متعلم واجد علی الحنفی

متعلم واجد علی الحنفی ye page islami ☪️ taalemaat ke bare me hai

22/12/2025

لِلّٰه الحمد!❣️
په دې مبارکه میاشت کې، د نورو سلګونو فاضلانو ترڅنګ، زمونژہ خوگ ملگرئ(فاضل مولوي محمدعمررحمانی صیب ولد زین اللہ خان )ته هم په تنگی کې د جناب صحبزادہ پیرمفتی گوھرعلی شاہ صاحب مبارک په مبارکو لاسونو د علم د فراغت دستار ور په سر کېږي
لہ @ طرفہ قاری خالد گوھری او قاری واجد گوھری صاحب

13/08/2025

یہ آواز سیدھی آسمان پر جا رہی ہے


29/07/2025

فلسطینی امدادی ٹرکوں کا انتظار کرتے ہوئے غزہ شہر کے شمال مغرب میں واقع علاقے السُودانیہ کے قریب اسرائیلی جنگی بحری جہازوں کی فائرنگ سے بچنے کے لیے دیواروں کے پیچھے پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔



> بیان فلسطینی علماء کی طرف سے:"پاکستان کے معزز علماء کرام، جن کی قیادت مفتی تقی عثمانی کر رہے ہیں، ہم اللہ کے واسطے آپ ...
26/07/2025

> بیان فلسطینی علماء کی طرف سے:

"پاکستان کے معزز علماء کرام، جن کی قیادت مفتی تقی عثمانی کر رہے ہیں، ہم اللہ کے واسطے آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ عوامی چوکوں میں خیمے لگائیں، دھرنے دیں، حتیٰ کہ آپ کی حکومت عملی قدم اٹھائے۔
خاموشی خیانت ہے۔ صرف تقریر کافی نہیں، میدانِ عمل میں آنا ہوگا۔"

حوالہ: محمد 7: "اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے گا

فلسطین کے علماء نے مفتی تقی عثمانی کا نام لے کر پکارا ہے
اور کہاں ہے کہ وہاں پر تب تک آواز بند نہیں ہونی چاہیے جب تک کہ مسلم ریاستیں غزہ کو آزاد کرنے کے لیے روانہ نہیں ہو
آب رہی بات کہ کیا واقعی میں اس پکار کے بعد پاکستان کے علماء اس مسلہ کو زندگی اور موت کا مسلہ سمجھے گے یا پھر اسی طرح بس خطاب کر کے خاموشی اختیار کردے گے اور استطاعت کا کہہ کر انفرادی لوگوں کو اعمال پر لگا دینگے
علماء کو دوبارہ سے عوام کے ساتھ مل کر اس ظلم کے خلاف سڑکوں پر نکلنا ہوگا اور ہمیں علماء کے پاس جا کر یہ بتانا پڑے گا کہ وہاں کے لوگوں نے نام لےکر پکارا ہے اب کوئی عذر نہ دے

غزہ کو مکمل ختم کرنے کا اعلان!!تاریخ کے صفحات جب مظلوم اقوام کی چیخوں سے نم ہوں اور ظلم بولنے لگے تو الفاظ کی حرمت ٹوٹ ج...
26/07/2025

