02/04/2023
وہ جنگجو تھا، بہادر تھا، کہتے ہیں اس نے اس قدر جنگیں لڑیں کہ سنہری رنگت سانولے پن میں ڈھل گئی، سیاہ آنکھوں کی چمک مزید بڑھ گئی، اس نے خود کو سر تاپا ایسے کندھن کی صورت میں ڈھالا کہ دیکھنے والے اسے کارا کہنے لگے، وہ کارا عثمان تھا، وہ چھ سو سال تک دشمن پر ایک ڈراونا خواب بن کر مسلط رہا، اسکی سیاہی نے ہر ظالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہر ظلم کو نگل لیا، اسکا دل روشن تھا، اندر کی چمک اور روشنی اسکی آنکھوں سے رحم بن کر چھلکتی تھی، وہ اپنے حصے کا نوالہ بھی ضرورتمند کے منہ میں ڈال دیتا تھا، اس نے ظلم اور ظالم کو اس قدر ڈرایا کہ اسکے گزرنے کے ہزاروں سال بعد بھی یہ ایک جملہ ظالم کے لئے موت ثابت ہوتا کہ عثمانی آرہے ہیں، اللہ اس عظیم الشان مجا ہد کو غریق رحمت کرے اور ہمارے دلوں میں بھی وہی ایمان و شجاعت زندہ فرمائے، آمین.