28/03/2023
جھوٹی خبر کا دلائل کے ساتھ جوابات:
ہم وہ کم قسمت پاکستانی ہے جو اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارتے ہیں اور خود تو کچھ اچھا نہیں کرتے لیکن جو ملک کی بہتری کے لئے کام کرتے ہیں اس کی ناکامی کے لیے دن رات محنت میں ضرور لگے رہتے ہیں۔
آئیں میں اپکو لہسن نارک جی1 سے متعلق منفی اور بدنیتی پر مبنی الزامات کا دلائل کے ساتھ جوابات تحریر کرتا ہوں۔
1۔ پہلا الزام۔۔۔۔۔۔۔ لہسن نارک جی1 ایک غیر مقبول ورائٹی ہے۔
جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیارے بھائیوں/بہنوں یہ اس وقت پاکستان کی سب سے مقبول ترین لہسن کی ورائٹی ہے جس کو حکومت پاکستان نے 2019 میں سرکاری سطح پر رجسٹرڈ کروایا اور اس ورائٹی کے متعارف کرنے والے سائنسدان مرحوم ڈاکٹر ہمایون صاحب کو اس کارنامے کے بدلے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
2۔ دوسرا الزام۔۔۔۔۔۔ محکمہ زراعت نے لوگوں کو تنبیہ کیا کہ یہ فراڈ ہے۔
جواب۔۔۔۔۔ اس ورائٹی کو محکمہ زراعت نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اسلام آباد نے 8 سال کی طویل عرصے میں متعارف کروانے اور پھر سرکاری سطح پر رجسٹرڈ کروانے کے بعد لوگوں کو کہا کہ یہ فراڈ ہے؟؟؟؟؟ عقل کے اندھے (جس نے جھوٹ پھیلایا)۔ NARC نے تو اس ورائٹی کی اشاعت کے لئے دن رات محنت کی ہے اور اس وقت شعبہ زراعت کے سینکڑوں لوگ اس ورائٹی کی کاشت کے ساتھ منسلک ہیں (بندہ ناچیز بھی شعبہ زراعت سے وابستہ ہے اور اس ورائٹی کی کاشت کئی سالوں سے کر رہا ہے)
3۔ تیسرا الزام ۔۔۔۔۔۔ حکومت نے اس قسم کے پروجیکٹ پر کام شروع نہیں کیا۔
جواب ۔۔۔۔۔۔ وفاقی حکومتی ادارے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (NARC) نے اس ورائٹی کی کاشت اور اشاعت پر کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں اور صوبائی حکومتوں کے ادارے شعبہ زراعت میں عنقریب اس ورائٹی کو عام زمینداروں میں رائج کرنے کے لئے بڑے پراجیکٹ پر کام شروع کرینگے۔
4۔ چوتھا الزام ۔۔۔۔۔۔۔ حکومتی انتباہ کے باوجود لوگوں نے 20 ھزار روپے تک فی کلو خریدا۔
جواب۔۔۔۔۔ حکومت نے کبھی بھی انتباہ نہیں کیا اور نہ لوگوں نے فی کلو 20 ھزار روپے خریدا۔ حکومت اس ورائٹی کی فروغ کے لیے کوشاں ہے اور بات رہی اس کی زیادہ قیمت کی تو جناب والا قیمت ڈیمانڈ اور سپلائی کی وجہ سے کم اور زیادہ ہو جاتا ہے۔
5۔ پانچواں الزام ۔۔۔۔۔۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہ فصل پنجاب کے کئی علاقوں میں تیار ہو چکی ہے۔
جواب ۔۔۔۔۔ پورے پاکستان میں ایسا کوئی علاقہ نہیں ہے جس میں لہسن نارک جی1 مئی 2023 سے پہلے تیار ہو سکے۔ اس فصل کی کاشت 15 ستمبر سے نومبر کے پہلے ہفتے تک مکمل ہو جاتی ہے اور اس کی کٹائی/پٹائی اگلے سال مئی کے مہینے میں ہوتی ہے۔ لہذا یہ الزام ایک سو فیصد غلط ہے۔
6۔ چھٹا الزام۔۔۔۔۔ مارکیٹ کی عدم دستیابی اور حکومتی عدم توجہی کے باعث اس ورائٹی کو پانچ سو روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔
جواب۔۔۔۔۔۔ نہ مارکیٹ میں عدم دستیابی ہے اور نہ ہی حکومتی عدم توجہی۔ اس وقت زمینداروں کے جانب سے وفاقی حکومتی ادارے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کے پاس اس ورائٹی کے حصول کے لئے ھزاروں درخواستیں موصول ہو چکی ہے لیکن ادارہ اکیلے ان کی ڈیمانڈ پورا نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت (13 دسمبر 2022) پنجاب میں 2023 کے لیے لہسن نارک جی1 کی ایڈوانس بکنگ 1800 سے 2000 روپے فی کلو (تازہ حالت میں پتوں اور جڑوں سمیت) فروخت ہو رہی ہے۔ لہذا یہ الزام سراسر غلط ہے۔
7۔ ساتواں الزام۔۔۔۔۔ کاشت کاروں کو کروڑوں روپے نقصان کا خدشہ ہے۔
جواب ۔۔۔۔۔۔ اس سال یعنی 23-2022 کو ایک ایکڑ سے کم و بیش 90 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ تک منافع متوقع ہے۔ ایک ایکڑ سے کم و بیش 5 سے 8 ھزار کلو تازہ لہسن نارک جی1 کی پیداوار متوقع ہے۔ اس وقت ایڈوانس بکنگ کم از 1650 اور زیادہ سے زیادہ 2000 روپے ہے۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ مذکورہ بالا اعتراضات کس قدر بدنیتی اور جھوٹ پر مبنی ہیں اور حقائق سے کس حد تک دور ہیں؟؟؟
Bhatti NARC G1 garlic farm 03004445450