھا اور پھر توپ داغ دی جاتی تھی۔ جسم کے ٹکڑے دور دور تک بکھر جاتے تھے، جس کے باعث ہندو اور مسلمان سپاہیوں کو مناسب آخری رسومات ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا، یوں سزا موت کے بعد بھی جاری سمجھی جاتی تھی۔
ایک برطانوی نامہ نگار کے مطابق، ’’تقریباً سبھی نے بڑی ثابت قدمی سے موت کا سامنا کیا، سوائے دو افراد کے جنہوں نے خود کو باندھنے نہیں دیا؛ چنانچہ انہیں زمین پر گرا کر بندوقوں سے گولی مار دی گئی۔‘‘
اس کے بعد باقی سزائیں ’’پورے لشکر کی موجودگی میں‘‘ نافذ کی گئیں تاکہ دوسروں کے لیے خوفناک مثال قائم کی جا سکے۔ نامہ نگار نے لکھا: ’’میں امید کرتا ہوں کہ دوبارہ کبھی ایسا منظر نہ دیکھوں؛ انسانی دھڑ، سر، بازو اور ٹانگیں ہر طرف بکھر رہی تھیں۔‘‘
بارہ دیگر قیدیوں کو، جن پر بغاوت یا فرار جیسے الزامات ثابت ہوئے تھے، توپ سے اڑانے کے بجائے پھانسی دی گئی۔ ان کے لی

11/06/2026

پارٹ 2
اور اکثر افراد حضرت مسلمؓ کا ساتھ چھوڑ گئے۔
بالآخر حضرت مسلم بن عقیلؓ گرفتار ہوئے اور شہید کر دیے گئے۔
امام حسینؓ کا سفرِ عراق
حضرت مسلمؓ کی شہادت کی خبر مکمل طور پر امام حسینؓ تک اس وقت نہ پہنچ سکی جب آپؓ عراق کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔
راستے میں کئی صحابہ اور خیرخواہوں نے مشورہ دیا کہ کوفہ کے لوگوں پر اعتماد نہ کیا جائے، لیکن امام حسینؓ نے اپنے مقصد اور ذمہ داری کو سامنے رکھتے ہوئے سفر جاری رکھا۔
جب راستے میں مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی خبر ملی تو آپؓ نے اپنے ساتھیوں کو واپس جانے کی اجازت بھی دی۔ بعض لوگ واپس لوٹ گئے جبکہ آپؓ کے وفادار ساتھی ساتھ رہے۔
کربلا میں آمد
2 محرم 61 ہجری کو امام حسینؓ کا قافلہ کربلا کے میدان میں پہنچا۔
یہ ایک خشک اور بے آب و گیاہ علاقہ تھا۔ یہاں امام حسینؓ کے قافلے کو رکنے پر مجبور کیا گیا۔
قافلے میں خواتین، بچے اور اہلِ بیت کے افراد بھی شامل تھے۔
پانی کی بندش
چند دن بعد فرات کے پانی تک رسائی روک دی گئی۔
گرم موسم، پیاس اور سخت حالات نے اہلِ بیت اور ساتھیوں کی آزمائش کو مزید بڑھا دیا۔
بچوں کی پیاس اور خواتین کی تکلیف نے صورتحال کو انتہائی دردناک بنا دیا۔
اس دوران حضرت عباسؓ، جو امام حسینؓ کے بھائی تھے، پانی لانے کی متعدد کوششوں میں نمایاں رہے۔

