07/01/2026
6 جنوری 2014: بہادر طالب علم اعتزاز حسن کی شہادت کی 12ویں برسی، خودکش بمبار روک کر سینکڑوں جانیں بچائیں
اسلام آباد: پاکستان بھر میں آج قومی ہیرو شہید اعتزاز حسن بنگش کی شہادت کی بارہویں برسی انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔ 6 جنوری 2014 کو خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی میں گورنمنٹ ہائی سکول کے نویں جماعت کے 15 سالہ طالب علم اعتزاز حسن نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خودکش بمبار کو سکول کے گیٹ پر روک لیا اور اس سے لپٹ گئے، جس سے دھماکہ ہوا اور اعتزاز شہید ہو گئے مگر سکول میں موجود سینکڑوں طلبہ کی جانیں بچ گئیں۔
اعتزاز حسن کی اس عظیم قربانی پر انہیں بعد از شہادت تمغہ شجاعت سے نوازا گیا اور وہ پاکستان کی تاریخ میں بہادری کی روشن مثال بن گئے۔ آج سوشل میڈیا سے لے کر مین سٹریم میڈیا تک ہر جگہ اعتزاز کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ عوام اور سیاسی رہنماؤں نے ان کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ اعتزاز جیسے بہادر بیٹوں کی وجہ سے پاکستان سربلند ہے۔
ان کے اہل خانہ نے ایک بار پھر حکومت سے اپیل کی کہ اعتزاز کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے اور ان کے نام پر سکولوں میں تقریبات منعقد کی جائیں۔ یہ دن ہر سال پاکستان میں اعتزاز حسن کے یوم شہادت کے طور پر منایا جاتا ہے، جو نوجوان نسل کے لیے قربانی اور بہادری کی عظیم درس گاہ ہے۔