غزہ کو مکمل ختم کرنے کا اعلان!!
تاریخ کے صفحات جب مظلوم اقوام کی چیخوں سے نم ہوں اور ظلم بولنے لگے تو الفاظ کی حرمت ٹوٹ جایا کرتی ہے۔ آج کے دور میں جب عالمی سیاست انسانی حقوق کے نقاب میں نسل کشی کو جائز قرار دے، تو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ظلم اب صرف خنجر نہیں رہا بلکہ قلم، زبان اور قانون کا روپ بھی اختیار کر چکا ہے۔ اسرائیل کی موجودہ حکومت، بالخصوص اس کے وزراء، اب کھلے عام ایک ایسے بیانیے کی تشکیل میں مصروف ہیں جو محض قبضہ نہیں بلکہ مکمل صفایا، ثقافتی مٹاؤ اور انسانی وجود کی نفی کو "قومی پالیسی" کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اس کی تازہ ترین شاید سب سے بے نقاب مثال اسرائیلی وزیر ثقافت امیحائی الياہو کا بیان ہے، جو اب محض الفاظ نہیں بلکہ نیت کا اعلان ہے۔ گزشتہ روز اسرائیلی ریڈیو “Kol Barama” سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ثقافت نے صاف گوئی سے کہا: "غزہ کو ختم کیا جا رہا ہے، یہ ایک شر ہے جسے مٹانا ضروری ہے اور ہمیں اس کے باسیوں کو بھی ختم کرنا ہے۔" یہ وہی وزیر ہے، جو نومبر 2023ء میں کہہ چکا ہے کہ “غزہ پر ایٹمی بم بھی آپشن ہے” اور اس کے اسی بیان پر اسرائیلی کابینہ کو فوری وضاحت دینی پڑی تھی۔ مگر یہ موجودہ بیان ایٹم بم سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہ محض ایک ممکنہ "آپشن" نہیں بلکہ ایک جاری عمل کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی انٹرویو میں الياہو نے کہا کہ "ہمیں قحط سے کوئی غرض نہیں، ہم پاگل ہو چکے ہیں۔" یہ الفاظ شاید کسی اور قوم کے لیے غیر معقول ہوتے، مگر جب وہ قوم ایک محصور علاقے پر بمباری کے ساتھ خوراک، پانی، دوا، ایندھن اور مواصلاتی نظام بند کر چکی ہو، تو پھر یہ الفاظ ہوش و حواس کے بجائے نسلی جنونیت کا آئینہ بن جاتے ہیں۔ مزید برآں، الياہو نے اعلان کیا کہ "ہم نے غزہ پر قبضے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حـ ــمـ ـاس سے کوئی معاہدہ ممکن نہیں۔ جنگی صورتحال کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ہم اس سرزمین کو دوبارہ آباد کریں یعنی مکمل یہودی آبادی کے ساتھ۔" یہ بیانیہ صرف عسکری جارحیت کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ استعماری فلسفے کی واپسی ہے، جو زمین کو مذہب کے نام پر چھیننے اور اصل باشندوں کو مٹانے کے لیے نہ صرف جائز بلکہ لازم قرار دیتا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے دیگر ارکان بھی اب یہی راگ الاپ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ بیتسلئیل سموتریچ کہہ چکا ہے کہ "غزہ کی شمالی پٹی پر اسرائیلی قبضہ ناگزیر ہے" اور وزیر داخلی سلامتی ایتمار بن غفیر نے تو کھلے عام کہا:"ہمیں فتح چاہیے، قبضہ چاہیے، اور فلسطینیوں کی رضاکارانہ ہجرت کی پالیسی نافذ کرنی ہے۔" یہ الفاظ نازی جرمنی کے اس بیانیے سے مماثلت رکھتے ہیں جو یہودیوں کے بارے میں استعمال کیا جاتا تھا۔ آج وہی زبان اسرائیل میں، فلسطینیوں کے لیے بولی جا رہی ہے۔ یہ محض انفرادی بیانات نہیں بلکہ ایک منظم ذہنیت کا اظہار ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی پارلیمان "کینسٹ" میں ایک باقاعدہ اجلاس کا انعقاد ہوا، جس کا عنوان تھا: "غزہ کی ریویرا: خواب سے حقیقت تک"۔ اس اجلاس میں غزہ کو ایک جدید سیاحتی، یہودی بستی کے طور پر دوبارہ آباد کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف غزہ کو فوجی قوت سے خالی کرانا ہے، بلکہ اس کی تاریخی و ثقافتی شناخت کو مٹا کر اسے ایک یہودی علاقہ بنا دینا ہے۔ یہی وہ منصوبہ ہے جسے عالمی قوانین میں نسلی صفایا (ethnic cleansing) کہا جاتا ہے۔ حـــ ـمـ ـاس کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا اعلان اور اس کے ساتھ غزہ کے مکمل صفایا کی وکالت، اس وقت سامنے آتی ہے جب اسرائیلی فوج ہزاروں فلسطینیوں کو غزہ سے جبری بے دخلی پر مجبور کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق اب تک 2 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں بچے، خواتین اور بزرگ شہید ہو چکے ہیں، مگر اسرائیلی وزراء کے لہجے میں نرمی کے بجائے مزید غرور، مزید استحقاق اور مزید جنون بڑھتا جا رہا ہے۔ امیحائی الياہو کے بیانات کو صرف "سیاسی مبالغہ آرائی" کہہ کر نظر انداز کرنا تاریخ کے ساتھ سنگین خیانت ہو گی۔ کیونکہ آج جو کچھ وہ زبان سے کہہ رہا ہے، وہی اسرائیلی بم، ٹینک، اور ڈرون عملاً غزہ میں انجام دے رہے ہیں اور یہ سب کچھ بین الاقوامی خاموشی کے سائے میں ہو رہا ہے، جسے اسرائیلی حکومت اپنے لیے "تاریخی موقع" کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ایٹم بم والا بیان، جو چند ماہ قبل صدمے کا باعث بنا تھا، اب نسبتاً معمولی محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اصل جنون اب کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ پہلے صرف بمباری تھی، اب قبضہ، ثقافتی مسخ اور جبری ہجرت بھی سرکاری پالیسی کا حصہ بن چکی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھانا لازم ہے کہ کیا دنیا پھر کسی "صبرا و شتیلا" کسی "سربرینیتسا" کا انتظار کر رہی ہے؟ کیا غزہ کو مٹانے کا خواب پورا ہونے تک عالمی ضمیر سویا رہے گا؟ آج غزہ صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانیت کی آزمایش بن چکا ہے۔ اسرائیلی وزیر ثقافت کے یہ بیانات نہ صرف ایک تباہ شدہ شہر کی اینٹوں پر مزید مٹی ڈالنے کی کوشش نہیں، بلکہ عالمی ضمیر پر ایک چٹان بھی ہیں۔ وہ چٹان جس سے اگر کوئی آواز نہ ٹکرائے، تو تاریخ ایک اور ظلم کو "سیاست" کے نام پر ہضم کر لے گی۔ (ضیاء چترالی)