11/06/2026

پارٹ1
حضرت امام حسینؓ (اہلِ سنت کے ہاں رضی اللہ عنہ، اور اہلِ تشیع کے ہاں علیہ السلام) کی شہادت کا واقعہ اسلامی تاریخ کے سب سے دردناک اور سبق آموز واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ واقعہ 10 محرم الحرام 61 ہجری (10 اکتوبر 680ء) کو کربلا کے میدان میں پیش آیا۔ اس واقعے نے امتِ مسلمہ کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے اور آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اسے غم، عبرت اور حق و باطل کی کشمکش کی علامت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
حضرت امام حسینؓ کا تعارف
حضرت امام حسینؓ رسول اللہ ﷺ کے نواسے، حضرت علی المرتضیٰؓ اور حضرت فاطمہ الزہراؓ کے صاحبزادے تھے۔ آپؓ کی ولادت مدینہ منورہ میں 4 ہجری میں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ آپؓ سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ متعدد احادیث میں آپؓ کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔"
ایک اور حدیث میں فرمایا:
"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔"
حضرت معاویہؓ کے بعد حالات
60 ہجری میں Muawiya ibn Abi Sufyan کا انتقال ہوا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے Yazid ibn Muawiya اقتدار پر فائز ہوئے۔
یزید نے مختلف علاقوں کے گورنروں کو ہدایت دی کہ اہم شخصیات سے اس کی بیعت لی جائے۔ مدینہ میں گورنر نے حضرت امام حسینؓ سے بھی بیعت کا مطالبہ کیا، لیکن امام حسینؓ نے فوری بیعت سے انکار فرمایا۔
امام حسینؓ کا موقف یہ تھا کہ امت کے معاملات مشورے اور رضامندی سے طے ہونے چاہئیں، اور وہ حالات کو مزید غور و فکر کے ساتھ دیکھنا چاہتے تھے۔
مدینہ سے مکہ کی طرف روانگی
امام حسینؓ نے مدینہ میں حالات کو کشیدہ دیکھتے ہوئے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت کی۔ مکہ میں آپؓ نے چند ماہ قیام فرمایا۔
اسی دوران عراق کے شہر کوفہ سے ہزاروں خطوط موصول ہوئے۔ ان خطوط میں لوگوں نے امام حسینؓ کو دعوت دی کہ وہ کوفہ تشریف لائیں اور ان کی قیادت قبول کریں۔ کوفہ کے لوگوں نے وعدہ کیا کہ وہ امام حسینؓ کا ساتھ دیں گے۔
حضرت مسلم بن عقیلؓ کی روانگی
امام حسینؓ نے صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی Muslim ibn Aqil کو کوفہ بھیجا۔
ابتدا میں ہزاروں افراد نے حضرت مسلم بن عقیلؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ انہوں نے امام حسینؓ کو خط لکھا کہ حالات بظاہر موافق ہیں۔
لیکن جلد ہی حالات بدل گئے۔ کوفہ کے نئے گورنر Ubayd Allah ibn Ziyad نے سخت اقدامات کیے۔ لوگوں میں خوف پھیل گیا
(جاری)

امریکہ کی "دریافت" کا سوال تاریخی طور پر کچھ پیچیدہ ہے، کیونکہ امریکہ میں انسان ہزاروں سال پہلے سے آباد تھے۔ اس لیے یہ ک...
09/06/2026

امریکہ کی "دریافت" کا سوال تاریخی طور پر کچھ پیچیدہ ہے، کیونکہ امریکہ میں انسان ہزاروں سال پہلے سے آباد تھے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ امریکہ ایک خالی سرزمین تھی جسے پہلی بار کسی نے دریافت کیا۔
امریکہ کے ابتدائی باشندے
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق امریکہ میں انسان تقریباً 15,000 سے 20,000 سال پہلے ایشیا سے آئے تھے۔ یہ لوگ بعد میں مختلف مقامی اقوام (Native Americans) کی شکل میں آباد ہوئے۔
وائکنگز کی آمد (تقریباً 1000ء)
لیف ایرکسن نامی ناروی مہم جو تقریباً 1000ء میں شمالی امریکہ پہنچا تھا۔ اس کے شواہد کینیڈا کے علاقے L'Anse aux Meadows میں ملے ہیں۔ اس طرح یورپ سے امریکہ پہنچنے والے اولین معلوم افراد وائکنگز تھے۔
کرسٹوفر کولمبس (1492ء)
کرسٹوفر کولمبس نے 1492ء میں بحرِ اوقیانوس عبور کیا۔ وہ دراصل ہندوستان کا سمندری راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ کیریبین کے جزیروں تک پہنچا۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک نئے براعظم کے قریب پہنچ گیا ہے۔
امریکہ کا نام کیسے پڑا؟
بعد میں اطالوی ملاح امیریگو ویسپوچی نے یہ وضاحت کی کہ یہ علاقے ایشیا کا حصہ نہیں بلکہ ایک "نئی دنیا" ہیں۔ اسی کے نام پر 1507ء میں نقشہ سازوں نے اس براعظم کو "America" کہنا شروع کیا۔
مختصر ٹائم لائن
20,000–15,000 سال پہلے: ابتدائی انسان امریکہ میں آباد ہوئے۔
تقریباً 1000ء: لیف ایرکسن اور وائکنگز شمالی امریکہ پہنچے۔
1492ء: کرسٹوفر کولمبس کیریبین پہنچا۔
1507ء: امیریگو ویسپوچی کے نام پر "امریکہ" کا نام رکھا گیا۔
بعد میں یورپی طاقتوں (اسپین، برطانیہ، فرانس وغیرہ) نے امریکہ میں نوآبادیاں قائم کیں۔
نتیجہ
اگر سوال یہ ہو کہ امریکہ میں سب سے پہلے کون پہنچا؟ تو مقامی باشندے ہزاروں سال پہلے سے وہاں موجود تھے۔
اگر یورپیوں کی بات کی جائے تو وائکنگ مہم جو لیف ایرکسن کولمبس سے تقریباً 500 سال پہلے امریکہ پہنچ چکا تھا۔
اور اگر امریکہ کو یورپ میں مشہور کرنے کی بات ہو تو 1492ء میں کرسٹوفر کولمبس کے سفر کو اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔

حضرت بایزید بسطامی اسلامی تاریخ کے عظیم صوفی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کے بارے میں کئی حکایات اور واقعات مشہور ہیں جو...
08/06/2026

حضرت بایزید بسطامی اسلامی تاریخ کے عظیم صوفی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کے بارے میں کئی حکایات اور واقعات مشہور ہیں جو عاجزی، اللہ کی محبت اور والدین کی خدمت کا درس دیتے ہیں۔
1۔ والدہ کی خدمت کا واقعہ
ایک رات آپ کی والدہ نے پانی مانگا۔ حضرت بایزید بسطامیؒ پانی لینے گئے، لیکن واپس آئے تو والدہ سو چکی تھیں۔ آپ نے انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور پانی کا برتن ہاتھ میں لیے کھڑے رہے۔ جب صبح والدہ کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ بیٹا پوری رات پانی لیے کھڑا رہا۔ والدہ نے خوش ہو کر دعا دی، اور آپ اسے اپنی بڑی سعادت سمجھتے تھے۔
سبق: والدین کی خدمت اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔
2۔ عاجزی کا نمونہ
ایک مرتبہ کسی نے آپ کی بہت تعریف کی۔ آپ نے فرمایا:
"لوگ میرے ظاہر کو دیکھتے ہیں، اگر میرے باطن کے عیوب دیکھ لیں تو شاید مجھے پسند نہ کریں۔"
آپ ہمیشہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے اور خود کو دوسروں سے بہتر نہیں سمجھتے تھے۔
سبق: حقیقی بزرگی عاجزی میں ہے۔
3۔ اللہ کی محبت
روایت ہے کہ آپ سے پوچھا گیا: "آپ کو اللہ کی معرفت کیسے حاصل ہوئی؟"
آپ نے جواب دیا:
"میں نے اپنے نفس کی خواہشات کو چھوڑا تو اللہ کا راستہ آسان ہوگیا۔"
یہ جواب تزکیۂ نفس اور اللہ کی اطاعت کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
4۔ عبادت اور خشیتِ الٰہی
کہا جاتا ہے کہ جب آپ عبادت کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ کے خوف اور عظمت کے احساس سے آپ کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ آپ فرماتے تھے:
"بندے کو اپنے اعمال پر نہیں بلکہ اللہ کی رحمت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔"
سبق: عبادت کے ساتھ عاجزی اور اللہ کی رحمت کی امید بھی ضروری ہے۔
5۔ خود احتسابی کا واقعہ
ایک مرتبہ آپ نے فرمایا:
"میں نے تیس سال تک اپنے نفس سے جہاد کیا، پھر جا کر کچھ راحت نصیب ہوئی۔"
اس سے مراد یہ تھی کہ انسان کو اپنی اصلاح کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
یہ واقعات ہمیں والدین کی خدمت، عاجزی، اخلاص، نفس کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا درس دیتے ہیں۔ البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ صوفیاء کے بعض واقعات تاریخی طور پر مضبوط سند کے ساتھ ثابت نہیں ہوتے، بلکہ تذکروں اور سوانحی کتابوں میں نقل کیے جاتے ہیں، اس لیے انہیں نصیحت اور عبرت کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔

Address

Munda Qala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پشتو اردو کہانیاں Urdu poshto stores posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category