`فلسطیـ.ـن میں جو ہو رہا ہے، اس نے پوری دنیا کو سرپرائز کر دیا ہے۔۔`*دو سال پہلے تک* نہ کسی نے یہ سوچا تھا کہ صیہـ.ـونی ...
25/07/2025

`فلسطیـ.ـن میں جو ہو رہا ہے، اس نے پوری دنیا کو سرپرائز کر دیا ہے۔۔`

*دو سال پہلے تک* نہ کسی نے یہ سوچا تھا کہ صیہـ.ـونی لوگ سب کو بھوکا رکھ کر بھی مارنے کا حوصلہ رکھتے ہیں

نہ کسی نے یہ سوچا تھا کہ پوری دنیا کے احتجاجوں کی ان ظالموں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہوگی

نہ کسی نے یہ سوچا تھا کہ ان سے لڑنے والے اتنی دیر تک مزاحمت کر لیں گے

نہ کسی نے یہ سوچا تھا کہ صیہـ.ـونی درندے اتنے بے رحم ثابت ہوں گے اور نہ کسی نے یہ سوچا تھا کہ مسلم ممالک اتنے کمزور، بزدل اور بےغیرت ہو چکے ہوں گے

اور نہ کسی کو یہ معلوم تھا کہ ہمارے اندر بے شمار لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں اس سانحہ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اور ان کا روٹین کا کام چلتا رہے گا۔۔۔

`قصہ مختصر`
*اس ایک جنگ نے پوری دنیا کو ہی ننگا کر دیا ہے۔ اب نئے سرے سے سارے نظریات، تعلقات اور ترجیحات بدلنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔*

*تازہ ترین**گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام**کوئٹہ، پولیس اہلکار نے لاک اپ میں توہینِ رسالت کے ملزم کو گولیاں مارکر قتل کرد...
12/09/2024

*تازہ ترین*

*گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام*

*کوئٹہ، پولیس اہلکار نے لاک اپ میں توہینِ رسالت کے ملزم کو گولیاں مارکر قتل کردیا*

*بلوچستان: کوئٹہ میں پولیس اہلکار نے لاک اپ میں قید توہینِ رسالت کے ملزم کو گولیاں مارکر قتل کردیا۔*

*تفصیلات کے مطابق توہینِ رسالت کے ملزم عبدالعلی کو کوئٹہ کے کینٹ تھانے میں رکھا گیا تھا جہاں پولیس اہلکار نے ملزم کو دوران حراست فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔*

*اس حوالے سے ایس ایس پی آپریشن محمد بلوچ نے بتایا کہ پولیس اہلکار سید خان سرحدی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔*

*یس ایس پی آپریشن محمد بلوچ نے بتایا کہ گستاخِ رسول ﷺ کے ملزم کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا، ملزم کی گرفتاری کے بعد تھانے کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے اور ملزم کو حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔*

*پولیس تھانہ کے باہر ہزاروں مظاہرین نے احتجاج کیا، تھانے کے باہر کشیدہ حالات پر قابو پانے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی تھی۔*

05/09/2024

کہ پہ معنی د معنا پوہ شوی

فلا تحزن بہ درنہ ھیر شی ٹول غمونہ۔۔۔

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when متعلم واجد علی الحنفی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category